17/08/2016
طوفان کر رہا ہے میرے عزم کا طواف
دنیا سمجھ رہی تھی کشتی بھنور میں ہے
He may be a polarizing figure to some, but to Karachi, urban Sindh, and Pakistan’s leftwing, he’s the immutable, impassioned voice charging against Pakista
17/08/2016
طوفان کر رہا ہے میرے عزم کا طواف
دنیا سمجھ رہی تھی کشتی بھنور میں ہے
11/05/2016
10/05/2016
IN SHA ALLAH..
AMEEN
10/05/2016
رینجرز کی حراست میں آفتاب احمد کے قتل کی تحقیقات اور ایف آئی آر کے اندراج کو وزارت داخلہ سندھ کی طرف سے لواحقین اور ایم کیوایم کی جانب سے درخواست دینے سے مشروط کرنا قتل کے پس پردہ اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کی بھونڈی کوشش ہے ، رابطہ کمیٹی
حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ آفتاب احمد شہید کے قتل کی ایف آئی آر درج کرے اور اس کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے ، رابطہ کمیٹی ایم کیوایم
آفتاب احمد شہید کے قتل کی تحقیقات کو مشروط کرنا سراسر ناانصافی اور شہید کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کا بد ترین عمل ہے، رابطہ کمیٹی
وزاررت داخلہ سندھ کے موقف سے حکومت سندھ کی آفتاب احمد شہید کے قتل کی تحقیقات کیلئے بدنیتی عیاں ہوگئی ہے، رابطہ کمیٹی
کراچی ۔۔۔10، مئی 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے صوبائی وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے ’’ایم کیوایم کے کارکن اور سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کے کو آرڈی نیٹر آفتاب احمد کی رینجرز حراست میں انسانیت سوز تشدد سے قتل کی تحقیقات اور ایف آئی آر کے اندراج کو شہید کے لواحقین اور ایم کیوایم کی جانب سے درخواست دینے سے مشروط کرنے کے موقف کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وزارت داخلہ سندھ سے کے موقف سے ثابت ہوگیا ہے کہ حکومت سندھ آفتاب احمد شہید کے پس پردہ اصل حقائق پر پردہ ڈالنے کیلئے بھونڈی کوششیں کررہی ہے ۔ ایک بیان میں رابطہ کمیٹی نے کہاکہ آفتاب احمد شہید کی رینجرز تحویل میں شہادت کو ایک ہفتہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ آفتاب احمد شہید رینجرز کی حراست میں بد ترین اور انسانیت سوز تشد د کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں اور تمام حقائق کے بعد یہ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ آفتاب احمد شہید کے قتل کی ایف آئی آر درج کرتی لیکن آفتاب احمد شہید کے قتل کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنانے کے بجائے وزارت داخلہ سندھ نے ایسا موقف اختیار کیا ہے جس سے حکومت سندھ کی آفتاب احمد شہید کے قتل کی تحقیقات کیلئے بدنیتی عیاں ہوگئی ہے ۔رابطہ کمیٹی نے کہا کہ رینجر کی حراست میں آفتاب احمد شہید کے قتل کی شفاف تحقیقات کرنا اور ملوث اہلکاروں کوآئین و قانون کے مطابق سزا دینا انصاف کا تقاضا ہے ۔رابطہ کمیٹی نے کہا کہ کراچی آپریشن کو شروع ہوئے تین سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران ایم کیوایم کے 50سے زائد کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور140سے زائد کارکنان اب تک لاپتہ ہیں جبکہ ایم کیوایم کے ساتھ ظلم و ستم کی انتہاء یہ ہے کہ جن بے گناہ کارکنان کو گرفتار کیا جاتا ہے انہیں بھی بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر رہاکیاجاتا ہے ۔ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ آفتاب احمد شہید کے لواحقین انصاف کے حصول کے منتظر ہیں اور وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے آفتاب احمد شہید کے قتل کی ایف آئی آر کے اندراج اور تحقیقات کو ایم کیوایم اور شہید کے لواحقین کی جانب سے درخواست دینے سے مشروط کرنا سراسر ناانصافی ہے اور شہید کے لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کا بد ترین عمل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ رابطہ کمیٹی وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے مطالبہ کیا کہ آفتاب احمد شہید کی رینجرز تحویل میں ہلاکت کی ایف آئی آر از خود درج کرکے حکومت اپنی ذمہ داری کو پورا کرے اور آفتاب احمد شہید کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کرے
10/05/2016
آفتاب احمد شہید کے بہیمانہ قتل کی شفاف تحقیقات سے ایم کیوایم کو ظلم جبر اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے حقائق دنیا کے سامنے آئیں گے، انچارج سندھ تنظیمی کمیٹی مسعود محمود اور اراکین
پاکستان کے میڈیا کو ایم کیوایم کے کارکنان کا ماورائے عدالت اور انہیں لاپتا کئے جانے کا کیا علم نہیں ہے اور وہ کیوں اپنے پیشہ وارانہ فرائض سے نظریں چرا رہا ہے ، سندھ تنظیمی کمیٹی انچارج و اراکین
جنرل راحیل شریف نے آفتاب احمد شہید کے بہیمانہ قتل کا نوٹس لیکر اور اس کی شفاف تحقیقات کا حکم دیکر ثابت کردیا ہے کہ وہ ملک میں انصاف کی فراہمی اور ظلم و جبر اور تشدد کا عملی طور پر خاتمہ چاہتے ہیں، انچارج سندھ تنظیمی کمیٹی و اراکین
کراچی ۔۔۔10، مئی2016ء
متحدہ قومی موومنٹ سندھ تنظیمی کمیٹی کے انچارج مسعود محمود اور اراکین نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی جانب سے ایم کیوایم کے کارکن اور رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار کے کوآرڈینیٹر آفتاب احمد کی رینجرز کی تحویل میں انسانیت سوز تشدد سے قتل کی شفاف تحقیقات کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ آفتاب احمد شہید کے بہیمانہ قتل کی شفاف تحقیقات سے ایم کیوایم کو ظلم جبر اور تشدد کا نشانہ بنائے جانے کے حقائق دنیا کے سامنے آئیں گے ۔اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہاکہ آفتاب احمد شہید کسی ایف آئی آر ، جے آئی ٹی میں نامزد نہیں تھے لیکن اس کے باوجود انہیں رینجرز نے ان کی رہائشگاہ سے گرفتار کرنے کے بعد 90روز کا ریمانڈ کر چند گھنٹوں میں بھی بد ترین اورانسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرڈالا اور اس قتل پر ملکی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے جو حقائق بیان کئے ہیں ان حقائق کی اصل تہہ تک پہنچنے اور اس میں ملزمان اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دیکر ہی انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کیاجاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے 50سے زائد کارکنان کوآفتاب احمد شہید کی طرح گرفتاریوں کے بعد سرکاری عقوبت خانوں میں بد ترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا جاچکا ہے جبکہ 170سے زائد کارکنان گرفتاریوں کے بعد سے اب بھی لاپتا ہیں اور ان کے پیارے ان کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں لیکن ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا میڈیا جو ہر چھوٹی سے چھوٹی خبر کی تہہ تک پہنچ کر حقائق کو منظر عام پرلاتا ہے اسے ایم کیوایم کے کارکنان کا ماورائے عدالت اور انہیں لاپتا کئے جانے کے حقائق کا کیا علم نہیں ہے اور وہ کیوں اپنے پیشہ وارانہ فرائض سے نظریں چرا رہے ہیں اور ایم کیوایم کے خلاف ریاستی سازش سے پردہ ہٹانے سے کیوں کترا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ آفتاب احمد شہید کا رینجرز کی تحویل میں ماورائے عدالت قتل کا واقعہ اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ ایم کیوایم کو تعصب اور نفرت کی بنیاد پر ریاستی مظالم کا نشانہ بنایاجارہا ہے اورسنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف نے آفتاب احمد شہید کے بہیمانہ قتل کا نوٹس لیکر اور اس کی شفاف تحقیقات کا حکم دیکر ثابت کردیا ہے کہ وہ ملک میں انصاف کی فراہمی اور ظلم و جبر اور تشدد کا عملی طور پر خاتمہ چاہتے ہیں جس پر ہم چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور انہیں یقین دلاتے ہیں کہ اس عظیم جدوجہد میں ایم کیوایم کا ایک ایک کارکن آپ کے ساتھ ہے
10/05/2016
ایم کیو ایم آسٹریلیا میلبرن یونٹ کے وفد کی آسٹریلیا میں ایمنسٹی انٹرنیشنل وکٹورین برانچ کے افسران سے تفصیلی ملاقات
وفد نے ایم کیوا یم کے خلاف جاری ریاستی جبر و ستم اور کارکنان کی جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل سے متعلق رپورٹ جمع کرائی
آسٹریلیا ، میبلرن۔۔10مئی 2016ء
ایم کیو ایم آسٹریلیا میلبرن یونٹ کے انچارج ثاقب رضوان کی سربراہی میں وفد نے آسٹریلیا میں ایمنسٹی انٹرنیشنل وکٹورین برانچ کے افسران سے ملاقات کی اور کراچی میں ایم کیوا یم کے خلاف جاری ریاستی جبر و ستم اور کارکنان کی جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات سے متعلق رپورٹ جمع کرائی۔ ایم کیو ایم کے وفد میں آسٹریلیا میلبرن یونٹ کے انچارج ثاقب رضوان ، ارکان افروز احمد ، عاطف زبیری و دیگر شامل تھے ۔ وفد نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے افسران کو بتایا کہ کراچی میں جرائم پیشہ عناصر ، بھتہ مافیا ، دہشت گردوں اور دیگر جرائم کی روک تھام کیلئے جاری ٹارگٹڈ آپریشن کا رخ ایم کیوایم کی طرف موڑ دیا گیا ہے اور پیرا ملٹری فورس رینجرز ، پولیس اور دیگر سادہ لباس سرکاری اہلکار ایم کیوا یم کے کارکنان کو گھروں اور دفاتر سے گرفتار کرکے بہیمانہ تشدد کے ذریعے جبری اعترافی بیانات حاصل کررہے ہیں اور جو کارکنان اس سے انکاری ہیں انہیں یا تو لاپتہ کردیا گیا ہے یا ان کا ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی تک ایم کیو ایم کے 140کارکنان لاپتہ ہیں جبکہ 57کارکنان کو انسانیت سوز بہیمانہ تشدد کے ذریعے ماورائے عدالت قتل کردیا گیا ہے اور ان کی لاشیں شہر کے سنسان علاقوں میں پھینک دی گئی ہیں ۔ اس موقع پر ایم کیوایم کے وفد نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اہلکاروں کو ایم کیو ایم کے کارکنان کی تشدد زدہ لاشوں کی تصاویر ، ویڈیوز اور دستاویزی ثبوت پر مبنی رپورٹ جمع کروائی ۔
10/05/2016
سیاسی جلسوں میں خواتین کی شرکت پر پابندی عائد کرنا حقوقِ نسواں کی صریحاً خلاف ورزی ہے ،کشور زہرا
خواتین تمام شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کردار ادا کررہی ہیں لیکن پاکستان میں وہ آج بھی جنسی تعصب کا شکار ہیں، کشور زہرا
خواتین کو سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہ کرنا اسی ذہنیت کا تسلسل ہے جس نے گزشتہ انتخابات میں خیبرپختونخواہ میں خواتین کو ان کے حق رائے دہی سے بھی محروم رکھا ،کشور زہرا
خواتین ایسی سیاسی جماعت کے جلسوں میں جانے سے گریز کریں جوکہ ان کو ان کے بنیادی و سیاسی حقوق سلب کرنے اور جن کے جلسوں میں خواتین کی عزتیں بھی محفوظ نہ ہو،کشور زہرا
کراچی ۔۔۔ 10؍ مئی 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ شعبہ خواتین کی انچارج و حق پرست رکن قومی اسمبلی کشور زہرا نے کہا کہ خواتین عالمی آبادی کا نصف حصہ ہیں اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کردار ادا کررہی ہیں لیکن پاکستان میں وہ آج بھی جنسی تعصب کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ایک سیاسی جماعت کی جانب سے اپنے سیاسی جلسوں میں خواتین کی شرکت پر پابندی عائد کرنا حقوقِ نسواں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو سیاسی سرگرمیوں میں شامل نہ کرنا اسی ذہنیت کا تسلسل ہے جس نے گزشتہ انتخابات میں خیبرپختونخواہ میں خواتین کو ان کے حق رائے دہی سے بھی محروم رکھا اور اب سیاسی جلسوں میں اپنے کارکنان کی جانب سے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے بعد خواتین کی جلسوں میں شرکت پر ہی پابندی لگادی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ایسی سیاسی جماعت کے جلسوں میں جانے سے گریز کریں جوکہ ان کو ان کے بنیادی و سیاسی حقوق سلب کررہی ہیں اور جن کے جلسوں میں خواتین کی عزتیں بھی محفوظ نہ ہو۔