کبھی کسی اتھارٹی نے جوتوں کی قیمت طے کی ہے ؟
کبھی کسی اتھارٹی نے کپڑوں کی قیمت طے کی ہے ؟
کبھی کسی اتھارٹی نے برتنوں کی قیمت طے کی ہے ؟
کبھی کسی اتھارٹی نے سیمنٹ کی قیمت طے کی ہے ؟
کبھی کسی اتھارٹی نے لوہے کی قیمت طے کی ہے ؟
نہیں ناں
کیونکہ جوتے کپڑے برتن سیمنٹ لوہا بیچنے والے بے وقوف کسان نہیں ہیں بلکہ عقل مند تاجر ہیں جب تک وہ اپنی لاگت اپنی خود کی مزدوری محنت اور بچت کا حساب نا لگا لیں اور پورا حساب لگا کر قیمت خود نا بتا دیں کوئی مائی کا لعل ان کی چیزوں کی قیمتیں ازخود طے نہیں کر سکتا
اور مکمل حساب کتاب کے بعد جو قیمتیں تاجر اپنی اشیاء کی نکالتے ہیں اور جن قیمتوں پر وہ اپنی اشیاء بیچتے ہیں اس میں ان کو اچھی خاصی بچت ہوتی ہے اسی کمائی سے وہ اپنی دوکانیں فیکٹریاں ملیں ہر سال ڈبل کر لیتے ہیں اسی کمائی سے وہ اپنے گھر خریدتے ہیں اچھی اچھی کالونیوں میں بنگلے خریدتے یا تعمیر کرتے ہیں اسی کمائی سے وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخل کرواتے ہیں اسی کمائی سے وہ اپنے بیماروں کا اچھے ہسپتالوں سے یا بیرون ممالک ہسپتالوں سے مہنگا ترین علاج کرواتے ہیں
اب آجائیں کسانوں کی حالت زار پر
کسان کی تمام تیار شدہ زرعی اجناس کی قیمتیں بغیر سوچے سمجھے بغیر مشورے اور بغیر کسی کسان سے پوچھے حکومت یا پھر سرمایہ دار سٹاکیا طے کرتے ہیں
کسان کو وہ جنس کتنے میں پڑی ؟
کسان کی محنت کتنی ہے ؟
کسان کی مزدوری کتنی ہے ؟
کسان کی زمین کا ٹھیکہ کتنا ہے ؟
کسان کو سب حساب کتاب کے بعد کتنے میں وارے آئے گی؟
کسی حکومت کو اس سے کوئی غرض نہیں اور سرمایہ دار سٹاکیا تو ہوتا ہی بے رحم ہے وہ تو مجبوریاں خریدتا ہے
اب اس سارے ظلم کے بعد اگر کسان اپنی زرعی جنس بیچنے سے انکار کرے تو اس کی جنس ڈنڈے کے زور پر ہتھیا لی جاتی ہے مزاحمت کرے تو پرچے اور جیل بھگتے
اس کے بعد ہوتا کیا ہے کہ کسان جو 24 گھنٹے اور سال کے 365 دنوں کا مزدور ہے وہ 0 درجے سینٹی گریڈ کی انتہا کی خون جما دینے والی سردی میں آدھی رات کے وقت اور 52 درجے سینٹی گریڈ کی انتہا کی برستی آگ میں دوپہر کو اپنے کھیت میں موجود ہوتا ہے عید والے دن بھی جب سب عید منا رہے ہوتے ہیں وہ اپنا پانی کا وارہ لگا رہا ہوتا ہے اسے عید کے دن میں چھٹی نہیں ہوتی اسے تیار فصل اٹھانے کی مہلت آسمان کی طرف سے ناملے اور سب کچھ ملیامیٹ ہوجائے تو یہ کچھ نہیں کر سکتا یہ جوتوں یا کپڑوں کی دوکان کی طرح خراب موسم میں اپنی چیزیں اپنی دوکان کے اندر نہیں رکھ سکتا بلکہ اس کی فصل کھلے آسمان تلے موسم کے رحم و کرم پر ہوتی ہے
یہ کسان اپنے لیے شہر میں بنگلہ کوٹھی تو درکنار گاؤں میں رہتے ہوئے اپنے وراثتی مکان میں ایک کمرے تک کا اضافہ نہیں کر سکتا
وہ اپنی کمائی سے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم تو درکنار اپنے گاؤں کے پرائیویٹ سکول کی فیس تک ادا نہیں کر سکتا
وہ اپنی کمائی سے اچھے ہسپتالوں یا بیرون ممالک علاج تو درکنار وہ اپنے علاقے کے عطائی ڈاکٹر سے بھی دوائی نہیں لے سکتا
وہ اپنی کمائی سے اپنے بچوں کی شادیاں نہیں کر سکتا اسے پرچون والے سے ادھار چاول لکڑیوں والے سے ادھار لکڑیاں ٹینٹ والے سے ادھار ٹینٹ اور گوشت والے سے ادھار گوشت اور کپڑے والے سے ادھار کپڑے لے کر اپنے بچوں کی شادیاں کرنی پڑتیں ہیں سونے کی جگہ نقلی زیور یا پھر کسی قریبی رشتے دار سے سونے کا سیٹ ادھار مانگ کر اس شرط پر کہ شادی کے ایک ہفتے بعد واپس کر دوں گا یہ وقت گذارنا پڑتا ہے
ہر سال دو سال پانچ سال دس سال کے بعد اپنی وراثتی زمین (جو باپ دادا کی طرف سے ملی ہوئی ہوتی ہے خود خرید نہیں کی ہوتی) میں سے ایکڑ دو ایکڑ بیچ کر خرچے پورے کرتا ہے ادھار چُکاتا ہے
اگر اِس کسان کے بارے اور اِس کے پیشے زراعت کے بارے حکومتوں نے اپنا رویہ نا بدلا تو یاد رکھو
تمہارے حصے کا کسان جو تمہارے حصے کی روٹی کپڑے اور دودھ کا انتظام کرتا ہے مر جائے گا
اور اگر کسان مر گیا تو کچھ باقی نہیں بچے گا
جب کارپوریٹ فارمنگ شروع ہوگئی تو سب کو تارے نظر آجائیں گے۔
سنو!
اپنے کسان کو مرنے اور برباد ہونے سے بچا لو
تحریر
نمائندہ
کسان بورڈ
کوپی
Mohsin Zawar Official
general topics
01/02/2024
دیسی ماحول کا نظارہ
Want your business to be the top-listed Government Service in Arifwala?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Arifwala
Arifwala
Arifwala
