بابا جانی کروٹ لے کر
ہلکی سی آواز میں بولے
بیٹا کل کیا منگل ہوگا ؟
گردن موڑے بن , میں بولا
بابا کل تو بدھ کا دن ہے
بابا جانی سن نہ پاۓ
پھر سے پوچھا, کل کیا دن ہے ؟
تھوڑی گردن موڑ کے میں نے
لہجے میں کچھ زہر ملا کے
منہ کو کان کی سیدھ میں لاکے
دھاڑ کے بولا بدھ ہے بابا
آنکھوں میں دو موتی چمکے
سوکھے سے دو ہونٹ بھی لرزے
لہجے میں کچھ شہد ملا کے
بابا بولے بیٹھو بیٹا
چھوڑو دن کو, دن ہیں پورے
تم میں میرا حصہ سن لو
بچپن کا اک قصہ سن لو
یہی جگہ تھی میں تھا تم تھے
تم نے پوچھا رنگ برنگی
پھولوں پہ یہ اڑنے والی
اس کا نام بتاؤ بابا
گال پہ بوسہ دے کے میں نے
پیار سے بولا تتلی بیٹا
تم نے پوچھا, کیا ہے بابا
پھر میں نے بولا تتلی بیٹا
تتلی تتلی کہتے سنتے
ایک مہینہ پورا گزرا
ایک مہینہ پوچھ کے بیٹا
تتلی کہنا سیکھا تم نے
ہر ایک نام جو سیکھا تم نے
کتنی بار وہ پوچھا تم نے
تیرے بھی تو دانت نہیں تھے
میرے بھی اب دانت نہیں ہیں
باتیں کرتے کرتے تو تو
تھک کے گود میں سو جاتا تھا
بوڑھے سے اس بچے کے بھی
بابا ہوتے سن بھی لیتے
تیرے پاس تو بابا تھے ناں
میرے پاس تو بیٹا ہے ناں!
عابی مکھنوی
~~MaAh E ShAb E ChAar DeHam~~ ~~ماہ شب چار دہم~~
جنہیں زندگی کا شعور تھا انہیں بے زری نے بچھا دیا
جو گراں تھے سینہ خاک پر وہی بن کے بیٹھے ہیں معتبر
سنو اے چاند سی لڑکی
شاعر : ارشد ملک
یوٹیوب: https://youtu.be/-hveaGBQtoc
تلوار تو ہٹا ، مجھے کچھ سوچنے بھی دے
ایمان تجھ پہ لاؤں ، کہ جزیہ ادا کروں
رفیع رضا
اس کی بستی سے پہلے قبرستان !!
عاشقوں کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اشارہ تھا !!
بڑا باریک نقطہ ہے اگر سمجھ پاو دوستو.
سقراط اگر زہر نہ پیتا تو _____مر جاتا.
کہا، آج بھی گر تم نہ تشریف لاۓ
تو یہ شب، میری آخری رات ہوگی
وہ بو لے ذرا زیرِ لب مسکرا کر
نہ یہ بات ہوگی نہ وہ بات ہوگی
شاعر: نامعلوم
25/12/2015
یه عورت کا کرشمہ ھے تری وحشت کے پانی کو
بدن کی سیــپ میں رکھ کر اسے انساں بناتی ھے
ثمینہ تبسم
کہیں بیڑی اٹکـــتی ہے کہیں زنجیر الجھتی ہے
بڑی مشکل سے دیوانے تیرے دفنائے جاتے ہیں
غربت بھی اپنے پاس ہے اور بھوک ننگ بھی..
کیسے کہیں کہ اس نے عطا کچھ نہیں کیا..
(اقبال ساجدؔ)
عورت
تیری پائل کی چھنکار
ارے رے بابا نہ بابا
تجھے کون کرے گا پیار
ارے رے بابا نہ بابا
تو گھر آنگن کی عزت تھی
پہلے اس گھر کی زینت تھی
تجھ سے دنیا آباد ہوئی
تو ہی پہلے برباد ہوئی
بکتی ہے کھلے بازار
ارے رے بابا نہ بابا
تجھے کون کرے گا پیار
ارے رے بابا نہ بابا
کہیں ماں ہے کہیں بیوی بن کر
بیٹی ہے بہن ہے تو گھر گھر
قدموں میں تیرے جنت آئی
پھر بھی نہ تجھے غیرت آئی
یہ روپ تیرا سنگھار
ارے رے بابا نہ بابا
تجھے کون کرے گا پیار
ارے رے بابا نہ بابا
اچھے اچھے گر جاتے ہیں
بس ایک تیری انگڑائی میں
اک لمحے میں ڈس لیتی ہے
ناگن بن کر پروائی میں
تیرا کون بنے گا یار
ارے رے بابا نہ بابا
تجھے کون کرے گا پیار
ارے رے بابا نہ بابا
تو گھر میں دلہن بن کر آئی
پہلے تو بہت کچھ شرمائی
اب گھوم رہی ہے سڑکوں پر
کوئی سنگ چلے پچر پچر
تیرا ہر دن ہے اتوار
ارے رے بابا نہ بابا
تجھے کون کرے گا پیار
ارے رے بابا نہ بابا
ضبط کے امتحان سے نکلا
پھُول آخر چٹان سے نکلا !
جان تن سے نکل گئی لیکن !!
تُو نہیں میرے دھیان سے نکلا
نہ نکلنے پہ تھا بضِد سُورج !!
پھر کسی کی اذان سے نکلا
شجرہ دیکھا گیا تو پتھّر بھی
پھُول کے خاندان سے نکلا !
اب مکمل ھوئی ھے یکجائی
عشق بھی درمیان سے نکلا
دے گیا آنکھ کو نمی کا وقار ۔۔۔ !!
سچا آنسُو تھا ، شان سے نکلا
دیکھتا تھا چراغ بن کر مَیں ۔۔ !
سایہ سا اُس مکان سے نکلا
کیا کہا ؟؟؟ اب مری ضرورت نئیں ؟؟
جا !!!! تُو میری امان سے نکلا !!!!!
میری دستک پہ رات عکس ترا
آئنے کے جہان سے نکلا ۔۔۔ !!
اُن لبوں پر یقین کرکے مَیں
شہرِ وھم و گمان سے نکلا
داستاں گو کو مارنے کے لیے
سامری داستان سے نکلا !!!
تِیر سا کچھ پلک جھپکتے ھی
ابرُووں کی کمان سے نکلا !!!!
گو نکالا گیا وھاں سے مگر
مَیں بڑی آن بان سے نکلا
جس کو پاتال میں کِیا تھا دفن
ساتویں آسمان سے نکلا !!!!
اب ھُوں نادم کہ طیش میں فارس
جانے کیا کیا زبان سے نکلا ۔۔۔ !!!!
رحمان فارس
کیسی شدت سے تُجھے ہم نے سراہا، آہا
تیری پرچھائی کو بھی ٹوٹ کے چاہا، آہا
آخری سانس کی لذت کوئی اُس سے پُوچھے
مرتے مرتے بھی جو بیمار کراہا، آہا
شعر کہنا ہے تو یُوں کہہ کہ تیرا دُشمن بھی
دُشمنی بُھول کے چِلا اُٹھے، آہا، آہا
تیری آنکھوں میں کھٹکتا ہے میرے جیسا فقیر
کیسا اعلٰی تیرا معیار ہے، شاہا! آہا
کل میرے حق میں تھا اور آج مخالف ہُؤا تُو
کیسے بدلا ہے بیاں تُو نے گواہا! آہا
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Website
Address
Abbottabad
22010
