Hum Hai Is Pal Yahan

Hum Hai Is Pal Yahan

Share

ہم ہیں اس پل یہاں �

21/08/2024

بارش کی برستی بوندوں نے
جب دستک دی دروازے پر

محسوس ہوا ۔۔ تم آۓ ہو
انداز تمھارے جیسا تھا

ہوا کے ہلکے جھونکے کی
جب آہٹ پائی کھڑکی پر

محسوس ہوا ۔۔ تم گزرے ہو
احساس تمھارے جیسا تھا

میں نے جو گرتی بوندوں کو
جب روکنا چاہا ہاتھوں پر

اک سرد سا پھر احساس ہوا
وہ لمس تمھارے جیسا تھا

تنہا میں چلا جب بارش میں
تب اک جھونکے نے ساتھ دیا

میں سمجھا تم ہو ساتھ میرے
وہ ساتھ تمھارے جیسا تھا

پھر رک سی گئی وہ بارش بھی
باقی نہ رہی اک آہٹ بھی

میں سمجھا مجھے تم چھوڑ گۓ
انداز تمھارے جیسا تھا

21/08/2024

کسی نے جبران_خلیل_جبران سے پوچھا!
انسانوں میں سب سے حیرت انگیز چیز کیا ہے؟
اس نے جواب دیا:
انسان بچپن سے بیزار ہو جاتا ہے، بڑے ہونے کی جلدی کرتا ہے، پھر دوبارہ بچے بننے کی آرزو کرتا ہے، پیسے اکٹھے کرنے کے لیے اپنی صحت برباد کرتا ہے، پھر صحت بحال کرنے کے لیے خرچ کرتا ہے۔
وہ اس طرح جیتے ہیں جیسے وہ کبھی نہیں مریں گے، اور ایسے مرتے ہیں جیسے وہ کبھی جیئے ہی نہیں۔"

➖ جبران خلیل جبران

21/08/2024

روسی مصنف اور فلسفی (فیوڈور دوستوفسکی) نے اپنی محبوبہ ماریا کو لکھا: "اس گلی میں جہاں تم رہتی ہو، نو عورتیں تم سے زیادہ خوبصورت ہیں، سات عورتیں تم سے لمبی ہیں، نو عورتیں تم سے چھوٹی ہیں، اور ایک اور عورت ہے جو مجھ سے تم سے زیادہ محبت کرتی ہے۔ کام پر ایک عورت ہمیشہ مجھے مسکراتی ہے، دوسری مجھے بات کرنے کے لیے اکسانے کی کوشش کرتی ہے، اور ریستوران کی ویٹریس میرے چائے میں چینی کی بجائے شہد ڈالتی ہے... لیکن میں تم سے محبت کرتا ہوں۔

اور شادی کے بعد، ماریا گھر میں ایک بہترین بیوی ثابت ہوئی۔ اس نے اس کی بیماری، غربت، سفر اور غیر حاضری کو برداشت کیا اور اس کے ساتھ ہر قسم کی مشقت جھیلی۔ جب وہ موت کے بستر پر تھی، دوستویفسکی نے اس سے کہا: "میں نے تجھے یاد میں بھی کبھی دھوکہ نہیں دیا۔"

17/08/2024

مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نا مانگ 😊

آپ نے ہمیشہ مرد کی وفاداری اور عورت کی بے وفائی کے بہت سے داستان سنے ہونگے، لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ہے، دیکھئے! ہمارا پختہ ایمان ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، اور یہ دین عین انسانی فطرت کے تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تکمیل کو پہنچا۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عورت محبت میں انتہائی ثابت قدم، استقامت اور پختہ اعصاب کی مالک ہوتی ہے۔
چونکہ اسلام نے عورت کو ایک وقت میں ایک ہی شادی کی اجازت دی ہے، جبکہ اس کے بر عکس مرد کو بایک وقت چار بیویاں رکھنے کی اجازت ہے، مطلب عورت کو محبت بھی ایک ہی دفع ہوتی ہے، عورت کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد جس کو وہ اپنے قریب آنے کی اجازت دے دیتی ہے، اس کو قبر تک نہیں بھلا پاتی، کیوں کہ عورت کی فطرت واحد یعنی ایک کا مظہر اسلیے کہتے ہیں کہ عورت کی پہلی محبت کبھی نہ بچھڑے، کیونکہ اگر اسکی پہلی محبت اسکی زندگی سے کسی وجہ سے بچھڑ بھی جاتی ہے، تو وہ ساری زندگی اس محبت کے شکنجے سے آزاد نہیں ہو پاتی، وہ اس کو اپنی زندگی میں کہی نہ کیہی ڈھونڈ رہی ہوتی ہے، وہ شخص اسکی زندگی کا مسنگ پیس(کھویا ہوا ٹکڑا ) بن کر رہ جاتا ہے، اس کو ایک جھلک دیکھنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے، اس سے خود کو compare کر رہی ہوتی ہے، زندگی بھر وہ اپنی پہلی محبت کو پلو کے ساتھ باندھ کہ رہتی ہے،کیوں کہ وہ فطرتی طور پر واحد کا مظہر ہے، وہ آگے بڑھ بھی جائے، یکہ بعد دیگر مرد اسکی زندگی میں آجائے، اس سے بہتر، اس سے زیادہ فکر و سوچ رکھنے والے، زیادہ محبت والے، لیکن وہ اپنی پہلی محبت کی رغبت سے نہیں نکل پاتی، حتی کہ اولاد کی محبت بھی اس کا دل اسکی پہلی شناسائی سے مبرا نہیں کر پاتی، اس پہلے شخص کی خلاں بعد میں آنے والے بہتر سے بہترین مرد بھی کبھی پر نہیں کر پاتے، ایسا نہیں ہے کہ وہ وفادار نہیں ہوتی وہ اپنے ہم سفر کی پہلے سے زیادہ ہمدرد اور وفادار بن کہ رہتی ہے، زیادہ احساس دلاتی ہے، لیکن عورت اپنی پہلی محبت کے نقش و نگار اپنی زندگی کے صفحات پر ہمیشہ قائم رکھتی ہے، اور اس شخص کے ساتھ گزرے ہوئے اُن لمحات کو کسی نہ کسی طریقے سے زندہ و جاوید رکھتی ہے۔ اس لیے کو شش کیجئے کہ کسی بھی عورت کی پہلی محبت بنئیے۔ کیوںکہ وہ اس کی زندگی میں دوسرے تیسرے نمبر پر آنے والوں کی وفادار تو ہوتی ہے لیکن! دلدار کبھی نہیں بن پاتی، وہ صرف پہلے والے کے بچھڑ جانے پر سہارے تلاش کرتی ہے، وہ محبت میں دوبارہ وہ مقام کبھی کسی دوسرے مرد کو نہیں دے پاتی جو اس کے دل میں اپنی پہلی محبت کے لیے ہوتی ہے، عورت دوبارہ محبت کبھی نہیں کرتی، البتہ وہ ایسے شخص کو منتخب کرتی ہے جس سے وہ اپنی پہلی محبت سے ملے ہوئے دکھ سکھ بانٹ سکیں اور پھر اسی کو اپنا ہمسفر بنا دیتی ہے، کیونکہ عورت واحد کا مظہر ہے۔ یہ اسکی فطرت ہے اور فطرتا وہ لاکھ کوششوں کے با وجود ہر انسان میں اسی انسان کو تلاش کر رہی ہوتی ہے، جس کو اس نے پہلی دفع اپنے دل میں گھر کرنے کی اجازت دی ہو، اور اسی محبت کو عورت اپنے دل میں بسا کر قبر کی تاریکیوں میں جا کر سو جاتی ہے، وہ مقام اسکی زندگی میں بعد میں آنے والو کو کبھی مل ہی نہیں سکتا، جو مقام اسکے دل اور دماغ میں اسکی پہلی محبت کا ہوتا ہے۔ کیونکہ عورت کی فطرت ایک کی ہے۔ وہ "ہُو" کی مصداق ہے۔ ❤️
جبکہ مرد کی فطرت ایک سے زیادہ کی ہے، وہ محبت کرتے ہیں، پہلی ناکام ہو جائے تو وہ دوسری محبت کر لیتے ہیں، دوسری ناکام تو تیسری اور چلتے جائیں، کیوںکہ مرد کی فطرت ایک سے زیادہ محبت کی ہے، اس کی زندگی میں بعد میں آنے والی عورت کی محبت مزید بڑھ جاتی ہے اور وہ پیچھے مڑ کہ تک نہیں دیکھتا، مرد ہر اس عورت سے زیادہ محبت کرتا ہے جو اسکی پچھلی محبت کے بچھڑنے کے صدمے سے اس کو نکال باہر کرتی ہے، یاد رکھیں مرد ہمیشہ محبت کرتا ہے، چاہے پہلی ہو، دوسری ہو یا تیسری ہو، کیونکہ اسکی فطرت ایک سے زیادہ کا مظہر ہے، اور ہر آنے والی عورت کے دل میں مرد کی محبت پچھلی عورت سے زیادہ شدت سے ابھرتی ہے، اسلیے کہتے ہیں کہ "کوشش کیجئے کہ آپ کسی مرد کی آخری محبت بن جائیں۔ کیونکہ مرد اپنی محبت کو اپنی انجام تک لے کہ جاتا ہے، جب تک اسکو تکمیلِ محبت نہیں مل جاتی وہ اس سفر کو جاری رکھتا ہے۔"
جبکہ عورت اپنی پہلی محبت کے بچھڑ جانے کے بعد سہارے ڈھونڈتی ہے، اور اپنی پہلی محبت کو ہمیشہ محفوظ رکھتی ہے، 😊

"جب اسکی زلف میں پہلا سفید بال آیا"
"تب اسکو پہلی ملاقات کا خیال آیا"

اختلافِ رائے کو دل سے قبول کیا جاتا ہے، لیکن ! دلیل کے بنیاد پر ❤️😊🤗

13/06/2023

وہ مجھ سے جیت کر آگے کسی سے ہار گیا.☺️
اور اِس کا رنج مجھے مات کے علاوہ ہے.☺️

20/08/2022

میری بچپن میں عادت تھی
زرا سی شام ہوتے ہی
میں گھر سے بھاگ جاتا تھا۔۔۔۔!

میری ماں مجھ سے کہتی تھی
کہ شام ہونے سے کچھ پہلے
تو گھر کو لوٹ آیا کر۔۔۔۔!

بلائیں شام ہوتے ہی
اوپر سے اترتی ہیں
چڑیلیں رقص کرتی ہیں
بہت آسیب ہوتے ہیں
تو گھر کو لوٹ آیا کر۔۔۔۔۔!!!

میں پھر بھی شام ہوتے ہی
گھر سے بھاگ کر یارو

گلی کوچوں اور رستوں پر
بہت ویران قبروں پر
بیابانوں اور کھنڈروں میں
مارا مارا پھرتا تھا
مجھے اک شوق رہتا تھا۔۔۔۔۔!

بلائیں کچھ تو میں دیکھوں
کوئی آسیب مل جائے
کوئی سایہ نظر آئے
کوئی چڑیل مل جائے
کسی بہروپ اچھے میں
میں اس کا رقص تو دیکھوں۔۔۔۔!

میں اس کے الٹے پاؤں کا
اس سے تزکرہ چھیڑوں
تو جھٹ سے روپ بدلے وہ
اور اصلی روپ میں آئے
تو ڈر کے بھاگ جاؤں میں۔۔۔۔۔!

اور گھر پہنچ کر اپنے
سارے دوست یاروں کو
کئی قصے سناؤں میں
بلائیں ایسی ہوتی ہیں
چڑیلیں ایسی ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔!

گزارا سارا بچپن یوں
تجسس بے ثمر گزرا
کوئی آسیب نہ دیکھا
نہ کوئی بھی بلا دیکھی
چڑیلیں بھی نہ مل پائیں۔۔۔۔۔۔!

مگر جب آج مدت بعد
جب بھی شام ہوتی ہے
ہوا دھیرے سے چلتی ہے
اندھیرا میرے آنگن میں
زرا سا چھانے لگتا ہے
مجھے ڈر لگنے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

بلائیں ہجر و غم کی اور
بہت آسیبوں کے سائے
چڑیلیں میری یادوں کی
روحیں میرے پیاروں کی۔۔۔۔۔۔۔!!!

اتر کر آسمانوں سے
بھیانک رقص کرتی ہیں
بے ہنگم شور کرتی ہیں
صدائیں ان کی کانوں
بہت تکلیف دیتی ہیں
اور پھر میں خوف کے مارے
ڈرا اور سہما رہتا ہوں۔۔۔۔۔!

مجھے اب شاموں کا آنا
بہت آزار لگتا ہے
مجھے اب روحوں سے ملنا
بہت بے کار لگتا ہے
مجھے اب امی کا وہ کہنا
بہت ہی یاد آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

بلائیں شام ہوتے ہی
اوپر سے اترتی ہیں
چڑیلیں رقص کرتی ہیں
بہت آسیب ہوتے ہیں
تو گھر کو لوٹ آیا کر ... !!!

21/05/2022

" ابن انشاء‘‘ کا کلام ’’انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو" جس کے لکھنے کے ایک ماہ بعد وہ وفات پاگئے تھے۔
اس کے بعد ’’قتیل شفائی‘‘ نے غزل لکھی " یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی" دونوں غزلیں اپنے اعتبار سے اردو ادب ميں ایک اچھا اضافہ ہيں۔
ہاں، یہ اور بات ہے کہ ’’قتیل صاحب‘‘ کی غزل زیادہ افسردہ کر جاتی ہے۔

’’ابنِ انشاء‘‘

انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر ميں جی کو لگانا کيا
وحشی کو سکوں سےکيا مطلب، جوگی کا نگر ميں ٹھکانا کيا

اس دل کے دريدہ دامن کو، ديکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی ميں سو چھيد ہوئے، اس جھولی کا پھيلانا کيا

شب بيتی ، چاند بھی ڈوب چلا ، زنجير پڑی دروازے میں
کيوں دير گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانا کيا

پھر ہجر کی لمبی رات مياں، سنجوگ کی تو يہی ايک گھڑی
جو دل ميں ہے لب پر آنے دو، شرمانا کيا گھبرانا کيا

اس روز جو اُن کو دیکھا ہے، اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو ان سے بات ہوئی، وہ بات بھی تھی افسانہ کیا

اس حُسن کے سچے موتی کو ہم ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں
جسے ديکھ سکيں پر چُھو نہ سکيں وہ دولت کيا وہ خزانہ کيا

اس کو بھی جلا دُکھتے ہوئے مَن، اک شُعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا؟ یوں ماٹی میں مل جانا کیا

جب شہر کےلوگ نہ رستہ ديں،کيوں بن ميں نہ جا بسرام کرے
ديوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے ديوانہ کيا

’’قتیل شفائی‘‘

یہ کس نے کہا تم کوچ کرو، باتیں نہ بناؤ انشا جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے، اسے چھوڑ نہ جاؤ انشا جی

جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں، سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا اِن سے بھی منہ پھیروگے، یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشا جی

کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی، یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے، اُن کو نہ رلاؤ انشا جی

تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی، اِک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں، اُس دیس نہ جاؤ انشا جی

بکھراتے ہو سونا حرفوں کا، تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر اِن میں اپنے زخموں کا، مت زہر ملاؤ انشا جی

اِک رات تو کیا وہ حشر تلک، رکھے گی کھلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے، سجنی کو بتاؤ انشا جی

نہیں صرف *قتیل* کی بات یہاں، کہیں ساحر ہے کہیں عالی ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے، دامن نہ چھڑاؤ انشا جی۔

20/05/2022

‏دُور تک ساتھ دیا کرتی ہیں........ آنکھیں اُن کی.
تُو نے دیکھے ہیں کبھی گاؤں سے جاتے ہوئے لوگ..!!

20/05/2022

ہم اہل وفا حسن کو رسوا نہیں کرتے
پردہ بھی اٹھے رخ سے تو دیکھا نہیں کرتے
دل اپنا تصور سے ہی کر لیتے ہیں روشن
موسیٰ‌کی طرح طور پہ جایا نہیں کرتے
رکھتے ہیں جو اوروں کےلئے پیار کا جذبہ
وہ لوگ کبھی ٹوٹ‌ کے بکھرا نہیں‌کرتے
مغرور ہمیں کہتی ہے تو کہتی رہے دنیا
ہم مڑ کے کسی شخص کو دیکھا نہیں کرتے
ہم لوگ تو مے نوش ہیں بدنام ہیں ساغر
پاکیزہ ہیں جو لوگ وہ کیا کیا نہیں کرتے
ساغر صدیقی🍁
#گوہرِ_نایاب

20/05/2022

یوں لگ رہا ہے جیسے ابھی لوٹ آئے گا.
جاتے ہوئے چراغ بجھا کر نہیں گیا.
#گوہرِ_نایاب #مرشد #

19/05/2022

میرے جسم کے سارے اعضاء نکال لو لیکن میرے شوہر کو بچالو، وہ میرا جگر ھے!!

یہ بھی اِسی مفاد پرست اور خُود غرض سماج کی ایک ناقابلِ فراموش داستان ھے جہاں رشتے دن بہ دن کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں اور جہاں محبت کا بھاؤ تیزی سے گر رہا ھے.

شوہر بیمار ہوا، ڈاکٹروں نے لیور ٹرانسپلانٹ تجویز کیا.
اب مسئلہ یہ تھا کہ لیور کا ٹشو کہاں سے ملے؟؟؟
بیوی ڈونر بن گئی اور اُس نے اپنے "جگر" کو جگر کا ٹُکڑا دے کر اُس کی جان بچالی.

محبت "بنجارن" ہوجاۓ تو خیر ھے، بس یہ "بنجر" نہیں ہونی چاہئے.
محبت زندہ باد..... 💖

18/05/2022

ایک عورت کا شوہر ہر وقت کسی نہ کسی مہمان کو گھر لے آتا اور اپنی بیوی سے کہتا ان کے لیے کھانے کا انتظام کرو روزانہ وہ مہمان کے لیے کھانے تیار کرتی

آخر کار وہ روز کے معمول سے تنگ آ گٸی اور ایک دن رسول پاک ﷺ کے پاس گٸی اور کہنے لگی یا رسول اللّٰه ﷺ میرا شوہر روزانہ کسی مہمان کو گھر لے آتا ھے اور میں کھانے بنا کے تھک جاتی ھوں.

یا رسول اللّٰه ﷺ کوٸی ایسا طریقہ بتاٸیں کہ میرا شوہر گھر میں مہمان نہ لے کر آئے۔۔۔

اس وقت نبی پاک ﷺ خاموش رہے اور وہ عورت نبی پاک ﷺ کی خاموشی دیکھ کے گھر واپس آ گٸی۔۔۔

اگلے دن نبی پاک ﷺ نے اس عورت کے شوہر کو بلایا اور کہا کے کل میں تمھارا مہمان ھوں؟؟؟

وہ آدمی بہت خوش ہوا اور آ کر اپنی بیوی کو بتایا کے آج نبی پاک ﷺ ھمارے مہمان بن کے آئیں گے اس کی بیوی بہت خوش ھوٸی اور جلدی سے اچھے اچھے کھانے بنانے لگی

جب نبی پاک ﷺ اس عورت کے گھر آئے تو نبی پاک ﷺ نے اس کے شوہر سے کہا کے جب میں کھانا کھا کے واپس جانے لگوں تو اپنی بیوی سے کہنا میرے گھر سے نکلنے تک پیچھے دیکھتی رھے اس کی بیوی نے ایسا ہی کیا۔۔۔

جب نبی پاک ﷺ واپس جانے لگے تو اس عورت نے کیا دیکھا کے رسول اللّٰه ﷺ کے ساتھ بچھو سانپ اور کیڑے مکوڑے سب ساتھ جا رھے تھے وہ یہ منظر دیکھ کے بے ھوش ھو گئی۔۔

اگلے دن وہ پھر نبی پاکﷺ کے پاس گٸی تو نبی پاک ﷺ نے اس عورت کو بتایا کہ مہمان اپنا نصیب خود لے کے آتا ھے اور جو مہمان کے لیے محنت کی جاتی ہے اس کے بدلے جب وہ واپس جاتا ہے تو ساتھ اس گھر سے ساری بلاٶں اور اس گھر کے سارے گناہ ساتھ لے جاتا ھے..

Want your business to be the top-listed Government Service in Bannu?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Bannu KPK
Bannu
28100