Shahkul

Call Contact the organization

Shahkul Shahkul

23/08/2026

درگاہ حضرت بل سیر ہمدان میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ کے موقع پر ایک خوبصورت اور روح پرور منظر۔ ✨🕌
عاشقانِ رسول ﷺ کی عقیدت، محبت اور جوش دیدنی ہے۔ ❤️🌹

23/08/2026

روڈ میپ
جلسۂ جشنِ عید میلاد النبی ﷺ
سیر ہمدان

23/08/2026

🌙 عید میلاد النبی ﷺ مبارک! 🌙
تمام عاشقانِ رسولِ اکرم ﷺ کو خان شبیر انجمن کی جانب سے عید میلاد النبی ﷺ کی دل کی گہرائیوں سے مبارکباد۔
اللہ تعالیٰ ہمیں عشقِ مصطفیٰ ﷺ میں ہمیشہ قائم و دائم رکھے۔ آمین یا رب العالمین 🤲💚

23/08/2026

عشق میں ایسا رویا کہ آج تک کوئی درخت اتنا نہیں رویا!
آئیے جانتے ہیں مولانا مشتاق احمد خان علیہ الرحمہ کی زبانی ستونِ حنانہ کی ایمان افروز داستان۔
یہ وہ مبارک واقعہ ہے جب نبی کریم ﷺ کی جدائی میں کھجور کا وہ تنا رونے لگا جس سے حضور اکرم ﷺ پہلے خطبہ دیتے وقت ٹیک لگایا کرتے تھے۔
صلی اللہ علیہ وسلم ❤️
— خان شبیر انجمن

21/08/2026

اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیجیے، تاکہ یہ اُن نام نہاد مولوی صاحب تک بھی پہنچے اور وہ بھی قرآن و سنت کی روشنی میں اچھی طرح سمجھ سکیں کہ حضورِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی نورانیت اور عظمت کے بارے میں اہلِ علم کا مؤقف کیا ہے۔

سیرِ ہمدان میں نام لیوا وہابی مولوی نے یہ بات کہی ہے۔وہ شخص دکاندار کے پاس گیاا اور کہنے لگا: "عید میلاد النبی ﷺ کے یہ ج...
18/08/2026

سیرِ ہمدان میں نام لیوا وہابی مولوی نے یہ بات کہی ہے۔

وہ شخص دکاندار کے پاس گیاا اور کہنے لگا: "عید میلاد النبی ﷺ کے یہ جھنڈے مت بیچو، انہیں جلا دو، میں تمہیں پیسے دوں گا۔"
ذرا سوچنے کی بات ہے! اگر کسی مذہبی موقع کی علامت آپ کے نزدیک بدعت یا شرک ہے تو پھر یہی اصول ہر جگہ کیوں نہیں؟ جب دوسروں کے جھنڈوں کے پیچھے خوشی منائی جاتی ہے، ان کے رنگوں اور علامتوں کو اپنے فون کے اسٹیٹس پر سجایا جاتا ہے، تب یہ اعتراض کہاں چلا جاتا ہے؟
اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر کسی کے مقدس جذبات کی توہین کرنا اور مقدس کلمات و علامات سے گستاخانہ انداز اختیار کرنا کسی بھی صورت مناسب نہیں۔
ہم واضح کہتے ہیں: عید میلاد النبی ﷺ سے محبت ہمارے ایمان و عقیدت کا حصہ ہے۔ جھنڈا جلانے یا مٹانے سے دلوں میں موجود عشقِ رسول ﷺ نہیں جلایا جا سکتا۔
ادبِ رسول ﷺ کا دامن تھامو، نفرت اور اشتعال سے باز آؤ۔

17/08/2026
17/08/2026

واعظِ قوم کی وہ پُختہ خیالی نہ رہی
برقِ طبعی نہ رہی، شُعلۂ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں، رُوحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے
شور ہے، ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدّن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں! جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
یوں تو سیّد بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

15/08/2026

عظمتِ میلادِ نبی ﷺ

15/08/2026

تنظیم کے نام پر طاقت کے استعمال پر تنبیہ
آج کے دور میں بعض تنظیموں کا اصل چہرہ ان کے نعروں سے نہیں بلکہ ان کے رویّوں سے سامنے آ رہا ہے۔ کسی دوسرے عالمِ دین کے پروگرام کو دباؤ، اثر و رسوخ یا طاقت کے ذریعے منسوخ کروانا کسی دینی تنظیم کی شان نہیں، بلکہ یہ طرزِ عمل سنجیدہ سوالات ضرور پیدا کرتا ہے۔ آج کچھ لوگ اپنی وقتی طاقت اور اثر و رسوخ پر اس قدر مطمئن دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں یہ احساس بھی نہیں رہتا کہ یہ سب عارضی ہے۔ کیا معلوم آج جس تنظیم کا نام ہر جگہ لیا جا رہا ہے، کل اس کا نام لینے والا بھی کوئی باقی نہ رہے۔
یاد رکھنا چاہیے کہ جو طاقت کے زعم میں آ کر دوسروں پر دباؤ ڈالتا ہے، آخرکار اس کا اپنا وقار اور اثر بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ تاریخ ایسے رویّوں کو کبھی قبول نہیں کرتی اور وقت ہمیشہ حقیقت کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ اس لیے کسی بھی عالم یا مقرر کے پروگرام کو رکوانے میں کردار ادا کرنے سے پہلے انسان کو بہت سوچنا چاہیے کہ وہ کس راستے پر چل رہا ہے۔
اختلافِ رائے ہر معاشرے میں ہو سکتا ہے، لیکن اختلاف کا جواب دلیل، گفتگو اور اخلاق سے دینا چاہیے۔ اگر کسی عالم یا مقرر سے اختلاف ہے تو علمی انداز میں اپنا موقف پیش کیا جائے، نہ کہ اس کے پروگرام رکوانے یا اس کی آواز دبانے کی کوشش کی جائے۔ دینی میدان میں اصل پہچان طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ کردار، علم، تحمل اور حسنِ اخلاق ہے۔ دین کی خدمت ہی ہمارا اصل مشن ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتی یا تنظیمی برتری کا اظہار۔
جو لوگ وقتی طور پر طاقت کے ذریعے دوسروں کے پروگرام متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس سے عزت پیدا نہیں ہوتی۔ عزت ہمیشہ خدمت، اخلاص اور اچھے اخلاق سے ملتی ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے رویّے دیرپا نہیں ہوتے، وقت کے ساتھ ان کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہر قدم نہایت سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے۔
ہم کسی فرد یا تنظیم کی تذلیل کے قائل نہیں، لیکن اصولی بات ضرور کہیں گے: دین کے نام پر دھونس، دباؤ اور انتقامی رویّہ قابلِ قبول نہیں۔ اگر کوئی تنظیم واقعی دین کی خدمت کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے اختلاف کے باوجود دوسروں کے حقِ اظہار اور علمی سرگرمیوں کا احترام کرنا چاہیے۔ اصل امتحان یہی ہے کہ طاقت اور اثر و رسوخ کے باوجود انسان کا رویّہ کتنا متوازن، منصفانہ اور اخلاقی رہتا ہے۔اب بھی سنبھل جاؤ، کیونکہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔

Address

Seer Hamdan
Anantnag

Telephone

+919797292570

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shahkul posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Shahkul:

Shortcuts

Share

Category