18/02/2026
An Independent candidate for ward number 10, Cantonment Board Abbottabad. This is not a facility page. it is a personality page.
18/02/2026
سب کو مطلع کیا جاتا ہے میرے والد جناب حاجی غلام فرید صاحب آج اس دنیا فانی سے رخصت ہو گئے ہیں ۔ جنازہ رہائش گاہ لالہ زار کالونی ایبٹ آبادمیں 8:00PMادا کیا جائےگا بروز سوموار 13فروری رابطے کے لیے 03333107733 ۔ محمد علی اعون
14/08/2022
Pakistan kaysay bana.
Raja Bazar
28/05/2022
Thanks to NHA for making water channels, now it will take years to cover them . ..... Said
۔۔۔۔۔۔ بگرز کانٹ بی چوزرز۔۔۔۔ایک دور تھا جب سکولینڈ پر انگریز غالب تھے۔ان کو بس اتنا ہی کھانا دیا جاتا تھا جس سے وہ زندہ رہتے تھے اور انگریزوں کی دی ہوئی مہدود آزادی میں زندگی بسر کرتے تھے ۔ ان کی عورتوں کی عزت و آبرو محفوظ نہ تھی۔ جب کوئی شادی کرتا تو اس کی عورت کو پہلی رات کے لیے اٹھا کر لے جاتےتھے ۔ اس پر سکوٹش نے چھپ کر شادیاں کرنا شروع کر دی ۔ مگر بات پھر بھی انگریز حاکم تک پہنچ ہی جاتی تھی ۔ کیوں کہ ان کے اندر ہی کہی غدار جو انگریز کو آپنا حاکم دل سے مان چکے تھے ان کو یہ خبر پہنچا دیا کرتے تھے اور اس کے بدلے چند روپے یا کوئی اور فاہدہ لے
لیتے تھے۔ اسی طرح ایک دن ولیم سکوٹ نے چھپ کر شادی کی تو اس کا انگریز حاکم کو پتہ چل گیا اس پر ولیم نے آپنی بیوی کی عزت بچانہ چاہی مگر وہ اس کی جان نہ بچا سکا ۔ یہ واقع اس کی زندگی کے لیے ایک اہم ٹرنگ پوائنٹ بن گیا۔ اور اس سے ولیم نے آزادی کی جدوجود شروع کی جو بعد میں کامیاب ہوئی۔اس کی قیمت تو بہت بھاری چکانا پڑی مگر آزادی کی شمع روشن ہوئی۔ آج ولیم سکوٹش قوم کے دل میں ان کے ہیرو کی طرح بستہ ہے اور باقی" یو بروٹس" کی طرح ایک گالی بن گئے ہیں۔
اس سارے قصے کو بتانے کا مقصد یہ تھا کے بہک مانگ کر انسان زندہ تو رہ لیتا ہے مگر اس کی زندگی کا کوئی فاہدہ اور مقصد نہیں ہوتا۔ اس کی عزت ہر بار پامال کی جاتی ہے ۔ اس کی بیٹیاں اٹھا کر لے جاتے ہیں اور اس کے بچے مار کر چند روپے دیکر منہ بند کروا دیے جاتے ہیں ۔ ہر بار اپنی کمر توڑ محنت پر بھی اسے ڈو مور کا بولا جاتا ہے ۔ اس کے کشکول کو نہ توڑنے دیتے ہیں نہ اس کو بھرنے دیتے ہیں ۔ جب وہ اپنی مرضی اور عقل سے اس کو توڑنا چاہتا ہے تو اس کا لیڈر بدل دیتے ہیں ۔ ایسی قوم کی سوچ کو بس آٹے، ٹماٹر اور پٹرول کی قیمت تک محدود کر دیا جاتا ہے جو سب ان کے اور ان کے خریدے ہوئے پالتو ضمیر فروشوں اور پیسے کے پجاریوں کے ہاتھوں میں تھما دی جاتی ہیں۔ ایک بےبس شہری صرف اسی تاریک کنواں میں ساری زندگی کوئی امید کی کرن ڈہونڈتا رہتا ہے۔ کبھی اگر کوئی شمع روشن کربھی دے تو اس عام آدمی کو اتنا ڈرایا جاتا ہے کی وہ اپنی منگےتانگےکی روزی روٹی کا سوچ کر اس شمع کے پیچھے چلنا چوڑ دیتا ہے۔ اس موقع پر اہل علم کا یہ کام بنتا ہے کہ وہ اس عام شہری کو یہ یاد دلائیں کہ رزق کی ذمےداری اللّٰہ کی ہے اور عمل کی میری اور آپ کی۔ آپ کو صرف وہ ہی ملتا ہے جس کی آپ جستجو کرتے ہیں۔||||||||||
✓✓✓✓✓✓✓✓✓✓✓ آزادی کی کرو گے تو آزادی ملے گی✓✓✓✓✓✓✓
×××××××××××××××××× ورنہ بگرز کانٹ بی چوزرز
--- محمد علی اعوان