Deoband Express دیوبند ایکسپریس

Deoband Express دیوبند ایکسپریس

Share

like this page for informative posts, videos, audios and useful links
like and share the page and posts with your friends and relatives! jazakAllah

16/08/2025

"مدرسہ عربیہ ریاض العلوم، چوکیہ گوینی، جونپور میں منعقدہ جشنِ یومِ آزادی کی چند خوبصورت جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں۔"

07/10/2024

ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت عمدہ تلاوت کلام پاک پڑھتے ہوئے
قاری محمد حسین صاحب امبیڈکرنگری ، استاذ ، مدرسہ اسلامیہ عربیہ بیت العلوم ، سرائے میر ، اعظم گڑھ ، یوپی ، الھند۔
آپ سبھی لوگ سنتے جائیں اور آگے شیئر کرتے جائیں ۔

جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء

01/12/2019
24/11/2019

جو ضیاءدین تھے اب تلک وہ چراغ اپنا بجھا گئے

از قلم۔۔۔ فضل الرحمن حلیمی جونپوری

اللہ رب العزت نے تخلیق کائنات کے ساتھ ساتھ نظام کائنات بھی بنائے۔ جس کے تئیں مہ و سال کی تبدیلی، سیاروں کی آمدورفت اور انسانوں کی موت وحیات کا فیصلہ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے ک سفرِ حیات میں سرور و آلام کا آنا جانا لگا رہتا ہے، فطرتِ انسانی کے مطابق پیدائش تو اچھی لگتی ہے مگر خبرِوفات خوشیوں کی راہ میں روڑے اٹکا دیتی ہے۔

16 نومبر 2019 بروز شنبہ بہت سرعت رفتاری کے ساتھ ایک خبرکوہِ گراں بن کر محوِ طواف ہوئی کہ قاری ضیاء الدین صاحب کا انتقال ہوگیا انا للہ وانا الیہ راجعون۔

پھر کیاتھا؟ سکون و اطمینان نےدم توڑا، فرحت وانبساط نے منہ موڑا، اور ذہن و دماغ وادئ رنج و الم کے مسافر بنے،وقفہ، سکتہ ،قرآنی آیتوں میں آنے کے بجائے بدن کے ہر عضو پر ٹوٹ پڑے،ہرکس و ناکس لرزہ براندام اور زبان رعشہ کی شکار،جس کی تعریف استاد محترم نے ہی ازبر کروائی تھی لیکن اب ان تمام باتوں کو بتلائے کون؟ ان بیماریوں کا معالج تو چل بسا۔ صبح و شام ہم طلبہ کو مادرعلمی ریاض العلوم چوکیہ گورینی جونپور یوپی میں طلوع وغروب کا منظر دکھلانے والا یہ زمینی سورج آج غروبِ دائمی اختیار کرگیا

ہائے افسوس۔۔۔۔۔ جس شجرثمردار کے سائے تلے ہم نے بلکہ خود بندے نے سات برس مسلسل(از حفظ تا عربی پنجم) طالب علمی بچپپنا و بڑھاپا گزارا تھا ،وہ اب نہیں رہا۔جو ایک معمولی کمرے میں صبح وشام بڑی خاموشی کے ساتھ اور خندہ مزاجی سے قرآن کی خدمت کررہاتھا ،واصل بحق ہوگیا، دراصل وہ عشق حقیقی کا مریض تھا تو بھلا کب تک اپنے مطلوب کی جدائی سہہ سکتا، اپنے محبوب سے نہ جانے کیا سرگوشیاں کیا اور حسب عادت بڑی خاموشی کے ساتھ سوئے منزل ہو لیا،جاتے جاتے اخفا کیااورزمانے نے اظہار کردیا جس مسند سے دین کی ضیا پھیلاتا تھا وہ مسند تو ہے لیکن ضیاءدین اس پر ہیں ہی نہیں، سچ پوچھو تو استاد محترم کی وفات نہیں ہوئی بلکہ بہشتی حوروں کا مطالبہ پورا ہوا ہے کیونکہ
طلبِ عاشقِ صادق میں اثر ہوتا ہے
گو ذرا دیر میں ہوتا ہے مگر ہوتا ہے

اے ہم طلبہ کے مشفق ومربی! ابھی تو ہمیں آپ سے شاطبیہ کے ترجمے اور سبعہ وعشرہ کے ترانے سننا تھا،آپ اتنی جلدی کہاں چل بسے؟ کتنے نیک خوتھے،یکسو تھے،سادہ چلن تھے، سادہ مزاج تھے،

حیف صد حیف! اب ہم آپ جیسے علمی باپ کے یتیم بچے کہلائیں گے۔ آپ کے غمِ وفات کو بھلائیں کس طرح؟ آپ کے ہاتھوں سے وجود یافتہ تحریری باقیات آپ کی علمی سرگرمیوں کی یاد دلاتے ہیں( کاش کوئی انہیں کتابی شکل دے جو عوام الناس کے لئے نفع عام اور استاد محترم کے حق میں ازدیاد ایصال ثواب کا ذریعہ بنے) چائے کی چسکیاں تیرے لبوں پر حاضری دینے کے لیے تڑپ رہی ہیں،کتابوں کی الجھی عبارتیں تجھے چیخ چیخ کر پکار رہی ہیں،جن قواعد تجوید کی پیچیدگیاں تونے سلجھائی تھیں، سب تیری عدم موجودگی سے ماتم کناں ہیں،تم نے جو قرآنی آیتیں کبھی ہمارے سامنے گنگنائے تھے، ابھی تک کانوں میں رس گھول رہے ہیں، مسند کے گردا گرد ،کتابوں کا مجموعہ، تیرے ہاتھوں کی شفقت پانے کیلیے بیتاب ہیں ،زمانہ تو گِھس پٹ جائیگا،لیکن تیری الفتیں، محبتیں، شفقتیں دلوں میں دن بدن پیوست ہوتی رہیں گی، ابھی بھی روز سماعت کی طرح یاد ہے سبق یاد نہ ہونے کی بہانہ بازیوں پر تو نے کہاتھا

*توہی اگر نہ چاہے بہانے ہزار ہیں*

میرے لفظوں کی مرجع توکجا؟ من کجا؟ کیاخوب تھی کتابوں سے تیری یاری، تو بھی خاموش اور کتابیں بھی تیری ہم خصلت ، سچ مچ تو *فرد ذو ہمة یحی الامة* کا مصداق تھا ،
تو بھی خاموش اور کتابیں بھی تیری ہم خصلت، سچ ہے ،Books are the friend of friendless and library is the home of homeles اردو وعربی تحریروں کے نوک وپلک سنوارنے کا ہنر بھی تیری پائندہ بادی کی گواہی دیتا ہے، نیچی نگاہوں سے تیرے چلنے کی ادائیں رہ رہ کے تیری یادوں کے ہچکولے کھلاتے ہیں، کیا پتہ تھاکہ سالِ وداع تیری راحت بخش نگاہوں سے ہمیشہ ہمیش کیلیے محروم کردے گا،

ہائے افسوس! ہائے محرومی! تیرا آخری دیدار بھی نصیب نہ ہوسکا، زمانے کی گردش نے حوادثات نے اتنی دور لاکے چھوڑ دیا کہ آپ جیسے مشفق ، مربی کے مرقد مبارک پر دومٹھی مٹی بھی ڈالنا نصیب نہ ہوا،

الغرض! صبح وشام قرآنی نشیب وفراز کے راہی، علم تجوید کے طبیب، ہمس، جہر، رخوت، شدت، استعلاء واستفال کے باہمی تضاد کے منصف، چاندکی عدم موجودگی، سورج کی تمازت کے باوجود، حروف شمشی وقمری کےخادم،الفاظ کی سلاخوں میں ہم تجھے اوراس دردِ فرقت کوقید نہیں کرسکتے نہ ہی اشکباری کرکے غم کو ہلکا کیاجاسکتا ہے،تو شہیدراہ تدریس ہے، سلام ہوتیری جاں سپردگی کے انداز کو، تو کچھ نہ ہونے کے باوجود سب کچھ تھا، تیری دائمی قیام گاہ حوروغلمان کا مطاف بنے،تیراجسد خاکی اپنی خوشبو پر اترانے والے پھولوں کو سبق سکھائے، تیری خدمت کیلیے خدام فردوس چھینا جھپٹی کریں، تیراجذبہ ایثار ہم طلبہ کے کاندھوں پردائمی قرض رہے گا جسے ہم چکانے سے ہمیشہ ہمیش کیلیے معذرت خواہ ہیں،ہم نے تجھ سے جوکچھ علمی سوال اور درخواست کیاتھا، تو نے فورا بتایا تھا، لیکن! خبر وفات پانے کے باوجودکچھ تعزیتی کلمات لکھنے میں تاخیر کرنے پر تیرے حضور تیرے جسد خاکی سے معذرت خواہ ہیں میرے حقیقی محسن تیری شان میں یہ سب باتیں دیومالائی نہیں بلکہ تو اس سے بھی پرے تھا، اے عفت وحیا کے پیکر، خداتجھے اپنی نعمتوں سے سیراب کرے ،جس طرح تو نے اپنے علم ہمیں سیراب کیا، اور اپنی آغوشِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے، اس سے کئی گُنا زیادہ جتنا کہ تو نے اپنے ظل عاطفت میں ہمیں دیا آمین یارب العالمین

23/11/2019

شمع روشن بجھ گئ، بزم سخن ماتم میں ہے۔
🖊 ابوالخیر جون پوری
سولہ نومبرکاسورج طلوع ہوچکا تھا،وہ اپنےمستقر کیجانب بڑی تیزی سےبڑھ رہاتھا،لیکن زوال سےپہلے ہی اسکی روشنی ماندپڑنےلگی تھی،یہ سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ سورج آج کیوں بارباربادلوں میں چھپ رہاہے؟اورسامنےآنےسے کیوں شرمارہاہے؟آخر آج وہ کسی انسان پرآنسو بہانےکیلے پردہ کررہاہے؟سورج کی اس آنکھ مچولی پرمیرادل افسردہ ہورہا تھا کہ ہاۓمیرےاللہ آج سورج کوکیاہوگیاہے۔میرےدل ودماغ پرغمی کی ایک عجیب سی کیفیت طاری ہورہی تھی،تبھی ایک دل دہلادینےوالی خبرمیرےکان کےپردےسےجاٹکرائ،جس سےمیراپوراجسم لرزہ براندام ہوگیا،جسم کاایک ایک بال دوسرےسےالگ ہوکررہ گیا، آنکھوں سے آنسو کی لڑی بہہ پڑی۔کہ گلشنِ حلیمی کےچمن میں کھلنےوالاایک شگفتہ پھول سورج کے غروب ہونےسے پہلے پہلے ہم سب کوداغ مفارقت دیتاہواہمیشہ ہمیش کیلئےاپنےمالک حقیقی کےپاس جاطلوع ہوا۔
آہ!وہ پھول جس سےگلشنِ حلیمی کابچہ بچہ معطر ہواکرتاتھا،آہ!وہ پھول جس سےچمن حلیمی کا گوشہ گوشہ مہکتاتھا،آہ!وہ پھول جوسورج کی شعاؤں کیطرح اپنی شعائیں بکھیررہاتھا،آہ!وہ مشفق ومربی استادجسکی آغوش میں تربیت پانے کیلئے فرزندانِ حلیمی بیتاب رہتےتھے،آہ!وہ ضیاءجواپنی کرنوںسےریاض حلیمی کوسیراب کررہاتھا،آہ!فن تجویدوقراءت کاوہ باکمال قاری جس سےطالبان علوم نبوت اپنےعلم کی پیاس بجھارہےتھے،آہ!فن کتابت کاوہ باکمال کاتب جسکےپاس طلبہ اپنی تحریرکی درستگی کیلئے جوق درجوق امڈرہے تھے،آہَ!وہ شریف انسان جسکے گفتاروکردارمیں اسوہء رسولﷺ کی جھلک دکھتی تھی،آہ!وہ مردصالح جواپنی نشست وبرخاست گفتگواوراندازتکلم سےدوسروں کواپناگرویدہ بنالیتا تھا،آہ!وہ ہنس مکھ چہرہ سادگی جسکا طرہ امتیاز،شرافت ووسذاجت جسکی ضرب المثل تھی،آہ!وہ صاف دل جسکےاندرکسی سےشکوہ شکایت تھی ناکسی سےحسدغیبت بغض وعنادتھا،آہ!وہ شریف النفس انسان جسکے چہرے پرخوش خلقی وخوش مزاجی اورتبسم کےآثارکھلےرہتےتھے،آہ!آج ایک ایساگوناگوں خصوصیات وصفات کاحامل قارئ قرآن عاشق قرآن وسنت اپنا بیشمارانمٹ نقوش چھوڑکرہم سبکوروتا بلکتاسسکتاچھوڑکراس دارفانی سےداربقاء کی طرف کوچ کرگیا،ہزاروں سال نرگس اپنی بےنوری پہ روتی ہے، بڑی مشکل سےہوتاہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔یہ جان کر من جملہ خاصانِ مے خانہ تجھے،مدتوں رویاکریں گے جا مہ پیمانہ تجھے،اےمیرےمولاتو میرےحضرت کوکروٹ کروٹ جنت نصیب فرما، آمین یارب العالمین ۔

14/11/2019

دارالعلوم دیوبند کی بنیاد و اساس میں بانی دارالعلوم دیوبند حجۃ الاسلام الامام محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کے بنیادی مقاصد کی ہمہ گیریت اور ان کی فکری وسعت کے زیر اثر آفاقی پیغام کو اگر سمجھ لیا جائے تو خدمات دینیہ کے حصر و تحدید کی ضرورت پیش نہیں آئے گی، بلکہ ان کے دائرہ فکر کی وسعت میں ہمہ جہت خدمات سمٹ کر ایک وحدت کی صورت میں نظر آئیں گی، لہذا ضرورت اس بات کی ہے کہ لاحاصل اختلافی مباحث سے قطع نظر بنیادی طور پر بانی دارالعلوم کے آفاقی پیغام کو عام کیا جا ئے، ہمہ جہت خدمات دینیہ کو کسی ایک ادارے یا تنظیم میں حصر کرنا میرے خیال میں دیوبند کے بنیادی فکر سے ناانصافی ہے کیونکہ ملک میں مختلف ناحیوں سے مصروف خدمت ادارے وحدت میں کثرت کے مظاہر ہیں۔

محمد شکیب قاسمی

ضرب دیوبند ZARB E DEOBAND 04/11/2019

بچوں کو موبائل سے بچائیں!
مولانا محمد صابر صاحب قاسمی الاعظمی
استاد:- جامعہ فیض عام دیوگاؤں اعظمگڑھ
عصر حاضر میں بچوں کی نگہداشت سے ان کے والدین اکثر کوتاہی برت رہے ہیں،دوررواں کے معصوم اپنے ماں باپ کے سچے پیار کے لئے ترس رہے ہیں،جودلچسپی اور محبت بچوں کے ساتھ ہونی چاہئے وہ موبائل کے ساتھ ہورہی ہے، کسی کے پاس وقت نہیں ہے، بغیر کسی مشغولی کے ہر ایک مشغول ہے، ماں کا بچوں کو لوریاں سنانا، نبیوں، ولیوں اور تاریخی قصوں کو بتانا، ان کےساتھ ان کے انداز میں پیش آنا اور انہیں چپ کرانا یہ ساری باتیں گزری ہوئی باتیں ہیں،آج بچہ روتا ہے تو اس کے ہاتھ میں موبائل تھما دیا جاتا ہے، بچہ چپ ہوجاتا اور خوش بھی، ماں بھی خوش اور باپ بھی خوش، آج کے بچے موبائل کے بغیر کھاتے، پیتے اور سوتے نہیں ہیں اور یہ عادت محض اپنی سہولت کے ان کے والدین کی پکڑائی ہوئی ہے حالانکہ موبائل اخلاقی، روحانی اور طبی ہر لحاظ سے مضر ہے،بچوں سے حقیقی محبت یہ ہے کہ ان کو موبائل سے دور رکھا جائے، ان کی توجہ اور دلچسپی بچپن کے کھیلوں کی طرف موڑ دینا ان کو موبائل پکڑا دینے سے بہت بہتر ہے، کل کے بچے گھروندے اور مٹی کے کھلونے بناتے تھے اور ان سے جی بہلاتے تھے، آج کے بچے مٹی کے کھلونے نہیں بناسکتے اس لئے کہ ایسا کرنے سے ان کے کپڑے گندے ہوجائیں گے اور آرام پرست ماؤں کو یہ بالکل گوارہ نہیں، موبائل میں فحش پروگراموں کو دیکھ کر بچوں کے سادہ ذہن و ماغ گندے ہوجائیں تو ہوجانے دیں،یہ والدین کو منظور ہےجبکہ بچپن کی ذہنی گندگی پوری زندگی کو گندگی میں ملوث کردےگی۔
بچوں سے ان کا فطری بچپن چھیننا ان کے ساتھ زیادتی ہے،شرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئے انہیں جی بہلانے کے لئے کھلونے دئے جائیں، ان کے کھیل میں تھوڑی دیر شریک بھی ہونا چاہئے، دین کی موٹی موٹی باتیں بتدریج سکھاتے اور بتاتے رہنا چاہئے، ہمیں سیرت کا مطالعہ کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ آپ ﷺ کا بچوں کے ساتھ کیسا برتاؤ تھا؟ آپ بچوں کو سلام کرتے، جب سفر سے واپس آتے تو جو بچہ راستے میں مل جاتا اسے اپنی سواری پر بیٹھا لیتے، بچوں کو جمع کرتے اور انعامی دوڑ لگواتے تھے۔ بچوں کی صحیح تربیت، لادینیت کے جراثیم اور گندے ماحول سے ان کی حفاظت موجودہ حالات میں نہایت ضروری ہے، اگر ان ننھے ننھے اور نرم و نازک پودوں کی صحیح دیکھ بھال نہیں کی گئی اور ان کی نگرانی سے غفلت برتی گئی تو کل یہ درخت بن کر پھل نہیں کانٹے دیں گے، اس وقت ہاتھ ملنے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ لگے گا۔

ضرب دیوبند ZARB E DEOBAND https://t.me/zarbedeoband1

31/10/2019

وہ سلامت رہیں ہزار برس حضرت الاستاذ قاری محمد اسماعیل صاحب دامت برکاتہم(صدر القراء مدرسہ عربیہ ریاض العلوم گورینی، جونپور) اور آپ کی قرآنی خدمات

محمدتبریز عالم حلیمی قاسمی (استاذ دارالعلوم حیدرآباد)
قرآن مجید، خیر الکلام بھی ہے، ملوک الکلام بھی، یہ کلام الٰہی ہونے کے ساتھ ساتھ، کتاب الٰہی بھی ہے، اس کا پڑھنا بھی ثواب ہے اور سننا بھی سببِ ہدایت اور باعثِ خیر وبھلائی ہے، قرآن نام ہے الفاظ، معانی اور لب ولہجہ کا، اسلام جوں جوں چہار دانگ عالم میں پھیلتا گیا، رفتہ رفتہ قرآن کی خدمات وحفاظت کا دائرہ بھی وسیع تر ہوتا گیا؛ بلکہ اتنا وسیع ہوا کہ اسلامی علوم وفنون کی جتنی معتبر شاخیں ہیں یا ہوسکتی ہیں ان سب کا تعلق اسی شجرہ طوبیٰ سے ہے اور دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے تہی دامن ہے، معانی کے لیے سینکڑوں مفسرین پیدا ہوئے، پھر ایسے ایسے گلہائے رنگا رنگ کھلے، جن کی عطر بیزی سے دنیا حیرت زدہ اور مسحور ہوئے بنانہ رہ سکی، الفاظ اور لب ولہجہ کی بات کریں تو حفاظ وقراء نے ایسا سماں باندھا کہ کیا انسان اور چرند وپرند اور کیا دریا وپہاڑ، سب کے قلوب لرز گئے اور سب اس کے اعجاز کے آگے سر بہ سجدہ ہوگئے،نحو، صرف، بلاغت، فقہ، تجوید، لغت، معانی، بدیع، اشتقاق اور نہ جانے کیسے کیسے علوم وفنون وجود میں آگئے اور الگ الگ ہر فن سے متعلق بے شمار کتابیں لکھی گئیں کہ جن کی صرف فہرست ترتیب دی جائے تو مستقل ڈھیروں کتابیں تیار ہوجائیں، اور ایسے ایسے قرآن کے خدمت گذار پیدا ہوئے جن کے نام تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے گئے، کسی نے قرآنی آیات میں غور وتدبر کا حق ادا کیا، کسی نے ترغیبی وترہیبی پہلو کو نمایاں کیا، کسی نے الفاظ کی تصحیح وتجوید پر توجہ دی اور ان کی آواز، زینتِ قرآن کی علامت قرار پائی اور کسی نے مسائل کی تخریج واستنباط میں پوری زندگی گذار دی، علم وحکمت کے
اللؤلؤ وا لمرجانسے لبریز قرآن جیسی مقدس کتاب کی خدمت کا موقع یقیناًبہت بڑی نعمت اور سعادت ہے، کل قیامت میں ان خدامانِ کتاب الٰہی کی ایک الگ ہی قسم کی شان وشناخت ہوگی، اور ان کے بخت کا عروج اور نصیبہ کا اوج انھیں کس مقام ومرتبہ تک پہنچائے گا اللہ اعلم بالصواب۔
نزول قرآن کے وقت سے لے کر آج تک اس عالم رنگ وبومیں انگنت ایسے لائق افراد پیدا ہوئے جن کے سروں پر قرآنی خدمت کا سہرا بندھا اور سجا اور دنیا نے ان کی عظمت وعقیدت کے ترانے گائے اور ان کی خدمات کو صرف خراجِ عقیدت پیش ہی نہیں کیا بلکہ انھیں جھک کر سلام بھی کیا، انھیں مبارک ناموں میں ایک نام ،حضرت الاستاذ مولاناوقاری محمد اسماعیل صاحب زیدہ مجدہ (اللہ انھیں مدتوں زندہ اور سلامت رکھے) کا بھی ہے جن کا شمار بھی ان خوش نصیبوں اور سعادت مندوں میں ہوتا ہے جنہیں قرآن کریم جیسی آسمانی وآفاقی کتاب کی خدمت کا موقع ملا، اور اتنا ملا کہ اب بڑے قاری صاحب اور جونپوری زبان میں'' بڑکے قاری صاحب'' کے لقب سے مشرف ومشہور ہیں، جو حد درجہ متین، خاکسار، اور خاموش بزرگ کے مصداق، جن کی طبیعت میں نرمی، قلب میں تقوی اور عمل میں اخلاص جیسے اوصاف، خوشبو کی طرح رچے بسے ہیں جنہیں قریب سے گذرنے والا ہر شخص محسوس کرسکتا ہے۔
بڑے قاری صاحب اور آپ کی خدمت کا میدان
آپ کی زندگی قرآن کی خدمات میں بسر ہورہی ہے، اور خیال رہے جس کے نصیب میں قرآن کی خدمات آجائیں اس کے نصیبہ ور ہونے میں کسے کلام ہوسکتا ہے؟ فنِ قرأت جسے فنونِ اسلامیہ کے دقیق ترین فن میں شمار کیا جاتا ہے، بڑے قاری صاحب نے اسی فن کو اپنی زندگی کا نصب العین بنایا ہوا ہے، قرآن کے الفاظ، معانی، لب ولہجہ، رسم الخط اور قرآن سے متعلق دیگر فنون سے والہانہ نہیں؛ عاشقانہ تعلق ہے،اور اس کی نشر واشاعت کی فکر انھیں ہر وقت ستاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ جامعہ عربیہ ریاض العلوم کے شعبۂ قرأت کے ماہرین فن اساتذہ کرام آپ کے ارشد تلامذہ میں ہیں، آپ نے قرآنی خدمات کے لئے بے شمار لائق وفائق قراء کی جماعت تیار کردی، جو ملک وبیرون ملک قرآن کی خدمت کے حوالے سے قاری صاحب کا فیض عام کئے ہوئے ہیں، اور اس فریضہ کی انجام دہی میں قاری صاحب ہمہ وقت سر گرم عمل ہیں، قرآنی خدمت سے آپ کو نہ موسم گرما روک سکتا ہے اور نہ ہی کڑاکے کی ٹھنڈ، سدِراہ بن سکتی ہے، ایسے یکتائے زمانہ، آسمانِ وجود پر نہ صرف یہ کہ بہت ہی خاص ہوتے ہیں؛ بلکہ بہت ہی کم ہوتے ہیں، حضرت قاری صاحب نے اپنی محنت اور کدو کاو ش کو قرآن جیسی لا ثانی کتاب کے لئے وقف کردی ہے اور اپنے لئے فرقانی خدمات کا میدان منتخب کیا، جس کا شہسوار، نگاہ شریعت میں بڑا ہی معتبر اور تقربِ خداوندی کا سزاوار ہوتا ہے، قاری صاحب نے اپنی غوطہ زنی کے لئے ایک ایسا سمندر منتخب کیا، جس کے بے حساب علمی ہیرے جواہرات کا کوئی حساب نہیں اور اس میں ڈوبنے والے کی اخروی زندگی کی مقبولیت بارگاہِ الہٰی مین طے ہے، قاری صاحب نے اپنے قلب وذہن میں ایسے کلام کو جگہ دی ہے جو سید الکلام ہے، جس سے فائق کوئی کلام اس دنیا میں کیوں کر ہوسکتا ہے؟۔
بڑے قاری صاحب اور دیگر علوم وفنون
مذکورہ بالا وصف، قاری صاحب کی کتاب زندگی کا سب سے بڑا عنوان ہے؛ لیکن دیگر فنون مثلا نحو، صرف، تفسیر ،حدیث وغیرہ سے بھی حد درجہ لگاؤ ہے، جس فن کی کتاب زیرِ مطالعہ ہوتی ہے، اس فن کی کیا چھوٹی اور کیا بڑی ساری کتابیں کھنگال ڈالتے ہیں، آپ کی نظر علوم پر عموماً، اور فنون پر خصوصاً ہوتی ہے، جب آپ مسندِ درس پر ہوتے ہیں تو چھوٹی بڑی ساری کتابوں کا نچوڑ اور عطر بیان کرتے ہیں اور اس فن کی بسم اللہ سے لے کر تمت بالخیر تک کا حوالہ پیش کرتے ہیں، دقیق ترین باتیں جو دیگر کتابوں میں بکھری پڑی ہیں اور جہاں تک رسائی ہر کس وناکس کی قدرت سے باہر ہے، قدر دان طالب علم کو ایک ہی جگہ، ایک ہی وقت ہاتھ لگ جاتی ہیں، جن حضرا ت کو قاری صاحب سے استفادہ کا شرف حاصل ہے، وہ گواہی دیں گے کہ آپ کا درس، بیش بہا معلومات کا خزانہ وذخیرہ ہوتا ہے، قاری صاحب کے علمی انہماک کو دیکھ کر، اکابر کے واقعات پر ایمان لانے کو جی چاہتا ہے، نہ کھانے کی فکر، نہ لباس کی فکر، فکر ہے تو صرف علوم وفنون کی، سوچ ہے تو صرف حل المشکلات والمعضلات کی، جب دیکھئے کسی مسئلہ کی تحقیق کی تگ ودو میں لگے ہوئے ہیں جب کوئی ملاقات کرتا ہے تو اس سے کوئی مسئلہ پوچھتے ہیں یا پھر اسے بتاتے ہیں، مہمان ہویا میزبان، سفر ہو یا حضر، مدرسے میں ہوں یا مسجد میں، بیٹھے ہوں یا راہ میں ہوں، خلوت ہو کہ جلوت، ہر وقت، ہر جگہ بات ہے تو صرف تحقیق علم کی، گفتگو ہے تو بس فن کی ، کلام ہے تو فقط حلِ مسلائل پر، تذکرہ ہے تو بس کتابوں کا،تڑپ ہے تو علمی رموز واشارات کے حصول کی، دُھن ہے تو صرف شروح وحواشی کی، الغرض آغاز ہے تو علم سے،انجام واختتام ہے تو علم ہی پر، ہر وقت مصروفِ تحقیقِ علوم وفنون، ہمہ وقت علمی تشنگی بجھانے کی سعی، ہر ٹائم کسی مسئلے کو سلجھانے کی خواہش، ہر آن، علمی سفر کی اگلی منزل کے لئے کمر بستہ، ہر لمحہ، علمی کمال کے حصول کے لئے کوشاں، کسی نئی بات کا علم ہوا تو کیا بڑے اور کیا چھوٹے سب کو بتانے کی دُھن، کسی مسئلہ یا عبارت میں وقتی طور پر ا لجھ گئے تو ہم اصاغر طلبہ سے پوچھنے میں نہ کوئی عار نہ کوئی بات۔
تحقیق ومطالعہ کا ہنر اور اس ہنر میں مزہ کوئی قاری صاحب سے سیکھے اور سمجھے، فن کی مشکل اور نادر باتوں کے لئے مستقل کئی کاپیاں اور ڈائریاں، اپنے اساتذہ کا اتنا ادب کہ ان کے فرمودات آج بھی قاری صاحب کی کاپیوں کے زینت بنے ہوئے ہیں، آپ حقیقی اور مثالی طالب علم اور پھر استاذ ومعلم کی سچی تعبیرہیں، علامہ ابراہیم بلیاویؒ سے متعلق کسی نے لکھا تھا کہ ''جبل العلم'' کی تعبیر حضرت پر صادق آتی ہے، راقم آثم نے علامہ کو دیکھا نہ پایا، البتہ ان کے تلامذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کا شرف حاصل ہوا، جس سے اندازہ ہوا کہ واقعی علامہ ، جبل العلم رہے ہوں گے، راقم نے اپنے جن اساتذہ کرام کو دیکھا اور پڑھا ہے ان میں سے بہت سے -میرے معیار کے مطابق- واقعی جبل العلم ہیں، حضرت قاری صاحب کو جملہ علوم وفنون میں جبل ا لعلم کہنا شاید کسی کو مبالغہ لگے؛ لیکن اگر فنِ قرأت میں جبل العلم انھیں نہ کہا جائے تو دنیا سے اب اس ترکیب کو اور اس لقب کو، لغت اور محاورے سے مٹا دینا عقل مندی کی بات ہوگی۔
مزید لائق تقلید وعمل معمولات
مذکورہ بالا خصوصیات وخصائل علمی دنیا کے تھے، عملی دنیا میں بھی قاری صاحب امتیازی اوصاف کے حامل ہیں، نمازوں پر مداومت، قبل از وقت جماعت، مسجد پہنچنا، ہمہ وقت طلبہ کو جماعت سے پہلے مسجد پہنچنے کی تلقین کرنا، عصر بعد سے مغرب تک مسجد میں ہی عکوف کرنا، اور اس دوران تلاوت قرآن یا سماعت قرآن یا پھر ذکر الہٰی میں منہمک رہنا، نوافل روزوں کا اہتمام، یہ وہ نمایاں خصوصیات ہیں جو قابلِ تقلید وعمل ہیں، کن فی الدنیا کأنک غریب کی محسوس تفسیر دیکھنی ہو تو ریاض العلوم جونپور کے شعبۂ قرات کے میرِ کارواں (صدر القراء) بڑے قاری صاحب کو دیکھ لیا جائے،فرائض کے علاوہ سنن ومستحبات کی رعایت وپابندی، اورادو وظائف پر خصوصی توجہ بھی آپ کی زندگی کا حصہ ہے اور یہ تو طے شدہ امر ہے کہ جو آدمی راہ سنت پر گامزن ہوگا وہ فرائض میں کمی تو درکنار، کوتاہی بھی برداشت نہیں کرے گا، غالبا یہی نکتہ ہے سنت کی پیروی میں، التزام اتباعِ سنت، مداومت علی الفرائض کا باعث تو بہر حال ہے، یہ چیزیں تو مشاہد ے سے تعلق رکھتی ہیں، باقی آپ کے گھریلو معمولات ، آپ ہی زیادہ جانتے ہیں۔
کسر نفسی، تواضع اور خاک ساری میں طاق، سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ نہ سمجھنے کی ہمت سب میں کہاں ہے، کہیں تشریف لے جاتے ہیں تو وہاں مسجد میں ہی قیام کو ترجیح دیتے ہیں، کوئی ادنی خادم بھی اپنے یہاں بلاتا ہے تو بغیر کسی فرمائش کے، اس کی دلجوئی کے لئے حتی الامکان تشریف لے جاتے ہیں، بے جا اور بے محل غصہ کو حدیث میں منع کیا گیا ہے، قاری صاحب کی لغت زندگی میں غصہ جیسا لفظ از قبیل ش*ذ ہے؛ بلکہ آپ کی زندگی اس سلسلے میں ''باغ وبہار'' اور ''مرنجاں مرنج زندگی'' کی حیثیت رکھتی ہے، اور نامور ادیب مولانا عبد الماجد دریاآبادی کی زبان میں کہا جائے تو تعبیر کچھ یوں ہوگی کہ قاری صاحب کی ''جبیں'' جیسے ''چیں'' سے نا آشنا ہے۔
قاری صاحب اور طلبہ عزیز
مدارس میں اساتذہ کے لئے جو طے شدہ اصول ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اساتذہ، طلبہ کو قوم کی امانت ہی نہیں؛ بلکہ اپنی اولاد سمجھیں،قاری صاحب کا تعلق، طلبہ کے ساتھ کیا اور کیسا ہے، اس کا صحیح اندازہ وہی شخص لگا سکتا ہے، جسے آپ سے شرفِ تلمذ حاصل ہے طلبہ کے تئیں، شفقت ومحبت، آپ کی زندگی کا جزء لا ینفک ہے، جیسے ایک شفیق باپ، اپنی اولاد کی ترقی، تہذیب اور اس کے مستقبل کی تعمیر کا حد درجہ متمنی رہتا ہے؛ قاری صاحب کی مثال بالکل اسی باپ جیسی معلوم ہوتی ہے، کوئی طالب علم ہو، کہیں کا ہو، قاری صاحب سے کچھ پڑھنا یا پوچھنا یا کوئی علمی استفادہ کی خواہش رکھتا ہو تو قاری صاحب کا درِ دولتِ علم اور بابِ کاشانۂ حکمت ہمیشہ اس کے لئے وا رہتا ہے؛ بلکہ طلبہ کو از خود بلا کر پڑھانے اور سکھانے کا مزاج ومذاق ہے، (یہ چیز مدارس سے اٹھتی جارہی ہے، اظہارِ افسوس کے ساتھ، اصلاح کی ضرورت معلوم ہوتی ہے) عصر بعد طلبہ کا قرآن سنتے ہیں، جو حضرت کی طرف سے ایک عظیم احسان اور صدقہ جاریہ سے کم نہیں ہے، طلبہ کے ذہن کے مطابق ہر فن کی کتابیں، مختصر تشریح کے ساتھ پڑھانے کا شوق حد درجہ رکھتے ہیں، جو طلبہ،قاری صاحب کے پاس، خصوصی (ریاض العلوم میں تخصص فی القراء ۃ کا ایک بہت ہی معتبر مفید اور کامیاب شعبہ) میں داخل ہوتے ہیں، ان پر قاری صاحب کی توجہ کا تعلق، شنید سے نہیں دید سے ہے، خبر سے نہیں مشاہدے سے ہے، طلبہ کو آگے بڑھانا، ان کی علمی وعملی سوچ کا گراف اونچا ہو، احساسِ کمتری کا دروازہ بند ہو اس کے لئے کیا طریقہ کا رہو، قاری صاحب اس سے بخوبی واقف ہیں، طلبہ کی اعانت ومدد، بیمار طلبہ کی عیادت ومزاج پرسی، غیر حاضر طلبہ کی فکر اور اسی طرح دیگر تمام صفات اس بات کی عکاس ہیں کہ قاری صاحب طلبہ کے حوالے سے، ہمدردانہ اور مشفقانہ احساسات وجذبات کے مالک ہیں، یہی وجہ ہے کہ افادہ واستفادہ آسان ہی نہیں، آسان تر ہوتا ہے۔
یہ ایک سرسری اور ناقص تحریر ہے، جو راقم الحروف کے احساسات وجذبات کے ناقص ترجمان ہیں، ورنہ تو بڑے قاری صاحب کی علمی وعملی بڑائی، ان کی بے داغ اور بافیض زندگی کے گوشوں پر روشنی ڈالنے کے لئے بہت کچھ سامان ومواد ہے جو وقتاً فوقتاً، معرضِ وجود میں آتے رہیں گے، حضرت الاستاذ کا چشمہ فیض تادمِ تحریر جاری ہے، اللہ اس چشمہ فیض کے سوتوں میں مزید برکت دے، ہم خدام دست بہ دعاہیں کہ اللہ قاری صاحب کی عمر میں خوب برکت عطا فرمائے اور آئندہ نسلوں کو بھی مستفیض ہونے کی سعادت نصیب فرمائے، راقم آثم کے ان احساسات وجذبات سے، قاری صاحب کی زندگی کی علمی وعملی گہرائی وگیرائی کا اندازہ لگانا اس شخص کے لئے جس نے قاری صاحب کو دیکھا ہے، آسان تو ہے ہی، محض ان سطور کے قارئین کے لئے بھی کوئی مشکل نہیں؛ کیوں کہ چاول کے چند دانے دیکھ کر پورے چاول پر حکم لگانا سب کے لئے بہت آسان ہوتا ہے، مشکل نہیں ہوتا، مخلصین ومحبین سے اس دعا کی درخواست ہے کہ ؂
وہ سلامت رہیں ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

Email:[email protected]
Mob: 07207326739

Photos from ‎Deoband Express دیوبند ایکسپریس‎'s post 05/05/2019

ہاں میں دارالعلوم دیوبند ہوں۔۔۔!
نازش ہما قاسمی
جی عالمی ادارہ، عظیم دینی واسلامی مرکز، قاسم العلوم والخیرات مولانا محمد قاسم نانوتوی کا شجر سایہ دار، رشید احمد گنگوہی کا مسکن، حاجی عابد کے اخلاص کا تاج محل، حاجی امداداللہ مہاجر مکی کے خوابوں کی تعبیر، مولانا یعقوب نانوتوی کی جدوجہد کا ثمرہ، مولانا ذوالفقار علی دیوبندی کا شاہکار، اشرف علی تھانوی کے علوم و فنون کا مخزن، انور شاہ کشمیری جیسا عظیم محدث پیدا کرنے والا، شیخ الہند محمود حسن دیوبندی کے پروانہ آزادی کی تعبیر، حسین احمد مدنی کے عزم واستقلال کا مرکز، قاری محمد طیب قاسمی کے صبر و تحمل، اعتدال و حلم وبردباری کا ترجمان، عبیداللہ سندھی کو مجاہد بنانے والا ادارہ، تبلیغی جماعت کے محرک مولانا الیاس کاندھلوی کی درسگاہ، مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ کی آماجگاہ، محدث جلیل خلیل احمد سہارنپوری کو متعارف کرانے والا، علامہ شبیر احمد عثمانی کو مشہور کرنے والا، علامہ ابراہیم بلیاوی کو پروان چڑھانے والا، اعزاز علی امروہوی کو ادیب دوراں بنانے والا، مناظر احسن گیلانی کو مورخ بنانے والا، محمد شفیع عثمانی کو مفتی اعظم بنانے والا، حفظ الرحمن سیوہاروی کو طاقت وقوت بخشنے والا، علامہ یوسف بنوری کو حدیث کا امام بنانے والا، منت اللہ رحمانی کو روحانیت بخشنے والا، ابوالحسن علی میاں ندوی کو مفکر اسلام بنانے والا، وحیدالزماں کیرانوی کو زبان وادب میں دسترس بخشنے والا، اسعد مدنی کو فدائے ملت بنانے والا،علامہ خورشید عالم عثمانی کو حدیث کا علم دینے والا، علامہ حسن باندوی کو بہترین مدرس بنانے والا، علامہ نعیم کو مفسر بنانے والا، محمد سالم قاسمی کو خطیب الاسلام کا لقب دینے والا، انظر شاہ کشمیری کو فخر المحدثین بنانے والا، قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کو بے مثال فقیہ بنانے والا، مولانا جمیل احمد سکروڈوی کوبہترین فقیہ اور عظیم شارح بنانے والا، ترانۂ دارالعلوم دیوبند کے خالق مولانا ریاست علی بجنوری کو شاعر اسلام بنانے والا، قوم مسلم کو مولانا مرغوب الرحمن بجنوری جیسا درویش صفت مہتمم دینے والا، فن حدیث میں ید طولیٰ رکھنے والے مفتی ابوالقاسم نعمانی بنارسی جیسے ہزاروں چوٹی کے علماء کرام کو علوم ومعارف کی سند دے کر حضور اقدس ﷺ کے قول ’ماانا علیہ و اصحابی‘ کی کسوٹی پر پورا اترنے اور فکر ولی اللہی پر قائم عالمی ادارہ ہوں۔
میری بنیاد ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد انگریزوں کے تعلیمی نظام ’ایک ایسی جماعت تیار کی جائے جو رنگ ونسل کے لحاظ سے تو ہندوستانی ہو؛ مگر فکر وعمل کے لحاظ سے عیسائیت کے سانچے میں ڈھلی ہو‘‘ کے حربے کے بعد ۳۰؍مئی ۱۸۶۶ میں اسلامی تعلیمی نظام ’’جو رنگ ونسل سے تو ہندوستانی ہوں؛ لیکن قول وعمل کے لحاظ سے خالص اسلامی ہوں‘‘ کے تحت دیوبند میں قاسم العلوم والخیرات مولانا قاسم نانوتوی، حاجی عابد حسین اور دیگر رفقا کے ہاتھوں مسجد چھتہ میں انار کے درخت کے نیچے رکھی گئی ۔میری بنیاد صرف اس لیے رکھی گئی کہ یہا ں سے جنگ آزادی کے لیے لڑنے والوں کی ایک ٹیم تیار کی جائے جو ہندوستان سے قابض انگریزوں کو اکھاڑ پھینکے، جس کے تحت ’’ریشمی رومال تحریک‘‘ سامنے آئی۔ اے کاش! ریشمی رومال تحریک کامیاب ہوگئی ہوتی تو نقشہ کچھ اور ہوتا؛ لیکن ریشمی رومال کی تحریک ناکام ہوگئی اور برسوں آزادی کے لیے جدوجہد کرنی پڑی۔ اور مسلسل تگ ودو کے بعد آخر کار ہندوستانی عوام کے لیے وہ سنہری دور بھی آیاکہ ہندوستان آزادہوگیا؛ لیکن آزادی کے ساتھ ہی تقسیم ہند کا المناک سانحہ رونما ہوا، ہندوستانی مسلمانوں کو ’مملکت خدا داد‘ کا جھانسہ دیاگیا اور پاکستان کا قیام عمل میں آیا ۔ خیر! یہ دور بھی گزرا اور میں قاطع بدعت بن کر کام کرتا رہا، پوری دنیا میں اسلامی علوم وفنون کے مرکز کے طور پر میری پہچان ہوئی، وقت کے بڑے بڑے شاعروں، ادیبوں، نثر نگاروں نے مجھ پر کلام کہے، تبصرے کیے، اور میری خدمات کو سراہا، میں نے کسی ایک میدان عمل میں کام نہیں کیا، اسلامی علوم وفنون کے تمام میدانوں کو اپنے احاطے میں داخل کیا اور آج میں ہندوستان سمیت دنیا کے مسلمانوں کا مرجع ہوں ، میری باتوں کو اہمیت دی جاتی ہے، میرے یہاں سے جاری قول وعمل پر عمل کرنے کو فخر سمجھاجاتا ہے۔ میری خدمات کا دائرہ اتنا وسیع ہے کہ اس کے لیے ملک کی لائبریریاں بھر جائیں؛ لیکن احاطہ ممکن نہیں۔
ہاں میں وہی دارالعلوم دیوبند ہوں جس کے ساتھ عظیم سانحہ رونما ہوا، آزادی کے فوراً بعد آزادی میں نمایاں رول ادا کرنے کی وجہ سے میری تلاشی لی گئی، مجھے مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی؛ لیکن میں ڈرا نہیں، جھکا نہیں، سہما نہیں، انتہائی بے باکی سے ہندوستانی مسلمانوں کی رہنمائی کرتا رہا، لیکن حالات نے کروٹ بدلی ۱۹۸۰ میں میرا صدسالہ اجلاس رکھا گیا، اس اجلاس میں دنیائے اسلام کی نامور شخصیات نے شرکت کی، میرا یہ صد سالہ عالمی اجلاس انتہائی کامیاب اور تاریخی تھا؛ لیکن صدسالہ اجلاس میں اس وقت کی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی میری دعوت کے بغیر اجلاس میں شریک ہوئیں، ان کی یہ شرکت میرے لیے درست ثابت نہیں ہوئی ۔ صد سالہ جشن میں خاتون وزیراعظم کی شرکت کے بعد سے ہی دارالعلوم پر اختلافات کے بادل منڈلانے لگے اور اختلاف میں شدت آتی گئی، پوری دنیا میں مجھے متعارف کرانے والے اور مجھے عالمی ادارہ بنانے میں اہم رول ادا کرنے والے قاری محمد طیب صاحب اس وقت میری باگ ڈور سنبھال رہے تھے، پوری دنیا میں انہوں نے علوم قاسمی کی ترجمانی کی اور دارالعلوم دیوبند کو متعارف کرایا، تقریباً ۵۸ سال تک میری آبیاری کرتے رہے اور مجھے شہرتوں کے بام عروج تک پہنچایا؛ لیکن۲۲؍۲۳؍مارچ ۱۹۸۲ کی درمیانی رات میں قضیہ نامرضیہ پیش آیا، دارالعلوم دیوبند دوحصوں میں بٹ گیا، یہ قضیہ نامرضیہ تاریخ دارالعلوم دیوبند کا ایک المناک باب ہے ۔ دارالعلوم وقف کی بنیاد رکھی گئی اور اختلاف العلماء رحمت ثابت ہوا، اب دونوں اداروں سے ہرسال ہزاروں کی تعداد میں علوم نبوی کے وارث پیدا ہورہے ہیں جو پوری دنیا میں اسلامی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قضیہ نا مرضیہ کے پیش آنے کے بعد اختلافات چلتے رہے، مقدمات ہوتے رہے، لیکن اخیر عمر میں فدائے ملت جانشین شیخ الاسلام مولانا سید اسعد مدنیؒ اور علوم قاسمی کے وارث خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی نے اختلافات کی طوالت پر قدغن لگاتے ہوئے فروری ۲۰۰۵ میں تمام گلے شکوے کو ختم کرکے آپسی اخوت و محبت اور صلہ رحمی کا عظیم پیغام دیا۔
ہاں میں وہی دارالعلوم دیوبند ہوں جس کی عظمت بیان کرتے ہوئے شاعر اسلام مولانا ریاست علی بجنوری (استاد دارالعلوم ) نے کہا تھا "خود ساقی کوثر نے رکھی میخانے کی بنیاد یہاں، تاریخ مرتب کرتی ہے دیوانوں کی روداد یہاں" ، ہاں میں وہی ہوں جہاں مہتاب ہر رات یہاں کے ذروں کو منانے آتا ہے، میں وہی ہوں جہاں شاہوں کے محل جھک جاتے ہیں، میں وہی ہوں جہاں محمود بہت تیار ہوئے، میں وہی ہوں جہاں دارالحدیث کی عظیم عمارت قال اللہ وقال الرسول سے مسلسل گونجتی رہتی ہے، جہاں مسجد رشید کے بلندوبالا مینارے اپنی عظمت وسطوت کا پیغام دیتے ہیں، جہاں مسجد چھتہ اور مسجد قدیم میں روحانیت کی بارش ہوتی ہے، جہاں دارجدید کی عمارتیں اپنے اسلاف کی کہانیاں بیان کرتی ہیں، جہاں باب قاسم سے مدنی گیٹ تک اور باب الظاہر سے معراج گیٹ تک، اعظمی منزل سے لے کر دارالقرآن تک ، اور شیخ الہند لائبری سے لے کر نودرہ و احاطہ مولسری تک اسلامی علوم وفنون کی بارش ہوتی ہے، جہاں ہندوستان میں رہتے ہوئے اسلامی علوم پر دسترس رکھنے اور محب وطن ہونے کی بے باکی سے تعلیم دی جاتی ہے۔
ہاں میں سیاسی دباو کے بغیر خاندانی اجارہ داری سے دور مجلس شوری کا پابند عوامی ادارہ ہوں ۔ ہاں میں وہی دارالعلوم دیوبند ہوں جس نے جنگ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا، جو ہر فتنہ کی سرکوبی کےلیے سب سے پہلے سینہ سپر ہوا، جس نے ہر مقام اور ہر موقع پر ہندوستانی مسلمانوں کی رہنمائی کی، جس نے دہشت گردی کے خلاف سب سے پہلے کانفرنس کی اور یہ ثابت کردیا کہ دہشت گردی کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ لیکن مجھے پھر بھی بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، دہشت گردی سے جوڑنے کی ناپاک کوشش کی گئی، مجھ پر سب وشتم کے تیر برسائے گئے، مجھے بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، آئے دن مجھ پر نت نئے الزامات واتہامات لگائے جارہے ہیں، اصلی دارالعلوم دیوبند اور نقلی دارالعلوم دیوبند کا شوشہ چھوڑ کر امت کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے؛ لیکن میں ان سب باتوں سے دور رہ کر اپنے مشن پر گامزن ہوں؛ کیوں کہ میری بنیاد ہی اس لیے رکھی گئی تھی کہ میں ہندوستانی مسلمانوں کی سربراہی کروں، میرے فرزند جس طرح سابق میں کوئی شیخ الہند بنا، کوئی شیخ الاسلام بنا، کوئی خطیب الاسلام بنا، کوئی مفکر ا سلام بنا، کوئی محدث وقت بنا، کوئی علامہ بنا، کوئی مبلغ اسلام بنا، اسی طرح آج بھی عظیم محدث مفتی ابوالقاسم نعمانی، مرد دانا مولانا سید ارشد مدنی، شیخ الحدیث مفتی سعید احمد پالنپوری، امیر المومنین فی الحدیث قاری محمد عثمان منصورپوری، بحرالعلوم علامہ نعمت اللہ اعظمی ، فن حدیث کے امام مولانا حبیب الرحمن اعظمی، حکیم محمد احمد فیض آبادی، تصوف کے امام علامہ قمر گورکھپوری ، مسجد رشید کے معمار مولانا عبدالخالق مدراسی، بہترین ادیب وانشاپرداز مولانا عبد الخالق سنبھلی، جامع المعقول والمنقول مولانا مجیب اللہ گونڈوی، مفسر قرآن مولانا شوکت علی بستوی، امام المنطق و الفلسفہ مفتی خورشید انور گیاوی، ادیب العصر مولانا نور عالم خلیل امینی، ترجمان دارالعلوم مفتی امین پالنپوری وغیرہ پر دنیا ناز کرتی ہے اور انہیں اپنا قائد ورہبر تسلیم کرتے ہوئے اپنی جبین نیاز خم کرتی ہے۔ اور ان شاء اللہ جب تک میں ہوں اسی فکر ولی اللہی پر گامزن رہتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کے عقائد کی حفاظت، اخلاق وکردارکو سنبھالنے، قومی دھارے سے جوڑنے اور محب وطن شہری بنانے کی کوشش کرتا رہوں گا۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Lucknow?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address

Lucknow City
Lucknow
226001