Anp District Bannu

Anp District Bannu 🚩🚩✩░▒▓▆▅▃▂▁کارکن:🚩 𝐀𝐰𝐚𝐦𝐢 𝐍𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐏𝐚𝐫𝐭𝐲 🚩| غوریوالہ، بنوں باچا خان کے عدم تشدد، امن، تعلیم اور عوامی خدمت کے فلسفے پر کامل یقین۔▁▂▃▅▆▓▒░✩🚩🚩

یونین کونسل شمشی خیل کے بعد یونین کونسل غوری والہ 1گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول شیردراز غیرت حیل 2  گورنمنٹ بوائز پرائمری ...
04/09/2026

یونین کونسل شمشی خیل کے بعد
یونین کونسل غوری والہ 1
گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول شیردراز غیرت حیل
2 گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول جنگی کلہ
3 گورنمنٹ بوائز پرائمری سکول ملک یعقوب خان مغل خیل
4۔ گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول بشیر خان اعوان
5 گورنمنٹ پرائمری سکول میرقدر خان اعوان
6 گورنمنٹ پرائمری سکول ممتاز غیرت حیل
7 گورنمنٹ پرائمری سکول اسلم خان ٹھیکدار کچہ بچک

یونین کونسل شمشی خیل میں تعلیمی انقلاب!عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی بازمحمد خان کی کاوشوں سے یونین کونسل شمشی خ...
02/09/2026

یونین کونسل شمشی خیل میں تعلیمی انقلاب!
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما حاجی بازمحمد خان کی کاوشوں سے یونین کونسل شمشی خیل میں تعلیمی میدان میں بے مثال پیشرفت۔
تعلیمی ترقیاتی جائزہ:
گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول غلام مغل خیل
گورنمنٹ گرلز مڈل سکول غلام مغل خیل
گورنمنٹ پرائمری سکول خانزاد غلام مغل خیل
گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول سعید خان شمشی خیل
گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول گابا خیل
گورنمنٹ پرائمری سکول بھنگی خان مغل خیل
گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول ترخیو الا خاص
گورنمنٹ پرائمری سکول بهراتی مچن خیل
گورنمنٹ مڈل سکول شمشی خیل
عوام کی خدمت اور علاقے کی ترقی ہی ہمارا مقصد ہے۔ 🚩

قوم عزت دیتی ہے، مگر کردار عزت کا مستحق بناتا ہےکچھ لوگ آج یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ حاجی باز محمد خان کو قوم نے عزت دی، ب...
02/09/2026

قوم عزت دیتی ہے، مگر کردار عزت کا مستحق بناتا ہے

کچھ لوگ آج یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ حاجی باز محمد خان کو قوم نے عزت دی، بڑا بنایا، مگر انہوں نے قوم کے لیے کیا کیا؟
بلاشبہ کسی بھی رہنما کی طاقت عوام کا اعتماد ہوتا ہے، لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ عوام کسی ایسے شخص کو برسوں تک عزت نہیں دیتے جس میں اس عزت کو سنبھالنے کی صلاحیت، کردار اور قیادت کی اہلیت موجود نہ ہو۔ قوم کسی شخص کو ایک دن میں بڑا نہیں بناتی؛ کردار، قربانیاں، ثابت قدمی اور مشکل وقت میں قوم کے ساتھ کھڑے رہنا ہی کسی شخصیت کو مقام عطا کرتا ہے۔

حاجی باز محمد خان اور ان کے ساتھیوں کے کردار کو اگر سمجھنا ہے تو صرف آج کے سیاسی بیانات اور سوشل میڈیا کی بحثوں کو نہیں، بلکہ بنوں کی گزشتہ دو دہائیوں کی تاریخ کو دیکھنا ہوگا۔

بنوں ایک طویل عرصے سے دہشت گردی، بدامنی اور خوف کی کیفیت سے دوچار رہا ہے۔ اس عرصے میں کئی حکومتیں آئیں، کئی حکمران بدلے، مگر بنوں کے امن کے مسئلے کو جس شدت اور سنجیدگی کے ساتھ بنوں پاسون کے بعد مختلف اوقات میں اعلیٰ حکومتی سطح پر اٹھایا گیا، وہ اپنی جگہ ایک اہم پیش رفت تھی۔

اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ مشکل ترین حالات میں مقامی مشران نے مزاحمت، مذاکرات اور عوامی آواز کے ذریعے اپنے لوگوں کے لیے ایک راستہ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اگر حالات کا رخ مختلف ہوتا اور ریاستی سطح پر طے شدہ عسکری کارروائی اسی انداز میں آگے بڑھتی، تو ممکن تھا کہ آج بنوں کے بہت سے خاندان اپنے گھروں میں بیٹھ کر سیاسی اختلافات پر گفتگو کرنے کے بجائے نقل مکانی کی اذیت برداشت کر رہے ہوتے۔

جو لوگ آج مشران کے کردار پر سوال اٹھاتے ہیں، انہیں شمالی وزیرستان کے متاثرین کی تاریخ ضرور یاد رکھنی چاہیے۔ جنگ اور آپریشن کے بعد بے گھر ہونے والے خاندانوں کی مشکلات ہمیں یہ سمجھاتی ہیں کہ امن کی قیمت صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ ان حالات سے بچ جانے میں بھی ہوتی ہے جو کبھی وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے۔

اس لیے کسی رہنما کی جدوجہد کا فیصلہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ آج ہمارے حالات کیسے ہیں؛ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کی مزاحمت، سیاسی جدوجہد اور فیصلوں نے قوم کو کن ممکنہ مشکلات سے بچایا۔

رہی بات ان لوگوں کی جو آج حاجی صاحب یا دیگر مشران کے کردار کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تو اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ ہر شخص کو سوال کرنے اور تنقید کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن تاریخ کو وقتی جذبات، سوشل میڈیا کے شور اور بدلتے ہوئے سیاسی رجحانات کی بنیاد پر نہیں لکھا جا سکتا۔

حقیقت یہ بھی ہے کہ آج جو لوگ سب سے زیادہ تنقید کر رہے ہیں، انہی میں سے بہت سے لوگ کل تک انہی مشران کے ساتھ کھڑے تھے، انہیں اپنا رہنما قرار دیتے تھے اور امن کا سفیر کہتے تھے۔ سیاست میں رائے بدلنا کوئی جرم نہیں، لیکن رائے بدلنے کے ساتھ تاریخ اور حقائق بھی نہیں بدل جاتے۔

عوامی مقبولیت عارضی ہو سکتی ہے، مگر کردار کا امتحان مشکل وقت میں ہوتا ہے۔

عوام جب شعور کے بجائے ہجوم کی صورت اختیار کر لیتے ہیں تو اکثر دلیل سے نہیں، ماحول سے متاثر ہوتے ہیں۔ جس طرف ہوا کا رخ ہو، ہجوم اسی طرف چل پڑتا ہے۔
کل کسی کے ساتھ، آج کسی اور کے ساتھ، اور کل شاید کسی تیسرے راستے پر۔

مگر ایک سنجیدہ قوم کو ہجوم نہیں بننا چاہیے۔
اسے اپنے رہنماؤں کا فیصلہ جذبات سے نہیں، کردار، تاریخ، قربانی اور مشکل وقت میں ان کے کردار کو دیکھ کر کرنا چاہیے۔

وقت کے ساتھ نعرے بدلتے ہیں، چہرے بدلتے ہیں، سیاسی صف بندیاں بدلتی ہیں؛ مگر تاریخ آخرکار کردار ہی کو یاد رکھتی ہے۔

لیڈر/مشر قومی مفاد اور قوم کے بہتر مستقبل کا سوچتا ہے،آنے والے الیکشن کا نہیں۔فرق واضح ہے اور انشاءاللہ ثابت بھی ہوگا۔ال...
30/08/2026

لیڈر/مشر قومی مفاد اور قوم کے بہتر مستقبل کا سوچتا ہے،آنے والے الیکشن کا نہیں۔
فرق واضح ہے اور انشاءاللہ ثابت بھی ہوگا۔
الیکشن یا سلیکشن کی فکر ہوتی تو منافق بن کر سب کی ہاں میں ہاں ملاتا اور گرم میدان میں نظر نہ آتا۔

جس وقت  چودہ پولیس کے نوجوان برخاست ہوئے تھےاس وقت عوامی نیشنل پارٹی اور مشر باز محمد خان اس برخاست شدہ اہلکاروں کے ساتھ...
28/08/2026

جس وقت چودہ پولیس کے نوجوان برخاست ہوئے تھے
اس وقت عوامی نیشنل پارٹی اور مشر باز محمد خان اس برخاست شدہ اہلکاروں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا تھا اور بحال کرنے تک..
Anp District Bannu

Follow Anp District Bannu  شہدائے سپین تنگی کی 96 ویں برسی، ڈومیل میں اے این پی کے زیراہتمام تقریب، شہداء کو خراج عقیدتس...
25/08/2026

Follow Anp District Bannu
شہدائے سپین تنگی کی 96 ویں برسی، ڈومیل میں اے این پی کے زیراہتمام تقریب، شہداء کو خراج عقیدت

سانحہ سپین تنگی کے شہداء کی 96 ویں برسی کے موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام ڈومیل میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں اے این پی کارکنوں کے علاوہ علماء کرام، عمائدین علاقہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب میں 24 اگست 1930 کو سپین تنگی کے مقام پر پیش آنے والے تاریخی سانحے اور خدائی خدمتگاروں کی قربانیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔

تقریب کے مہمان خصوصی اے این پی کے رہنما اور سابق سینیٹر حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ تھے، جبکہ ضلعی صدر ناز علی خان وزیر، جنرل سیکرٹری شاہ قیاز باچا ایڈووکیٹ، تحصیل ڈومیل صدر ملک سہراب خان وزیر ایڈووکیٹ، جنرل سیکرٹری ابراہیم خان، ضلعی ترجمان حکمت پختون، حاجی گل نواب خان ، اے این پی شمالی وزیرستان کے نائب صدر ملک عطاء اللہ جان ، کرک سے صوبائی کونسلر صدیق اللہ خٹک ، خدائی خدمت گار جنوبی اضلاع سالار حاجی مثل خان بیٹنی سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر سابق سینیٹر حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ شہدائے سپین تنگی کی قربانیاں پختون قومی و جمہوری جدوجہد کا لازوال باب ہیں، جبکہ قاضی فضل قادر شہید اور دیگر خدائی خدمتگاروں کی قربانیاں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ انگریز استعمار نے سپین تنگی میں 80 سے زائد خدائی خدمتگاروں کو شہید اور سینکڑوں کو زخمی کیا، جبکہ مولانا قاضی فضل قادر شہید کی میت کو قید کرنا استعماری ظلم و جبر کی بدترین مثال تھی۔ خدائی خدمتگاروں نے بنیادی حقوق اور جمہوری آزادی کے حصول کے لیے بڑی قربانیاں دیں، تاہم ظلم و جبر کے باوجود اپنے اصولی مؤقف سے دستبردار نہیں ہوئے۔

حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ سپین تنگی کے شہداء کی قربانیاں اے این پی کی سیاسی جدوجہد کی بنیادوں میں شامل ہیں۔ آج بھی پختون سرزمین پر امن، وسائل پر اختیار، آئینی حقوق اور سیاسی آزادی کے سوالات موجود ہیں، اس لیے شہداء کو صرف یاد کرنا کافی نہیں بلکہ ان کے نظریے، فکر اور جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیوں کو مشعل راہ بناتے ہوئے پائیدار امن، جمہوریت، وسائل پر اختیار اور پختون قوم کے آئینی حقوق کے لیے سیاسی و عملی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے پولیس امن کمیٹیوں کے کردار پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس امن کمیٹی کے اہلکار شہریوں کو گھر سے اٹھاتے ہیں اور انگلی روز نعش ملتی ہے یہ سلسلہ انتہائی خطرناک ہے گزشتہ روز بھی ایک نعش ملی جس کے ورثاء نے شدید احتجاج بھی کیا ، ان کے مخالفین کی جانب سے مبینہ طور پر مقتول کے سر کی قیمت 56 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔

حاجی باز محمد خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ وہ ایسی امن کمیٹیوں کو نہیں مانتے اور کسی بھی ادارے کو پختونوں کا خون بہانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے بقول بعض اہلکار سادہ لباس میں ہوتے ہیں اور ان کا حلیہ عام شہریوں کے لیے پولیس اور دہشت گردوں میں فرق کرنا مشکل بنا دیتا ہے، اس لیے امن کمیٹیوں کے ارکان کی واضح شناخت، اختیارات اور کارروائیوں کا شفاف طریقہ کار وضع کیا جائے۔

برسی تقریب سے ضلعی صدر ناز علی خان ، ملک سہراب خان وزیر، عبد الصمد خان و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

تقریب کے اختتام پر یادگارِ شہداء اور قاضی فضل قادر شہید سمیت دیگر شہداء کے قبروں پر پھول چڑھائے گئے اور پرچم کشائی کی گئی، جبکہ شرکاء نے شہدائے سپین تنگی کو خراج عقیدت پیش کیا۔

07/07/2026
عوامی نیشنل پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ شہید مولانا خانزیب کی پہلی برسی 10 جولائی کو باجوڑ میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی...
07/07/2026

عوامی نیشنل پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ شہید مولانا خانزیب کی پہلی برسی 10 جولائی کو باجوڑ میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گی۔ اے این پی خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے کہا کہ تقریب میں مولانا خانزیب کی قومی، سیاسی اور سماجی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے شہادت کے واقعے کی تحقیقات میں پیش رفت نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کو بے نقاب کیا جائے، جبکہ پارٹی نے اپنے تمام شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Address

Ghoriwala Bannu
Bannu
28100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Anp District Bannu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share