قطر میں امریکی ایئر بیس کے قریب
Fun News & Reels by GM
at our page you can enjoy with different clips i.e funny political ethic and joke etc
الحمدللہ
Some where in Israel
بریکنگ ⚡
ہرمزگان میں ایک لڑکیوں کے پرائمری اسکول پر امریکہ اور صہیونی حکومت کے میزائل حملے میں 24 طالبات کی شہادت کے مقام کی ویڈیو
بحرین،: امریکی فضائی اڈے پر ایران کا میزائل حملہ
e Khabar
28/02/2026
اے اللہ کریم ایران کے رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای، ایرانی عوام اور ایرانی افواج کی مدد فرما، ان کی قیادت میں ایران کو عظمت کی بلندیوں پر پہنچا 🙏💖🌟🌈
14/12/2025
کاپی پیسٹ
اللہ گواہ ہے کہ میں اس واقعے کا عین شاہد ہوں۔
گزشتہ دنوں اسلام آباد کنونشن سنٹر میں منعقدہ علماء و مشائخ کانفرنس میں میں بنفسِ نفیس شریک تھا۔ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ ہمیں اس کانفرنس میں شرکت کرنی چاہیے تھی یا نہیں، مگر جو کچھ وہاں دیکھا اور سنا، وہ بیان کرنا دیانت کا تقاضا ہے۔
کافی انتظار کے بعد آرمی چیف صاحب اور وزیرِ اعظم، جو اس پروگرام کے چیف گیسٹ تھے، تشریف لائے۔ اس بحث کو طول دینا مناسب نہیں کہ ان میں آقا کون دکھائی دے رہا تھا اور نوکر کون، اس لیے خوفِ طوالت سے اس پہلو کو ترک کرتا ہوں۔
آرمی چیف صاحب نے اپنی تقریر کا آغاز افواجِ پاکستان کی کارکردگی سے کیا، جس پر پورے ہال میں جوش و خروش پیدا ہوا، نعرے لگے اور ہم سب نے اس کا بھرپور جواب دیا۔ اس کے بعد پاک افغان کشیدگی اور پھر ملکی داخلی امن و امان کی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔
لیکن حیرت اور تکلیف اس وقت ہوئی جب گفتگو کا رخ اچانک مدارسِ دینیہ کی طرف موڑ دیا گیا اور ایک کے بعد ایک حملے شروع کر دیے گئے۔ گروہ واریت، افراتفری اور اندرونی مسائل کی جڑ گویا مدارس کو قرار دے دیا گیا۔
مزید یہ کہ بار بار پائنچے ٹخنوں سے اوپر یا نیچے کرنے کا ذکر دہرایا جاتا رہا۔ بظاہر بات یہ سمجھانے کی تھی کہ دین صرف ان ظاہری امور میں محدود نہیں، جو کہ اپنی جگہ ایک مسلم حقیقت ہے، مگر اندازِ بیان ایسا تھا کہ یوں محسوس ہونے لگا جیسے ان امور کا دین سے کوئی خاص تعلق ہی نہیں، حالانکہ یہ دین کے معروف شعائر میں شامل ہیں۔
اس کے بعد وزیرِ اعظم شہباز شریف تشریف لائے اور انہوں نے بھی اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے تقریباً وہی گفتگو دہرائی۔
اس دوران سامنے بیٹھے درباری ملاؤں کی نعرہ بازی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ خود آرمی چیف اور وزیرِ اعظم اس سے بیزار نظر آنے لگے۔ انہوں نے باقاعدہ اظہار کیا کہ ہمیں تقریر مکمل کرنے دی جائے، بعد میں آپ نعرے لگا لیجیے گا۔ مگر خوشامد میں ڈوبے ہوئے حضرات کو کہاں فرصت تھی۔
تقاریر کے بعد تبصروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہم اس امید میں تھے کہ شاید کوئی صاحبِ علم اور صاحبِ ضمیر اصلاح کی بات کرے گا، مگر افسوس کہ سب نے اسی خوشامدی روش کو آگے بڑھایا۔ کسی نے تنقید کی جرأت نہ کی، بلکہ آرمی چیف کے ہاتھ پر بیعتیں ہوئیں اور اصلاح کے بجائے خوب حوصلہ افزائی کی گئی۔
پھر سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا، مگر سوال بھی وہی، اور سوال کرنے والے بھی وہی منتخب اور منظورِ نظر لوگ۔
اسی دوران کوہستان کا سپوت، علماءِ دیوبند کا فرزند، مولانا ولی اللہ توحیدی کھڑے ہوئے۔ وہ کافی دیر تک مائیک مانگتے رہے، مگر چونکہ مائیک طے شدہ افراد کو ہی دیا جا رہا تھا، اس لیے انہیں نظرانداز کیا جاتا رہا۔
آخرکار انہوں نے پوری قوت سے آواز بلند کی، جس سے آرمی چیف، وزیرِ اعظم اور پورا ہال ان کی طرف متوجہ ہو گیا۔
انہوں نے نہایت جرأت مندانہ انداز میں فیلڈ مارشل کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
“آپ اپنی اصلاح فرمائیں۔ پائنچے ٹخنوں سے اوپر رکھنا رسول ﷺ کی سنت ہے۔ اس کا بار بار تذکرہ اس انداز میں کرنا اور اسے ہلکا سمجھنا کھلی دینی خلاف ورزی ہے۔”
مزید فرمایا:
“آپ نے مدارس کو نشانہ بنایا، حالانکہ پاکستان میں جتنا معاشی قتل اور کرپشن ہوئی ہے، اس میں زیادہ کردار یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل افراد کا ہے۔ اس پر آپ نے کیا اقدامات کیے؟
اور اگر آپ دینی مدارس میں جدید تعلیم کی بات کرتے ہیں، تو یہ بتائیں کہ آپ نے یونیورسٹیوں میں قرآنی تعلیمات کے فروغ کے لیے کیا کردار ادا کیا؟”
یہ سنتے ہی پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ تالیوں کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ آرمی چیف صاحب مسلسل استغفار پڑھتے رہے اور وضاحت دیتے رہے کہ “میرا مقصد یہ نہیں تھا، میں نے ایسا نہیں کہا، میں دین پر تنقید نہیں کرتا”، مگر تالیوں اور نعروں میں ان کی آواز دب چکی تھی۔
یہ صورتحال دیکھ کر فیلڈ مارشل اور ان کی سکیورٹی بخوبی سمجھ گئے کہ اب مزید سخت اور براہِ راست سوالات آئیں گے۔ چنانچہ اتنی بڑی علماء و مشائخ کانفرنس کو بغیر دعا کے ہی ختم کرنے میں عافیت جانی گئی۔
ہم باہر نکلے تو ایک عجیب سا اطمینان دل پر طاری تھا کہ ہمارا وہاں جانا نفع سے خالی نہ رہا، اور کم از کم ایک شخص نے حق بات وہیں کہہ دی جہاں کہی جانی چاہیے تھی۔
اور ہاں ، کانفرنس کے اچانک اختتام کے بعد جب ہم ہال سے باہر نکلے تو ایک اور منظر دیکھنے کو ملا جو قابلِ ذکر تھا۔ باہر مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، مشائخ اور شرکاء مولانا ولی اللہ توحیدی کے گرد جمع تھے۔ ہر کوئی ان کی جرأتِ حق گوئی کو سراہ رہا تھا، داد دے رہا تھا اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنوانے میں مصروف تھا۔
یہ محض کسی ایک مکتبِ فکر کی پذیرائی نہ تھی، بلکہ مختلف فکر و مسلک کے لوگوں کی جانب سے اس بات کا عملی اعتراف تھا کہ اس مجلس میں اگر کسی نے حق بات بروقت، بے خوف اور مدلل انداز میں کہی تو وہ مولانا ولی اللہ توحیدی تھے۔
یوں آج کی اس پوری “کھیل” میں، اگر اصطلاحِ عام استعمال کی جائے، تو مین آف دی میچ مولانا ولی اللہ توحیدی ہی تھے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Website
Address
63100
