05/05/2026
*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
•┈•❀❁❀•┈•
*17 ذیعقد الحرام 1447 ھِجْرِیْ*
*5 مئی 2026 عِیسَـوی منگل*
•┈•❀❁❀•┈•
*أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 111-12-13-14-115*
*وَعَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَىِّ الْقَيُّوْمِ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَـمَلَ ظُلْمًا (111)*
*وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَّلَا هَضْمًا (112)*
*وَكَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّصَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ لَعَلَّهُـمْ يَتَّقُوْنَ اَوْ يُحْدِثُ لَـهُـمْ ذِكْرًا (113)*
*فَـتَعَالَى اللّـٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۗ وَلَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٝ ۖ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِىْ عِلْمًا (114)*
*وَلَقَدْ عَهِدْنَـآ اِلٰٓى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَـنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَـهٝ عَزْمًا (115)*
*📜ترجمہ:*
*لوگوں کے سر اس حی و قیوم کے آگے جھک جائیں گے ۔ نامراد ہوگا جو اس وقت کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے ہو ۔*
*اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو ۔ 87*
*اور اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ، اسی طرح ہم نے اسے قرآن عربی بنا کر نازل کیا ہے 88 اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اس کی بدولت پیدا ہوں ۔ 89*
*پس بالا و برتر ہے اللہ ، بادشاہ حقیقی ۔ 90 اور دیکھو ، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے ، اور دعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر ۔ 91*
*92 ہم نے اس سے پہلے آدم ( علیہ السلام ) کو ایک حکم دیا تھا ، 93 مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا ۔ 94 ؏ 6*
*📜English Translation:*
*All faces shall be humbled before the Ever-Living the Self-Subsisting Lord and he who bears the burden of iniquity will have failed;*
*but whosoever does righteous works being a believer shall have no fear of suffering wrong or loss.""*
*(O Muhammad) thus have We revealed this as an Arabic Qur''an and have expounded in it warning in diverse ways so that they may avoid evil or become heedful.*
**Exalted is Allah the True King! Hasten not with reciting the Qur''an before its revelation to you is finished and pray: ""Lord! Increase me in knowledge.""*
*Most certainly We had given Adam a command before but he forgot. We found him lacking in firmness of resolution.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*یارب العالمین؟حی و قیوم پروردگار!
جس کے سامنے تمام سر جھکے ہوئے ہیں، ہمیں ان لوگوں میں شامل فرما جن کے نامہ اعمال ظلم کے بوجھ سے پاک ہیں۔ ہمیں سچا مومن بنا اور نیک اعمال کی توفیق عطا کر تاکہ ہم قیامت کے دن ہر قسم کی حق تلفی اور خوف سے محفوظ رہیں۔اے بادشاہِ حقیقی! قرآنِ کریم کی نصیحتوں سے فائدہ اٹھانے اور کج روی سے بچنے کی ہمت دے۔ ہمارے سینوں کو ہدایت کے لیے کھول دے اور ہمارے عزم کو پختہ کر تاکہ ہم حضرت آدم علیہ السلام جیسی بھول چوک اور کمزوریِ ارادہ سے محفوظ رہ سکیں۔اے میرے رب جیسا کہ آپ نے ہمیں حکم دیا، ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں (اے ہمارے پروردگار، ہمارے علم میں اضافہ فرما) آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿 O ALLAH Almighty, Lord!
Before whom all heads shall bow in submission, include us among those whose record of deeds is free from the burden of injustice. Make us true believers and grant us the strength to perform righteous deeds, so that on the Day of Judgment, we may remain safe from any fear or violation of our rights.
O Supreme King of the Universe, the Ultimate Truth! Grant us the courage to benefit from the reminders of the Holy Qur'an and protect us from straying onto crooked paths. Open our hearts to Your guidance and strengthen our resolve, so that we may be protected from the forgetfulness and weakness of will that afflicted Adam (peace be upon him). O Our ALLAH! As You have commanded us, we supplicate to You ."Ameen.🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
* سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر87*
یعنی وہاں فیصلہ ہر انسان کے اوصاف ( Merit )* کی بنیاد پر ہو گا ۔ جو شخص کسی ظلم کا بار گناہ اٹھائے ہوئے آئے گا ، خواہ اس نے ظلم اپنے خدا کے حقوق پر کیا ہو ، یا خلق خدا کے حقوق پر ، یا خود اپنے نفس پر ، بہرحال یہ چیز اسے کامیابی کا منہ نہ دیکھنے دے گی ۔ دوسری طرف جو لوگ ایمان اور عمل صالح ( محض عمل صالح نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ عمل صالح ، اور محض ایمان بھی نہیں بلکہ عمل صالح کے ساتھ ایمان ) لیے ہوئے آئیں گے ، ان کے لیے وہاں نہ تو اس امر کا کوئی اندیشہ ہے کہ ان پر ظلم ہو گا ۔ یعنی خواہ مخواہ بے قصور ان کو سزا دی جائے گی ، اور نہ اسی امر کا کوئی خطرہ ہے کہ ان کے کیے کرائے پر پانی پھیر دیا جائے گا اور ان کے جائز حقوق مار کھائے جائیں گے *
*«سوْرَةُ طٰهٰ» حاشیہ نمبر :88*
یعنی ایسے ہی مضامین اور تعلیمات اور نصائح سے* لبریز ۔ اس کا اشارہ ان تمام مضامین کی طرف ہے جو قرآن میں بیان ہوئے ہیں ، نہ کہ محض قریبی مضمون کی طرف جو اوپر والی آیات میں بیان ہوا ہے ۔ اور اس کا سلسلہ بیان ان آیات سے ملتا جلتا ہے جو قرآن کے متعلق آغاز سورہ اور پھر قصۂ موسیٰ کے اختتام پر ارشاد فرمائی گئی ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ’’ تذکرہ ‘‘ جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ، اور وہ ’’ ذکر ‘‘ جو ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو عطا کیا ہے ، اس شان کا تذکرہ اور ذکر ہے ۔*
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :**89*
*یعنی اپنی غفلت سے چونکیں ، بھولے ہوئے سبق کو کچھ یاد کریں ، اور ان کو کچھ اس امر کا احساس ہو کہ کن راہوں میں بھٹکے چلے جا رہے ہیں اور اس گمراہی کا انجام کیا ہے ۔*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :90*
*اس طرح کے فقرے قرآن میں بالعموم ایک تقریر کو ختم کرتے ہوئے ارشاد فرمائے جاتے ہیں ، اور مقصود یہ ہوتا ہے کہ کلام کا خاتمہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا پر ہو ۔ انداز بیان اور سیاق و سباق پر غور کرنے سے صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ایک تقریر ختم ہو گئی ہے اور : «وَلَقَدْ عَھِدْنَآ اِلٰیٓ اٰدَمَ» ۔ سے دوسری تقریر شروع ہوتی ہے ۔ اغلب یہ ہے کہ یہ دونوں تقریریں مختلف اوقات میں نازل ہوئی ہوں گی اور بعد میں نبی ﷺ نے حکم الہٰی کے تحت ان کو ایک سورہ میں جمع کر دیا ہو گا ۔ جمع کرنے کی وجہ دونوں کے مضمون کی مناسبت ہے جس کو ابھی ہم واضح کریں گے ۔*
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :*91*
«فَتَعٰلَی اللہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ» ، پر تقریر ختم ہو چکی* تھی ۔ اس کے بعد رخصت ہوتے ہوئے فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نبی ﷺ کو ایک بات پر خبردار کرتا ہے جو وحی نازل کرنے کے دوران میں اس کے مشاہدے میں آئی ۔ بیچ میں ٹوکنا مناسب نہ سمجھا گیا ، اس لیے پیغام کی ترسیل مکمل کرنے کے بعد اب وہ اس کا نوٹس لے رہا ہے ۔ بات کیا تھی جس پر یہ تنبیہ کی گئی ، اسے خود تنبیہ کے الفاظ ہی ظاہر کر رہے ہیں ۔ نبی ﷺ وحی کا پیغام وصول کرنے کے دوران میں اسے یاد کرنے اور زبان سے دہرانے کی کوشش فرما رہے ہوں گے ۔ اس کوشش کی وجہ سے آپ کی توجہ بار بار بٹ جاتی ہو گی ۔ سلسلۂ اخذ وحی میں خلل واقع ہو رہا ہو گا ۔ پیغام کی سماعت پر توجہ پوری طرح مرکوز نہ ہو رہی ہو گی ۔ اس کیفیت کو دیکھ کر یہ ضرورت محسوس کی گئی کہ آپ کو پیغام وحی وصول کرنے کا صحیح طریقہ سمجھایا جائے ، اور بیچ بیچ میں یاد کرنے کی کوشش جو آپ کرتے ہیں اس سے منع کر دیا جائے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ طٰہ کا یہ حصہ ابتدائی زمانے کی وحیوں میں سے ہے ۔ ابتدائی زمانہ میں جبکہ نبی ﷺ کو ابھی اخذ وحی کی عادت اچھی طرح نہ پڑی تھی ، آپ سے کئی مرتبہ یہ فعل سرزد ہوا ہے اور ہر موقع پر کوئی نہ کوئی فقرہ اس پر آپ کو متنبہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ سورۂ قیامہ کے نزول کے موقع پر بھی یہی ہوا تھا اور اس پر سلسلۂ کلام کو توڑ کر آپ کو ٹوگا گیا کہ : «لَا تُحَرِّکْ بِہ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہ ، اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہ وَقُرْاٰنَہ ، فَاِذَا قَرَأ نٰہُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَہ ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا بَیَانَہٗ ۔» اسے یاد کرنے کی جلدی میں اپنی زبان کو بار بار حرکت نہ دو ، اسے یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے ، لہذا جب ہم اسے سنا رہے ہوں تو غور سے سنتے رہو ، پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمہ ہے ۔‘‘ سورۂ اعلیٰ میں بھی آپ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ ہم اسے پڑھوا دیں گے اور آپ بھولیں گے نہیں ، «سَنْقْرئُکَ فَلَا تَنْسٰی» ۔ بعد میں جب آپ کو پیغامات وحی وصول کرنے کی اچھی مہارت حاصل ہو گئی تو اس طرح کی کیفیات آپ پر طاری ہونی بند ہو گئیں ۔ اسی وجہ سے بعد کی سورتوں میں ایسی کوئی تنبیہ ہمیں نہیں ملتی ۔*
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :*92*
جیسا کہ ابھی بتایا جا چکا ہے ، یہاں سے ایک الگ تقریر شروع ہوتی ہے جو اغلباً اوپر والی تقریر کے بعد کسی وقت نازل ہوئی ہے اور مضمون کی مناسبت سے اس کے ساتھ ملا کر ایک ہی سورہ میں جمع کر دی گئی ہے ۔ مضمون کی مناسبتیں متعدد ہیں ۔ مثلاً یہ کہ :
1 ) وہ بھولا ہوا سبق جسے قرآن یاد دلا رہا ہے وہی سبق ہے جو نوع انسانی کو اس کی پیدائش کے آغاز میں دیا گیا تھا اور جسے یاد دلاتے رہنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا تھا ، اور جسے یاد دلانے کے لیے قرآن سے پہلے بھی بار بار ’’ ذکر ‘‘ آتے رہے ہیں ۔
2 ) انسان اس سبق کو بار بار شیطان کے بہکانے سے بھولتا ہے ، اور یہ کمزوری وہ آغاز آفرینش سے برابر دکھا رہا ہے ۔ سب سے پہلی بھول اس کے اولین ماں باپ کو لاحق ہوئی تھی اور اس کے بعد سے اس کا سلسلہ برابر جاری ہے ، اسی لیے انسان اس کا محتاج ہے کہ اس کو پیہم یاد دہانی کرائی جاتی رہے ۔
3 یہ بات کہ انسان کی سعادت و شقاوت کا انحصار بالکل اس برتاؤ پر ہے جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اس ’’ ذکر ‘‘ کے ساتھ وہ کرے گا ، آغاز آفرینش ہی میں صاف صاف بتا دی گئی تھی آج یہ کوئی نئی بات نہیں کہی جا رہی ہے کہ اس کی پیروی کرو گے تو گمراہی و بدبختی سے محفوظ رہو گے ورنہ دنیا و آخرت دونوں میں مبتلائے مصیبت ہو گے ۔
4 ) ایک چیز ہے بھول اور عزم کی کمی اور ارادے کی کمزوری جس کی وجہ سے انسان اپنے ازلی دشمن ، شیطان کے بہکائے میں آ جائے اور غلطی کر بیٹھے ۔ اس کی معافی ہو سکتی ہے بشرطیکہ انسان غلطی کا احساس ہوتے ہی اپنے رویے کی اصلاح کر لے اور انحراف چھوڑ کر اطاعت کی طرف پلٹ آئے ۔ دوسری چیز ہے وہ سرکشی اور سرتابی اور خوب سوچ سمجھ کر اللہ کے مقابلے میں شیطان کی بندگی جس کا ارتکاب فرعون اور سامری نے کیا ۔ اس چیز کے لیے معافی کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ اس کا انجام وہی ہے جو فرعون اور سامری نے دیکھا اور یہ انجام ہر وہ شخص دیکھے گا جو اس روش پر چلے گا*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :93*
*آدم علیہ السلام کا قصہ اس سے پہلے سورہ بقرہ ، سورہ اعراف ( دو مقامات پر ) ، سورہ حجر ، سورہ بنی اسرائیل اور سورہ کہف میں گزر چکا ہے ۔ یہ ساتواں موقع ہے جبکہ اسے دہرایا جا رہا ہے ۔ ہر جگہ سلسلہ بیان سے اس کی مناسبت الگ ہے اور ہر جگہ اسی مناسبت کے لحاظ سے قصے کی تفصیلات مختلف طریقے سے بیان کی گئی ہیں ۔ قصے کے جو اجزاء ایک جگہ کے موضوع بحث سے مناسبت رکھتے ہیں وہ اسی جگہ بیان ہوئے ہیں ، دوسری جگہ وہ نہ ملیں گے ، یا طرز بیان ذرا مختلف ہو گا ۔ پورے قصے کو اور اس کی پوری معنویت کو سمجھنے کے لیے ان تمام مقامات پر نگاہ ڈال لینی چاہیے ۔ ہم نے ہر جگہ اس کے ربط و تعلق اور اس سے نکلنے والے نتائج کو اپنے حواشی میں بیان کر دیا ہے *
سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر:*94*
یعنی اس نے بعد میں اس حکم کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ استکبار اور قصدی و ارادی سرکشی کی بنا پر نہ تھا بلکہ غفلت اور بھول میں پڑ جانے اور عزم و ارادے کی کمزوری میں مبتلا ہونے کی وجہ سے تھا ۔ اس نے حکم کی خلاف ورزی کچھ اس خیال اور نیت کے ساتھ نہیں کی تھی کہ میں خدا کی کیا پروا کرتا ہوں ، اس کا حکم ہے تو ہوا کرے ، جو کچھ میرا جی چاہے گا کروں گا ، خدا کون ہوتا ہے کہ میرے معاملات میں دخل دے ۔ اس کے بجائے اس کی نافرمانی کا سبب یہ تھا کہ اس نے ہمارا حکم یاد رکھنے کی کوشش نہ کی ، بھول گیا کہ ہم نے اسے کیا سمجھایا تھا ، اور اس کے ارادے میں اتنی مضبوطی نہ تھی کہ جب شیطان اسے بہکانے آیا اس وقت وہ ہماری پیشگی تنبیہ اور نصیحت و فہمائش کو ( جس کا ذکر ابھی آگے آتا ہے ) یاد کرتا اور اس کے دیے ہوئے لالچ کا سختی کے ساتھ مقابلہ کرتا ۔
بعض لوگوں نے ’’ اس میں عزم نہ پایا ‘‘ کا مطلب یہ لیا ہے کہ ’’ ہم نے اس میں نافرمانی کا عزم نہ پایا ‘‘ ، یعنی اس نے جو کچھ کیا بھولے سے کیا ، نافرمانی کے عزم کی بنا پر نہیں کیا ۔ لیکن یہ خواہ مخواہ کا تکلف ہے ۔ یہ بات اگر کہنی ہوتی تو «لَمْ نَجِدْ لَہ عَزْماً عَلَ الْعِصْیَانِ» کہا جاتا نہ کہ محض : «لَمْ نَجِدْلَہ عَزْماً ۔» آیت کے الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ فقدان عزم سے مراد اطاعت حکم کے عزم کا فقدان ہے ، نہ کہ نافرمانی کے عزم کا فقدان ۔ علاوہ بریں اگر موقع و محل اور سیاق و سباق کی مناسبت کو دیکھا جائے تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کی پوزیشن صاف کرنے کے لیے یہ قصہ بیان نہیں کر رہا ہے ، بلکہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ بشری کمزوری کیا تھی جس کا صدور ان سے ہوا اور جس کی بدولت صرف وہی نہیں بلکہ ان کی اولاد بھی اللہ تعالیٰ کی پیشگی تنبیہات کے باوجود اپنے دشمن کے پھندے میں پھنسی اور پھنستی رہی ہے ۔ مزید براں ، جو شخص بھی خالی الذہن ہو کر اس آیت کو پڑھے گا اس کے ذہن میں پہلا مفہوم یہی آئے گا کہ ’’ ہم نے اس میں اطاعت امر کا عزم ، یا مضبوط ارادہ نہ پایا ‘‘۔ دوسرا مفہوم اس کے ذہن میں اس وقت تک نہیں آ سکتا جب تک وہ آدم علیہ السلام کی طرف معصیت کی نسبت کو نامناسب سمجھ کر آیت کے کسی اور معنی کی تلاش شروع نہ کر دے ۔ یہی رائے علامہ آلوسی نے بھی اس موقع پر اپنی تفسیر میں ظاہر فرمائی ہے ۔ وہ کہتے ہیں : «لکن لا یخفٰی علیک ان ھٰذا التفسیر غیر متبادرٍ ولا کثیر المناسبۃ للمقامِ » ’’ مگر تم سے یہ بات پوشیدہ نہ ہو گی کہ یہ تفسیر آیت کے الفاظ سن کر فوراً ذہن میں نہیں آتی اور نہ موقع و محل کے ساتھ کچھ زیادہ مناسبت رکھتی ہے ‘‘۔ ( ملاحظہ ہو روح المعانی ۔ جلد 16 ۔ صفحہ 243 ) ۔*
•┈•❀❁❀•┈•
🌈فی ظلال القرآن🌈
*وعنت الوجوہ للحی القیوم (٠٢ : ١١١) لوگوں کے سر اس حی و قویم کے آگے جھک جائیں گے۔ جلال خداوندی کا خوف لوگوں پر چھایا ہوا ہوگا۔ یہ میدان جو حد نظر سے آگے پھیلا ہوا ہوگا اس پر خوف ، خاموشی چھائی ہوئی ہوگی اور لوگ اس میں سہمے کھڑے ہوں ے۔ بات دھیمی ہوگی ، سوال سرگوشی میں ، حالت سہمی ہوئی ، چہرے جھکے ہوئے اور ال لہ ذوالجلال کا ڈرا ماحول پر چھایا ہوا ہوگا۔ کوئی اس میدان میں سفارش نہ کرسکے گا مگر وہ جس کی بات اللہ کو پسند ہو۔ علم سب کا سب اللہ کو ہوگا ، کوئی دوسرا جانتا نہیں ، ظالم اپنے ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو شرمساری سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان لوگوں میں اہل ایمان بھی کھڑے ہوں گے۔ ان کو نہ یہ خوف ہوگا کہ ان پر حساب و کتاب میں ظلم ہوگا اور نہ یہ ڈر ہوگا کہ ان کے اعمال*
•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
•┈•❀❁❀•┈•
05/05/2026
*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
•┈•❀❁❀•┈•
*16 ذیعقد الحرام 1447 ھِجْرِیْ*
*4 مئی 2026 عِیسَـوی بدھ*
•┈•❀❁❀•┈•
*أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت106-107-108-109-110*
*فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا (106)*
*لَّا تَـرٰى فِيْـهَا عِوَجًا وَّلَآ اَمْتًا (107)*
*يَوْمَئِذٍ يَّتَّبِعُوْنَ الـدَّاعِىَ لَا عِوَجَ لَـهٝ ۖ وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْـمٰنِ فَلَا تَسْـمَعُ اِلَّا هَمْسًا (108)*
*يَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَـهُ الرَّحْـمٰنُ وَرَضِىَ لَـهٝ قَوْلًا (109)*
*يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْـهِـمْ وَمَا خَلْفَهُـمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا (110)*
*📜ترجمہ:*
*اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا*
*کہ اس میں تم کوئی بل اور سلوٹ نہ دیکھو گے 83 ۔ ۔ ۔ ۔*
*اس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے ، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا ۔ اور آوازیں رحمان کے آگے دب جائیں گی ، ایک سرسراہٹ 84 کے سوا تم کچھ نہ سنو گے ۔*
*اس روز شفاعت کارگر نہ ہوگی الا یہ کہ کسی کو رحمان اس کی اجازت دے اور اس کی بات سننا پسند کرے 85 ۔ ۔ ۔ ۔*
*وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دوسروں کو اس کا پورا علم نہیں ہے 86 ۔ ۔ ۔ ۔*
*📜English Translation:*
*and leave the earth a levelled plain*
*in which you shall find no crookedness or curvature.*
*On that Day people shall follow straight on to the call of the summoner no one daring to show any haughtiness. Their voices shall be hushed before the Most Compassionate Lord so that you will hear nothing but a whispering murmur.*
*On that Day intercession shall not avail save of him whom the Most Compassionate Lord permits and whose word of intercession is pleasing to Him.*
*He knows all that is ahead of them and all that is behind them while the others do not know.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، اے اللہ! جس دن زمین ہموار کر دی جائے گی اور آوازیں تیرے جلال کے سامنے دب جائیں گی، اس دن مجھے اپنے رحمان ہونے کے صدقے پناہ عطا فرمانا۔”اے کُل جہان کے مالک! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جن کے لیے نبی کریم ﷺ کی شفاعت مقدر ہو اور جن سے تو راضی ہو جائے۔ میرے اگلے پچھلے تمام گناہوں کو معاف کر دے، کیونکہ تو میرا سب حال جانتا ہے اور میں تیرے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ مجھے اس دن کی رسوائی سے بچا لینا جب تیرے سوا کوئی سہارا نہ ہوگا۔آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH! On the Day when the earth will be leveled into a barren plain and all voices will be hushed in awe before Your Majesty, grant me Your protection by the virtue of Your Mercy (Ar-Rahman)."O Lord of all the worlds! Include me among those for whom the intercession (shafa'at) of the Prophet (PBUH) is destined and with whom You are well-pleased. Forgive all my past and future sins, for You know all that is before me and all that is behind me, while I cannot encompass Your infinite knowledge. Save me from humiliation on that Day when there will be no refuge but with You."Ameen.🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :83*
*عالم آخرت میں زمین کی جو نئی شکل بنے گی اسے قرآن مجید میں مختلف مواقع پر بیان کیا گیا ہے ۔ سورۂ انشقاق میں فرمایا : «اِذَا لْاَرْضُ مُدَّتْ» ۔ زمین پھیلا دی جائے گی ‘‘۔ سورۂ انفطار میں فرمایا : «اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ» ، سمندر پھاڑ دیے جائیں گے ،‘‘ جس کا مطلب غالباً یہ ہے کہ سمندروں کی تہیں پھٹ جائیں گی اور سارا پانی زمین کے اندر اتر جائے گا سورۂ تکویر میں فرمایا : «اِذا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ» ،’’ سمندر بھر دیے جائیں گے یا پاٹ دیے جائیں گے ‘‘۔ اور یہاں بتایا جا رہا ہے کہ پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کر کے ساری زمین ایک ہموار میدان کی طرح کر دی جائے گی ۔ اس سے جو شکل ذہن میں بنتی ہے وہ یہ ہے کہ عالم آخرت میں یہ پورا کرۂ زمین سمندروں کو پاٹ کر ، پہاڑوں کو توڑ کر ، نشیب و فراز کو ہموار اور جنگلوں کو صاف کر کے بالکل ایک گیند کی طرح بنا دیا جائے گا ۔ یہی وہ شکل ہے جس کے متعلق سورۂ ابراہیم آیت 48 میں فرمایا : «یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ» ۔ وہ دن جبکہ زمین بدل کر کچھ سے کچھ کر دی جائے گی ۔‘‘ اور یہی زمین کی وہ شکل ہو گی جس پر حشر قائم ہو گا اور اللہ تعالیٰ عدالت فرمائے گا ۔ پھر اس کی آخری اور دائمی شکل وہ بنا دی جائے گی جس کو سورۂ زُمر آیت 74 میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : «وَقَالُوا لْحَمْدُ لِلِہ الَّذِیْ صَدَقَٓنَا وَعْدَہ وَ اَوْرَثَنا الْاَرْضَ تَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِحَیْثُ نَشَآءُ ، فَنِعَمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ» یعنی متقی لوگ ’’ کہیں گے کہ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہم سے اپنے وعدے پورے کیے اور ہم کو زمین کا وارث بنا دیا ، ہم اس جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں ۔ پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے ۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ آخرکار یہ پورا کرہ ۔ جنت بنا دیا جائے گا اور خدا کے صالح و متقی بندے اس کے وارث ہوں گے ۔ اس وقت پوری زمین ایک ملک ہو گی ۔ پہاڑ ، سمندر ، دریا ، صحرا ، جو آج زمین کو بے شمار ملکوں اور وطنوں میں تقسیم کر رہے ہیں ، اور ساتھ ساتھ انسانیت کو بھی بانٹے دے رہے ہیں ، سرے سے موجود ہی نہ ہوں گے ۔ ( واضح رہے کہ صحابہ و تابعین میں سے ابن عباس ؓ اور قتادہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ جنت اسی زمین پر ہو گی ، اور سورہ نجم کی آیت «عِنْد سِدْرَۃِ الْمُنْتَھٰی ہ عِنْدَھَا جَنَّۃُ الْمأویٰ» ، کی تاویل وہ یہ کرتے ہیں کہ اس سے مراد وہ جنت ہے جس میں اب شہداء کی ارواح رکھی جاتی ہیں )*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :84*
*اصل میں لفظ ’’ «ہَمْس» ‘‘ استعمال ہوا ہے ، جو قدموں کی آہٹ ، چپکے چپکے بولنے کی آواز ، اونٹ کے چلنے کی آواز اور ایسی ہی ہلکی آوازوں کے لیے بولا جاتا ہے ۔ مراد یہ ہے کہ وہاں کوئی آواز ، بجز چلنے والوں کے قدموں کی آہٹ اور چپکے چپکے بات کرنے والوں کی کھسر پسر کے نہیں سنی جائے گی ۔ ایک پر ہیبت سماں بندھا ہوا ہو گا *
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :85*
اس آیت کے دو ترجمے ہو سکتے ہیں ۔ ایک وہ جو متن میں* کیا گیا ہے ۔ دوسرا یہ کہ ’’ اس روز شفاعت کارگر نہ ہو گی الا یہ کہ کسی کے حق میں رحمان اس کی اجازت دے اور اس کے لیے بات سننے پر راضی ہو ۔‘‘ الفاظ ایسے جامع ہیں جو دونوں مفہوموں پر حاوی ہیں ۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ قیامت کے روز کسی کو دم مارنے تک کی جرأت نہ ہو گی کجا کہ کوئی سفارش کے لیے بطور خود زبان کھول سکے ۔ سفارش وہی کر سکے گا جسے اللہ تعالیٰ بولنے کی اجازت دے ، اور اسی کے حق میں کر سکے گا جس کے لیے بارگاہ الہٰی سے سفارش کرنے کی اجازت مل جائے ۔ یہ دونوں باتیں قرآن میں متعدد مقامات پر کھول کر بتا دی گئی ہیں ۔ ایک طرف فرمایا : «مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہ اِلَّا بِاِذْنِہ» ، ’’ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور سفارش کر سکے ‘‘ ( بقرہ ۔ آیت 255 ) ۔ اور : «یَوْمَ یَقُوْمُ الرَّوْحُ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ صَفًّا ، لَّا یَتَکَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَاباً » ، وہ دن جبکہ روح اور ملائکہ سب صف بستہ کھڑے ہوں گے ، ذرا بات نہ کریں گے ، صرف وہی بول سکے گا جسے رحمان اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے ( النبا ۔ آیت 38 ) ۔ دوسری طرف ارشاد ہوا : «وَلَا یَشْفَعُوْنَاِ الَّا لِمَنِ ارْتَضٰی وَھُمْ مِّنْ خَشْیَتِہ مُشْفِقُوْنَ» ، ’’ اور وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس شخص کے جس کے حق میں سفارش سننے پر ( رحمان ) راضی ہو ، اور وہ اس کے خوف سے ڈرے ڈرے رہتے ہیں ‘‘ ( الانبیاء ۔ آیت 28 ) ۔ اور : «کَمْ مِّنْ مَّلَکٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُھُمْ شَیْئًا اِلَّا مِنْ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللہُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَرْضٰی» ، ’’ کتنے ہی فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتی بجز اس صورت کے کہ اللہ سے اجازت لینے کے بعد کی جائے اور ایسے شخص کے حق میں کی جائے جس کے لیے وہ سفارش سننا چاہے اور پسند کرے ‘‘ ( النجم ، آیت 26 )*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :86*
*یہاں وجہ بتائی گئی ہے کہ شفاعت پر یہ پابندی کیوں ہے فرشتے ہوں یا انبیاء یا اولیاء ، کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے اور نہیں ہو سکتا کہ کس کا ریکارڈ کیسا ہے ، کون دنیا میں کیا کرتا رہا ہے ، اور اللہ کی عدالت میں کس سیرت و کردار اور کیسی کیسی ذمہ داریوں کے بار لے کر آیا ہے ۔ اس کے برعکس اللہ کو ہر ایک کے پچھلے کارناموں اور کرتوتوں کا بھی علم ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اب اس کا موقف کیا ہے ۔ نیک ہے تو کیسا نیک ہے اور مجرم ہے تو کس درجے کا مجرم ہے ۔ معافی کے قابل ہے یا نہیں ۔ پوری سزا کا مستحق ہے یا تخفیف اور رعایت بھی اس کے ساتھ کی جا سکتی ہے ۔ ایسی حالت میں یہ کیونکر صحیح ہو سکتا ہے کہ ملائکہ اور انبیاء اور صلحاء کو سفارش کی کھلی چھٹی دے دی جائے اور ہر ایک جس کے حق میں جو سفارش چاہے کر دے ۔ ایک معمولی افسر اپنے ذرا سے محکمے میں اگر اپنے ہر دوست یا عزیز کی سفارشیں سننے لگے تو چار دن میں سارے محکمے کا ستیاناس کر کے رکھ دے گا ۔ پھر بھلا زمین و آسمان کے فرمانروا سے یہ کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ اس کے ہاں سفارشوں کا بازار گرم ہو گا ، اور ہر بزرگ جا جا کر جس کو چاہیں گے بخشوا لائیں گے ، درآنحالیکہ ان میں سے کسی بزرگ کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ جن لوگوں کی سفارش وہ کر رہے ہیں ان کے نامۂ اعمال کیسے ہیں ۔ دنیا میں جو افسر کچھ بھی احساس ذمہ داری رکھتا ہے اس کی روش یہ ہوتی ہے کہ اگر اس کا کوئی دوست اس کے کسی قصور وار ماتحت کی سفارش لے کر جاتا ہے تو وہ اس سے کہتا ہے کہ آپ کو خبر نہیں ہے کہ یہ شخص کتنا کام چور ، نافرض شناس ، رشوت خوار اور خلق خدا کو تنگ کرنے والا ہے ، میں اس کے کرتوتوں سے واقف ہوں ، اس لیے آپ براہ کرم مجھ سے اس کی سفارش نہ فرمائیں ۔ اسی چھوٹی سی مثال پر قیاس کر کے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اس آیت میں شفاعت کے متعلق جو قاعدہ بیان کیا گیا ہے وہ کس قدر صحیح ، معقول اور مبنی بر انصاف ہے ۔ خدا کے ہاں شفاعت کا دروازہ بند نہ ہو گا ۔ نیک بندے ، جو دنیا میں خلق خدا کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ کرنے کے عادی تھے ، انہیں آخرت میں بھی ہمدردی کا حق ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا ۔ لیکن وہ سفارش کرنے سے پہلے اجازت طلب کریں گے ، اور جس کے حق میں اللہ تعالیٰ انہیں بولنے کی اجازت دے گا صرف اسی کے حق میں وہ سفارش کر سکیں گے ۔ پھر سفارش کے لیے بھی شرط یہ ہو گی کہ وہ مناسب اور مبنی برحق ہو ، جیسا کہ : «وَقَالَ صَوَاباً» ( اور بات ٹھیک کہے ) کا ارشاد ربانی صاف بتا رہا ہے ۔ بونگی سفارشیں کرنے کی وہاں اجازت نہ ہو گی کہ ایک شخص دنیا میں سینکڑوں ، ہزاروں بندگان خدا کے حقوق مار آیا ہو اور کوئی بزرگ اٹھ کر سفارش کر دیں کہ حضور اسے انعام سے سرفراز فرمائیں یہ میرا خاص آدمی ہے ۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غبار بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔ یتبعون الداعی (٠٢ : ٨٠١) منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ یعنی جس طرح زمین ہموار ہوگی اس طرح ان کے دل بھی ہموار ہوں گے ، فوراً حکم کی تعمیل کریں گے۔ اس فضا میں پوری طرح خاموشی ہوگی ، نہایت ہی خوفناک خاموشی وخشعت الاصوات للرحمٰن فلا تسمع الاھمسا (٠٢ : ٨٠١) اور آوازیں رحمن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔*
*یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔ یتبعون الداعی (٠٢ : ٨٠١) منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ یعنی جس طرح زمین ہموار ہوگی اس طرح ان کے دل بھی ہموار ہوں گے ، فوراً حکم کی تعمیل کریں گے۔ اس فضا میں پوری طرح خاموشی ہوگی ، نہایت ہی خوفناک خاموشی وخشعت الاصوات للرحمٰن فلا تسمع الاھمسا (٠٢ : ٨٠١) اور آوازیں رحمن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔*
•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
•┈•❀❁❀•┈•
28/04/2026
*🌷السَّـلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُاللهِ وَبَرَكاتُهُ🌷*
*🌷صبــــــح شــــــام بخیــــــرزندگى🌷*
•┈•❀❁❀•┈•
*11 ذیعقد الحرام 1447 ھِجْرِیْ*
*29 اپریل 2026 عِیسَـوی بدھ*
•┈•❀❁❀•┈•
*أَعوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجيم*
*بِسْـــــــــمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ*
•┈•❀❁❀•┈•
*میں پناہ میں آتا ہوں اللہﷻ کی شیطان مردود کے شر سے بچنے کیلئے۔*
*اللہﷻ کے نام سے شروع جو سب سے زیادہ مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم🌹*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌸اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا صَلَّــيْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلىٰ مُـحَمَّدٍ وَّ عَليٰٓ اٰلِ مُـحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَليٰٓ اِبْـرَاهِيْمَ وَ عَليٰٓ اٰلِ اِبْـرَاهِيْمَ اِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّـجِيْدٌ*
*صلی اللّٰه علیه وآلهٖ واصحابه وسلم🌸*
•┈•❀❁❀•┈
*🌹سورة طٰهٰ آیت 97-98-99-100*
*قَالَ فَاذْهَبْ فَاِنَّ لَكَ فِى الْحَيَاةِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَ ۖ وَاِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهٝ ۖ وَانْظُرْ اِلٰٓى اِلٰـهِكَ الَّـذِىْ ظَلْتَ عَلَيْهِ عَاكِفًا ۖ لَّنُحَرِّقَنَّهٝ ثُـمَّ لَنَنْسِفَنَّهٝ فِى الْيَـمِّ نَسْفًا (97)*
*اِنَّمَآ اِلٰـهُكُمُ اللّـٰهُ الَّـذِىْ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا هُوَ ۚ وَسِعَ كُلَّ شَىْءٍ عِلْمًا (98)*
*كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ اٰتَيْنَاكَ مِنْ لَّـدُنَّا ذِكْرًا (99)*
*مَّنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٝ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وِزْرًا (100)*
*📜ترجمہ:*
*موسی ( علیہ السلام ) نے کہا ” اچھا تو جا ، اب زندگی بھر تجھے یہی پکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھونا ۔ 74 اور تیرے لیے باز پرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہرگز نہ ٹلے گا ۔ اور دیکھ اپنے اس خدا کو جس پر تو ریجھا ہوا تھا، اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے ۔*
*لوگو ، تمہارا خدا تو بس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ، ہر چیز پر اس کا علم حاوی ہے ۔ ”*
*اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ، 75 اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سناتے ہیں ، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک " ذکر " ( درس نصیحت ) عطا کیا ہے ۔ 76*
*جو کوئی اس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے روز سخت بار گناہ اٹھائے گا*
*📜English Translation:*
*Moses said: ""Be gone then. All your life you shall cry:''Untouchable.'' There awaits a term for your reckoning that you cannot fail to keep. Now look at your god that you devotedly adored: We shall burn it and scatter its remains in the sea.*
*Your God is none else than Allah beside Whom there is no god. His knowledge embraces everything.""*
*(O Muhammad) thus do We recount to you the events of the past and We have bestowed upon you from Ourself an admonition.*
*He who turns away from it will surely bear a heavy burden on the Day of Resurrection.*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏼دعاء🤲🏼🌹*
*🤲🏿 یارب العالمین، ہمارے پروردگار! ہمیں اس دور کے سامری جیسے فتنوں اور گمراہیوں سے محفوظ فرما اور ہمیں شرک کی ہر صورت سے بچا کر صرف اپنی توحید پر قائم رکھ۔ بلاشبہ تیرا ہی علم ہر چیز پر حاوی ہے۔اے اللہ! ہمیں اپنے عطا کردہ "ذکر" (قرآنِ مجید) کی قدر کرنے والا بنا اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنےوالا بنا، ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کر جو اس سے منہ موڑ کر قیامت کے دن گناہوں کا بوجھ اٹھانے والے ہوں گے۔ ہمیں اپنی نصیحت و احکام پر عمل کرنے والا بنا اور اپنی رضا پانے کی توفیق عطا فرما۔آمِیْن یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🌹🤲🏻Prayer🤲🏼🌹*
*🤲🏿O Almighty ALLAH,”our Sustainer! Protect us from the fitnah and misguidance of this era, similar to that of the Samiri. Save us from every form of shirk and keep us steadfast upon Your Oneness (Tawheed). Truly, Your knowledge encompasses all things. O ALLAH! Make us among those who cherish the 'Dhikr' (the Holy Qur'an) which You have bestowed. Grant us the ability to understand it and act upon it. Do not include us among those who turn away from it and will bear a heavy burden of sin on the Day of Resurrection. Make us followers of Your counsel and commandments, and grant us the success to attain Your pleasure."Ameen.🤲🏿*
•┈•❀❁❀•┈•
*🔎📖تفہیم القرآن📖🔎*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :74*
*یعنی صرف یہی نہیں کہ زندگی بھر کے لیے معاشرے سے اس کے تعلقات توڑ دیے گئے اور اسے اچھوت بنا کر رکھ دیا گیا۔ بلکہ یہ ذمہ داری بھی اسی پر ڈالی گئی کہ ہر شخص کو وہ خود اپنے اچھوت پن سے آگاہ کرے اور دور ہی سے لوگوں کو مطلع کرتا رہے کہ میں اچھوت ہوں ، مجھے ہاتھ نہ لگانا۔ بائیبل کی کتاب احبار میں کوڑھیوں کی چھوت سے لوگوں کو بچانے کے لیے جو قواعد بیان کیے گئے ہیں ان میں سے ایک قاعدہ یہ بھی ہے کہ
’’ *اور جو کوڑھی اس بلا میں مبتلا ہو اس کے کپڑے پھٹے اور اس کے سر کے بال بکھرے رہیں اور وہ اپنے اوپر کے ہونٹ کو ڈھانکے اور چلا چلا کر کہے ناپاک ناپاک ۔ جتنے دنوں تک وہ اس بلا میں مبتلا رہے وہ ناپاک رہے گا اور وہ ہے بھی ناپاک۔ پس وہ اکیلا رہے، اس کا مکان لشکر گاہ کے باہر ہو۔‘‘ ( باب 13 ۔ آیت 45 ۔ 46 ) ۔*
*اس سے گمان ہوتا ہے کہ یا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے طور پر اس کو کوڑھ کے مرض میں مبتلا کر دیا گیا ہو گا، یا پھر اس کے لیے یہ سزا تجویز کی گئی ہو گی کہ جس طرح جسمانی کوڑھ کا مریض لوگوں سے الگ کر دیا جاتا ہے اسی طرح اس اخلاقی کوڑھ کے مریض کو بھی الگ کر دیا جائے،اور یہ بھی کوڑھی کی طرح پکار پکار کر ہر قریب آنے والے کو مطلع کرتا رہے کہ میں ناپاک ہوں، مجھے نہ چھونا۔*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :75*
*موسیٰ علیہ السلام کا قصہ ختم کر کے اب پھر تقریر کا رخ اس مضمون کی طرف مڑتا ہے جس سے سورہ کا آغاز ہوا تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ایک مرتبہ پلٹ کر سورہ کی ان ابتدائی آیات کو پڑھ لیجیے جن کے بعد یکایک حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ شروع ہو گیا تھا۔اس سے آپ کی سمجھ میں اچھی طرح یہ بات آ جائے گی کہ سورہ کا اصل موضوع بحث کیا ہے ، بیچ میں قصہ موسیٰ کس لیے بیان ہوا ہے۔اور اب قصہ ختم کر کے کس طرح تقریر اپنے موضوع کی طرف پلٹ رہی ہے .*
*سورة طٰهٰ حاشیہ نمبر :76*
*یعنی یہ قرآن ، جس کے متعلق آغاز سورہ میں کہا گیا تھا کہ یہ کوئی ان ہونا کام تم سے لینے اور تم کو بیٹھے بٹھائے ایک مشقت میں مبتلا کر دینے کے لیے نازل نہیں کیا گیا ہے، یہ تو ایک یاد دہانی اور نصیحت ( تذکرہ ) ہے ہر اس شخص کے لیے جس کے دل میں خدا کا کچھ خوف ہو۔*
🌈فی ظلال القرآن🌈
*جاؤ تم ملک بدر ہو، تمہیں کوئی شخص بھی ہاتھ نہ لگائے گا، نہ اچھائی سے اور نہ برائی کے ساتھ اور نہ تم کسی کے ساتھ ہاتھ لگاؤ گے۔موسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں یہ سزاؤں میں سے ایک سزا تھی۔ یہ اچھوت بنانے کی سزا تھی اور مجرم کو گندا قرار دیا جاتا تھا کہ نہ وہ کسی کو ہاتھ لگائے، نہ اس کے ساتھ کوئی ہاتھ لگائے۔ یہ کہ تمہارے لئے باز پرس کا ایک وقت مقرر ہے، تو اس سے مراد قیامت کا وقت جزاء و سزا ہے جس سے اگر کوئی بچنا چاہے بھی تو نہیں بچ سکتا۔اس کے بعد حضرت موسیٰ نے بڑی سختی اور غصے میں یہ احکام دیئے کہ اس بچھڑے کو لے جا کر جلائو اور اس کی آنکھ کو پانی میں بکھیر دو۔سختی اور غصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مزاج کا حصہ ہے۔ یہاں ان کی یہ سختی اور غصہ صرف اللہ کے لئے ہے اور اللہ کے دین کے معاملے میں غصہ معیوب نہیں ہوتا۔ دین کے معاملے میں شدتمستحسن سمجھی جاتی ہے۔ جب سامری کا یہ الہ جلتا ہوا نظر آتا تھا، تو اس منظر کے سامنے حضرت موسیٰ نے مناسب سمجھا کہ اسلامی عقیدے اور الہ کے بارے میں حقیقت لوگوں کو بتا دی جائے.*
*اسلامی عقیدے کے بارے میں اس وضاحت کے ساتھ ہی اس سورة میں قصہ موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ حصہ اب ختم ہوتا ہے۔ اس قصے میں یہ بتایا گیا ہے کہ حاملین دعوت اسلامی پر اللہ کی رحمتوں کی بارش ہر طرف سے ہوتی ہے۔ اگرچہ ابتداء میں ان سے کوئی غلطی بھی ہوجائے۔ اس کے بعد اس قصے کے دوسرے مراحل کو یہاں ترک کردیا جاتا ہے۔ اس کے بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ بنی اسرائیل نافرمانیاں کرتی ہیں،اور ان پر ایک کے بعد ایک عذاب آتا ہے۔چونکہ یہاں رحمت اور مہربانی اور نوازشات کا موضوع ہے اور یہ رحمتیں اللہ کے نیک بندوں پر ہوتی ہیں، اسلئے اس قصے کی وہ کڑیاں جن میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کا تذکرہ آتا ہے، ان کا ذکر چونکہ موضوع و مضمون اور سورة کی فضا کے خلاف ہے اس لئے ان کو یہاں حذف کر کے اس قصہ کو یہاں ختم کردیا گیا ہے۔*
*درس نمبر ٩٣١ ایک نظر میں سورة کے آغاز میں موضوع بحث قرآن مجید تھا کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس لئے نازل نہیں ہوا کہ اس کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈالا جائے۔ اس کے بعد پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو لے کر یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں اور رسولوں کے ساتھ کس قدر رعایت کرتا ہے اور ان پر کس قدر مہربانیاں ہوتی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ ان کے بھائی اور ان کی قوم پر ہوئی تھیں۔ اس طویل قصے پر اب یہاں تبصرہ کیا جاتا ہے اور موضوع سخن پھر قرآن مجید ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے؟ جو لوگ اس سے منہ پھیریں گے،ان کا انجام کیا ہوگا؟ یہ انجام قیام کے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کر کے بتایا گیا ہے کہ دنیا کے شب و روز سکڑ جائیں گے ، زمین کے اوپر سے پہاڑ اڑ جائیں گے اور یہ ننگی رہ جائے گی،بس ایک چٹیل میدان ہوگا،لوگ میدان حشر میں سہمے کھڑے ہوں گے اور تمام چہرے حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے اور سرنگوں ہوں گے۔ یہ منظر اور قرآن مجید کے تمام وہ مناظر جن میں لوگوں کو ڈرایا گیا ہے،ان سے غرض وغایت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کیا جائے۔ قرآن مجید کی بحث کے سلسلے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی بھی دی جاتی ہے کہ آپ قرآن مجید کو نہ بھولیں گے۔ بھول کے خوف سے اس کے دہرانے میں جلدی نہ کیجیے۔ اس کی وجہ سے اپنے اوپر مصیبت نہ لائیے،اللہ اسے آپ کے لئے آسان کر دے گا اور آپ کو حفظ کرا دیا جائے گا۔آپ بس یہ دعا کرتے رہیں کہ اے میرے رب ، میرے علم میں اضافہ کر۔ جب وحی نازل ہونے لگتی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وحی ختم ہونے سے پہلے ہی قرآن کی عبارت کو دہرانا شروع فرما دیتے تھے،اس خوف سے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔اس بارے میں ان کو تسلی دی گئی لیکن موضوع کی مناسبت سے بتایا گیا کہ آدم (علیہ السلام) اپنے عہد کو بھول گئے تھے۔ابلیس نے انہیں بھلا دیا تھا اس لئے آدم اور ابلیس کے درمیان جدی دشمنی چلی آرہی ہے۔اولاد آدم میں سے بعض لوگ اپنے عہد کو بھلاتے ہیں اور بعض اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس انجام کو بھی قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ گویا یہ سفر کا انجام ہے جو عالم بالا سے شروع ہوا او اس کا خاتمہ بھی عالم بالا پر جا کر ہوا۔ سورة کا خاتمہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اے رسول آپ ان لوگوں کے لئے پریشان نہ ہوں جو دعوت کی تکذیب کرتے ہیں یا اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کو اس دنیا میں ایک محدود وقت دیا گیا ہے۔اس محدود وقت میں ان کو جو ساز و سامان اور متاع دنیا کی وافر مقدار دی گئی ہے،یہ ان کے لئے کوئی بہتری نہیں ہے۔یہ تو ان کے لئے فتنہ اور آزمائش ہے۔آپ کو یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی اور اس کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجائیں،یوں آپ کو کسی دولت مند کی دولت سے زیادہ اطمینان حاصل ہوگا اور آپ اپنی حالت پر راضی ہوں گے۔اس سے قبل اللہ نے بہت سی اقوام کو اسی طرح آزمائش میں ڈال کر ہلاک کیا ہے۔اللہ نے لوگوں کی طرف نبی آخر الزمان اور آخری رسول کو بھیج کر ان پر حجت تمام کردی ہے۔اب لوگوں کے پاس جو از ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ لہٰذا آپ ان کے انجام کے معاملے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں اور اس کو اللہ پر چھوڑ دیں اور کہہ دیں ۔ قل کل متربص فتربصوا فستعلمون من اصحب الصراط السوی ومن اھتدی (٢٠ : ٥٣١) اے محمد،ان سے کہو، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے، بس اب منتظر رہو،عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ۔*
•┈•❀❁❀•┈•
*📿نماز نیند سے بہتــــــــــر ہے📿*
*📕قرآن سیکھئے اور سکھائیے📕*
•┈•❀❁❀•┈•
https://whatsapp.com/channel/0029VaU9fa177qVNkg7QTG0v