what's going on in Attock

what's going on in Attock

Share

This page is for social service

07/04/2026

07/04/2026


24/03/2026

کَیمْبَل پُور کا رابِن ہُڈ
تَحقِیق وَ تَحرِیر : ہَادِی صَاحِب

ڈاکُو…!
یہ لفظ سنتے ہی ذہن میں دو بالکل مختلف تصویریں ابھرتی ہیں۔
ایک تصویر خوف کی
وہ چہرہ جس کی ہنسی میں دہشت چھپی ہو، جس کا نام سنتے ہی مائیں اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر کہتی تھیں: “سو جاؤ… نہیں تو گبر آ جائے گا!”
بھارتی فلم شعلے کا مشہور “کردار گبر سنگھ” جو ظلم اور وحشت کی علامت بن گیا۔
اور دوسری تصویر، حیران کن طور پر اس کے بالکل برعکس
رابِن ہُڈ (Robin Hood) جنگلوں میں بسنے والا ایک باغی، مگر انصاف پسند۔
وہ امیروں سے چھین کر غریبوں میں بانٹتا تھا، ظالموں کے خلاف کھڑا ہوتا تھا، اور اپنے انداز میں انصاف قائم کرتا تھا۔

مگر کیا آپ یقین کریں گے کہ کیمبل پور کی سرزمین نے بھی کبھی ایسا ہی ایک کردار دیکھا ہے؟
ایک ایسا شخص
جو ڈاکو بھی تھا، مگر اپنے اصول رکھتا تھا…
جو قانون کی پہنچ سے باہر تھا، مگر اپنی عدالتیں لگاتا تھا…
جہاں فیصلے گولی سے نہیں، بلکہ “انصاف” کے نام پر کیے جاتے تھے…
کہا جاتا ہے کہ اسے وقت کے طاقتور ترین حکمرانوں کی خاموش سرپرستی بھی حاصل تھی
یہاں تک کہ نواب آف کالا باغ اور فیلڈ مارشل ایوب خان جیسے بااثر نام بھی اس کہانی کے سائے میں دکھائی دیتے ہیں۔
اور پھر…
ساٹھ کی دہائی میں تلہ گنگ،فتح جنگ، پنڈی گھیب، میانوالی ، خوشاب اور وادی سون سکیسر کی فضا میں ایک ہی نام گونجتا تھا—
خوف بھی… اور تجسس بھی…
یہ کہانی ہے
کیمبل پور کے اپنے رابن ہُڈ کی…
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیمبل پور کا تلہ گنگ اور تلہ گنگ کا ڈھرنال
برٹش انڈیا میں 1904 میں ایک نیا ضلع اٹک قائم کیا گیا اور1908 میں اس کا نام تبدیل کر کے کیمبل پور رکھ دیا گیا۔ اس ضلع میں چار تحصیلیں شامل تھیں:
کیمبل پور، تلہ گنگ، فتح جنگ اور پنڈی گھیب۔
تلہ گنگ 1904 سے1985 تک (81 سال) کیمبل پور کا حصہ رہا۔
کیمبل پور کی تحصیل تلہ گنگ کا قصبہ ڈھرنال دو اہم واقعات کی وجہ سے ہمیشہ تاریخ کا حصہ رہے گا:
ایک تو بٹوارے / تقسیم کے واقعات میں سکھوں اور ہندوؤں کے قتل عام کے حوالے سے،
اور دوسرا اس دھرتی پر پیدا ہونے والے ایک ایسے “رابن ہُڈ” کی وجہ سے
جو ساٹھ کی دہائی میں تلہ گنگ، فتح جنگ، پنڈی گھیب، میانوالی، خوشاب اور وادی سون سکیسر کے علاقوں میں خوف اور دھشت کی علامت بنا رہا اور جسے پکڑنے کے لئے چار اضلاع کی پولیس کیل کانٹے سے لیس کالا چٹا پہاڑی سلسلے اور وادی سون کے جنگلوں اور پہاڑوں کی خاک چھانتی رہی تھی اور وہ چھلاوے کی طرح غائب ہو جاتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈھرنال – تلہ گنگ – کیمبلپور
1927 تا 1960
وہ 1927 میں تلہ گنگ کے موضع ڈھرنال میں ایک متوسط گھرانے میں لعل خان کے ہاں پیدا ہوا۔ قیامِ پاکستان سے پہلے علاقے کی روایت کے مطابق وہ برٹش آرمی میں شمولیت اختیار کر چکا تھا۔ تقسیم کے خونی مناظر اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔
چچا کی بیٹی سے شادی کے بعد زندگی سیدھی راہ پر آ چکی تھی، مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
کہتے ہیں،
عشق جب آتا ہے تو عقل کے دروازے بند کر دیتا ہے۔
اس کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ مخالف خاندان کی ایک شادی شدہ عورت اس کے دل میں اتر گئی۔ عشق کی آگ دونوں طرف برابر بھڑکی۔ آخرکار 1955 میں اس عورت نے اپنے پہلے خاوند سے طلاق لے کر اس سے چھپ کر نکاح کر لیا۔
یہ نکاح دراصل ایک نئی دشمنی کا اعلان تھا۔
چند سال بعد بدلہ لیا گیا۔ حملہ ہوا۔ گولیاں چلیں۔
اور جب دھواں چھٹا تو دونوں طرف کے دو دو آدمی زمین پر پڑے تھے۔
وہ گرفتار ہوا اور آٹھ ماہ جیل میں رہا۔
مگر نہ گواہ، نہ ثبوت…
وہ رہا ہو گیا۔
لیکن اب سب کچھ بدل چکا تھا۔
فوجی نوکری ختم ہو گئی اور وہ کھیتی باڑی کرنے لگا۔
مگر سکون پھر بھی نصیب نہ ہوا۔
اس بار دشمن باہر نہیں، اپنے ہی گھر کے اندر کھڑا تھا۔
چچا،جو اس کا سسر بھی تھا، اس کی دوسری شادی ہضم نہ کر سکا۔
بیٹوں کو ساتھ لیا اور اس کے گھر پر چڑھ دوڑا۔
اس بار بھی گولیاں چلیں مگر نتیجہ پہلے سے زیادہ سنگین تھا۔
اس کے ہاتھوں اس کی پہلی بیوی کے دونوں بھائی مارے گئے۔
اب واپسی کا کوئی راستہ نہیں بچا تھا۔
وہ اپنے بھائی ہاشم خان کے ساتھ وادی سون کی طرف نکل گیا۔
ہاشم خان بیمار تھا اور اس کے گردے جواب دے رہے تھے۔
مگر وہ اشتہاری تھے اور اشتہاریوں کے لیے نہ ہسپتال ہوتے ہیں، نہ ڈاکٹر۔
وہ 1960 کی ایک شام تھی جب ہاشم خان اس کی بانہوں میں دم توڑ گیا۔
وہ اپنے بھائی کی میت کو کندھا بھی نہ دے سکا۔
ساتھی لاش لے کر گاوٗں جا رہے تھے کہ پولیس نے راستے میں روک لیا۔
لاش چھینی اور گولیوں سے چھلنی کر کے اسے “مقابلہ” بنا دیا۔
یہ صرف ایک لاش نہیں تھی…
یہ پنجاب کی تاریخ میں ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔
اس دن کے بعد…
وہ محمد خان نہیں رہا۔
پنجاب کے سب سے اتھرے “محمد خان ڈاکو” کا ظہور ہو چکا تھا جسے بعد میں اکثر رابِن ہُڈ بھی کہا جاتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوہستان نمک – وادی سون سکیسر 1960
کوہستان نمک (Salt Range) ایک وسیع پہاڑی سلسلہ ہے جو مشرق میں کھیوڑہ (ضلع جہلم) سے شروع ہو کر مغرب میں کالا باغ (ضلع میانوالی) تک پھیلا ہوا ہے۔ اسی سلسلے کے اندر ایک اہم اور خوبصورت وادی وادی سون سکیسر واقع ہے، جو ضلع خوشاب کا حصہ ہے۔
اس وادی کے وسط میں بلند چوٹی کوہ سکیسر موجود ہے، جس کی اونچائی تقریباً 4600 فٹ کے قریب ہے۔ وادی سون اپنے پہاڑی سلسلوں، چراگاہوں، جنگلات اور کٹی پھٹی زمین کی وجہ سے اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کے سبب آغاز سے ہی مفروروں کی جنت کہلاتا تھا۔میاںوالی میں قتل اور راہزانی کی 35 وارداتوں میں مطلوب ملزم ملک چراغ عرف چراغ بالی، شیر شاہ کھبیکی اور انور مصلی جیسے لوگ پہلے سے ہی یہاں ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔مفروری کے اس دور میں محمد خان کی اصول پسندی کا روب سامنے آنے لگا۔ محمد خان کے تعلقات چراغ بالی سے اچھے ہو گئے کیونکہ دونوں صرف امیروں کو لوٹنے ، عورتوں اور بچوں کی حفاظت اور غریبوں پر رحم کے قائل تھے جبکہ شیر شاہ اور انور کو اس نے مقامی لوگوں کی شکایات پر تحصیل تلہ گنگ کی حدود میں آنے سے منع کر دیا۔
کیونکہ یہ دونوں اس علاقے میں ڈھوکوں پر رہنے والے لوگوں سے زبردستی خدمت کرواتے اور بعض اوقات زنا بالجبر کا ارتکاب بھی کرتے تھے۔بالاخر ایک مرتبہ محمد خان نے انہیں ایک ڈھوک پر خاتون سے زبردستی کرتے ہوئے جا لیا اور دونوں کو جان سے مار دیا۔ اس واقعے کے بعد محمد خان ڈاکو وادی سون سے کالا چٹا کے پہاڑی سلسلے تک تمام ڈاکووٗں کا سردار بن گیا۔
جاگیرداروں اور وڈیروں کو لوٹنے والا، غریبوں کا خیال رکھنے والا، اور خواتین کی عزت کا محافظ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1960 تا 1967
نواب آف کالا باغ – ایوب خان – محمد خان ڈاکو کی ٹرائیکا کا آغاز
یکم جون 1960 کو نواب امیر محمد خان آف کالا باغ نے ایوب خان کے دور میں مغربی پاکستان کے گورنر کا حلف اٹھایا۔
یہ وہ لمحہ تھا جب اقتدار، اختیار اور دھشت تین مختلف راستے ایک ہی نقطے پر آ کر ملنے والے تھے۔
ایوب خان… اقتدار کا مرکز۔
نواب آف کالا باغ… اختیار کی انتہا۔
اور کیمبل پور کا محمد خان… دھشت کی علامت۔
یہ ایک خاموش ٹرائیکا کا آغاز تھا۔
گورنر کا عہدہ سنبھالتے ہی نواب صاحب کو اعلیٰ افسران—چیف سیکرٹری اور آئی جی—نے صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر بریفنگ دی۔
سب بول چکے تو نواب صاحب نے اپنی داہنی مونچھ کو تاؤ دیا اور کہا:
“یہ لا…”
پھر بائیں مونچھ کو تاؤ دیتے ہوئے بولے:
“اور یہ آرڈر۔”
یہ جملہ صرف الفاظ نہیں تھا… ایک اعلان تھا۔
ان کے دور میں سختی، ہیبت اور کنٹرول—حکمرانی کے اصول بن گئے۔ مخالفین کے لیے خوف… اور مشینری کے لیے ڈنڈا۔
اسی زمانے میں کیمبل پور (موجودہ اٹک) کے علاقے ڈھرنال سے تعلق رکھنے والا محمد خان ڈاکو ، جو کئی قتل کے مقدمات میں مفرور تھا، پہاڑوں اور وادیوں میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا۔ جبکہ دوسری طرف علاقے میں اس کا خوف بھی بڑھتا جا رہا تھا۔
اور نواب صاحب کو اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے ایک ایسے آدمی کی ہی ضرورت تھی، جو قانون سے بالاتر ہو۔
کہانی یہاں سے بدلتی ہے۔
نواب آف کالا باغ کی سرپرستی نے محمد خان کو وہ حوصلہ دیا جس کے بعد قانون کا خوف اس کے دل سے بالکل نکل گیا۔
وہ اب صرف ایک مفرور نہیں رہا تھا…
وہ ایک نظام بنتا جا رہا تھا۔
وادی سون سکیسر، چکوال، خوشاب، تلہ گنگ، پنڈی گھیب اور حتیٰ کہ کالا چٹا پہاڑ کے اطراف تک اس کا اثر پھیل گیا۔
وہاں اس نے ایک غیر اعلانیہ، مگر مکمل متوازی عدالت قائم کر دی۔
کھلی کچہریوں کے اعلانات ہوتے۔
لوگ خود چل کر آتے۔
زمین کے جھگڑے… لڑائیاں… حتیٰ کہ قتل کے مقدمات بھی۔
وہ سنتا… فیصلہ کرتا…
اور اس پر عمل بھی کرواتا۔
اس کے پاس اپنی فوج تھی—ایک منظم جتھہ—جنہیں وہ باقاعدہ اعزازیہ دیتا تھا۔
اس نے اپنے زیرِ اثر علاقوں میں چیک پوسٹیں قائم کر دیں، جہاں اس کے آدمی تعینات ہوتے تھے۔ ان کا کام نگرانی کرنا اور اس کے احکامات پر عملدرآمد کروانا تھا۔اور حیرت کی بات یہ تھی کہ:
پولیس بھی اس کے علاقے میں اس کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہو سکتی تھی۔
وہ اشتہاری ہونے کے باوجود اب کھلے عام سامنے آ چکا تھا۔
اس کے مخالفین یا تو مارے جا چکے تھے یا معافی مانگ کر اس کے سامنے جھک چکے تھے۔
لوگ اب عدالتوں سے نہیں بلکہ
محمد خان کے دربار سے انصاف لینے لگے تھے۔
وہ اپنے مقرر کردہ “قاضی” کے ساتھ باقاعدہ سماعت کرتا۔
گواہیاں لی جاتیں…
تحریری فیصلے صادر ہوتے…
ایک مکمل نظام ،ریاست کے اندر ریاست۔
یہ وہ وقت تھا جب
محمد خان صرف ایک ڈاکو نہیں رہا تھا…
وہ ایک بے تاج بادشاہ بن چکا تھا۔
اس کی دہشت اور اثر ڈھرنال سے نکل کر پورے پوٹھوہار اور اس سے آگے تک پھیل چکے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1960 تا 1967
نواب آف کالا باغ – ایوب خان – محمد خان ڈاکو کی ٹرائیکا اور اہم واقعات
1960 کی دہائی کا آغاز اس خطے میں ایک غیر معمولی طاقت کے توازن سے ہوا۔ ایک طرف ایوب خان بطور صدر اقتدار کے مرکز پر تھے، دوسری طرف نواب امیر محمد خان آف کالا باغ بطور گورنر مغربی پاکستان مکمل اختیار کے ساتھ حکمرانی کر رہے تھے، جبکہ تیسری جانب کیمبل پور کا محمد خان ڈاکو اپنے زیر اثر علاقوں میں ایک غیر رسمی مگر مضبوط نظام قائم کیے ہوئے تھا۔ یوں ایک غیر اعلانیہ “ٹرائیکا” وجود میں آ چکی تھی۔
1965 کے صدارتی انتخابات میں اس ٹرائیکا کا اثر کھل کر سامنے آیا۔ محمد خان ڈاکو نے وادی سون، تلہ گنگ اور پنڈی گھیب کے بی ڈی ممبران اور چیئرمینز کے تمام ووٹ ایوب خان کے حق میں ڈلوائے، جو اس کے اثر و رسوخ کی واضح مثال تھی۔
اسی دور میں ایک متنازع واقعہ پیش آیا جب محمد رضا شاہ پہلوی کے دورۂ پاکستان کے موقع پر گورنر کی جانب سے معروف اداکارہ نیلو کو ان کے سامنے رقص کرنے کا کہا گیا۔ نیلو کے انکار پر مبینہ طور پر اسے زبردستی لانے کی کوشش کی گئی۔ نواب صاحب نے محمد خان ڈاکو کو یہ کام سونپا، مگر اس نے ایک خاتون کو زبردستی لانے سے انکار کر دیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب اس نے نواب کے حکم کی نافرمانی کی۔ بعد ازاں پولیس کے ذریعے نیلو کو لایا گیا۔ اس واقعے کے بعد نیلو نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کی کوشش کی، تاہم بروقت طبی امداد سے بچ گئی۔ بعد میں اس نے معروف مصنف ریاض شاہد سے شادی کی، نیلو نے عیسائیت ترک کر کے اسلام قبول کیا اور ان کا نام عابدہ ریاض رکھ دیا گیا۔ اس واقعے پر انقلابی شاعر حبیب جالب نے مشہور نظم کہی:
“تو کہ ناواقفِ آدابِ غلامی ہے ابھی…
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے”
وقت گزرنے کے ساتھ ایوب خان اور نواب آف کالا باغ کے درمیان اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے۔ کشیدگی کی ایک وجہ وہ واقعہ بتایا جاتا ہے جب نواب صاحب نے ایوب خان کو ان کے بیٹے گوہر ایوب کی کو کراچی میں گوہر ایوب کی سیاسی و غیر سیاسی سرگرمیوں کی طرف توجہ دلائی، جس پر ایوب خان نے ناگواری کا اظہار کیا۔
ایک اور واقعہ وادی سون کی خاتون کے اغوا کا تھا، جس میں ایوب خان کے قریبی افراد (بشمول گوہر ایوب) کے ملوث ہونے کی باتیں سامنے آئیں۔ اس پر نواب آف کالا باغ اور محمد خان ڈاکو دونوں نے سخت ردعمل دیا اور احتجاج کیا۔ اگرچہ کچھ دن بعد وہ خاتون واپس آ گئی، مگر دونوں قیادتوں کے درمیان بداعتمادی بڑھ گئی۔
یہ اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب کراچی کے ایک ضمنی انتخاب میں نواب صاحب نے قوم پرست رہنما میر غوث بخش بزنجو کی حمایت کی، جبکہ ایوب خان اپنے امیدوار حبیب اللہ خان کے ساتھ تھے۔ بزنجو کی کامیابی نے دونوں کے تعلقات کو مزید خراب کر دیا۔
بالآخر صدر ایوب خان نے نواب آف کالا باغ کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے انہیں 18 ستمبر 1966 کو گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ اس کے بعد نواب صاحب اپنے آبائی علاقے واپس آ گئے، مگر حالات اب پہلے جیسے نہ رہے۔
اسی دوران ایوب خان کو یہ اطلاع دی گئی کہ نواب آف کالا باغ نے محمد خان ڈاکو کے ذریعے ان کے قتل کی منصوبہ بندی کی ہے (ان کے قتل کی سپاری دے دی ہے) ، اور انہیں محمد خان کے زیر اثر علاقوں میں سفر سے بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ نواب صاحب اور محمد خان دونوں کے پاس اس دور کے کئی حساس راز موجود تھے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔
ان حالات میں نئے گورنر جنرل محمد موسیٰ کو ذمہ داریاں سونپی گئیں، اورانہیں نواب آف کالا باغ اور محمد خان ڈاکو کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا گیا۔
آخرکار، 26 نومبر 1967 کو ایک چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ نواب آف کالا باغ، جو کبھی مغربی پاکستان کے طاقتور ترین شخص سمجھے جاتے تھے، اپنے ہی بیٹوں کے ہاتھوں اپنے گھر میں بے بسی سے قتل کر دیے گئے۔ یوں ایک طاقتور باب اپنے انجام کو پہنچا۔
اور اب…
کہانی کا رخ ایک بار پھر بدلنے والا تھا۔
اگلا نمبر محمد خان ڈاکو کا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخری باب
نواب آف کالا باغ کے زوال کے بعد حالات نے اچانک پلٹا کھایا۔
کل تک جو پولیس افسر محمد خان ڈاکو کے قصے سناتے تھے، اب اسی کی تلاش میں سرگرداں تھے۔
ایوب خان نے واضح حکم دے دیا تھا کہ محمد خان کو ہر صورت گرفتار کیا جائے۔
یوں ایک ایسا تعاقب شروع ہوا جس کا چرچا ملکی ہی نہیں بلکہ غیر ملکی میڈیا تک جا پہنچا۔
تقریباً گیارہ ماہ تک پولیس اور محمد خان کے درمیان مختلف مقامات پر مقابلے ہوتے رہے، مگر ہر بار وہ “چھلاوے” کی طرح غائب ہو جاتا۔ اب وہ بھیس بدلنے، راستے بدلنے اور پہاڑوں میں گم ہو جانے کا ماہر ہو چکا تھا۔
نئے گورنر جنرل محمد موسیٰ کے حکم پر آئی جی صلاح الدین قریشی نے اس آپریشن کی کمان خود سنبھالی۔ راولپنڈی، سرگودھا، کیمبل پور اور میانوالی اضلاع کی پولیس کو اکٹھا کیا گیا۔ کیمبل پور کے فتح جنگ میں عارضی ہیڈکوارٹر قائم ہوا اور علاقے کا چپہ چپہ چھان مارا گیا۔
چھ ہفتے گزر گئے مگر کچھ ہاتھ نہ آیا۔
آخرکار جھنگ کے مشہور کھوجی جیلانی اور فوج کے تربیت یافتہ سراغ رساں کتے (فوج کے ‏‏ڈاگ ٹریننگ سنٹر کے سب سے مشاق ’بیزل’ نامی کتے) کو بھی اس مہم میں شامل کیا گیا۔
چار اضلاع کی پولیس دن رات ایک کیے ہوئے تھی مگر وہ محمد خان کے سائے تک بھی نہ پہنچ سکی۔ اسی دوران محمد خان نے ایک حیران کن قدم اٹھایا۔
27 جولائی 1967 کو خوشاب کے علاقے سودھی کے ایک پوسٹ آفس میں جا کر اس نے صدر ایوب خان اور پیر آف مکھڈ شریف کو تار بھجوایا:
“پولیس مجھے گرفتار نہیں کر سکی لیکن میں ہتھیار ڈالنے کو تیار ہوں، مگر شرط یہ ہے کہ صدر اپنی تقریر میں اس کا اعلان کریں۔”
یہ پیغام اس کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔
پوسٹ آفس کے ریکارڈ سے پولیس کو اس کے علاقے کا سراغ مل گیا۔ اگلے ہی دن تعاقب تیز ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے 24 گھنٹوں میں 70 میل سے زیادہ پیدل سفر کیا، پہاڑوں اور گھاٹیوں میں چھپتا رہا، حتیٰ کہ ایک موقع پر پولیس کی وردی پہن کر محاصرہ بھی توڑ نکلا۔
مگر قسمت اب اس کا ساتھ چھوڑ رہی تھی۔
ککراں والی چوٹی پر اس نے جو وردی اتاری، وہی اس کی پہچان بن گئی۔ سراغ رساں کتے نے بو سونگھی اور پولیس کو دندا شاہ بلاول کے قریب ڈھوک بشیر تک لے آیا۔
یکم اگست 1967 کو محمد خان پولیس کے گھیرے میں آ گیا۔
اس نے مزاحمت کی، فائرنگ کی، دستی بم پھینکے،پولیس اہلکار زخمی ہوئے،مگر جوابی فائرنگ میں وہ خود بھی زخمی ہو گیا۔
اسی حالت میں اسے قابو کر لیا گیا۔ ایس پی عبداللہ اسے مارنا چاہتا تھا مگر انسپکٹر اکبر شاہ نےاس وقت اپنی جان پر کھیل کراس کی جان بچا لی اور اس کے Encounter سے انکار کردیا۔
یوں ایک طویل داستان کا سب سے بڑا موڑ آ گیا۔
گرفتاری کے بعد اسے سخت سکیورٹی میں سی ایم ایچ منتقل کیا گیا۔ اس پر چالیس سے زائد قتل کے الزامات تھے اور اس کی گرفتاری پر پر دو مربع زمین اور 34 ہزار روپے نقد انعام مقرر تھا۔ بعد ازاں اسے لاہور کے شاہی قلعہ منتقل کر کے خصوصی ٹربیونل کے سامنے پیش کیا گیا جہاں اسے چھ بار سزائے موت اور 148 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
مگر کہانی یہاں بھی ختم نہ ہوئی۔
8 جنوری 1976 کو اس کی پھانسی کے تمام انتظامات مکمل ہو چکے تھے،
آخری ملاقاتیں بھی ہو چکی تھیں،
مگر عین وقت پر عدالت نے سزا پر عملدرآمد روک دیا اوراس کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی گئی۔
اور اس کے پیچھے کیمبل پور کی ایک اہم شخصیت پیر آف مکھڈ شریف کا کردار بھی تھا جن کے اعلی حلقوں میں گہرے روابط تھے۔
وقت گزرتا گیا…
حکومتیں بدلیں…
اور آخرکار 1989 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے اس آرڈیننس کے تحت، جس میں 60 سال سے زائد عمر کے عمر قید قیدیوں کو رہائی دی گئی، محمد خان کو بھی آزادی مل گئی۔ (کہا جاتا ہے کہ یہ آرڈیننس خاص طور پر محمد خان جیسے قیدیوں کے لیے لایا گیا تھا)۔
جیل سے نکلنے کے بعد اس نے سیاست کا رخ کیا اور 1993 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے ممتاز ٹمن کی جیت میں ان کا کردار سب سے نمایاں تھا۔
مقامی سیاست میں اس کا اثر برقرار رہا، حتیٰ کہ اس کے خاندان نے بھی سیاست میں قدم رکھا۔
یہی محمد خان…
جو کبھی پہاڑوں کا “چھلاوا” تھا…
آخرکار پیر آف مکھڈ شریف کی وساطت سے حکومت کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت ایک عام انسان کی طرح زندگی گزارنے لگا اور مرتے دم تک اپنی زبان بند رکھی۔
29 ستمبر 1995 کو کَیمْبَل پُور کا رابِن ہُڈ طبعی موت مر گیا۔
اور یوں ایک داستان
جوخوف، طاقت، بغاوت اور وقت کے کھیل سے بنی تھی ،خاموشی سے ختم ہو گئی۔
ختم شُد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گزارشات:
تلہ گنگ بطور تحصیل 1904 سے1985 تک (81 سال) کیمبل پور کا حصہ رہا۔ پھر1985 میں جب چکوال ضلع بنایا گیا تو تلہ گنگ کو اس میں شامل کر دیا گیا،
اور یہ تقریباً37 سال تک چکوال کا حصہ رہا۔ بالآخر2022 میں تلہ گنگ کو باقاعدہ ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔

01/03/2026

اسلام آباد میں بھی مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں، لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر دھرنا

01/03/2026
Want your business to be the top-listed Government Service?

Website