Usefull Information

Usefull Information

Share

this page is for all those who is in seeking the truth of the world what is your opinion about sharing on this page

19/05/2021

ملاوٹ
شیطانی 6 خصلتیں آج کے انسان کی زندگی کا حصہ بنتی جا رہی ہیں۔ ریاکاری، غیبت، ہوس(لالچ)، حسد، جھوٹ اور انتقام۔۔۔ انسانی زندگی کا سب سے بڑا دشمن ملاوٹ ہے۔ صحت کے لحاظ سے ہو یا علم کے لحاظ سے، ابلیسی خصوصیت جسے ہم ہوس کہتے ہیں، بھر پور طریقے سے فعال ہوتی ہے۔ ملاوٹ کی طلب انسانی طمع اور لالچ ہے۔ ہم پاکستانی مسلمان ہوتے ہوئے جب شیطانی خصلت یعنی طمع میں سر سے پاؤں تک مبتلا ہوں گے تو جو حال پاکستان کا آج ہو رہا ہے وہ خلافِ توقع نہیں ہے۔ علم میں باطل کی ملاوٹ کی وجه سے مال کو فوقیت مل رہی ہے اور مادیت پرستی کو فروغ۔ صرف حق کے علم کی تگ و دو سے ہی انسانیت و اخلاقی اقدار کو فروغ مل سکتا ہے
بقول #اقبال رحمتہ اللہ علیہ

بدلی زمانے کی ہوا ، ايسا تغير آگيا
تھے جو گراں قميت کبھی، اب ہيں متاعِ کس مخر

زمانے کے طور طریقے بدل گئے ہیں، دنیا میں ایسا انقلاب آگیا ہے کہ جو لوگ کسی زمانے میں بہت بڑے آدمی تھے،جن کا مرتبہ علم و فضل اور مذہب و اخلاق کے اعتبار سے نہایت اونچا تھا اب انھیں کوئی پوچھتا تک نہیں، مراد یہ کہ صحیح معنی میں بلند پایہ شخصیتیں کسمپری میں پڑی ہوئی ہیں اور ان کی قدر و منزلت باقی نہیں رہی۔

کیونکہ ملاوٹ شدہ علم کی تسکین انسان کی ترجیحات پر حملہ کرتی ہے اور وہ محدود تناظر میں اعلی و ارفع کامیابی تلاش کرنے کیلئے شورٹ کٹ اختیار کرتا ہے۔
انسانی تاریخ شاہد ہے که انسان زمانہ سے ملے علم( ملاوٹ کے احتمال سے فراموشی) پر محدود ہو کر گمراہی کا شکار رہا ہے. جبکه الله تعالیﷻ کی طرف سے ملے پیغام پر عمل کرکے کامیاب رہا ہے۔

اَفَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَتَكُوۡنَ لَهُمۡ قُلُوۡبٌ يَّعۡقِلُوۡنَ بِهَاۤ اَوۡ اٰذَانٌ يَّسۡمَعُوۡنَ بِهَا‌ ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعۡمَى الۡاَبۡصَارُ وَلٰـكِنۡ تَعۡمَى الۡـقُلُوۡبُ الَّتِىۡ فِى الصُّدُوۡرِ

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل عقل کرتے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں

القرآن - سورۃ 22 - الحج - آیت 46

مادیت پرستی یا انا پرستی آج کے دینی علم میں ملاوٹ کا تعین کرنے میں آڑے آرہی ہے۔

واعظان ہم صوفیان منصب پرست
اعتبار ملتِ بیضا شکست
(کیا مقررین اور کیا صوفی، سب ہی شہرت و عزت کے پوجاری ہیں اور مخلص قوم کا تصور ختم ہو کر رہ گیا ہے۔)
علامہ محمد اقبالؒ
مخلص قومیں بنتی ہے جدوجہد سے جب کہ زمانہ شورٹ کٹ کا طلب گار
غور کریں تو معلوم ہو گا کہ ( غور کیا ہی نہیں جاتا کیونکہ معمولی سی جدوجہد جو درکار😏)
جانور صرف ظاہری حقائق تک محدود ہیں، یہ صرف انسان ہے جو ظاہر کے ساتھ غیبی حقائق کے تعین کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہ صرف عقل سے ممکن ہے.
قرآن مجید میں اسی نسبت سے یومنون باالغیب کا بنیادی تقاضا رکها گیا ہے. مال ظاہری ہے جبکه علم غیبی ہے موجوده دور میں علم پر مال کو ترجیح دینے سے انسانیت پستی کا شکار ہے.
#رحم
منقول

13/05/2021

بچوں کو دین کا تعارف کیسے کروایا جائے؟

13/05/2021

درخت 🌲 لگائیے ۔ درختوں سے پیار کیجیئے ۔ ماحول کو مزید برباد ہونے سے بچائیے ۔ بالخصوص گلگت بلتستان کے خوبصورت جنگلات کو مزید کٹنے سے بچایا جائے ۔۔
شجر کاری پر خصوصی گفتگو!!!

مفتی ابو محمد عفی عنہ

13/05/2021

یہ زندگی ببول ہے

13/05/2021

زن مریدی ہی کروں میں اور مدہوش رہوں

Photos from Usefull Information's post 11/05/2021

📸 *یوم القدس؛ اسلام اور رسول اکرمﷺ کا دن*

میں قدس کے دِن کو اسلام اور رسولِ اکرمﷺ کا دن سمجھتا ہوں، یہ ایک ایسا دِن ہے جس میں ہمیں اپنی تمام طاقتوں اور صلاحیتوں کو اکٹھا کرنا چاہئے۔ دشمن نے جِس گوشہ نشینی میں ہمیں دھکیل دیا ہے اُس سے باہر نکلیں اور پوری طاقت و قوّت سےاغیار کے مقابل کھڑے ہو جائیں۔

امام خمینی رضوان اللہ علیہ
صحیفه امام؛ ج 9، ص: 278

11/05/2021

احمد سنجر 1085 ء میں عراق کے شہر سنجر میں ملک شاہ کے بیٹے پیدا ہوئے۔ اس نے اپنے تین بھائیوں محمود اول آف عظیم سلجوقی، بارکیاروق، اور سلجوقی سلطنت کے سلطان محمد اور اس کے بھتیجے ملک شاہ دوئم کے ساتھ پے در پے جنگوں میں حصہ لیا۔ 1096 میں، اسے اس کے بھائی محمد نے خراسان عطا کیا، اور 1102 میں اس نے کشگاریا پر حملہ کیا جبکہ الاموت کے حششین کو کچلنے کی کوشش بھی کی۔ اس نے ان کو ان کے متعدد گڑھوں سے نکال دیا، اور سرپرست حسن اول صباح نے سنجر سے صلح کرنے پر اتفاق کیا۔ 1117 ء میں غزنی کے مقام پر غازیوں کو شکست دے کر انہیں زیر کیا لیکن 1141 ء میں قتوان کے مقام پر کرا ختیئی کے ہاتھوں اسے شکست ہوئی۔ اوغوز ترکوں نے نیشاپور کو ٹیک کرکے معاملات پیچیدہ کردیئے، اور سنجر کا انتقال 1157 میں ہوا۔ اس کی موت نے سلجوقی سلطنت کا خاتمہ کیا، جو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہوگئی کیونکہ محض عراق اور آذربائیجان کو کنٹرول کرنے کے لئے سلجوقیوں کو زندہ کردیا گیا تھا۔
Ahmad Sanjar was born in 1085 in Sinjar, Iraq, the son of Malik Shah. He participated in wars of succession with his three brothers Mahmud I of Great Seljuk, Barkiyaruq, and Sultan Mohammed of Seljuk Sultanate and his nephew Malik Shah II. In 1096, he was granted Khorasan by his brother Mohammed, and in 1102 he repulsed an invasion of Kashgaria while also attempting to crush the Hashshashin of Alamut. He drove them from a number of their strongholds, and Mentor Hassan-i Sabbah agreed to make peace with Sanjar. In 1117, he defeated the Ghaznavids at Ghazni and subjugated them, but in 1141 he was defeated by the Kara-Khitai at Qatwan. The Oghuz Turks complicated matters by sacking Nishapur, and Sanjar died in 1157. His death ended the Seljuk Empire, which fragmented into smaller states as the Seljuks were relegated to controlling just Iraq and Azerbaijan.

11/05/2021

On 26 Ramadan 808 Hijri, Great Ibn Khaldun died.

Some consider the Italian philosopher Vico (1668-1744) to have been the founder of the philosophy of history; others give the credit to the French philosopher Montesquieu (1689-1755). In fact, the Arabic philosopher and historian ibn Khaldun (1332-1406) was the first pioneer to discover that history, like any other science, required research. “It is the science of circumstances and events and its causes are profound, thus it is an ancient, original part of wisdom and deserves to be one of its sciences.”

Ibn Khaldun was an Arab sociologist, philosopher and historian who is the founder of the modern disciplines of historiography, sociology, economics, and demography. Niccolò Machiavelli of the Renaissance and the 19th-century European scholars widely acknowledged the significance of his works and considered Ibn Khaldun to be one of the greatest philosophers of the Middle Ages.

His best-known book, the Muqaddimah or Prolegomena, which he wrote in six months as he states in his autobiography, influenced 17th-century Ottoman historians like Kâtip Çelebi, Ahmed Cevdet Pasha and Mustafa Naima, who used its theories to analyze the growth and decline of the Ottoman Empire. Ibn Khaldun interacted with Tamerlane, the founder of the Timurid Empire.

11/05/2021

This is really called a well trained

Want your business to be the top-listed Government Service in Dubai?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Dubai