23/12/2025
کیا آپ جانتے ہیں کہ ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور صحرائے چولستان میں کبھی ایک ایسا جانور پایا جاتا تھا جو گدھا کہلاتا تھا مگر رفتار میں گھوڑے سے کم نہ تھا؟
اسے انڈین وائلڈ آس یا مقامی زبان میں گھڑکھر کہا جاتا تھا۔ لمبی ٹانگیں، ہلکا مٹیالا رنگ، کمر کے بیچ سیاہ لکیر اور آنکھوں میں صحرائی ہوشیاری — یہ جانور خطرہ دیکھ کر لڑتا نہیں تھا، ریت میں گم ہو جاتا تھا۔
قدیم ریکارڈز اور بزرگوں کی باتوں کے مطابق گھڑکھر چولستان کے کھلے میدانوں، راجن پور کی سرحدی پٹیوں اور قدیم دریائی راستوں کے آس پاس عام نظر آتا تھا۔ یہ سخت موسم، کم پانی اور لمبے سفر کا عادی تھا، اسی لیے اسے صحرا کا اصل وارث کہا جاتا تھا۔
پھر آہستہ آہستہ سب کچھ بدل گیا۔
بے دریغ شکار، چراگاہوں کا خاتمہ، گھریلو جانوروں سے پھیلنے والی بیماریاں اور پانی کے قدرتی ذخائر کا ختم ہونا — اور یوں ایک دن یہ جانور بغیر کسی اعلان کے ہماری زمین سے مٹ گیا۔
آج پاکستان میں انڈین وائلڈ آس کو مکمل طور پر ناپید مانا جاتا ہے، جبکہ اس کی آخری چھوٹی آبادی بھارت کے رن آف کچھ تک محدود ہے۔
یہ صرف ایک جانور کی کہانی نہیں،
یہ ہماری غفلت، خاموشی اور یادداشت کے زوال کی کہانی ہے۔
ایک ایسا جانور جو یہاں رہتا تھا، دوڑتا تھا، سانس لیتا تھا — آج اس کا نام بھی اجنبی لگتا ہے۔
سوال یہ نہیں کہ گھڑکھر کہاں گیا،
سوال یہ ہے: اگلا کونسا جانور ہماری آنکھوں کے سامنے سے غائب ہونے والا ہے؟
21/12/2025
کیا آپ جانتے ہیں دنیا کا ایک ایسا پرندہ بھی تھا…
جو خاموشی سے غائب ہو گیا؟
🕊️ ہمالیائی بٹیر (Himalayan Quail)
یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ ایک حقیقی پرندہ تھا جو کبھی برصغیر کے پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا تھا۔ چھوٹا سا، زمین پر رہنے والا، کم اُڑنے والا پرندہ… مگر انسان کے لیے شاید بہت ہی آسان شکار۔
📜 تاریخ کا تلخ سچ:
اس پرندے کو آخری بار 1876ء میں دیکھا گیا۔ اس کے بعد نہ کوئی تصویر، نہ آواز، نہ گھونسلہ… کچھ بھی نہیں۔ جیسے یہ پرندہ زمین میں دفن ہو گیا ہو۔
😔 یہ کیوں ناپید ہوا؟
جنگلات کی بے دریغ کٹائی، بے رحم شکار، اور انسان کی بڑھتی مداخلت۔ ہمالیائی بٹیر کے پاس نہ طاقت تھی، نہ رفتار — بس خاموشی تھی… اور خاموش مخلوق سب سے پہلے ختم ہوتی ہے۔
⚠️ حیران کن بات:
آج بھی کچھ پہاڑی علاقوں کے مقامی لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے بٹیر جیسا ایک عجیب پرندہ دیکھا ہے۔ اسی لیے ماہرین اسے مکمل طور پر ختم شدہ نہیں بلکہ
“Possibly Extinct” کہتے ہیں۔
💔 یہ پرندہ ہمیں کیا سبق دیتا ہے؟
جب کسی مخلوق کی آواز ختم ہو جائے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ چیخ نہیں سکتی تھی…
بلکہ یہ کہ ہم سننے کے قابل نہیں رہے۔
آج اگر ہم نہ سنبھلے، تو کل فہرست میں کوئی اور نام ہوگا — اور شاید وہ ہمارے اپنے علاقے کا ہوگا۔
16/12/2025
نیوزی لینڈ کے پرندے اُڑنا کیوں بھول گئے؟
اگر آپ نیوزی لینڈ کے جنگلوں میں خاموشی سے چلیں تو وہاں پرندے اُڑ کر بھاگتے نظر نہیں آتے، بلکہ زمین پر چلتے، جھاڑیوں میں گھستے اور رات کی تاریکی میں خوراک ڈھونڈتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ منظر دنیا کے باقی حصوں سے بالکل مختلف ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر نیوزی لینڈ کے پرندے اُڑنا کیوں بھول گئے؟
اس کی جڑیں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں سال پیچھے جاتی ہیں۔ جب نیوزی لینڈ زمین کے بڑے براعظموں سے الگ ہوا تو یہاں کوئی شیر، لومڑی، بلی یا سانپ موجود نہیں تھا۔ زمین محفوظ تھی، خاموش تھی۔ ایسے ماحول میں پرندوں کو ہر لمحہ جان بچانے کی فکر نہیں رہتی۔ جب خطرہ نہ ہو تو اُڑنے کی عادت بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔
قدرت نے پرندوں کو وہی شکل دی جو اس ماحول کے لیے بہتر تھی۔ اُڑان کے بھاری پروں کے بجائے مضبوط ٹانگیں زیادہ کام کی ثابت ہوئیں۔ خوراک زمین پر تھی، اس لیے زمین پر رہنا فائدے کا سودا تھا۔ کیوی اسی فطری فیصلے کی زندہ مثال ہے۔ یہ پرندہ رات کو نکلتا ہے، اپنی لمبی چونچ سے مٹی کھودتا ہے اور سونگھ کر خوراک تلاش کرتا ہے۔ اس کے پر اتنے چھوٹے ہیں کہ اکثر لوگ انہیں دیکھ بھی نہیں پاتے۔
پھر ہے کاکاپو—ایک ایسا طوطا جو بول تو سکتا ہے، درخت پر چڑھ بھی سکتا ہے، مگر اُڑ نہیں سکتا۔ یہ پرندہ بھاگنے کے بجائے چھپنے پر یقین رکھتا ہے، کیونکہ صدیوں تک چھپ جانا ہی کافی تھا۔ ماضی میں موآ جیسے دیوہیکل پرندے بھی اسی سرزمین پر گھومتے تھے، جو ہرن کی طرح چرنے والے جانور بن چکے تھے۔
مسئلہ تب پیدا ہوا جب انسان نیوزی لینڈ پہنچا۔ وہ اپنے ساتھ بلیاں، کتے اور چوہے لے آیا—ایسے دشمن جن سے یہ پرندے کبھی واقف ہی نہیں تھے۔ جو پرندے بغیر خوف کے زمین پر جیتے آئے تھے، وہ اچانک بے بس ہو گئے۔ کئی ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے، اور جو بچے ہیں وہ آج ہماری حفاظت کے محتاج ہیں۔
نیوزی لینڈ کے فلائیٹ لیس پرندے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ فطرت کمزور نہیں ہوتی، وہ حالات کے مطابق خود کو بدل لیتی ہے۔ یہ پرندے اُڑ نہیں پاتے، مگر ان کی کہانی ہمیں بہت کچھ سکھا جاتی ہے—خاموشی، صبر اور ماحول کے ساتھ ہم آہنگی کا سبق.
15/06/2023
Haast's eagle "ہاسٹ کا عقاب"
(Hieraaetus moorei) حیاتیاتی نام
دنیا کا سب سے بڑا معدوم عقاب
(احمد عبدالقدیر دھمیال)
یہ عقاب کی ایک معدوم ہونے والی نسل ہے جو کبھی نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے میں رہتی تھی اسے ماوری 'پوکائی' بھی کہتے تھے کیونکہ یہ انسانوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
۔ یہ سب سے بڑا عقاب تھا جس کا وجود کبھی تھا، جس کا وزن 15 کلوگرام (33 پونڈ) تھا۔ جبکہ موجودہ ہارپی عقاب کا زیادہ سے زیادہ وزن نو کلوگرام تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اس کی بڑی جسامت کی وضاحت اس کے شکار کی جسامت کے ارتقائی ردعمل کے طور پر کی گئی ہے، اڑ نہ سکنے والے عظیم ماؤ یا موا(جس میں سے سب سے بڑے کا وزن 230 کلوگرام (510 پونڈ) ہو سکتا ہے) کا سب سے بڑا شکاری تھا۔
نوجوان عقاب کے پروں کا پھیلاؤ اٹھ سے دس فٹ تک ہوسکتا تھا۔ جبکہ اس کے فوسلز سے چونچ کی لمبائی اندازہ نو انچ تک لگایا گیا ہے۔
اس کی تیز دھار چونچ موا کے اندرونی اعضا تک کو ادھیڑ ڈالتی تھی مقابلے پر کوئی اور بڑا شکاری پرندہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ اس کا گوشت کئی دنوں تک استعمال کرتے تھے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کے تین ہزار سے زائد جوڑے تھے۔
ہاسٹ کا عقاب 1400 عیسوی کے لگ بھگ معدوم ہو گیا، ماوری قبائل کی آمد کے بعد اس کی نسل تیزی سے کم ہونے لگی کیونکہ ماؤری اپنے شکار موا یا ماؤ کو بچانے کے لیے اس کا بے دریغ شکار کرنے لگے اور یوں یہ عظیم شکاری انسانی دست برد کا شکار ہوگیا۔
بشکریہ آزاد دائرۃالمعارف
06/10/2022
(تلور) ہے
میرے پیارے پاکستانیو میرا نام اکثر آپ نے سوشل میڈیا پر سنا ہوگا اور ہر سال میرے نام کا شور آپ سب پاکستان میں سنتے ہوں گے ۔
دوسرے بہت سے پرندوں کی طرح رزق کی تلاش میں موسم سرما میں پاکستان کے صحراٶں میں
15 اکتوبر سے 15 مارچ تک میرا قیام میں ہوتا ہے خاص کر پنجاب کا صحرائے چولستان،رحیم یار خان،بہاولپور،بہاول نگر،راجن پور،ڈی جی خان،تھل ڈیزرٹ،خوشاب،جھنگ،لیہ اور بھکر۔میرے آباٶاجداد سے پاکستان کے صحرا میرے پسندیدہ مسکن ہیں۔
اب میں پاکستان پہنچنے کے لیے اڑان بھر چکا ہوں ۔میری حفاظت کے لیے واٸلڈلاٸف ڈیپارٹمنٹ نے ملازمین ک ڈیوٹیاں لگا دی ہیں اور ریڈ اسکواڈ بھی ترتیب دیے جا رہے ہیں کیونکہ میں ہر دفعہ دیکھتا ہوں مجھے بچانے کے لیے واٸلڈلاٸف ڈیپارٹمنٹ دن رات ایک کر دیتا ہے۔واٸلڈلاٸف ڈیپارٹمنٹ نے ایسے ایسے طریقے مجھے بچانے کے لیے اپناۓ ہوے ہیں کہ دنیا میں مجھے بچانے کا غم پاکستان کے علاوہ کہیں نہیں پایا جاتا
میری حفاظت کے لیے کچھ ملازمین سرداروں اور وڈیروں سے مل جاتے ہیں اور کچھ پوچرز، شکاریوں کے ساتھ مل جاتے ہیں-کچھ اپنی ڈیوٹیاں فیلڈ کیمپس چیک پوسٹس ڈیزرٹ میں لگوانے کے لیے دن رات محنت کر رہے ہوتے ہیں
اورجو لوگ ڈویژن میں بیٹھے ہیں وہ بھی چاہتے ہیں کہ کسی طرح ڈاٸیریکٹ لاٸن اوپر مل جاۓ اور معاملہ طے ہو جاۓ۔
جیسے ہی ہمارا پہلا گروپ کسی بھی ڈیزرٹ میں رات کو لینڈ کرتا ہے تو صبح کے وقت مجھے فوٹ پرنٹ کی مدد سے ٹریس کر لیا جاتا ہے اور تمام کیمپس کے اندر رات کو یہ خبر سن کر خوشی کا سما ہوتا ہے۔
پھر ہر رات ہماری اور فیملیز ڈیزرٹ میں لینڈ کرتی رہتی ہیں
ہر بندہ اپنا حصہ وصول کرنے کے چکر میں رہتا ہے
دیکھنے میں تو سب مجھے بچا رہے ہوتے ہیں مگر حقیقت میں سب ہی میرے جان کے دشمن ہوتے ہیں
آج تک پاکستان کے کسی صحرا سے ہمارا کوٸی گروپ یا ممبر بچ کر واپس نہیں جا سکا
میری ایک نسل تو پاکستان میں تقریباً ختم ہو چکی ہے گریٹ انڈین بسٹرڈ
افسوس بے حد افسوس
جب تک پاکستانیوں میں فارسٹ اور واٸلڈلاٸف کو بچانے کا شعور پیدا نہیں ہو گا ہمارے ساتھ یہ ظلم ہوتا رہے گا۔
آپ سب میرے لیے آواز اٹھاٸیں
مجھے اور باقی تمام ماٸیگریٹری پرندوں کو بچاٶ -
03/10/2022
معصوم مسافر پرندہ موسمی حالات اور رزق کے تلاش میں فن لینڈ سے 4355 کلومیٹر طویل اور تھکا دینے والا سفر طے کرکے جب پختونوں کی سر زمین باجوڑ پاکستان پہنچا تو کسی نے اسے نشانہ بنایا فن لینڈ کی یونیورسٹی نے ریسرچ کے خاطر اس کے پاٶں میں رینگ تھا اس رینگ پر کوڈ ورڈز میں کچھ تفصیلات درج تھیں جب اس پر رابطہ کیا گیا تو یونیورسٹی نے یہ تفصیلات فراہم کی جو نیچے تصویروں میں درج ہیں اور رینگ بھی نمایاں ہے۔
یہ جو ہم بطور قوم ہر طرف سے نشانے پر ہے اس کے کچھ وجوہات ضرور ہوں گی ورنہ اللہ تعالیٰ نہ ظالم ہے اور نہ ظلم کو پسند کرتا ہے جب تک ہم اپنے رویوں ،عادات و اطوار میں تبدیلی نہیں لائے گے تب تک رحم کے مستحق ٹھہرنے والے نہیں۔ اے پیاری چڑیا تیرا ہزاروں کلو میٹر سفر طے کرنے کے بعد پاکستان کی حدود میں نشان بن جانا ہمارے لیے رنج وغم کا باعث بنا 😞😢 ہم2022 میں آنے والے تمام مسافر پرندوں کو خوش آمدید کہتے ہیں
*Name: common Rosefinch
*Scientific name: Carpodacus Erythrinus
*Conservation status: last concern ( population decreasing )
*Mass 24 g
*Classification : Rosefinch
*Rank : specie
*Family : Fringillidae
*Order: Passeriformes cp
11/06/2021
اس دنیا میں اللہ نے کوئی بھی چیز بے مقصد یا بے فائدہ پیدا نہیں کی۔ ہر چیز ہمارے ماحول کو متوازن کئیے ہوئے ہے ۔۔ پاکستان میں پائے جانے والے زہریلے اور کم زہریلے یا بے ضرر سانپوں کی اقسام ۔۔۔۔ !
دوسروں کے ساتھ بھی شئیر کریں تاکہ زہریلے اور بے ضرر سانپوں کی پہچان سے دوسرے بھی فائدہ اٹھا سکیں ۔۔۔
10/06/2021
زیبرا Zebra: زیبرا ، سفید و سیاہ دھاریوں پر مشتمل ایک جانا پہچانا افریقی سبزی خور جانور ہے جس کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں۔
1-میدانی زیبرا
2- پہاڑی زیبرا
3 - گریویس زیبرا۔
لیکن ہم اس تحریر میں میدانی زیبرا کا زکر کریں گے۔
۔
سائنسی نام:
Equus quagga
جغرافیائی حدود :
میدانی زیبرا ان ممالک میں پایا جاتا ہے ۔
انگولا۔
بوٹسوانا۔
کانگو۔
ایتھوپیا۔
کینیا۔
ملاوی۔
موزمبیق۔
نمیبیا۔
روانڈا۔
جنوبی افریقہ۔
جنوبی سوڈان۔
سوازی لینڈ۔
تنزانیہ۔
یوگینڈا۔
صومالیہ۔
زیمبیا۔
زمبابوے۔
۔
مسکن :
جنگلات، سوانا خطے ،جھاڑ اور گھاس کے میدان۔
۔
جسمانی پیمائشیں:
قد = تقریباً 5 فٹ
لمبائی = 8.2 فٹ تک۔
وزن= 385 کلوگرام تک۔
۔
عمر:
آزادی میں 20 تا 25 سال۔
چڑیا گھر، نگرانی میں 40 سال تک۔
۔
خوراک:
گھاس، پتے اور پودے۔
۔
رہن سہن:
زیبرا ایک خاندانی جانور ہے۔
ہر خاندان میں عموماً ایک نر 6 مادائیں اور کئی بچھڑے ہوتے ہیں۔ اگر نر مارا جائے یا کسی اور طاقتور نر سے شکست کھا جائے تو نیا نر پرانے نر کے سب بچوں کو قتل کردیتا ہے اور دوبارہ سے بریڈ کرتا ہے۔
زیبرا ایک خانہ بدوش جانور ہے اور گھاس کی دستیابی کے ساتھ ساتھ یہ نقل مکانی کرتے رہتے ہیں۔ یہ ہر سال 20 ہزار سے زیادہ کی تعداد میں 1800 میل سفر اور نقل مکانی کرتے ہیں۔
قدرتی ماحول میں ان کے سب سے بڑے دشمن شیر ہیں ۔زیبرا شیر کی بنیادی غذا ہے۔
اس کا دوسرا سب سے بڑا دشمن مگرمچھ ہے جو باقاعدگی سے گھات لگا کر ان کا شکار کرتے ہیں۔
اس کے علاؤہ اسے چیتے، تیندوے،لگڑ بھگے اور جنگلی کتوں کی طرف سے خطرہ رہتا ہے۔
زیبرا اپنے بچاؤ کے لیے 65 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ سکتا ہے۔۔۔تاہم گھیر لیے جانے پر یہ دشمن پر اپنی دو لتیوں سے بھی حملہ کرسکتا ہے اور اسے کاٹ بھی سکتا ہے۔
زیبرا ایک دوسرے سے رابطے یا ایک دوسرے کو کسی ممکنہ خطرے سے خبردار کرنے کے لیے 6 مختلف قسم کی آوازیں نکال سکتے ہیں۔
بوٹسونا 🇧🇼 پر بنی سفید و سیاہ دھاریاں دراصل زیبرے سے منسوب ہیں۔ بوٹسونا کے کوٹ آف آرمز پر بھی زیبرے کی تصویر موجود ہے۔
۔
بریڈنگ :
زیبرا ایک "کثیر زوجیہ" جانور ہے۔
ایک زیبرے کی 6 مادائیں تک ہوسکتی ہیں۔
ان کی بریڈنگ کا کوئی مخصوص سیزن نہیں بلکہ یہ سارا سال بریڈ کر سکتے ہیں۔ ان میں حمل کا دورانیہ 396 دن ہوتا ہے۔ فی سیزن ایک زبیری 1 بچھڑے کو جنم دیتی ہے۔
پیدائش کے بعد بچھڑا 3 سال تک جھنڈ کے زیر نگرانی پرورش پاتا ہے۔
۔
بقائی کیفیت:
ان کی نسل کی فی الوقت کوئی سنجیدہ خطرات لاحق نہیں ہیں۔ تاہم زیبرے کی ایک خوبصورت ترین اور منفرد نسل "قواگا" 1870 میں معدوم ہوچکا ہے۔
تحریر : ستونت کور
05/06/2021
قطزال Quetzal :
ہرے جسم، سرخ سینہ ، سفید و سیاہ پروں اور لمبی دم کے حامل اس خوبصورت اور منفرد پرندے کا تعلق شمالی و وسطی امریکہ سے ہے۔۔۔
قطزال گواٹےمالا 🇬🇹 کا قومی پرندہ ہے جس کی تصویر اس کے پرچم پر بھی موجود ہے۔
۔
سائنسی نام:
Pharomachrus mocinno
۔
جغرافیائی حدود :
کوسٹاریکا 🇨🇷
السلواڈور 🇸🇻
گواٹےمالا 🇬🇹
ہنڈوراس 🇭🇳
میکسیکو🇲🇽
نکاراگوا 🇳🇮
پانامہ 🇵🇦
۔
مسکن :
حاری جنگلات۔
۔
جسمانی پیمائشیں:
لمبائی = 40 سم۔
وزن = 210 گرام۔
۔
عمر :
20 سے 25 سال ۔
۔
خوراک :
پھل ، کیڑے مکوڑے، چھپکلی ، مینڈک ۔
۔
رہن سہن اور بریڈنگ:
قطزال تنہا رہتے ہیں تاہم خوراک کے لیے اکھٹے نکلتے ہیں۔ یہ اکثر دوپہر کے وقت چگنے نکلتے ہیں۔ ان کی پسندیدہ خوراک آوکاڈو پھل ہے۔ یہ بہت بلند آواز میں چہکتے ہیں۔
قدرتی ماحول میں انہیں عقاب ، الو، شکرہ اور نیولے سے خطرہ رہتا ہے۔ یہ سست پرواز پرندہ ہے۔
قطزال اپنا گھونسلہ درختوں کی کھوہوں میں تعمیر کرتے ہیں۔
۔
جنسی اعتبار سے یہ "یک زوجیہ" پرندہ ہے۔
ان کا بریڈنگ سیزن میکسیکو میں مارچ-اپریل، السلواڈور میں مئی-جون اور گواٹےمالا میں مارچ تا مئی ہوتا ہے۔
فی سیزن مادہ قطزال 2 انڈے دیتی ہے جنہیں 18 دن تک سینے کے بعد چوزے نکلتے ہیں۔ دن کے وقت انڈوں کو نر جبکہ رات کے وقت مادہ سیتی ہے۔
۔
بقائی کیفیت:
قطزال کو اس کے خوبصورت پروں اور بطور پالتو پرندہ فروخت کرنے کے لیے شکار اور قید کیا جاتا رہا ہے۔ ساتھ ہی جنگلات کی کٹائی اور خوراک کے زرائع کی کمی کی وجہ سے بھی اس کی آبادی میں کمی دیکھنے کو آ رہی ہے۔
تحریر : ستونت کور
31/05/2021
پرندوں کی دنیا۔
( ستونت کور )
گلابی چمچ منقار Roseate spoonbill:
دلکش گلابی اور سفید پروں پر مشتمل اس آبی پرندے کی امتیازی خصوصیت اس کی چپٹی چونچ ہے جو اسے پانی میں شکار کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔۔۔ یہ پرندہ جنوبی ، شمالی اور وسطی براعظم امریکہ میں ملتا ہے۔
۔
سائنسی نام:
Platalea ajaja
۔
جغرافیائی حدود :
امریکہ ۔ یوراگوئے ۔ وینزویلا ۔ اینٹیگوا و باربودا، ارجنٹیاء ، بہاماز، بارباڈوس ، بلیز، بولیویا ، برازیل، چلی، کولمبیا ، کوسٹا ریکا، کیوبا ، ڈومینیکا ، ایکواڈور، السلواڈور، گواٹےمالا، گنی، ہنڈوراس، میکسیکو ، نکاراگوا، پانامہ ، پیراگوائے ، پیرو ، سینٹ کِیٹس، سرینام اور جمیکا۔
۔
مسکن :
یہ ایک آبی پرندہ ہے جس کا مسکن جھیلیں ، دریا ، ندیاں ، کھاڑیاں ، دلدلیں ، چمرنگ جنگلات اور گھاس کے میدان میں رہا کرتا ہے۔
۔
جسمانی پیمائشیں :
لمبائی = 86 سم۔
وزن = 1.8 کلوگرام
وِنگ سپین= 4.3 فٹ۔
۔
عمر :
10 سال تک۔
۔
خوراک :
اس کی خوراک میں مچھلیاں ، کیڑے مکوڑے، مینڈک ، چھپکلی جیسے جانور شامل ہیں۔
۔
رہن سہن اور بریڈنگ:
گلابی چمچ منقار ایک معاشرتی پرندہ ہے ۔ یہ گروپوں کی شکل میں رہتے اور چگتے ہیں۔ یہ دن کے وقت متحرک ہوتے ہیں اور زیادہ وقت گھوم پھر کر خوراک کی تلاش میں گزارتے ہیں۔۔۔۔ لم ڈھینگ کی طرح یہ بھی ایک ٹانگ پے کھڑے ہوکر سوتے ہیں۔۔۔۔ یہ اپنے گھونسلے پانی کے نزدیک جھاڑیوں یا چمرنگ درختوں میں کالونی کی صورت میں تعمیر کرتے ہیں۔
قدرتی ماحول میں انہیں عقاب ، کایوٹی اور رکون جیسے جانوروں سے خطرہ ہوتا ہے۔
۔
یہ ایک یک زوجیہ پرندہ ہے۔۔۔ فی سیزن مادہ گلابی چمچ منقار 2 سے 5 انڈے دیتی ہے جنہیں نر و مادہ دونوں 23 دن تک سیتے ہیں۔ پیدائش کے بعد 2 ماہ تک چوزے ، ماں باپ کے زیرِ سایہ پرورش پاتے ہیں۔۔
۔
بقائی کیفیت:
شکار ، قدرتی مسکن کی تباہی ، جنگلات کی کٹائی اور خوراک کے زرائع میں کمی کی وجہ سے اس کی نسل میں کمی دیکھنے کو آرہی ہے۔
#ستی