27/08/2026
زمانۂ جاہلیت میں عربوں نے اللہ کے مقرر کردہ چار حرمت والے مہینوں (رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم) کو اپنی خواہش کے مطابق آگے پیچھے کر کے بدلنے کی رسم اختیار کر لی تھی تاکہ وہ جنگ، قتل و غارت اور لوٹ مار جاری رکھ سکیں۔ اگر محرم میں لڑائی کرنا چاہتے تو اعلان کر دیتے کہ اس سال محرم کو صفر سمجھا جائے، اور یوں حرمت والے مہینے کی تقدیس پامال کر دیتے۔ قرآن کریم نے اس عمل کو سختی سے منع کیا اور فرمایا: "إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ" (التوبہ: 37) یعنی مہینوں کو آگے پیچھے کرنا کفر میں اضافہ ہے۔ اس دھوکے کو "نَسِیء" کہا جاتا تھا، اور اسلام نے اسے حرام قرار دے کر واضح کر دیا کہ اللہ کے مقرر کردہ مہینوں کی حرمت ناقابلِ تغیر ہے۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ دین اسلام نے انسانی خواہشات اور دنیاوی مفادات کے بجائے اللہ کے احکام کو اصل معیار بنایا، اور عبادات و معاملات کو اللہ کی مقرر کردہ حدود کے اندر رکھنے کی تعلیم دی۔