Alipur city, MGarh

Alipur city, MGarh

Share

Alipur city is the Tehsil of District Muzaffargarh. Alipur city is the Educational city.

Photos from Alipur city, MGarh's post 30/09/2024


Alipur city, MGarh
بتاریخ، ستمبر 30، 2024. بروز پیر.
آج کے دن کی کارکردگی، اور شہر کی بہترین صفائی، کیلئے تمغہ امتیاز اس محکمہ کو ملنا چاہئیے،


اپنے کام کے ساتھ مخلص ہونا اور درست طریقے سے انجام دینا بھی عبادت سے کم نہیں، اس کے برعکس حرام ہے،

#شکریه 😇

26/12/2023

Alipur city, MGarh
!!...
اس بار ہم صرف اسی کو #ووٹ دیں گے جو ہمارے #مسائل حل کرے گا چاہے وہ جس پارٹی کا ہی رکن کیوں نہ ہو، پہلے مسائل حل کریں پھر ووٹ،
ہمارے پیارے #وطن #پاکستان🇵🇰 کو بنے کتنے سال ہوگئے، اور یہ #سیاستدان کب سے اس ملک کو نوچ کے کھائے جارہے ہیں، اور زلت کی زندگی گزارنے پے مجبور ہے اور بھی #مہنگائی کی چکی میں برابر کا پس رہا ہے،
اگر ان #سیاستدانوں نے اب تک ان #مسائل کو حل نہیں نہیں کررہے، تو کب کریں گے، مطلب کے پھر نہیں کریں گے، صرف #ووٹ لے کے چلے جائیں گے، جیسا کہ ہر بار #عوام کو #بےوقوف بنا کے چلے جاتے ہیں اور ہم بھی #جہالت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکی خدمت کرتے ہیں اور ووٹ انہی کو دیتے ہیں،

لیکن اب #نہیں، پہلے #مسائل کا حل،

01). گلیاں پکی
ہمارے محلہ کی #گلیاں پکی کریں،

02). صفائی
ہمارے #گلی #محلہ اور گرد و نواں کی #صفائی اور #کوڑا کو اٹھوانے کا مناسب انتظام کیا جائے، اور ساتھ ہی محلہ موجود ہر گھر کو صفائی کرنے والے اور افسر کا جو اس کو چیک کرتا ہے، کا مہیا کیا جائے تاکہ ضرورت کے وقت #افسر کو یاد دیہانی کروائی جاسکے،

03). سڑکیں پکی
ہمارے گرد و نواں، ہمارے آمدورفت کیلئے سڑکوں کو پکا کیا جائے، تاکہ ہم اور ہمارے #بچے وقت پر پر بنا کسی تکلیف کے #سکول / نوکری / اپنے اپنے کام پے جاسکیں،

04). ڈبل روڈ
ہمارے کو جتنے بھی ہیں ان کی ڈبل سڑک بنائی جائے، تاکہ آنے اور جانے والوں کیلئے الگ الگ راستے ہوں، اور ہم #حادثات سے محفوظ رہ سکیں،

05). نالیاں پکی اور انڈر گراؤنڈ محفوظ
ہمارے گلی اور سڑکوں پے موجود نکاسی کے پانی کے لئیے موجود #نالیوں کو #پکا کیا جائے اور ان کا راستہ #انڈرگراؤنڈ بنا کر محفوظ کیا جائے ، تاکہ ہمارے بچوں اور بزگوں کو مسجد و سکول آنے جانے میں کوئی #تکلیف نہ ہو،

06). سکول بس
ہمارے بچوں کےلئے #ریاست کو اس بات پے راضی کروایا جائے کہ #ووٹوِں سے پہلے وہ بچوں کو گھر سے سکول تک لے جانے اور لے آنے کے لئے مناسب آمدورفت / کا انتظام کریں، تاکہ ہمارے چھوٹے بچوں، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو #حادثات سے محفوظ بنایا جاسکے اور رشکہ کی #زلت اور بےجا اضافی #کرایہ سے بچا جاسکے،

07). بہاول نالہ
ہمارے گرد و نواں میں موجود #نالوں کو اچھے سے صاف کروائیں، ان کے ساتھ #درخت لگوائیں کیونکہ پودے تو کچھ وقت کے بعد ٹوٹ جاتے ہیں، اور ان کو #خوبصورت ندیوں میں بدلہ جائے، تاکہ ہم #بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں،

08). کشادہ سڑکیں
سڑکوں پے موجود #دکانداروں اور #ریڑی والوں نے آدھی سے زیادہ سڑک کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کیا ہوا ہے، اور جوکہ #ٹریفک کا #جام ہونا معمول بن چکا ہے، اس کیلئے متبادل اور مناسب حل فراہم کیا جائے،

09). روزگار کی فراہمی
ہماری تعلیم یافتہ #بےرروزگاری کی وجہ سے تنگ ہے، اور غلط راستوں پے چلنے اور اپنے ہی وطن کو #خیرآباد کہنے کیلیے مجبور ہے، #روز گار کی فراہمی #ریاست کی ذمہ داری ہے،

اب #وعدےنہیں بلکہ مسائل کا #حل چائیے، بہت دھوکہ دے دیا ان #سیاستدانوں نے اس کو، ہم غریب نہیں بلکہ ان #سیاستدنوں نے ہمارے اوپر #غربت کی #مہر لگا دی ہے، تاکہ ہمیں #ذلیل و خوار کیاجاسکے،

ہمارا وطن #پاکستان🇵🇰 کس قدر قدرتی #نعمتوں سے مالا مال ہے ، لیکن پھر یہ #مہنگائی کہاں سے آئی🤔🙄، اس کا #جواب ہم نہیں بلکہ یہ #سیاستدان دیں گے،

کی #عوام سے #التماس🙏 سے کہ اس بار #جہالت کو #چھوڑ دیں، اپنے لیے نہ سہی مگر #اپنےبچوں کے لئے ہی کچھ خیال کرلیں اور اپنے بچوں کا #مستقبل #محفوظ بنا لیں،
اگر #سیاستدانوں نے اب تک یہ #سہولیات ہمیں حکومت سےفراہم #نہیں کروائیں تو اس کے کسور وار ہم #خود ہی ہیں، کیونکہ ہم #گوداسائیں کو ناراض نہیں کرسکتے مگر ہم اپنے #بچوں کا #مستقبل داؤ ہے لگاسکتے ہیں، 🤗 🤗 🤗 🤗 🤗

31/12/2022

*وزیراعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے آج جنوبی پنجاب کی تحصیل جام پور کو ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کر دیا، داجل اور محمد پور کو ضلع جام پور کی تحصیلوں کا درجہ دیا جائے گا ، دو یوم قبل جھنگ کے ایک قصبہ شاہ جیونہ کو بھی تحصیل کا درجہ دیا گیا ، حکومت کی جانب سے یہ احسن اقدام ہے اس سے پسماندہ علاقوں کی محرومیوں کا ازالہ ہوگا

*مگر ہمارا اپنے پارلیمنٹیرینز سے سوال ہے کہ کیا علی پور کے عوام لاوارث ہیں ، ۔ اگر جام پور ، تونسہ ضلع بن سکتا ہے تو علی پور کیوں نہیں ، اگر محمد پور ، داجل ، شاہ جیونہ کو تحصیلوں کا درجہ مل سکتا ہے سیت پور۔خیرپور۔شہرسلطان کو کیوں نہیں ؟

*ابھی نہیں تو کبھی نہیں ، علی پور کے عوام کے اس دیرینہ مطالبہ کو پورا کرنے کے لئے پارلیمنٹیرینز اپنا بھرپور کردار ادا کریں ، اور ضلع کا درجہ دلوائیں

30/12/2022

السلام علیکم

محترمہ فاطمہ قمر صاحبہ! میرا ایک سادہ سا سوال ہے آپ سے جواب کا منتظر ہوں

میں چاہتا ہوں میرا بچہ سائنس کے کسی مضمون میں بیرون ملک اعلی تعلیم حاصل کرے. کیونکہ تعلیم و تحقیق میں فرنگی ہم سے بہت آگے ہیں. اب اگر میرے بچے نے 16 جماعتیں اردو ذریعہ تعلیم کے ساتھ حاصل کی ہیں تو میرا بچہ بیرون ملک کتنا کامیاب ہو گا.

اور اسی طرح جو ہمارے بچے روس, بیلا روس اور چین وغیرہ میں طبیب بننے جاتے ہیں وہ وہاں اردو کے ذریعے تعلیم کیسے حاصل کریں گے.

جو وکلاء بارایٹ لاء کی تعلیم حاصل کرنے انگلستان جاتے ہیں وہ کیا کریں گے اور جو بچے انجینیئر بننے امریکہ, فرانس اور کینیڈا وغیرہ جاتے ہیں ان کا کیا بنے گا.
اور مزید یہ کہ پاکستان میں 100 فیصد صحافت اردو میں نہیں کئی انگریزی اخباروں کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی صحافت ہوتی ہے

محترمہ میں آپ کے مدلل جواب کا منتظر رہوں گا.

فلائیٹ لیفٹیننٹ ریٹائرڈ
عبدالرحمن ملک
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
____________________________ ہمارا جواب!

بہت شکریہ! اپ نے ہمارے پیغام کو غور سے پڑھا اس قابل سمجھا کہ پوری دنیا میں امریکہ ' برطانیہ' فرانس' جرمنی ' چین ترکی کوریا تمام ممالک میں تمام تعلیم اپنی قومی زبان میں دی جارہی ہے' اور یہ تمام ممالک ترقی کر رہے ہیں۔۔۔۔۔اسرئیل میں 1949 تک صرف بارہ یہودی عبرانی زبان جانتے تھے اج عبرانی اسرائیل کی تعلیمی عدالتی سرکاری زبان ہے۔۔۔۔
جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن اج سے سو سال پہلے تمام تعلیم بشمول میڈیکل و انجینرنگ کے اردو میں دے چکی ہے یہاں کے فارغ التحصیل نے دنیا بھر میں اپنی قابلیت کا سکہ جمایا ہے۔ جب جامعہ عثمانیہ کے طلباء ایف ار سی ایس کرنے برطانیہ جاتے تھے تو وہاں کے ممتحن نے اپنے تاثرات میں لکھا ہے کہ جو بچے جامعہ عثمانیہ سے اتے ہیں وہ ہندوستان کی دیگر جامعات سے زیادہ قابل اور زہین ہے۔۔۔اس وجہ سے برطانیہ نے جامعہ عثمانیہ سے انے والے طلبا کا انٹری ٹیسٹ لینا بند کردیا تھا۔۔
سوال یہ ہے کہ کتنے فی صد پاکستانی امریکہ ' برطانیہ تعلیم کے لئے جاتے ہیں؟ اور کیا صرف پاکستان ہی کے طلباء وہاں پر حصوں علم کے لئے جاتے ہیں یا دیگر ممالک طلباء بھی وہاں پر تعلیم کے حصول کے لئے اتے ہیں؟ جو دیگر ممالک کے طلباء وہاں پر اتے ہیں کیا وہاں پر بھی انگریزی اسی طرح سے چمٹی ہوئی ہے جیسے پاکستان میں دن رات مسلط ہے؟ جو بچہ سولہ سال یہاں انگریزی سیکھتا ہے یہ انگریزی اس کی جاپان' جرمنی' فرانس ' ترکی' ایران ' جرمنی اور دیگر ممالک جا کر کس کام کی۔۔۔ جب ہمارے بچے جو نصف فیصد سے بھی کم ہیں وہ ان ممالک میں
جا کر ان ممالک کا سال کا کورس کرتے ہیں پھر وہاں کی جامعات داخلہ لیتے ہیں ہمارے شاگرد نے جرمنی ' فرانس' چین جا کر وہاں کی زبان کی سیکھی اور آگے داخلہ لیا!! جو طلباء ان ممالک کی زبان سیکھ سکھ کر تعلیمی عمل جاری رکھ سکتے ہیں تو وہ امریکہ و برطانیہ جا کر بھی انگریزی کے کورس کرسکتے ہیں۔۔پوری دنیا میں غیر ملکی زبان کے کورس کروائے جاتے ہیں اسے مسلط نہیں کیا جاتا اگر انگریزی ایک لاکھ پاکستانیوں کی ضرورت ہے تو وہ انگریزی ضرور سیکھے۔ لیکن اسے بائس کروڑ پاکستانیوں پر مسلط کرنا سراسر توہین عدالت' توہین عوام ' بنیادی انسانی حقوق کی نفی' قرانی تعلیمات اور نفسیات کے اصولوں سے بغاوت ہے۔۔
جو پاکستانی یہاں سے او لیول کر کے برطانیہ و امریکہ جاتے ہیں وہ کونسے وہاں جا کر اعلی افسر لگ جاتے ہیں ان کو تو درجہ چہارم سے بھی کم کی ملازمت ملتی ہے تو کیا پاکستان کے تعلیمی ادارے ان ممالک کے لئے پڑھے لکھے سستے مزدور تیار کرنے کی فیکٹریاں ہیں؟ لمز جو پاکستان کا انتہائی مہنگا ترین تعلیمی ادارہ ہے وہاں کا گریجویٹ امریکہ میں انگریزی کے ٹیسٹ میں فیل ہوگیا اور پاکستان ا کر ایک بڑے ادارے کا سربراہ لگ گیا تو پاکستان میں غلط سلط انگریزی
نا اہلیت' بدعنوانی کو چھپانے کا ذریعہ ہے۔ انگریزی مسلط کا تعلق قطعا علم اور سائنس کے فروغ کے لئے نہیں ہے اور نہ ہی انگریزی مسلط کرنے کے جد امجد نے اسے اس مقصد کے لئے برصغیر پر مسلط کیا۔ اس نے انگریزی مسلط کرتے ہوئے کہا تھا کہ انگریزی کے تسلط سے ہمیں بے چون چراں غلاموں کی ایک کھیپ ملے گی جو برطانیہ کے کی حکومت کے لئے معاون ثابت ہونگے !
فا طمہ قمر مرکزی صدر'شعبہ خواتین پاکستان قومی زبان تحریک

29/10/2022

Good Morning

29/10/2022
07/10/2022

Our Body Info.
👈1- معدہ ( Stomach ): اس وقت ڈرا ہوتا ہے جب آپ صبح کا ناشتہ نہیں کرتے ۔

👈2 - گردے ( Kidneys ): اس وقت خوفزدہ ہوتے ہیں جب آپ 24 گھنٹے میں 10 گلاس پانی نہیں پیتے ۔

👈3 - پتہ ( Gall bladder ): اس وقت پریشان ہوتا ہے جب آپ رات 11 بجے تک سوتے نہیں اور سورج طلوع سے پہلے جاگتے نہیں ہیں .

👈4 - چھوٹی آنت ( Small intestines ): اس وقت تکلیف محسوس کرتی ہے جب آپ ٹھنڈے مشروبات پیتے ہیں اور باسی کھانا کھاتے ہیں،

👈5 - بڑی/مین آنت ( Large intestine ): اس وقت خوفزدہ ہوتی ہے جب زیادہ تلی ہوئی یا مصالحہ دار چیز کھاتے ہیں.

👈6 - پھیپھڑے ( Lungs ): اس وقت بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں جب آپ دھواں دھول سگریٹ/بیڑی سے آلودہ فضا میں سانس لیتے ہیں ۔

👈7 - جگر ( Liver ): اس وقت خوفزدہ ہوتا ہے جب آپ بھاری تلی ہوئی خوراک اور فاسٹ فوڈ کھاتے ہیں .

👈8 - دل ( Heart ): اس وقت بہت تکلیف محسوس کرتا ہے جب آپ زیادہ نمکین اور کولیسٹرول والی غذا کھاتے ہیں.

👈9 - لبلبہ ( Pancreas ): لبلبہ اس وقت بہت ڈرتا ہے جب آپ کثرت سے مٹھائی کھاتے ہیں اور خاص کر جب وہ فری دستیاب ہو،

👈10 - آنکھیں ( Eyes ): اس وقت تنگ آجاتی ہیں جب اندھیرے میں موبائل اور کمپیوٹر پر ان کی تیز روشنی میں کام کرتے ہیں ۔

👈11 - دماغ ( Brain ): اس وقت بہت دکھی ہوتا ہے جب آپ منفی negative سوچتے ہیں ۔

👈! اپنے جسم کے اعضاء کا خیال رکھئے اور ان کو خوفزدہ مت کیجیئے ۔

یاد رکھئے یہ اعضاء مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں ۔۔۔!!!!

30/09/2022

75 Rupees has been published today,
Congrats 🎇🎆✌🎊🎉👍

21/09/2022

ہم لوگ ماڈرن کہلائے جانے کے چکر میں بہت قیمتی چیزیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ ہم نے آسانیاں ڈھونڈیں اور اپنے لیے مشکلیں کھڑی کر دیں۔
-
آج ہم دھوتی پہن کے باہر نہیں نکل سکتے لیکن صدیوں کی آزمائش کے بعد یہ واحد لباس تھا جو ہمارے موسم کا تھا۔ ہم نے خود اپنے اوپر جینز مسلط کی اور اس کو پہننے کے لیے کمروں میں اے سی لگوائے۔ شالیں ہم نے فینسی ڈریس شو کے لیے رکھ دیں اور کندھے جکڑنے والے کوٹ جیکٹ اپنا لیے۔ ہمیں داڑھی مونچھ اور لمبے بال کٹ جانے میں امپاورمنٹ ملی اور فیشن بدلا تو یہ سب رکھ کے بھی ہم امپاورڈ تھے!
-
ہم نے حقہ چھوڑ کے سگریٹ اٹھایا اور ولایت سے وہی چیز جب شیشے کی شکل میں آئی تو ہزار روپے فی چلم دے کر اسے پینا شروع کر دیا۔ ہے کوئی ہم جیسا خوش نصیب؟
-
ہم نے لسی چھوڑی، کولا بوتلیں تھام لیں، ہم نے ستو ترک کیا اور سلش کے جام انڈیلے، ہم نے املی آلو بخارے کو اَن ہائی جینک بنا دیا اور وہی چیز ایسنس کے ساتھ جوس کے مہر بند ڈبے خرید کے بچوں کو پلائی، وہ پیک جس کے آر پار نہیں دیکھا جا سکتا کہ گتے کا ہوتا ہے۔ ہم نے ہی اس اندھے پن پہ اعتبار کیا اور آنکھوں دیکھے کو غیر صحت بخش بنا دیا۔
-
ہم نے دودھ سے نکلا دیسی گھی چھوڑا اور بیجوں سے نکلے تیل کو خوش ہو کے پیا، ہم نے چٹا سفید مکھن چھوڑا اور زرد ممی ڈیڈی مارجرین کو چاٹنا شروع کر دیا، اس کے نقصان سٹیبلش ہو گئے تو پھر ڈگمگاتے ڈولتے پھرتے ہیں۔ گوالے کا پانی ہمیں برداشت نہیں لیکن یوریا سے بنا دودھ ہم گڑک جاتے ہیں، الحمدللہ!
-
اصلی دودھ سے ہمیں چائے میں بو آتی ہے اور ٹی واٹنر ہم نوش جان کرتے ہیں جس پہ خود لکھا ہے کہ وہ دودھ نہیں۔ گھر کے نیچے بھینس باندھ کر ہم نے سوکھا دودھ باہر ملک سے خریدنے کا سودا کیا اور کیا ہی خوب کیا!
ہم تو وہ ہیں جو آم کے موسم میں بھی اس کا جوس شیشے کی بوتلوں میں پیتے ہیں۔
-
ہم گڑ کو پینڈو کہتے تھے، سفید چینی ہمیں پیاری لگتی تھی، براؤن شوگر نے ہوٹلوں میں واپس آ کے ہمیں چماٹ مار دیا۔ اب ہم ادھر ادھر دیکھتے ہوئے گال سہلاتے ہیں لیکن گڑ بھی کھاتے ہیں تو پیلے والا کہ بھورا گڑ تو ابھی بھی ہمیں رنگ کی وجہ سے پسند نہیں۔
-
آئیں، ہم سے ملیں، ہم ایمرجنسی میں پیاسے مر جاتے ہیں، گھروں کی ٹونٹی کا پانی نہیں پی سکتے، نہ ابال کر نہ نتھار کے، ہم پانی بھی خرید کے پیتے ہیں۔ ہم ستلجوں، راویوں، چنابوں اور سندھوں کے زمین زاد، ہم ولایتی کمپنیوں کو پیسے دے کے پانی خریدتے ہیں۔
-
ہم تو پودینے کی چٹنی تک ڈبوں میں بند خریدتے ہیں۔ چھٹانک دہی اور مفت والے پودینے کی چٹنی ہم ڈیڑھ سو روپے دے کے اس ذائقے میں کھاتے ہیں جو ہمارے دادوں کو ملتی تو انہوں نے دسترخوان سے اٹھ جانا تھا۔
-
سوہانجنا ہمیں کڑوا لگتا تھا، جب سے وہ مورنگا بن کر کیپسولوں میں آیا ہے تو ہم دو ہزار میں پندرہ دن کی خوراک خریدتے ہیں۔ وہی سوکھے پسے ہوئے پتے جب حکیم پچاس روپے کے دیتا تھا تو ہمیں یقین نہیں تھا آتا۔
-
پانچ سو روپے کا شربت کھانسی کے لیے خریدیں گے لیکن پانچ روپے کی ملٹھی کا ٹکڑا دانتوں میں نہیں دبانا، ’عجیب سا ٹیسٹ آتا ہے۔‘
-
ہم پولیسٹر کے تکیوں پہ سوتے ہیں، نائلون ملا لباس پہنتے ہیں، سردی گرمی بند جوتا چڑھاتے ہیں، کپڑوں کے نیچے کچھ مزید کپڑے پہنتے ہیں اور زندگی کی سڑک پہ دوڑ پڑتے ہیں، رات ہوتی ہے تو اینٹی الرجی بہرحال ہمیں کھانی پڑتی ہے۔
-
ہم اپنی مادری زبان ماں باپ کے لہجے میں نہیں بول سکتے۔ ہم زبان کے لیے نعرے لگاتے ہیں لیکن گھروں میں بچوں سے اردو میں بات کرتے ہیں۔ ہم اردو یا انگریزی کے رعب میں آ کے اپنی جڑیں خود کاٹتے ہیں اور بعد میں وجہ ڈھونڈتے ہیں کہ ہم ’مس فٹ‘ کیوں ہیں۔
-
عربی فارسی کو ہم نے مدرسے والوں کی زبان قرار دیا اور ہاتھ جھاڑ کے سکون سے بیٹھ گئے۔ ’فورٹی رولز آف لَو‘ انگریزی میں آئی تو چومتے نہیں تھکتے۔ الف لیلیٰ، کلیلہ و دمنہ اور اپنے دیسی قصے کہانیوں کو ہم نے لات مار دی، جرمن سے گورے کے پاس آئی تو ہمیں یاد آ گیا کہ استاد مال تو اپنا تھا۔
جا کے دیکھیں تو سہی، عربی فارسی کی پرانی ہوں یا نئی، صرف وہ کتابیں ہمارے پاس اب باقی ہیں جو مدرسوں کے نصاب میں شامل ہیں۔ باقی ایک خزانہ ہے جسے ہم طلاق دیے بیٹھے ہیں۔ پاؤلو کوہلو اسی کا ٹنکچر بنا کے دے گا تو بگ واؤ کرتے ہوئے آنکھوں سے لگا لیں گے۔ متنبی کون تھا، آملی کیا کر گئے، شمس تبریز کا دیوان کیا کہتا ہے، اغانی میں کیا قصے ہیں، ہماری جانے بلا!
-
ہماری گلیوں میں اب کوئی چارپائی بُننے والا نہیں آتا، ہمیں نیم اور بکائن میں تمیز نہیں رہ گئی، ہمارے سورج سخت ہوگئے اور ہمارے سائے ہم سے بھاگ چکے، ہمارے چاند روشنیاں نگل گئیں اور مٹی کی خوشبو کو ہم نے عطر کی شکل میں خریدنا پسند کیا۔
-
وہ بابا جو نیم کی چھاؤں میں چارپائی لگائے ٹیوب ویل کے ساتھ دھوتی پہنے لیٹا ہوتا ہے، وہ حقے کا کش لگاتا ہے، ہمیں دیکھتا ہے اور ہنس کے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ اسے کب کی سمجھ آ گئی ہے، ہمیں نئیں آتی۔
منقول
بشکریہ نعیم طارق

Photos from Alipur city, MGarh's post 27/08/2022

خبردار
ضلع رحیم یار خان، راجن پور، ڈیرہ غازی خان،مظفر گڑھ،لیہ، میانوالی اور بھکر کے اضلاع کے لیے فلڈ وارننگ جاری کر دی گئی ہے ۔ اللّٰہ اپنا کرم فرمائے آمین

28/07/2022

‏السلام علیکم! صبح بخیر
پنجاب پولیس سے متعلقہ شکایات کیلئے آئی جی پنجاب کے شکایات سیل میں 1787 پر کال یا میسج کر کے اپنی شکایت درج کروا سکتے ہیں۔
‎ ‎

14/07/2022

بھارت کا سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بننے کا خواب چکنا چور ہوگیا

اسلام آباد: بھارت کا سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بننے کا خواب چکنا چور ہوگیا۔ اقوام متحدہ میں مستقل ممبر کے لیے پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کر لیا گیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کے سکیورٹی کونسل کا مستقل رکن بننے پر پاکستان کی جانب سے مخالفت کی گئی جسے اقوام متحدہ نے تسلیم کیا۔

پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ مستقل ممبر کے لیے مدت مقرر ہو اور انتخاب 2 سال یا 5 سال بعد ہو، بھارت نے ہمیشہ سکیورٹی کونسل کی قراردوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اقوام متحدہ چارٹر میں بھارت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے جب کہ بھارتی گروپ کو اقوام متحدہ میں امریکا کی حمایت بھی حاصل نہیں رہی۔

بھارت سیکولر اور کامیاب معیشت کے دعوے کے باوجود اقوام متحدہ کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ بھارت کو مستقل رکن بننے کے لیے 129 ارکان کی حمایت درکار ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کو نصف ارکان کی حمایت بھی حاصل نہیں جب کہ دوسری جانب پاکستان کے مؤقف کو عرب لیگ اور افریقی یونین کی حمایت بھی حاصل ہے۔






Want your business to be the top-listed Government Service in Alipur?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address

Alipur