Pakistan Tahreek-e-Insaf Arifwala
Welcome to the official page of Pakistan Tehreek-e-Insaf Arifwala, a prominent political party in Pakistan. Founded in 1996 by Imran Khan.
This page serves as a comprehensive guide. All post available PTI here.
۸ فروری — قوم کے جاگنے کا دن
ضمیر رکھنے والی قوم کی آواز،
امت کے دکھ کا کرے گی سوال،
اور دے گی اپنا جواب
فلسطین سے یکجہتی بند تو پاکستانی کریں گے ملک بند!
بند مطلب بند!
05/02/2026
8 فروری وہ دن ہے جب گزشتہ سال عوام کے ووٹ پر کھلا ڈاکہ ڈالا گیا
اور عمران خان کے مینڈیٹ کو چرایا گیا 8 فروری2026 کو قوم ایک بار پھر کھڑی ہو گی
ووٹ کی حرمت ائین کی پامالی پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا پوری قوم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے
27/01/2026
🚫 8 فروری 🚫
‼️ بند مطلب بند ‼️
پورا پاکستان بند 🚨🚨
13/01/2026
تین گھنٹے کی پریس کانفرنس۔
تین منٹ میں عوامی جواب۔
رعونت بھرا روایتی لب و لہجہ جھوٹ اور دو نمبری کے سہارے سیاسی بیانیہ۔
فرق صرف یہ ہے کہ
اب پاکستانی عوام الزامات نہیں حقائق، اعداد و شمار اور تاریخ سے جواب دیتی ہے۔
ہر بار آ کر حکومتی نمائندہ ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب کو حقائق کی الف ب سکھانا پڑتی ہے۔
جب غیر جمہوری عناصر
اُس نظام میں مداخلت کریں
جس کا وہ حصہ ہی نہیں—
تو یہی انجام ہوتا ہے۔
یہ ویڈیو الزام نہیں، سر جی سچ پر مبنی آئینہ ہے
پہلی بات یہ ہے کہ یہ لوگ پڑھے لکھے نہیں ہوتے، اوپر سے یہ پڑھنے لکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے-
اسی لئے یہ سچ انھیں ویڈیو کی شکل میں سمجھایا گیا ہے- اب اُمید ہے ڈی جی صاحب کو کوئی ان کے پٹواری لیول کی نوکری دی جائے گی، یہ موجودہ عہدے کے حقدار نہیں ہیں-
عمران خان کی بہنوں پر واٹر کینن کا استعمال کارکنان ڈھال بن گئے ویڈیو منظر عام پر
دردناک ویڈیو ۔ کارکن آخر تک بہنوں کی حفاظت کے لیے موجود تھے۔ 💔💔💔
عمران خان کی بہنوں پر اج پھر پانی پھینکا گیا اور ان کو سڑکوں پر گرایا گیا💔
سخت سردی میں نہتے پرامن بچوں، خواتین اور شہریوں پر واٹر کینن سے حملہ!
05/12/2025
ڈی جی صاحب! جب یہی لوگ آپ کو حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ کا طعنہ دیتے تھے، آپ کو غدار کہا کرتے تھے، تو وہ سب بھول کر آج وہی لوگ آپ کے لاڈلے کیسے بن گئے؟
کیسے آپ نے انہی کو الیکشن چوری کروا کر وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بنوا دیا؟
جب آپ ان کے لیے انتخابات میں دھاندلی کر رہے تھے، تب آپ کو حمودالرحمن رپورٹ، غداری اور ماضی کے الزامات کیوں یاد نہ آئے؟
نام ہے عمران احمد خان نیازی Imran Khan
عارف والا کے نواحی گاؤں 149 ای بی میں افسوسناک واقعہ، معمولی تلخ کلامی پر دو مسلح افراد نے میڈیکل اسٹور پر دھاوا بول دیا۔ فائرنگ اور غنڈہ گردی سے علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا
ذرائع کے مطابق، صغیر احمد نامی شخص نے عرصہ دراز سے گاؤں میں میڈیکل اسٹور بنا رکھا تھا۔ معمولی تلخ کلامی پر مزمل ولد اکرم مسلح رائفل کے ساتھ اور منیب ولد ارشاد مسلح پستول کے ساتھ میڈیکل اسٹور میں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے صغیر احمد کو تشدد کا نشانہ بنایا اور فائرنگ کرتے رہے
فائرنگ سے علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی افراد کے مطابق دونوں حملہ آور درجنوں مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ہیں۔ تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ پولیس نے معمولی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا، جس پر عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کیا ہے اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اس واقعہ کا نوٹس لیں اور ملزمان کے خلاف غنڈہ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ کیس کی تفتیش سی سی ڈی برانچ کے حوالے کی جائے تاکہ انصاف ممکن ہو
11/10/2025
ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پر تحریک انصاف کا ردعمل
آج ڈی جی آئی ایس پی آر کی طویل پریس کانفرنس کے تناظر میں تحریکِ انصاف سمجھتی ہے کہ عوام کو اصل صورتحال بتانے کے لیے چند بنیادی نکات واضح کرنا ضروری ہیں۔ پاکستان میں طالبان کی واپسی کا معاملہ ایک مخصوص سوچ کے تحت پیش کیا گیا تھا جس میں آئین و قانون کی بالادستی کو نظرانداز کرنے کا تاثر تھا۔ یہ منصوبہ پہلی مرتبہ 2021 میں اُس وقت کی فوجی قیادت کی جانب سے سامنے آیا۔ تجویز یہ تھی کہ ہتھیار ڈالنے والے دہشت گردوں کو واپس لا کر پاکستان میں بسایا جائے۔ جب یہ تجویز اُس وقت کے وزیراعظم عمران خان کے سامنے رکھی گئی تو انہوں نے فوری طور پر کابینہ، خیبر پختونخوا کے نمائندوں اور قبائلی عمائدین سے مشاورت کی۔ سب نے متفقہ طور پر اس منصوبے کو مسترد کیا۔ بعدازاں یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی میں بھی زیرِ بحث آیا، جہاں تجویز دی گئی کہ طالبان کو آبادکاری کا موقع دیا جائے، ان کے قیدی رہا کیے جائیں اور فاٹا کے انضمام پر نظرِ ثانی کی جائے۔ تاہم عمران خان کی کابینہ نے اسے مکمل طور پر رد کر دیا اور واضح مؤقف اختیار کیا کہ ریاست کو دہشت گرد عناصر کے سامنے جھکنا نہیں چاہیے۔
تحریکِ انصاف کے رہنماؤں نے اس وقت بھی سوالات اٹھائے کہ ایسے فیصلوں کے نتائج کیا ہوں گے، مگر افسوس کہ ان سوالات کے جوابات آج تک نہیں دیے گئے۔ اس کے برعکس جن رہنماؤں نے یہ سوال اٹھائے، اُنہیں دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعدازاں جب پی ڈی ایم حکومت برسرِ اقتدار آئی تو 6 جولائی 2022 کو پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اُس وقت تحریکِ انصاف کے ارکان اسمبلی مستعفی ہو چکے تھے، لہٰذا اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ لیکن اجلاس میں شریک جماعتوں—مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، جے یو آئی (ف) اور دیگرنے متفقہ طور پر طالبان سے مذاکرات کی توثیق کی۔ اسی فیصلے کے اگلے روز، یعنی 7 جولائی 2022 کو اُس وقت کے وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناءاللہ نے اپنی ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاقِ رائے ہو چکا ہے۔ یعنی حقیقت بالکل واضح ہے کہ تحریکِ انصاف کے دور میں یہ تجویز آئی ضرور تھی، مگر مسترد کر دی گئی۔ بعد میں پی ڈی ایم حکومت نے اسی منصوبے کو منظور کر کے طالبان سے مذاکرات کا آغاز کیا۔ تحریکِ انصاف کا مطالبہ ہے کہ شہباز شریف کے بطور وزیراعظم دور میں ہونے والی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کے منٹس پبلک کیے جائیں تاکہ قوم جان سکے کہ طالبان سے مذاکرات کے فیصلے کا اصل محرک کون تھا۔ اُس وقت کے وزیرِ داخلہ رانا ثناءاللہ نے خود 7 جولائی 2022 کی ٹویٹ میں اسی اجلاس کا حوالہ دیا تھا—لہٰذا حقائق کو چھپانے کے بجائے قوم کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔ تحریکِ انصاف کا اصولی موقف رہا ہے کہ ملک کے اندرونی امن و امان کے معاملات میں مسلح افواج کا استعمال نہ کیا جائے — یہ سبق ملک کے ٹوٹنے کے بعد واضح ہوا اور 1972 سے بلوچستان کا بحران اس کا زندہ ثبوت ہے۔ ریاست کے خلاف کارروائی کرنے والے عناصر کے جائز تحفظات اور شکایات کو دبانے کے بجائے عوام کے سامنے لانا چاہیے تاکہ عوام خود ان کے غیر منصفانہ مطالبات یا زور و زبردستی کے عمل کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کریں۔ تاہم مسلح گروہوں کو باقی آبادی پر حاوی ہونے کی اجازت ہرگز نہیں دی جا سکتی اور جب عوام خوش اور مطمئن ہوں تو ریاستی پالیسیاں ایسے عناصر کو معاشرتی پناہ دینے کی گنجائش نہیں رہنے دیتی۔ہمیں خطے میں افغان حکومت کے ساتھ تعاون کو تقویت دینی چاہیے تاکہ مسلح باغی اور دہشت گرد افغانستان میں کوئی محفوظ پناہ گاہ نہ بنا سکیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بیشتر افغان عوام پاکستان سے محبت اور احترام رکھتے ہیں، جیسا کہ پاکستان نے 1980 کی دہائی میں افغان بھائیوں کے لیے اپنی دروازے اور دل کھول دیے تھے۔ اس کے باوجود ہماری خارجہ پالیسی میں کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے افغان حکومت اور عوام کو اپنی طرف مائل کرنے میں ناکامی رہی — اسے درست کرنا ضروری ہے۔ تحریکِ انصاف کا اصولی موقف یہ ہے کہ دہشت گردی ہر شکل میں ناقابلِ قبول ہے اور اسے ہر سطح پر ختم کیا جائے۔ سیاست یا الزام تراشی کو اس معاملے میں جگہ نہیں دی جا سکتی۔ ہم قانون کی حکمرانی اور آئینِ پاکستان کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں اور بطور سویلین نگہبان وطن کی سالمیت، اتحاد اور دفاع کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کی مکمل حمایت کرتے ہوئے ہم واضح کرتے ہیں کہ ہماری حکمتِ عملی اصولی، متوازن اور شفاف مکالمے پر مبنی ہے،تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کر کے سفارتی ذرائع اور سیاسی حل کو اولین ترجیح دی جائے، جبکہ کسی بھی انٹیلی جنس یا سکیورٹی آپریشن کو آخرِ کار کے طور پر اور مکمل قانونی نگرانی و احتساب کے دائرے میں ہی انجام دیا جائے۔ ہم احتساب، شمولیت اور انسانی حقوق کے احترام کو اپنی ہر پالیسی اور اقدام کی بنیاد سمجھتے ہیں۔
اسی جذبے کے تحت تحریکِ انصاف نے جولائی 2025 میں آل پارٹیز کانفرنس پی کے ہاؤس پشاور میں منعقد کروائی، جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے شرکت کی، اور 21 ستمبر 2025 کو پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی نے اسلام آباد میں متفقہ اعلامیہ جاری کیا کہ ضرورت کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف ٹارگٹنگ کارروائیاں کی جائیں گی۔ نیشنل ایکشن پلان کے موثر نفاذ اور صوبائی پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے خیبر پختونخوا میں عملی اقدامات کیے گئے — جدید اسلحہ، بم پروف جیکٹس، بکتر بند گاڑیاں اور مواصلاتی آلات فراہم کیے گئے، جن پر تقریباَ 40 ارب روپے خرچ ہوئے۔ ہماری حکمتِ عملی یہ رہی کہ سرحدی امور وفاق اور متعلقہ ادارے سنبھالیں جبکہ اندرونی سیکیورٹی پولیس فورس کی ذمہ داری ہو۔ باجوڑ، تیراہ اور دیگر حساس علاقوں میں مقامی عمائدین کے ذریعے جرگے اور امن مذاکرات بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھے جن کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ تحریکِ انصاف اداروں کے احترام اور قومی یکجہتی کی حامی ہے۔ پاکستان کے امن، استحکام اور اتحاد کے لیے ضروری ہے کہ سب ایک صف میں کھڑے ہوں، شفافیت کو فروغ دیا جائے، حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ عزم کا اعادہ کیا جائے۔
منجاب:پاکستان تحریک انصاف پاکستان
Click here to claim your Sponsored Listing.
