Khalil Ur Rehman Khattak, Dakhnair, UC71
Public figure
چلو پھر سے ڈھونڈ لیتے ہیں اسی نادان بچپن کو
انہی معصوم خوشیوں کو انہی رنگین لمحوں کو
جہاں غم کا پتہ نہ تھا جہاں دکھ کی سمجھ نہ تھی
جہاں مسکراہٹ تھی بہاریں ہی بہاریں تھیں
میرے پوتے اور پوتیاں
شاید انسان پوری زندگی جس سکون کی تلاش میں بھٹکتا ہے، وہ سکون اسی معصوم بے خبری میں پوشیدہ ہوتا ہے جس بے خبری سے یہ معصوم زمین پر لیٹے ہیں۔ یہ کھیل رہے اور میں سوچ رہا کہ وقت چاہے آگے بڑھتا رہے، زندگی اپنی تازگی انہی معصوم ہنسیوں سے واپس پاتی رہتی ہے۔ شاید اسی کا نام تسلسلِ حیات ہے…
29/12/2025
تھانے کے نام پر فون فراڈ
السلام علیکم
کچھ دیر قبل مجھے ایک نمبر سے ایک کال موصول ہوئی۔ کال کرنے والے نے میرا نام لیا اور فوراً خود کو “سی آئی اے” کا اہلکار ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آ پ کا فلاں بیٹا کہاں ہے ؟
چونکہ مجھے اس قسم کے فراڈ کالز کا پہلے سے علم تھا، میں نے اطمینان سے پوچھا کہ کس بیٹے کی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے میرے بیٹے کا نام لیا۔ اتفاق سے اسی لمحے وہ اس وقت دروازے سے اندر داخل ہو رہا تھا۔ (معلوم نہیں نام کا یہ تیر اس نے ہوا میں مارا یا اس کے پاس کسی قسم کا ڈیٹا موجود تھا وہاں سے دیکھ کر کہہ رہا تھا) میں نے گفتگو کو مزید آگے بڑھانے کی کوشش کی، مگر کال کرنے والے کو اندازہ ہو گیا اور اس نے فوراً فون بند کر دیا۔
آج کل نت نئے اور انتہائی خطرناک فون فراڈ سامنے آ رہے ہیں۔ آپ گھر میں سکون سے بیٹھے ہوتے ہیں اور اچانک ایک کال آتی ہے کہ آپ کا بیٹا، بھتیجا یا قریبی رشتہ دار فلاں تھانے میں ہماری حراست میں ہے۔ گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں اکثر لوگ صبر و حوصلہ کھو بیٹھتے ہیں اور اسی لمحے فراڈیوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
پھر والدین کو یہ کہہ کر خوف زدہ کیا جاتا ہے کہ اگر فوراً “معاملہ سیٹ” نہ کیا گیا تو ایف آئی آر درج ہو جائے گی، ریکارڈ خراب ہو گا اور بچے کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ اسی خوف اور بدنامی کے دباؤ میں آ کر لوگوں سے ہزاروں روپے ایزی پیسہ، جاز کیش یا کسی بینک اکاؤنٹ میں منتقل کروانے کی کوشش کی جاتی ہے، ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی جاتی ہے کہ کسی سے بات نہ کی جائے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ کئی متاثرین شرمندگی یا بدنامی کے خوف سے شکایت درج نہیں کرواتے، جس سے یہ گروہ مزید دلیر اور مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔
براہِ کرم ہوشیار رہیں۔
ایسی کسی بھی کال پر گھبرانے کے بجائے فوراً اس شخص یا بچے سے براہِ راست رابطہ کر کے تصدیق کریں، کسی صورت رقم منتقل نہ کریں، اور مشکوک کال کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں۔ خود بھی محفوظ رہیں اور اس پیغام کو آگے پھیلا کر دوسروں کو بھی اس فراڈ سے آگاہ کریں۔ شکریہ
24/08/2025
فیس بُک کی دنیا بھی عجب ہے، کھولو تو پہلا سوال کرتی ہے: “تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے؟”
اب بندہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے جال میں پھنس ہی جاتا ہے۔ سو، اس وقت میرے دماغ میں یہی چل رہا ہے۔
کچھ روز پہلے پڑھے لکھے تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک محفل میں بیٹھا تھا جہاں سب پڑھے لکھے اور تعلیم یافتہ لوگ موجود ہوں وہاں ظاہر سی بات ہے کہ ایسی محفلوں میں علم اور اہلِ علم ہی موضوعِ سخن بنتے ہیں۔ علم سے وابستہ محمکہ تعلیم کا بھی بڑا اہم کردار ہے ۔ قریب ہی چند اور حضرات چائے نوش فرما رہے تھے جو غالباً ہماری گفتگو بھی سن رہے تھے۔ ہم اساتذہ کرام کے تبادلوں پر بات کر رہے تھے۔
میں نے یوں ہی کہہ دیا: یار! الحمدللہ آج کل تبادلے کے لئے کسی کی سفارش کی ضرورت ہی نہیں رہی سب کچھ ایس آئی ایس (SIS) پر خالص میرٹ کی بنیاد پر تبادلہ ہوجاتاہے۔
میری زبان سے یہ جملہ کیا نکلا کہ ساتھ بیٹھے ایک صاحب نے بلا اجازت مداخلت کی اور قدرے سخت لہجے میں بولے:
تسی سر بوؤں سدھے او بھولے او۔ لوگ گلاں نال نے سب کجھ عملاً کجھ وی نئیں ۔ میرٹ کدھروں آیا ۔
(چھوڑو جی! میرٹ کدھر ہے؟ یہ سب ڈراما بازیاں ہے۔)
کیا آن لائن تبادلے واقعی میرٹ پر ہوتے ہیں؟ میں تو آ ج تک یہی سمجھتا رہا لیکن لوگوں کی چیخ و پکار نے حقیقت آشکار کر دی۔
اس شخص کے الفاظ ابھی بھی کانوں میں گونج رہے ہیں۔ اس نے کہا
" آن لائن ٹرانسفر کا میرٹ صرف ان کے لیے ہے جن کا کوئی والی وارث نہیں جن کے پاس طاقت اور اثر و رسوخ ہے ان کے لیے نہ کوئی قانون ہے نہ ضابطہ۔ وہ جب چاہیں جہاں چاہیں اپنی مرضی کے تبادلے کروا لیتے ہیں لیکن برسوں سے انتظار میں بیٹھے لاوارث لوگوں کو تو سسس پر خالی نشستیں شو ہی نہیں ہوتیں ۔SIS پر نشستیں صرف ان کو نظر آ تی ہیں جن میں دم خم ہوتا ہے"
نوٹ ! یہ الفاظ اس نام نامعلوم شخص کے ہیں متفق یا غیر متفق ہونے کا حق محفوظ ہے۔ تائید یا تردید تو SIS سے متعلقہ حکام ہی کر سکتے ہیں ۔
یہ کہہ کر وہ صاحب اٹھ کر جانے لگے تو میں نے بہت اصرار کیا کہ اپنا نام تو بتا جائیں مگر وہ کچھ ثبوت موبائل پر دکھا کر یہ کہہ کر چلے گئے کہ " میں آ پ کو اور آ پ کے کزن طالب خٹک کو بھی اچھی طرح جانتا ہوں ۔
موبائل میں دکھائے گئے ثبوتوں کے پرنٹ آ پ کے پاس پہنچ جائیں گے ساتھ ہی یہ کہہ گئے وہ 'ان لوگوں "کے پاس ضرور جائیں گے جو میرٹ کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں" ۔
واللہ اعلم وہ شخص کون تھا اور حیرت انگیز بات یہ کہ جاتے جاتے ہماری چائے کے پیسے بھی کاؤنٹر پر ادا کر گئے۔
جب میں نے کاؤنٹر والے سے پوچھا تو اس نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا: سر جی! یہ صاحب کبھی کبھار آ تے ہیں ۔ بس گاہک جیسا ہی واسطہ ہے گپ نہیں ہے ۔”
بقولِ شخصے:
ہم سمجھتے تھے کہ سب اچھا ہوگا
خاک ہوگئے، اب خاک ہی اچھا۔
خلیل الرحمٰن سابق ضلعی صدر پنجاب ایس ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن اٹک
14/08/2025
یومِ آزادی مبارک! 💚
رب کریم ہمارے پیارے پاکستان کی حفاظت فرمائے، اسے فتنوں، شرارتوں اور دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رکھے، اور اس کی ہر گلی، ہر شہر اور ہر دل کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنائے۔ آمین! 🇵🇰
ہم سب اکثر سنتے ہیں کہ بارش کا پانی جمع کرنا، یعنی رین ہاروسٹنگ، آج کے دور کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ پانی کی قلت ایک ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف ہمارے گاؤں کو بلکہ پورے ملک کو متاثر کر رہا ہے۔
یہ ویڈیو حالیہ بارشوں کی ہے، اور اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میرے گاؤں پائی خیل، جنڈ اٹک کے پاس پہاڑیوں کے دامن میں ایک برساتی نالا ہر سال بے تحاشہ قیمتی پانی بہا دیتا ہے۔ یہ پانی اگر ضائع نہ ہوتا اور کسی چھوٹے ڈیم یا ریزروائر میں محفوظ کیا جاتا، تو نہ صرف ہمارے کھیتوں کی زمین سیراب ہو سکتی تھی بلکہ ہمیں پینے کے صاف پانی کی فراہمی بھی یقینی بنائی جا سکتی تھی۔
ہم نے تقریباً ہر دور میں حکومت اور متعلقہ حکام کو اس مسئلے سے آگاہ کیا ہے اور تحریری و زبانی طور پر درخواست کی ہے کہ فوری طور پر اس کا حل نکالا جائے۔ اس بار خوش آئند بات یہ ہے کہ محکمہ سمال ڈیمز آرگنائزیشن فتح جنگ کے ایس ڈی او صاحب نے ایم ڈی صاحب کے پاس ابتدائی سروے رپورٹ بھیجی ہے۔ ہم فنڈز کی منظوری کے منتظر ہیں تاکہ اس نالے پر سمال ڈیم تعمیر کیا جا سکے۔
یہ مسئلہ صرف میرے گاؤں کا نہیں بلکہ ہمارے علاقے میں سینکڑوں ایسی جگہیں ہیں جہاں پانی ضائع ہو رہا ہے ۔اس سے بہت سارا پانی اکٹھا کیا جا سکتا ہے جس سے مسلسل گرتے ہوئی زیر زمین پانی کی سطح بھی بحال ہو سکتی ہے جو پینے کے پانی کی فراہمی اور زراعت کے لیے ناگزیر ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے رین ہاروسٹنگ، چھوٹے ڈیمز کی تعمیر اور پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ حکومت پنجاب جلد ہمارے علاقے کی اس دیرینہ اور سنجیدہ مسئلے کو حل کرے گی تاکہ ہمارا قیمتی پانی ضائع نہ ہو، ہماری زمینیں ہری بھری رہیں اور ہمارے محفوظ مستقبل کی ضامن بنے۔
06/07/2025
الحمدللہ!
جنڈ شہر میں یومِ عاشور کا جلوس نہایت عقیدت، احترام اور نظم و ضبط کے ساتھ پُرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔
عزادارانِ امام حسینؑ کو مکمل تحفظ فراہم کرنے میں پنجاب پولیس اور بالخصوص اٹک پولیس نے جس فرض شناسی، پیشہ ورانہ مہارت اور ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا، وہ واقعی قابلِ تحسین و تکریم ہے۔ میں ڈی پی او اٹک، ڈاکٹر سردار غیاث گل خان کی قائدانہ بصیرت اور مؤثر حکمتِ عملی کو دل سے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، جن کی قیادت میں ضلع بھر میں یومِ عاشور کے جلوس پُرامن فضا میں مکمل ہوئے۔ اسی طرح ایس ایچ او جنڈ، جنید احمد اور ڈی ایس پی جنڈ ، چوہدری ذوالفقار علی بھی بجا طور پر داد و تحسین کے مستحق ہیں، جنہوں نے تحصیل جنڈ میں ہر لمحہ حالات کو پیشہ ورانہ مہارت اور نظم و ضبط سے سنبھالا اور جلوس کے پر امن انعقاد کو یقینی بنایا
اسسٹنٹ کمشنر جنڈ کی جانب سے انتظامی تعاون اور مؤثر رابطہ کاری نے اس پورے عمل کو منظم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جو قابلِ ستائش ہے۔ خصوصاً ٹی ایم اے جنڈ کی صفائی و ستھرائی برانچ، جس کی سربراہی سہیل رحمن کے پاس تھی ۔ وہ گزشتہ دس روز سے جلوس کے روٹس کی صفائی، صفائی عملے کے ساتھ خوش اسلوبی سے رابطہ، اور عزاداران کی سہولت کے لیے مسلسل متحرک رہے۔ ان کی انتظامی صلاحیت واقعی قابلِ تحسین و آفرین ہے۔
اسی طرح صحافی برادری نے بھی اپنی روایت برقرار رکھی۔جلوس کی مثبت، ذمہ دارانہ اور بروقت رپورٹنگ کے ذریعے امن، اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام عوام تک پہنچایا۔ میں بطورِ خاص اپنے شاگرد عزیز مرید حسین اور ندیم ملک کا ذکر کرنا چاہوں گا، جنہوں نے پیشہ ورانہ صحافت کی بہترین مثال قائم کی۔
اللہ تعالیٰ ان تمام افراد کو سلامت رکھے، ان کی کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، اور ہمارے شہروں، قصبوں اور بستیوں کو ہمیشہ امن، اتحاد اور خیر خواہی کا گہوارہ بنائے۔
آمین ثم آمین۔
03/07/2025
انا للہ و انا الیہ راجعون
آہ! ابو بکر بن جان زیب...
ابو بکر کی وفات پر دل صدمے سے لرز اٹھا ہے۔
میری ابو بکر سے ذاتی ملاقات کبھی نہ ہو سکی۔ صرف ایک آدھ بار واٹس ایپ پر اُس کے والد نے مختصر سی بات کروائی تھی، کیونکہ اُس کی پرورش اور جوانی امریکہ میں گزری۔ میرا اصل تعلق اُس کے والد، جان زیب خان عرف پپو مرحوم سے تھا ایک محبت کرنے والی، مخلص اور باوقار شخصیت، جس سے میری بے شمار یادیں، قربت، اور احترام وابستہ تھا۔
پپو کی سادگی، اس کی خالص نیت، اور محبت سے لبریز باتیں آج بھی دل کے نہاں خانوں میں زندہ ہیں۔
اسی نسبت سے ابو بکر کی اچانک اور ناگہانی رحلت میرے لیے ایک ذاتی دکھ بن گئی ۔ ایسا دکھ جو بیان سے باہر ہے۔
ابو بکر کی وفات کی خبر ضیاء خٹک کے ذریعے ملی۔
خبر سن کر جیسے وقت تھم گیا ہو۔
ابھی پپو کی جدائی کا غم مکمل طور پر دل سے رخصت نہ ہوا تھا کہ اُس کے نوجوان، روشن چہرے والے بیٹے کی موت نے دل کے زخم دوبارہ ہرے کر دیے۔
ابو بکر اُس عمر میں تھا جہاں زندگی مسکرانا سیکھتی ہے، خواب پروان چڑھتے ہیں، اور مستقبل کی امیدیں پر لگا کر اُڑنا چاہتی ہیں...
لیکن شاید یہی مشیتِ ایزدی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے اُس کے لیے بہت مختصر، مگر پاکیزہ زندگی مقدر کی تھی اور اُسے اپنے پاس بلانے کا وقت بھی طے فرما رکھا تھا۔
یہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکا
کھِلا ضرور، مگر کھل کر مسکرا نہ سکا
اللہ رب العزت، ابو بکر کو جنت الفردوس میں اپنے والد جان زیب خان مرحوم کے پہلو میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور تمام اہلِ خانہ، دوستوں اور چاہنے والوں کو صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا کرے۔
آمین ثم آمین
28/06/2025
محرم الحرام کا پیغام نئی نسل کو کردار و اخلاق کی تعلیم دیتا ہے
محرم کا مہینہ صرف ایک تاریخی واقعہ کا تذکرہ نہیں بلکہ ایک جامع درسگاہ ہے، جو ہمیں حق، صداقت، قربانی اور کردار کی بلندی کا عملی سبق دیتی ہے۔ کربلا کی عظیم قربانی ہمیں سکھاتی ہے کہ اصولوں پر قائم رہتے ہوئے زندگی گزارنا ہی اصل کامیابی ہے۔
بطور معلم، میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں نئی نسل کو صرف دینی و دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ حسینیت کا فلسفہ بھی سکھانا چاہیے۔ امام حسینؓ نے ظلم و جبر کے خلاف کھڑے ہو کر ہمیں یہ پیغام دیا کہ تعلیم، شعور، اور اصولوں کے ساتھ جینا ہی ایک باعزت زندگی ہے۔
تعلیمی اداروں میں محرم کے پیغام کو امن، رواداری اور برداشت کے تناظر میں اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ طلبہ و طالبات کو کربلا کے واقعات سے سیکھنے اور اپنی زندگیوں کو مثبت سمت میں ڈھالنے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ میری تمام مکاتب فکر سے اپیل کی کہ وہ ہر قسم کی فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر قومی اتحاد اور اخلاقی اقدار کو فروغ دیں تاکہ ہم ایک مضبوط، باشعور اور پرامن قوم بن سکیں۔
28/05/2025
۲۸ مئی ۱۹۹۸ — یومِ تکبیر
جس دن پاکستان ایک ایٹمی طاقت بن کر ابھرا 💥
یہ دن ہماری خودداری، حوصلے اور قربانیوں کی یاد ہے!
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
فخر، تحسین اور ایک شکوہ!
ویڈیو میں نظر آنے والا میرا ہونہار شاگرد تنویر احمد قریشی ہے۔
مجھے اپنے ہونہار شاگرد تنویر احمد قریشی پر بے حد فخر ہے
اس نے اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے نہ صرف دل جیت لیے بلکہ اپنے اساتذہ، اسکول اور علاقے کا نام بھی روشن کر دیا۔
اس کا فن، اس کی محنت، اور اس کی پیشکش نے ثابت کیا کہ اصل قابلیت نہ کسی عہدے کی محتاج ہے، نہ کسی سسٹم کی۔
الفاظ کم پڑ رہے ہیں اس کی تعریف میں… میری خوشی الفاظ سے ماورا ہے۔
لیکن…
جہاں یہ کامیابی خوشی کا باعث ہے، وہاں ایک تشویش بھی ہے۔
تنویر کی صلاحیتوں نے سوشل میڈیا سے لے کر ملکی و بین الاقوامی سطح تک ہر جگہ داد سمیٹی۔ ہر ٹی وی چینل، ہر پلیٹ فارم، ہر ادارہ اُس کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ضلع اٹک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر صاحب کی طرف سے اب تک کوئی نوٹس، کوئی ستائش، کوئی حوصلہ افزائی نظر نہیں آئی۔
کیا یہ فن اس لیے نظرانداز ہو رہا ہے کہ تنویر ایک "کلرک" ہے؟
یاد رکھیے! یہ کلرک آ پ کے ادارے سے، آپ کے ضلع سے، اور آپ کے سسٹم سے جڑا ہوا ہے۔ یہ وہ نوجوان ہے جس نے تحصیل حضرو، ضلع اٹک اور محکمہ تعلیم کا نام فخر سے بلند کیا ہے۔
سی ای او صاحب!
اب وقت ہے کہ آپ بھی آگے بڑھیں،
اپنے محکمے کے ہنر کو سراہیں،
اور دنیا کو بتائیں کہ آپ صرف پالیسیوں کے نگہبان نہیں، بلکہ قابلیت کے قدردان بھی ہیں۔
ہمیں اپنے تنویر احمد قریشی پر فخر ہے آپ کو بھی ہونا چاہیے!
