02/08/2019
💝❤️
All About Love And Friendship
02/08/2019
💝❤️
19/07/2019
کیسی شدت سے تجھے ھم نے سراھا ، آھا !!!
تیری پرچھائیں کو بھی ٹُوٹ کے چاھا ، آھا !!
آخری سانس کی لذت کوئی اُس سے پوچھے
مرتے مرتے بھی جو بیمار کراھا ، ’’ آھا ‘‘ !!
شعر کہنا ھے تو یُوں کہہ کہ ترا دُشمن بھی
دُشمنی بھول کے چِلا اُٹھے ’’ آھا ، آھا ‘‘ !!!
تیری آنکھوں میں کھٹکتا ھے مرے جیسا فقیر
کیسا اعلٰی ترا معیار ھے ، شاھا !! آھا !!!!
کل مرے حق میں تھا اور آج مخالف ھُوا تُو
کیسے بدلا ھے بیاں تُو نے ، گواھا ! آھا !!
آج بھی یاد اگر آئے تو جھوم اُٹھتا ھوں !
ماہِ کامل تھی جبیں ، نام تھا ماھا ، آھا !!
19/07/2019
دیکھونگی گھر کے خواب نہ ہجرت لکھوں گی میں۔۔
اس بار کوئی اور------- مسافت لکھوں گی میں۔۔
اس زندگی نے جو بھی مجھے دکھ دیئے، دیئے،
لیکن انہیں بھی تیری---- عنایت لکھوں گی میں۔۔
میری غزل میں ------ذکرِ زمانہ نہ آئے گا،
طے یہ ہوا ہے صرف محبت لکھوں گی میں۔۔
میں شاعری میں---- اُس کا تماشا بناؤں کیوں؟
اب صرف ڈائری میں شکایت لکھوں گی میں۔۔
لے دیکھ میں نے پھر-- سے تیرا نام لکھ دیا،
تیرا خیال تھا کہ---- وصیت لکھوں گی میں۔۔؟
اب ہاتھ روکنا ہے ---------میرا ، سانس روکنا،
لکھنے کی ہوگئی مجھے عادت،لکھوں گی میں۔۔
18/07/2019
16/07/2019
💔💔
15/07/2019
🤨💔
18/01/2019
بہت رنگ تھے میری زندگی
سبھی رنگ تجھ پہ لٹا دیے
دیا ہے تونے عجیب جواب
میرے سارے قرض جھکا دیے
میرے خوش و خواس کسی اور جا
میں رہتا ہوں کسی اور جا
مقدر کا اپنے دشمن بنا
تونے لبوں پہ سگرٹ لگا دیے
میری آنکھیں تم نے نوچ لی
میرے خواب سبھی چھین گے
میں صحراؤں بٹکا مسافر
تونے سارے راستے جلا دیے
میری فکر میں صبح و شام تم
میرے اندر موجود سبھی آرام تم
تم کس دنیا کی ایجاد ہو
میں نے کتنے وہم ہیں دیکھو پال لئے
میری عمر سے بچپن نکلا ہی
تو نے کاغذ قلم تھما دیا
میں ہاتھ سے بوئےتھے سبھی گل
کل رات سبھی مر جاگئے
اب ہاتھ ہیں خالی محبت سے
کبھی ہاتھ تھے تیرے ہاتھ میں
ابھی باقی تھی نصف شب
تونے سبھی چراغ بجا دیے
اک وعدہ عمر بھر ساتھ کا
اک وعدہ بیان ہوتا نہیں
سبھی رابط تو نے توڑ دیے
سبھی کل ماضی بنا دئیے
تو نےآگ لگائی قفسہ سینے میں
میں بوند بوند نگینے میں
میں تنکہ تنکہ خاک ہوا
تو نے پر ہی میرے جلا دیے
تونے کہا تھا بدل گئی ہوں
تجھ سے دل سے محبت کر گئی ہوں
لمحہ لمحہ مجھے خود میں پرو کر
تونے پھر سے مراسم بڑا لئے
میرے کس گناہ کی یہ سزا تھی
میرے کس جرم کا حساب تھا
میری سبھی خوشیاں چھین کر
مجھے اشک تونے تھما دیے
تونے کہا تیرے بغیر نہیں رہ پاوں گی
تونے نہ ملا تو مر جاوں گی
تونے قسمیں کھائی احد کیے
سبھی نیم صبح ہی بھولا دیے
تیری جھوٹی محبت میں ہار گیا
میں پاگل تیرا اچھا وقت گزار گیا
اب نئے یارانوں فرست نہیں
کتنے گہرے تعلق بنا لیئے
سنو! محبت میں نہیں تم ہارے ہو
تیری زندگی میں حقیقت نام نہیں
میں پاگل ہوا تیرے عشق
تم اپنی قسمت پہ بھارے ہو
سنو! تو اس قابل نہیں تمھیں چاہ جائے
یہ بات دیر سے معلوم ہوئی
تم بازاری عورت میں ادب سے جھڑا
یہ محبت میں نہیں تم ہارے ہو
سنو! تم جتنی بھی محبت کرو لو
رقیبوں کو آنکھوں پہ در لو
تم در در مارے ہو کردار اپنا ہارے ہو
یہ محبت میں نہیں تم ہارے ہو
سنو! کوئی لے اگر نام میرا بات کو تم ٹال دینا
کوئی اور بات تم چھیڑ لینا
نہیں اجازت کہ تیری زباں پہ میرا نام ہو
یہ محبت میں نہیں نفیس تم ہارے ہو
یہ محبت میں نہیں تم ہارے ہو