15/01/2026
پاکستان 12 ارب 50 کروڑ ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے جارہا ہے -- 4 ارب 60 کروڑ ڈالر کا اسلحہ لیبیا خریدے گا ۔۔۔ ،4 ارب 50 کروڑ ڈالر کا اسلحہ آذربائیجان کو فروخت کیا جائےگا ۔۔۔ سعودی عرب 2 ارب ڈالر کا قرض JF17 تھنڈر خرید کر معاہدے میں تبدیل کردے گا ۔۔۔ ایک ارب 50 کروڑ ڈالر کا اسلحہ سوڈان خریدے گا ۔۔۔ عراق کو 66 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا اسلحہ فروخت ہوگا ۔ـ۔۔ زمبابوے ایک کروڑ ڈالر کا اسلحہ خریدے گا ۔۔۔ ان کے علاوہ بنگلادیش، میانمار، نائجیریا، مراکش اور ترکیہ بھی پاکستان سے اسلحہ خریدیں گے.🇵🇰 🐅🐅
شکریہ نوازشریف ♥️
Muslim Students Federation Kpk
Maryam Nawaz Sharif
Nawaz Sharif
Mian Shehbaz Sharif 12
Syed Noor Ul Amin
Muslim Students Federation Battagram
11/01/2026
پاکستان نے JF-17 کی فیکٹری منتقل کرکے 12 ارب ڈالرز کے آرڈرز حاصل کیے، جس میں نواز شریف کا اہم کردار تھا۔
23/11/2025
غیر حتمی غیر سرکاری نتائج
23/11/2025
345 پولنگ سٹیشن کا رزلٹ
Muslim Students Federation Battagram
Nawaz Sharif
Maryam Nawaz Sharif
23/11/2025
ڈی آر او آفس سے نتائج کا سلسلہ شروع 301پولنگ اسٹیشن کا رزلٹ مسلم لیگ ن کے بابرنواز خان اب تک 25000ووٹ کی لیڈ سے آگے
Muslim Students Federation Battagram
23/11/2025
ڈی آر او آفس سے نتائج کا سلسلہ شروع176 پولنگ اسٹیشن کا رزلٹ مسلم لیگ ن کے بابرنواز خان اب تک 17000 ووٹ کی لیڈ سے آگے
Muslim Students Federation Battagram
07/11/2025
نواز شریف کا لاہور میں آبائی حلقہ ہمیشہ سے مسلم لیگ ن کا مضبوط قلعہ رہا ہے۔
یوتھیے آج بھی کہتے ہیں کہ 2024 میں نواز شریف یاسمین راشد سے ہار گئے، حالانکہ سرکاری نتائج کے مطابق نواز شریف نے انہیں 75 ہزار ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔
یہ حلقہ 1988 سے نواز شریف کا سیاسی گڑھ ہے۔ اُس وقت اس کا نمبر NA-95 لاہور-IV تھا۔
پیپلز پارٹی کے عارف اقبال بھٹی کو نواز شریف نے 49 ہزار ووٹ لے کر ہرایا۔
1990 میں اصغر خان کو شکست دی،
1993 میں ضیاء بخت بٹ ہارے،
اور 1997 میں عمران خان نے بھی اسی حلقے سے الیکشن لڑا مگر صرف 5 ہزار ووٹ حاصل کر سکا، جبکہ نواز شریف نے 50 ہزار ووٹ لیے۔
2002 میں نواز شریف جلاوطن تھے، ن لیگ کے پرویز ملک نے یہاں سے کامیابی حاصل کی۔
2008 میں بلال یاسین نے ن لیگ کی طرف سے جہانگیر بدر کو ہرایا۔
2013 میں نواز شریف نے یاسمین راشد کو 39 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔
2017 کے ضمنی الیکشن میں بیگم کلثوم نواز نے بھی یاسمین راشد کو ہرایا، حالانکہ وہ بیمار تھیں اور مریم نواز نے مہم چلائی۔
2018 میں ن لیگ کے وحید عالم خان نے انہیں 45 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔
آخرکار 2024 میں نواز شریف نے ایک بار پھر اسی حلقے (NA-130 لاہور-XIV) سے انتخاب لڑا۔
نواز شریف نے 1,79,000 ووٹ لیے،
جبکہ یاسمین راشد کو 1,04,000 ووٹ ملے۔
فرق — 75 ہزار ووٹ۔
نتیجہ ہمیشہ ایک سا رہا: نواز شریف اپنے آبائی حلقے سے کبھی نہیں ہارے۔
لہٰذا اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ وہ ہار گئے تھے، تو وہ صرف دل پشوری کے لیے کہہ رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لاہور آج بھی نواز شریف کا قلعہ ہے۔
02/08/2025
Muslim Students Federation Battagram