Wowwords

Site Web

Wowwords تل وطنیں دی جاہ

11/10/2026
فقیروں،صوفیوں اور درویشوں کے اس شہر ملتان میں روزانہ ان گنت زائرین اترتے تھے،لیکن کسی کو غرض نہ تھی کہ ایک عورت،اپنے بست...
10/10/2026

فقیروں،صوفیوں اور درویشوں کے اس شہر ملتان میں روزانہ ان گنت زائرین اترتے تھے،لیکن کسی کو غرض نہ تھی کہ ایک عورت،اپنے بستر کی تھکن سمیٹے،پھر سے دروازے میں کھڑی ہے۔کسی کو پروا نہ تھی کہ ایک تنہا جی اپنے پائوں گھسٹ کر چلتا ہے۔کسی کو سروکار نہ تھا کہ کوئی تن بیچ کر بھی خالی ہاتھ ہے۔وہ ساہوکاروں کی ماڑیوں،حاکموں کی حویلیوں اور فوجی بنگلوں کے شہر میں کرائے کی کوٹھڑی میں مقیم تھی،اور شہر کی روحانیت کے مقابل محض اپنے بدن کے سہارے جی رہی تھی۔

ناول "مسخریاں دا میلہ" اردو ترجمے وچوں

#ناول #فکشن #سرائیکی #مسخرہ #حویلی #ملتان

06/10/2026
ارشاد امین مرحوم — شفیق انسان ہائے ❤️
05/10/2026

ارشاد امین مرحوم — شفیق انسان ہائے ❤️

غزل ظفر اقبال  #اردو  #شاعری  #ظفراقبال
03/10/2026

غزل

ظفر اقبال

#اردو #شاعری #ظفراقبال

محمد شہزاد کا ناول "منبر مصلحت" ایک مطالعہ (محمد بشیر رانجھا)محمد شہزاد کا ناول "منبر مصلحت"  دراصل اکیسویں صدی کے انسان...
03/10/2026

محمد شہزاد کا ناول "منبر مصلحت" ایک مطالعہ

(محمد بشیر رانجھا)

محمد شہزاد کا ناول "منبر مصلحت" دراصل اکیسویں صدی کے انسان کی باطنی توڑ پھوڑ، متضاد جبلتوں اور ادارہ جاتی منافقتوں کا ایک ایسا دائرہ ہے جہاں خیر و شر کی روایتی سرحدیں مٹ جاتی ہیں اور کوئی بھی وجود مکمل سیاہ یا سفید نظر نہیں آتا۔

اس پورٹریٹ گیلری کا سب سے زیادہ پیچیدہ اور متضاد محور پیراں دتہ قادری المعروف شاہ ہے۔ اپنے نام اور پس منظر سے پھوٹنے والی شرمندگی اس کے اندر احساسِ کمتری کا ایک ایسا گہرا کنواں کھود دیتی ہے جس سے بچنے کے لیے وہ جعلی روحانیت اور مصلحت زدہ تقویٰ کی پناہ لیتا ہے۔ اس کا دِن کے اُجالے میں اِشراق و چاشت کی نمازوں کا ڈھنڈورا پیٹنا اور وظائف کی مالا جپنا اصل میں اس کی گناہ آلود باطنی اور جنسی محرومیوں کا ایک جارحانہ دفاعی میکانزم ہے۔

اس کی شخصیت کی دراڑیں اس وقت متشکل ہوتی ہیں جب وہ ایک طرف اپنےماتحت افراد اور ڈھابے پر آنے والی خواتین کے وجود پر رکیک جملے کس کر اپنی مجروح انا کی تسکین کا سامان مہیا کرتا ہے اور دوسری جانب رات کی تاریکی میں این جی او کی بااثر اور آبروباختہ خواتین کے پاؤں چاٹنے اور ذلیل ہونے میں لذت تلاش کرتا ہے۔ یہ تضاد اس کے وجود کے اندر کی پوشیدہ ناآسودہ خواہشات اور محرومیوں کے اُس عجیب و غریب امتزاج کو بے نقاب کرتا ہے جو اسے طاقتور کے سامنے غلام اور کمزور کے سامنے جابر بننے پر مجبور کرتا ہے۔

اس حبس زدہ فضا اور تاریک ماحول میں "افسانے" کا جرات مندانہ کردار روشنی کی ایک کرن بن کر اُبھرتا ہے۔ نچلے متوسط طبقے کی یہ لڑکی اپنے حسُن اور اس کی تسخیری قوت سے پوری طرح آگاہ ہے، مگر وہ اس کشش کو محض کسی مرد کی ملکیت بننے یا معاشی سہارے کے طور پر فروخت کرنے سے صاف انکار کر دیتی ہے۔

اس کی شخصیت کے اندر داخلی فیصلے کا ایک مضبوط اور اٹل مرکز قائم ہے۔ وہ تمام رشتہ دار اور محلے کے مردوں کی روایتی پیش قدمی کو ٹھکرا کر محض شادی کے بجائے علمی و معاشی اقتدار (یعنی پی ایچ ڈی کی ڈگری اور اپنے نام کی تختی) کا خواب دیکھتی ہے۔ وہ اپنے بھائی ، گھر اورغربت کو اپنی انا کے سودے کا جواز نہیں بننے دیتی، بلکہ اپنی ذات کی سالمیت کو ہر حال میں قائم رکھتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف جب دیکھتے ہیں تو ڈاکٹر گوہر جیسی مقتدر اور بااثر شخصیات کھڑی ہیں، جو ایک معروف ادارے کی بااختیار سربراہ ہے۔

تعلیمی اور معاشی برتری کے زعم میں مبتلا یہ خاتون باہر کی دُنیا میں حقوقِ نسواں اور ہراسانی کے خلاف قوانین کی سچی علمدار بنتی ہے۔ مگر اس کی ذات پر نرگسیت اور تاریک جبلتوں کا غلبہ ہے۔ وہ اپنے عہدے اور عطیہ دہندگان کے سرمائے کو اقتدار کی پیاس بجھانے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

طلاق، تنہائی اور نجی اپارٹمنٹ کے خالی پن سے جنم لینے والی داخلی شکست کو چھپانے کے لیے وہ شاہ جیسے کرداروں کو اپنے پاس بلا کر اپنے پالتو جانوروں سے بھی برا سلوک کرتی ہے اور اپنے سڈسٹک رجحان کی تسکین کرتی ہے۔ اس کے ساتھ اس کی دوست ڈاکٹر ریٹا ہے، جو قانونی باریکیوں کو ادارہ جاتی مفاد اور اپنی سہولت کے مطابق موڑنے کی فنکارانہ صلاحیت رکھتی ہے۔

اسی کارپوریٹ اور ابلاغی نیٹ ورک کا ایک اہم مہرہ صحافی اور این جی او کا میڈیا آفیسر شہباز ہے، جس کا ذہن مسلسل ایک شدید علمی و اخلاقی تذبذب کی آماجگاہ بنا رہتا ہے۔ وہ ایک شاطر اور انتہائی چالاک انسان ہے ۔ شہباز تیزاب گردی کے شکار چہروں پر جعلی میک اپ کر کے گرانٹس بٹورنے والی این جی اوز اور صحافتی دُنیا کی منافقت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ مگر سچائی کی اس تمام تر معرفت کے باوجود وہ اپنے ذاتی مفادات اور غزالہ جیسے پراسرار وجود کی جسمانی کشش کے آگے اپنے اصولوں کا سودا کر لیتا ہے اور یوں اسی بیمار نظام کا ایک باقاعدہ اور خاموش حصہ بن جاتا ہے۔

ناول میں رشتوں کی معذوری اور نفسیاتی انحراف کو افضال اور غزالہ کے کرداروں کے ذریعے انتہائی بے باکی سے پیش کیا گیا ہے۔ افضال مردانہ کمزوری کی بدولت شدید احساسِ کمتری کا شکار ہے، جس کا نعم البدل وہ اپنی خوبصورت بیوی پر وحشیانہ تشدد کی صورت میں نکالتا ہے۔ تاہم، اس تشدد کے فوراً بعد اس پر پچھتاوے اور احساسِ جرم کا شدید دورہ پڑتا ہے، اور اس جرم کو مٹانے کے لیے وہ ایک انتہائی غیر معمولی اور مریضانہ راستہ چنتا ہے؛ وہ اپنی بیوی کو دوسرے مردوں سے تعلقات کی اجازت دے کر خود اس منظر کا نظارہ کرتا ہے اور اس نظارہ بازی سے اپنے اندر کی تسکین فراہم کرتا ہے۔ دوسری جانب غزالہ خود کو محض مظلومیت کے روایتی سانچے میں ڈھالنے کے بجائے ایک عجیب و غریب لچک پیدا کرتی ہے، اور اپنے شوہر کی اس نفسیاتی کمزوری اور اپنے حسن کو ہتھیار بنا کر حالات کو اپنے فائدے میں موڑنے کا فن سیکھ لیتی ہے۔

اس پورے تانے بانے میں فرقان، فرید اور ڈھابے کا ملازم (شیدا ) ایسے کردار ہیں جو اجتماعی ذہنیت اور کورانہ مطابقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی اپنی کوئی خودمختار اخلاقی حیثیت نہیں ہوتی۔ یہ لوگ شاہ کی خوشامد کرنے، نوکری بچانے اور اس کے مذہبی ڈھونگ کا حصہ بن کر عورتوں پر فحش جملے کسنے میں ہی اپنی عافیت اور بقا سمجھتے ہیں۔

فنی اور تخلیقی نقطہ نظر سے ناول کا سب سے بڑا حسن اس کی بے رحمانہ حقیقت پسندی اور کہانی کاری کا وہ جرات مندانہ انداز ہے جو مروجہ رومانی ملمع کاری کو رد کر کے جدید شہری، مذہبی اور ادارہ جاتی ڈھکوسلوں پر سے پردہ اٹھاتا ہے۔ واقعات میں تجسس اور تناؤ کی ایک زیریں لہر شروع سے آخر تک جاری رہتی ہے جہاں ہر کردار دوسرے کے لیے ایک آئینے کا کام کرتا ہے۔ تاہم، بعض مقامات پر مصنف نے انفرادی و اجتماعی نفسیاتی الجھنوں کو اجاگر کرنے کے لیے انتہائی تندوتیز جملے اور جارحانہ تفصیلات شامل کر دی ہیں کہ بیانیہ غیر حقیقی ہونے کا تاثر دینے لگتا ہے۔ ضمنی واقعات کی بھرمار سے بھی بعض مقامات پر بنیادی کہانی کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے باوجود، مصنف کا اسلوب انتہائی تیکھا، دو ٹوک، رواں اور بصیرت افروز ہے، جہاں گلی محلے کی بولی، دفتری اصطلاحات اور گہرے نفسیاتی تجزیے مل کر قاری کو ایک چونکا دینے والے تجربے سے گزارتے ہیں۔

اردو فکشن ایک طویل عرصے تک یا توقدیم کلاسیکی زبان و بیان، اساطیری رومانویت ، گنجلک جدید مغربی اصطلاحات ، یا پھر سطحی اخلاقی پندو نصائح کی زبان کا اسیر رہا ہے اور بیشتر جید فکشن نگاروں نے اسی مصنوعی طرزِ بیان کی پیروی بھی کی اور خوب کی۔ حالانکہ جب زبان میں بناوٹ نہیں ہوتی تو معاشرتی ڈھونگ اور باطنی گندگی زیادہ شدت کے ساتھ اُبھر کر سامنے آتی ہے۔

محمد شہزاد کا اسلوب رئیل ازم بیان، سطحی ملمع کاری کے بجائے غیر حقیقی دنیا میں لے جانے کے بجائے ہمارے ارد گرد پھیلی ہوئی بدصورتیوں، تلخیوں اور برہنہ حقیقتوں سے روشناس کراتا ہے۔

بازاری زبان میں تیکھے جملے، کرداروں کے درمیان مکالمہ بازی اور عریاں نفسیاتی اصطلاحات کردار کے باطن کا "ایکسرے" کر کے قاری کے سامنے رکھ دیتی ہیں۔
یہ اسلوب قاری کو صرف کہانی نہیں سناتا بلکہ کردار کے ذہنی خلفشار اور سیڈیزم یا ماکوازم کے غلیظ تجرنے کو حسی طور پر محسوس بھی کرواتا ہے۔ اس طرح کی بےباک اور تلخ زبان ٹیبوز کی مصلحتوں کو توڑ کر نشتر کا کام کرتی ہے۔ یہ قاری کو کمفرٹ زوں سے نکال کر چونکنے پر مجبور کرتی ہے۔

معاشرتی و اخلاقی یہ اسلوب اردو ادب میں اس روایت کو مضبوط کرتا ہے کہ زبان صرف خوبصورت الفاظ کا مجموعہ ہی نہیں، بلکہ مقصدیت اور سچائی کا اظہار کا ایک موثرذریعہ بھی ہے۔

محمد شہزاد اپنے ناول کے ذریعے ان مصنفین کے لیے راستہ بناتا ہے جو معاشرے کے تاریک اور ممنوعہ موضوعات پر لکھنے سے ہچکچاتے ہیں۔ناول نگار کے اسلوب کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ وہ ادبی اور اخلاقی منافقت کو رد کر کے حقیقت کی سچی ترسیل کو ممکن بناتا ہے اور یہ اسلوب اردو ناول کو سطحی رومانوی پس منظر سے نکال کر جدید دور کی بھیانک نفسیاتی اور شہری حقیقتوں کو بیان کرنے کی مکمل صلاحیت اور جرات فراہم کرتا ہے۔

سعادت حسن منٹو کے چندشاہکار افسانوں سے اگر اس ناول کا تقابل کیا جائےتو دونوں تخلیق کار انسانی منافقت اور باطنی تاریکی کے پردے فاش کرنے میں یکتا ہیں،

مگر محمد شہزاد کےناول کا کینوس منٹو کے انفرادی فریم ورک سے بالکل جدا اور منفرد ہے۔ منٹو کے ہاں سوگندھی یا سلطانہ جیسے کردار کوٹھوں اور گلیوں کے حاشیے پر کھڑے فرد کی اخلاقی سچائی کا قصہ ہیں، جبکہ یہاں انفرادی گراوٹ سے آگے بڑھ کر اکیسویں صدی کے ادارہ جاتی کلچر، کارپوریٹ دفاتر اور میڈیا کے مربوط نیٹ ورک کو ہدف بنایا گیا ہے۔

شاہ محض منٹو کے بابو گوپی ناتھ کی طرح بھٹکا ہوا انسان نہیں، بلکہ ہراسانی کے قوانین اور اشراق و چاشت کی نمازوں کے پیچھے اپنی درندگی کو چھپانے والے ادارہ جاتی نظام کا ایک مہرہ ہے۔ منٹو کے دور میں عورت کا استحصال روایتی اور معاشی تھا، جبکہ یہاں ڈاکٹر گوہر اور ریٹا حقوقِ نسواں کی فنڈنگ اور گرانٹس سے جنم لینے والے ایک نئے تجارتی استحصال کا روپ ہیں۔ نیز، منٹو کا اسلوب افسانوی تاثر کی وحدت پر قائم ہے جبکہ یہاں ایک جامع، کارپوریٹ اور نفسیاتی بیانیہ سامنے آتا ہے جو اپنی ساخت اور انداز میں سعادت حسن منٹو کی بے باک روایت کو جدید دور کی فکری ضروریات کے ساتھ ہم آہنگ کر کے مرزا اطہر بیگ (مصنف :غلام باغ)کے فلسلفیانہ اور نفسیاتی تجربات کے قریب لا کھڑا کرتا ہے، جہاں پورا ماحول محض کہانی سنانے کا ذریعہ نہیں بلکہ انسان کو پرکھنے کی ایک فسلفیانہ لیبارٹری بن جاتا ہے۔

اس ناول کی ادبی قدر صرف انفرادی گناہ یا اخلاقی گراوٹ کو دکھانے میں نہیں، بلکہ یہ جدید اداروں کے بطن میں چھپی منافقت پر ایک زبردست فکری حملہ ہے۔ ڈونرز کی فنڈنگ، حقوقِ نسواں کے نام پر قائم این جی او کلچر، ہراسانی کے قوانین کے غلط استعمال اور مذہبی تقویٰ کے نفاذ کی آڑ میں جاری استحصال کو جس چابک دستی سے ناول کا موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ ناول محض تفریحی ادب کے بجائے ایک "طویل المیعاد فکری و اجتماعی بیانیے " کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

#ناول #نثر #فکشن

Adresse

Paris

Notifications

Soyez le premier à savoir et laissez-nous vous envoyer un courriel lorsque Wowwords publie des nouvelles et des promotions. Votre adresse e-mail ne sera pas utilisée à d'autres fins, et vous pouvez vous désabonner à tout moment.

Raccourcis

Partager

Catégorie