08/12/2025
Kalroo Think Tanks & Institute of Social Research Developments.
One of the key problems today is that politics is such a disgrace, good people don't go into governme
08/12/2025
جنرل ضیا الحق نے ایک دن کہا سیاستدانوں کو سیاست کی ABC نہیں اتی،تو اس پر خان عبد الولی خان نے کہا جنرل صاحب ذیادتی نہ کریں جب سیاست دان ABCDEF تک پہنچ جاتے ہیں تو اگے GHQ آتا ہے!!
ایک دفعہ ایسی صورتحال ہو گئ کہ یونیورسٹی کی پوری فیس بھرنے کے پیسے نہیں تھے تو سوچا دو انسٹالمنٹس میں بھر دیتے ہیں - مجھے اپنے ڈین صاحب سے اس پہ دستخط کروانے تھے - میں صبح گیارہ بجے سے شام پانچ بجے تک ان کے آفس کے باہر بیٹھا رہا - ہر آدھے گھنٹے بعد ان کے کلریکل سٹاف سے پوچھا کہ بھائ ڈین صاحب کدھر ہیں - ان کا ہر بار ایک ہی جواب ہوتا تھا " ڈین صاب میٹنگ میں مصروف ہیں" اب ایسی کون سی میٹنگز ہوتی ہیں جو دروازے بند کر کے چار چار گھنٹے چلتی ہیں - خیر اس دن میں تنگ آ گیا اور پھر اکاونٹ آفس میں کسی جاننے والے کو کہا پھر کہیں جا کے کام ہوا -
انگریزی میں ایک تشبیہی ٹرم " planter mentality" استعمال ہوتی ہے - اگر میں اسے آپ کو سمجھاوں تو یوں کہ لیجیے کہ ایک ایسا شخس، لیڈر شپ پوزیشن یا ایسی صورتحال جس میں ایک شخص عہدے کی بنیاد پہ اپنے آپ کو ممتاز اور خود کو اس کمیونٹی سے فاصلے پہ رکھتا ہے - جن کے اوپر اسے انتظامی اختیارات حاصلِ ہیں -
برٹشرز جب ہندوستان آۓ تو انہوں نے یہ "پلینٹر مینٹیلٹی" روا رکھی - وہ جن پہ حکومت کرتے تھے - عموما ان سے دور رہتے تھے - عام عوام کو خود سے پرے پرے اور ان سے ملنا اپنی توہین سمجھتے تھے -
یونیورسٹیز میں یہ پلینٹر مینٹلیٹی اس سینس میں استعمال ہوتی ہے - جب سٹوڈنٹس کو اپنے ایچ او ڈیز اور ڈین تک رسائ نہیں ہوتی - یا ان تک رسائ کے لیے آپکو" barries layers" کراس کرنی پڑتی ہیں - کئ ڈین حضرات نے سپیشلی اپنے کلریکل سٹاف کو یہ ہدایت کی ہوتی ہے کہ بچوں کو نا آنے دیا جاۓ - بچوں کو جب کام پڑ جاۓ تو وہ سارا دن زلیل ہوتے ہیں - آفس کے چکر کاٹتے ہیں - اور ڈین صاحب اپنے آئر کنڈیشنڈ آفس میں آرام سے اپنی لش پش سیٹ پہ بیٹھے سامنے میز پی ہاتھ دھرے سکون سے اپنے یاروں، کولیگز اور ہم خیال دوستوں سے خوش گپیاں لگا رہے ہوتے ہیں -
میرا یہ سوال اس یونیورسٹی کے تمام ڈین حضررات اور ایچ او ڈیز سے ہے کہ " کیا ہم سٹوڈنٹس کتے ہیں جو سارا دن آپ. کے آفس کے باہر گھومتے رہیں کہ کب صاحب بہادر کی میٹنگز/خوش گپیاں ختم ہوں گی اور کب ہم. دستخط کروائیں گے یا اپنا مسئلہ بتائیں گے "
ییونیورسٹی کے فنکشنز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات پہ آپ حضرات کی تقریریں سنیں تو لگتا ہے آپ سے بڑا اچھا انسان ہی کوئ نہیں ہے - آپ لوگ طلباء کے لیے جتنا درد دل رکھتے ہیں اتنا کوئ رکھتا ہی نہیں اور حقیقت میں جب واسطہ
ضیاء الحق کے دور میں ایک غیرملکی خاتون صحافی پاکستان آٸی تھی ۔ میں اس کا نام بھول رہا ہوں۔ وہ اپنے گاٸیڈ کے ساتھ دن کے کسی وقت میں کراچی شہر کی سیر کو نکلی ۔
شہر کی مرکزی شاہراہ ایم جناح روڈ سے گزرتے ہوٸے اس نے قریب ہی گلی میں ہجوم دیکھا۔ اُسے تجسس ہوا کہ یہ اس قدر بھیڑ میں کیا ہورہا ہے۔ قریب جاکر دیکھا تو ایک مداری درمیان میں بیٹھا بندر کا تماشہ دکھا رہا تھا اور کوٸی چالیس پچاس کے قریب لوگ اُس کے گرد داٸرے کی شکل میں کھڑے تالیاں پِیٹ رہے تھے۔ اُس صحافی نے اپنے گاٸیڈ سے پوچھا کہ آج یہاں کوٸی ہالیڈے ہے؟
گاٸیڈ نے جواب دیا کہ نہیں میڈم! ورکنگ ڈے ہے۔
اُس نے حیرت سے کہا کہ یہ ورکنگ ڈے پر لوگوں کی اتنی بڑی تعداد اپنی ڈیوٹی پر نہیں گٸی۔ یہ سب یہاں بندر کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔
گاٸیڈ کے پاس کوٸی جواب نہیں تھا۔
اُس صحافی خاتون نے اگلے روز اپنے کالم میں اس بندر کے تماشے کا ذکر کرتے ہوٸے کہا کہ یہ وہی قوم ہے جسے چند سال قبل (1971 میں) ایک تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ملک کا آدھا حصہ دشمن کے قبضے میں چلا گیا اور یہ ورکنگ ڈے پر بندر کا تماشہ دیکھ رہی ہے
اگر جاپانیوں یا جرمنوں کو ایسی شکست ہوٸی ہوتی تو وہ راتوں کو بھی کام کرتے ۔۔۔ اتوار کی بھی چھٹی نہ کرتے مگر اس قوم کو دیکھو۔ کوٸی افسوس ہی نہیں اتنی بڑی تباہی کا۔
عید کےبعد شمالی و وسطی پنجاب کے بیشتر علاقوں میں گندم کی کٹائی شروع ہوگی۔1 ایکڑ گندم کاٹنے کی اُجرت 4,5من اناج ہے جسکی مالیت تقریباً بیس ہزار ہے۔کسانوں کی اکثریت گندم ہارویسٹر یا ریپر سےکٹوائے گی کیونکہ غربت کی لائن سےنیچےرہنے والےملک میں کوئی بھی گندم کاٹنے کو تیار نہیں ہوگا۔۔۔۔البتہ خیراتی آٹے کا ٹرک دیکھ کر سب دوڑ پڑینگے-
اگر مفلسی کا لبادہ اوڑھے ہمہ وقت غربت کا ڈھنڈورا پیٹتےاورہاتھ پھیلاتے لوگ محنت سےکام لیں تو کُچھ ہی دنوں میں اپنے اور اپنے پورے کنبے کے لیے سال بھر کی روٹی کما سکتے ہیں
لیکن مزدور تو ملتا ہی نہیں کٹائی کے لیے
جس دن مسجد کے باہر چھلی بیچنےوالوں کی تعداد بھکاریوں سے بڑھ گئی-اُس دن یہ ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جائیگا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز نے تو اپنا فرض ادا کر دیا۔ آج وقت ہے کہ سبھی سیاستدان سویلین بالادستی کیلئے اٹھ کھڑے ہوں۔
میاں نواز شریف جب اقتدار سے ہٹے تو "ووٹ کو عزت دو" کا بیانیہ لے کر لانگ مارچ کیلئے نکل پڑے تھے۔ آج تو ان کو سب سے آگے آگے رہ کر لیڈ کرنا چاہئے تھا لیکن لگتا ہے اپنے اور اپنے خاندان کے کیسز کے خاتمے اور بیٹی کی وزارت اعلا کے احسانات کے بدلے میں وہ آج سویلین بالادستی کے معاملے پر مصلحت کا شکار ہو چکے ہیں۔
کاش آج بھی وہ اسی طرح کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ پہنچ جائیں اور فریق بننے کی استدعا کر دیں جس طرح وہ یوسف رضا گیلانی صاحب کو ڈس کوالیفائی کرانے پہنچ گئے تھے۔
کرپس مشن 1942 میں ہندوستان کے دورے پر آیا تھا تاکہ کانگریس لیڈرشپ کو راضی کرسکے کہ وہ جاپان کے خلاف جنگ میں برطانیہ کا ساتھ دے۔ سر کرپس لندن دنوں سے نہرو کو ذاتی طور پر جانتا تھا. وہ نہرو کے پاس اس کے گھر آنند بھون ٹھہرا۔ امریکہ کا جنگ عظیم دوم شروع ہونے کے بعد سلطنت برطانیہ پر دبائو بڑھ رہا تھا کہ وہ انڈیا کو آزاد کرے۔ وہ یہ بوجھ اب اپنے سر سے اتار دے۔ اب دنیا کی فکر چھوڑ کر اپنی فکر کرے۔
جبکہ برطانوی وزیراعظم چرچل پیشکش کررہا تھا کہ جنگ کے خاتمے پر ہندوستان کو آزادی دے دیں گے اگر وہ جاپان کے خلاف جنگ میں ابھی برطانیہ کا ساتھ دیں۔
کئی دن کی سوچ و بچار کے بعد کانگریس نہ مانی اور قرارداد پیش کی گئی کہ فوری طور پر اقتدار ہندوستانیوں کے حوالے کیا جائے پھر ہی برطانیہ کا ساتھ دیا جا سکتا ہے۔
اس دوران سر کرپس کی میزبانی کے لیے نہرو نے کابل سے melon اور کوئٹہ سے انگور منگوائے۔
یہ مزاکرات اندراگاندھی کی شادی سے ایک دن پہلے شروع ہوئے ۔ گھر میں شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں اور مزاکرات بھی ہو رہے تھے۔
سر کرپس کی تمام تر دوستی اور نہرو کی مہمان نوازی کے باوجود بات نہ بنی تو لندن سے فیصلہ آیا کہ کانگریس کی لیڈرشپ کو گرفتار کیا جائے۔
جب یہ فیصلہ آیا تو ان دنوں نہرو اندر گاندھی ساتھ بمبئی گئے ہوئے تھے۔ وہیں ایک رات وہ فلیٹ پر باہر سے کھانا کھا کر لیٹ پہنچے اور سو گئے۔ نہرو سوئے ہوئے تھے کہ صبح پانچ بجے ان کی بیٹی اندرا کمرے میں داخل ہوئی اور باپ کو پیار سے جگایا کہ باہر پولیس آئی ہے۔
نہرو نیند سے جاگے۔ اندرا گاندھی باپ کا بیگ بنانے لگی۔
نہرو نے گرفتاری دینے سے پہلے شیو کی ، کپڑے بدلے اور پھر پرتکلف ناشتہ کیا۔ اندرا کو اپنے بنک اکاونٹ کو اپریٹ کرنے کی اتھارٹی دی۔ شیو اور ناشتہ کرنے کے بعد وہ ڈرائنگ روم میں گئے جہاں انسپکڑ بیٹھا ہوا تھا جس نے اونچی آواز میں وارنٹ گرفتاری پڑھ کر سنایا۔
نہرو نے پوری توجہ سے سنا اور بولے صاحب اب آپ لے چلیں۔ پولیس انہیں اور ان کے بہنوئی کو ساتھ لے گئی۔ دونوں کو ریلوے اسٹیشن لے جا کر پولیس کی نگرانی میں ایک ٹرین پر انہیں بٹھا دیا گیا اور احمد آباد میں مغلوں کےسولہویں صدی کے ایک قلعے میں لے جا کر قید کر دیا گیا۔اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ایک قابض حکومت نے غلام قوم کے شہری کو گرفتار کرنے سے پہلے وارنٹ گرفتاری نکال کر قانونی درجہ دینا ۔۔۔۔۔
پانچ جولائی اُنیس سو ستتر کو ضیاء الحق نے مارشل لگایا ،بُھٹو صاحب کو جانا ہی تھا سو اُنھیں جانا پڑا ، ضیاء نہیں ہوتا تو کوئی اور جنرل ہوتا وُہ بھی یہی کُچھ کرتا کہ مارشل لاء اُس وقت ( غالباً ) امریکہ جیسی بڑی طاقت کی ضرورت تھی ۔ بُھٹو صاحب کو پھانسی چار اپریل اُنّیس سو اناسی کو دی گئی ۔اور دسمبر اُنّیس سو اناسی میں رُوس کی فوجیں افغانستان میں تھیں ۔رُوس کو افغانستان پر حملہ / مداخلت کرنا ہی تھا اور اِس کے پیچھے کئی وجوہات میں سے ایک وجہ افغانستان میں قائم حکومت افغان کمیونسٹ پارٹی کو سپورٹ کرنا تھا سو اُنھوں نے کِیا ۔امریکہ جو پلان کر رہا تھا اُس سوچ اور پلان میں بُھٹو کی حکومت ایک ممکنہ آئینی رُکاوٹ تھی جو بذریعہ جنرل ضیاء ہٹا دِی گئی ۔
امریکہ کو کمیونسٹ رُوس کو رگیدنا تھا اور یہ ایک بہترین موقع تھا۔ پاکستان آرمی اور امریکہ نے اِسلامی جہادی مائینڈ سیٹ کو نہایت ہوشیاری سے استعمال کرتے ہُوئے جو کِیا وُہ اپنے آپ میں ایک تاریخ ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ پاکستان محض استعمال ہُوا ، آج بھی بُہت سارے پاکستانی یہی سمجھتے ہیں کہ اُس وقت رُوس پاکستان اور پاکستان کے گرم پانیوں کی طرف بڑھتا ہُوا خطرہ تھا ۔ جبکہ ایسا تھا نہیں ۔ ( کئی مہان عقلمند آج بھی اِس بات پر مُصر ہیں ) سعودیہ سے ریالوں اور امریکہ سے ڈالرز و ہتھیاروں کی بارش نے عوام کو وُہی کُچھ دِکھایا جو وُہ دیکھنا چاہتے تھے یعنی جہاد اور اِسلام کا بول بالا ہورہا ہے ۔امریکہ سے جہادی سلیبس تک بن کر آئے ۔ اِسلام کا بول بالا ہُوا یا نہیں البتہ شِدت پسندی نے وطنِ عزیز میں اپنے پنجے بُہت گہرے گاڑ لئے ہیں اور ابھی اِس عفریت کا سایہ باقی ہے ، اِٹ لِنگرز آن ۔ اور ریاست آج بھی کہیں نہ کہیں اِس عفریت کے آگے بے بس بھی ہے اور اِس جِن کو اپنے لیے کِسی نہ کِسی شکل میں اِستعمال کرنے پر تیار بھی ۔ ویسے تو مونسٹرز پیدا کرنے والوں کو ایک دِن خود اُس مونسٹر کا شِکار بننا ہی ہوتا ہے اور یہ بھی ہوگا ؛ سرِ دست مونسٹرز اِتنے طاقتور ضرور ہیں کہ اُنھیں ماضی قریب میں اپنے عقیدے / مسلک کی وضاحت دینی پڑی ہے ۔ یہ طاقت اور خوف ہے مونسٹرز کا ۔
سرِ دست ضیاء کی وراثت / لیگیسی زِندہ ہے اور بُھٹو کی وراثت بھی زِندہ ہے لیکن بُھٹو کی وراثت بُہت کمزور ہے جبکہ ضیاء کی پروان چڑھائی گئی سوچ بُہت طاقتور ہے ، اِس لیے بھی کہ ضیاء آئیڈلوجی کو مذہب کا لِبادہ اور مَن چاہا
منافقت کے بڑے رنگ ہیں بھئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب ایسٹ پاکستان کا فال ہوا تولوگوں کو جنرل یحییٰ خان پر بہت غصہ تھا اگر انھیں لوگوں کے حوالے کر دیتے تو لوگ ان کی تکہ بوٹی کر دیتے۔ میری ڈیوٹی پشاور تھی اور پشاور میں یحییٰ خان کا گھر تھا۔ لوگ بہت غصے میں تھے وہ جلوس نکالنا چاہتے تھے اور یحییٰ خان کا گھر جلانا چاہتے تھے۔ جلوس نکلا لیکن پولیس کی طرف سے کسی کارروائی کی نوبت ہی نہیں آئی۔ ایک سیاسی پارٹی (جماعت اسلامی) نے جلوس کا رخ شراب خانوں کی طرف موڑ دیا۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں کا کہنا تھا کہ یحییٰ کا قصور نہیں، اصل قصور شراب کا ہے۔ لوگوں نے شراب کی دکانیں توڑیں۔ یہ ایک عجیب قصہ ہوا۔ جلوس بجائے بنگلہ دیش کے قیام کے خلاف ہوتا، وہ شراب کے خلاف ہو گیا۔ اس طرح وہ سارا دن شراب کی دکانیں توڑتے رہے، بوتلیں پیتے بھی رہے اور توڑتے بھی رہے یہاں تک کہ پشاور کے کتے بھی مدہوش ہو گئے”۔
راؤ رشید - کتاب “جو میں نے دیکھا”
شہباز حکومت، من مانی بھرتیاں اور ہمارا نوجوان
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ڈکٹیٹر مشرف دور میں ایک ریٹائرڈ فوجی جنرل ارشد محمود کو پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر لگا دیا گیا، ایک میٹنگ میں اس ریٹائرڈ جنرل نے ڈاکٹر مجاہد کامران سے پوچھا!
"شاہ جی آپ کیا بننا پسند کریں گے"
جس پر ڈاکٹر مجاہد کامران نے جواب دیا کہ میں راولپنڈی کا کور کمانڈر بننا پسند کروں گا.
جنرل نے کہا آپ تو پروفیسر ہیں آپ کا کوئی فوجی تجربہ نہیں آپ کیسے راولپنڈی کے کور کمانڈر لگ سکتے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا بلکل ویسے ہی جیسے ایک ریٹائرڈ فوجی کو ایک اہم ترین تعلیمی ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا ہے، مجھے بھی کور کمانڈر لگایا جائے، جنرل ارشد محمود اس جواب پر خاموش ہوگیا
میڈیا چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ پاکستان کا تمام پڑھا لکھا طبقہ نوکریاں نہ ملنے کی وجہ سے باہر منتقل ہو رہا ہے، ایک سال میں دو لاکھ سے زائد ڈگری ہولڈر نوجوان ملک چھوڑ چکے، گزشتہ برس امریکہ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستانیوں کو اتنے زیادہ ویزے ایشو کیے اور باہر شفٹ ہونے والی فیملیز میں نوے فیصد پڑھے لکھے ہیں
نوکریوں کی بات کریں کہ حیران کن کہانی کھلتی ہے، ایک گورنمنٹ اشتہار دیتی ہے تو دوسری اسے کینسل کر دیتی تاکہ اپنی حکومت میں پسندیدہ لوگ بھرتی کیے جائیں یونیورسٹیاں اشتہار دیتی ہیں تو تین تین سال پراسس ہی نہیں ہوتا، فیڈرل پبلک سروس کمیشن اشتہار دیتی ہے تو امتحاں لینے تک امیدوار کی اوور ایج ہو جاتا ہے پبلک سروس کمیشن ایڈ دیتی ہے تو ساتھ ہی سیٹوں کی بولی شروع ہو جاتی ہے
اس تصویر کا سب سے بھیانک چہرہ کیا ہے، نادرا سے لے کر سروس کمیشنز تک، ملک تمام اہم اداروں کے سربراہان یا ریٹائرڈ فوجی اور ججز ہیں یا پھر ریٹائرڈ بیوروکریٹ
آج خبر پڑھی کہ ایک جنرل کو نادرا کا چیئرمین بنا دیا گیا ہے، ایک اور دھرتی کے سپوت کو پنجاب پبلک سروس کمیشن کا چیئرمین بنایا جا چکا, کچھ عرصہ قبل سینیٹر مشتاق احمد نے سینیٹ میں اس اہم المیے کہ طرف اشارہ کیا تھا
یہ کلین شیو بندہ ایچی سن کالج کا پرنسپل ہے ، اس کا نام مائیکل تھامسن ہے اور آسٹریلیا کا باشندہ ہے
دوسرا باریش بندہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صوبہ پنجاب کا گورنر بلیغ الرحمن ہے
دونوں میں سے ایک جنتی ہے اور دوسرا جہنمی ہے
ایچی سن کالج کے پرنسپل نے استعفی کیوں دیا ؟
احد چیمہ کی بیوی سرکاری ملازم ہے جس کا تبادلہ لاہور سے اسلام آباد ہو جاتا ہے. وہ ایچی سن کالج کے پروفیسر آسٹریلیا کے شہری مائیکل تھامس کو لیٹر لکھتی ہے اور چار مطالبے کرتی ہے
1۔ میرا تبادلہ اسلام آباد ہو گیا ہے لہذا میرے بچوں کو لامحدود چھٹی دے دیں
2۔ دوران چھٹی ہم کالج فیس بھی ادا نہیں کریں گے
3۔ اور مزید میرے بچوں کا نام بھی خارج نہ کیا جائے
4۔ میرے بچوں کی سیٹوں کو ریزرو رکھا جائے
پرنسپل نے یہ کہہ کر درخواست رد کر دی ہے ہماری ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے
احد چیمہ کی بیوی کی طرف سے فیس ادا نہیں کی جاتی اور پرنسپل ایک بچے کا نام کالج سے خارج کر کے لیٹر لکھ دیتا ہے
احد چیمہ کی بیوی کالج کے بورڈ آف گورنس کے ممبرز سے رابطہ کرتی ہے لیکن وہ بھی مائیکل تھامس کی ایمانداری کے خلاف کچھ نہیں کر پائے
اسی دوران دوسرے بچے کا نام بھی فیس ادا نہ کرنے کی وجہ سے کٹ جاتا ہے۔ پھر احد چیمہ کی بیوی باریش اور صَوم و صَلٰوۃ کے پابندی گورنر پنجاب بلیغ الرحمان کے پاس جاتی ہے۔
گورنر بلیغ الرحمان گورنر ہاوس میں بورڈ آف گورنرز کی میٹنگ کال کرتا ہے اور تین رکنی کمیٹی تشکیل دیتا ہے جو پرنسپل سے ملتی ہے لیکن پرنسپل کالج پالیسی کے خلاف غیر قانونی کام نہیں کرتے
باریش اور صَوم و صَلٰوۃ کے پابندی گورنر پنجاب کو اتنی ایمانداری بالکل بھی پسند نہیں آتی ، جس پر وہ پرنسپل کو وہ اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتا ہوا پرنسپل کو خط لکھ کر ’’حکم‘‘ دیتا ہے کہ احد چیمہ کے بچوں کا نام پھر سے داخل کر کے، انہیں لامحدود چھٹی دے اور ان کی سیٹیں بھی ریزرو رکھی جائیں۔
کافر لیکن قانون پسند پرنسپل اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیتا ہے اور استعفی لکھ دیتا ہے کہ یکم اپریل 2024 میرا اخری دن ہوگا
اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ حق پر کون ہے؟ ایک غیر مسلم پرنسپل مائیکل تھامس یا باریش مسلمان اور صَوم و صَلٰوۃ کا پابند گورنر
Click here to claim your Sponsored Listing.
