Thanks
Explore the beauty of Doyan Astore
This page is established with a view to explore the beauty and tourist points of Village Doyan Astore
GB
ایران اسرائیل امریکہ جنگ بندی — ایک تجزیہ
یہ جنگ بندی ایران اور اسرائیل ھی نہیں بلکہ امریکہ سمیت تینوں کے بیچ ھوئ ھے، روس اور قطر کا کردار اھم ترین ھے ، پاکستان ،ترکی ،سعودی عرب و دیگر ممالک بھی ان کوششوں میں مسلسل شریک رھے ھیں -
کوئ مانے یا مانے ! امریکی صدر اور پاکستان کے آرمی چیف کی ملاقات میں بھی اس جنگ بندی کے حوالہ سے بات چیت اور پیش رفت ھوئ ، اس ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ اور مشرق وسطٰی میں امریکی نمائیدے بھی موجود تھے
ایران نے بہادری کے ساتھ امریکی شہ پر کیے گئے حملوں کا سامنا کیا ، بھاری جانی مالی اور دفاعی نقصانات کے باوجود جارحیت کے سامنے سر نہیں جھکایا
امریکہ اور اسرائیل ، ایران کو سرنڈر کروانے،جھکانے ، اندرونی بغاوت کروانے اور ایٹمی پروگرام پر آگے بڑھنےسے روکنے میں مکمل ناکام رھے
اسرائیل کا ناقابل تسخیر ھونے کا بھرم ٹوٹ گیا ،
صدر ٹرمپ کو امریکہ کے اندر اور باھر خاصا سیاسی نقصان ھوا ھے
ایران کا جانی نقصان بہت زیادہ ھوا ، بہت سے جوھری سائینسدان اور سینئر جرنیل شھید ھوۓ ، ایٹمی انفراسٹرکچر کو سخت نقصان پہنچا ، اس پوزیشن پر واپس لوٹتے وقت لگے گا
امریکہ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ پیشگی اطلاع دینے کے بعد کیا ۔شاید اسکی وجہ ایرانی ایٹمی انفراسٹرکچر کی تباھی کے نتیجہ میں ایٹمی تابکاری پھیلنے کا خوف ھو ، کیونکہ اگر ایسا ھو جاتا تو یہ جاپان کے بعد ایران پر امریکی ایٹمی حملے کے مترادف ھوتا یا پھر امریکی نپا تُلا ایرانی رد عمل چاھتے ھونگے ۔۔ غالب امکان یہ بھی ھے کہ ایرانی ایٹمی مواد پہلے ھی نکل چکے ھونگے
قطر میں امریکی فوجی اڈے پر حملہ محض علامتی کاروائ تھی ، یہ ایرانی حملہ جنگ بندی کی شرائط کا حصہ تھا ، جسکا امریکہ قطر اور روس کو پہلے سے علم تھا
اھم پہلو یہ ھے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا کیا بنے گا ؟ کیا غزہ اس جنگ بندی پلان کا حصہ ھے یا نہیں ؟ کیا اھل غزہ ظلم کی چکی میں پستے رھیں گے یا انکی بھی سنی جائیگی ؟؟
اس سوال کا جواب دو تین روز میں واضح ھو جائیگا
بہر حال ایران پر اسرائیلی جارحیت کے موقع پر ایران کا دیرینہ اتحادی بھارت اسرائیل کے ساتھ رھا جبکہ پاکستان نے ھر مرحلے پر ایران کی کھل کر سفارتی و سیاسی حمایت کی ،صدر ٹرمپ کو نوبل انعام کیلئے نامزد کرنا بھی اسی مشن کا حصہ تھا جسے ھم میں سے اکثر نے ناپسند کیا اور اسے نامناسب تصور کرتے ھیں ۔۔
جنگ بندی کتنی پائیدار ھو گی ، اسکے بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ھو گا
لیکن اس جنگ کے بعد خطے میں نىئ صف بندی ضرور ھو گی، پاکستان ، ایران ، ترکی ، سعودی عرب اور قطر کو اپنی سلامتی کیلئے سر جوڑنے اور مستقبل کیلئے مشترکہ حکمت عملی بنانے کی سخت ضرورت ھے ۔۔
Copied from the wall of Saad Rafiq
پاکستان ایئر فورس کی طرف سے مار گرائے گئے انڈین ایئر فورس کے طیاروں اور متعلقہ پائلٹوں کی معلومات:- 🇮🇳⚡🇵🇰
1: میراج-2000 مقام: پامپور
پائلٹ کا نام: ونگ کمانڈر اومان کتم
سروس نمبر: 30384
شاٹ کریڈٹ: J-10C بذریعہ PL-15
حالت: تشویشناک حالت میں 92 بیس ہسپتال سری نگر میں رکھا گیا۔
2: مگ 29
مقام: رام بن
پائلٹ کا نام: سکواڈرن لیڈر کیشو یادو
سروس نمبر: 32394
شاٹ کریڈٹ: Jf-17 بذریعہ PL-15
حالت: 22 مئی 2025 کو کمانڈ ہسپتال ادھم پور میں رکھا گیا تھا-
3: سخوئی Su-30 MKI
مقام: اکھنور
پائلٹ 1: ونگ کمانڈر للت گرگ
سروس نمبر: 29690
پائلٹ 2: فلائٹ لیفٹیننٹ منڈت تیواری۔
سروس نمبر: 36415
شاٹ کریڈٹ: J-10C بذریعہ PL-15
حالت: مستحکم حالت میں اکھنور کے 170 ملٹری ہسپتال میں رکھا گیا-
4: رافیل ای ایچ
مقام: بھٹنڈا
پائلٹ: ونگ کمانڈر ارون پنوار
سروس نمبر: 30217
شاٹ کریڈٹ: J-10C بذریعہ PL-15
حالت: 174 ملٹری ہسپتال، بھٹنڈا میں رکھا گیا، تشویشناک حالت کی وجہ سے چندیمندر کمانڈ ہسپتال منتقل کر دیا گیا-
5: رافیل ای ایچ
مقام: پنجاب (بھٹنڈا کا شمالی)
پائلٹ: ونگ کمانڈر منیش
سروس نمبر: 27976
شاٹ کریڈٹ: J-10C بذریعہ PL-15
حالت: مستحکم حالت میں چندیمندر کمانڈ ہسپتال میں رکھا گیا-
6: رافیل ای ایچ
پائلٹ: سکواڈرن لیڈر سنیل
سروس نمبر: 32091
شاٹ کریڈٹ: J-10C بذریعہ PL-15
حالت: مستحکم حالت میں 92 بیس ہسپتال، سری نگر میں رکھا گیا
جاپان سے ماموں جلال الدین کے جزبات۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Astor
