29/06/2025
ISF
Tarek
29/06/2025
Mashallah
07/09/2024
04/09/2024
🇧🇫
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو
۱۔
فوج سب کی ہے پوری قوم کی ہے، صرف ایک سیاسی جماعت یا صرف آرمی چیف کی نہیں۔ انہوں نے انتخابات میں اتنا بڑا ڈاکہ مارا ہے اور اب آزاد عدلیہ کو بھی چلنے نہیں دے رہے۔انہوں نے پولیس ، نیب اور ایف آئی سمیت تمام ادارے تباہ کر دئیے ہیں ۔ اب ایک سپریم کورٹ بچی ہے جس سے عوام کو امید ہے ۔ پولیس اور نیب کے ادارے کو ہمارے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے ۔ راولپنڈی کمشنر اس سب کا گواہ ہے کہ پنڈی ڈویژن میں انتخابات اس نے کروائے ہیں ۔ راولپنڈی کمشنر نے چیف جسٹس اور الیکشن کمشن کے خلاف سچ باتیں کیں تو اس کو غائب کر دیا گیا ۔۔ چیف جسٹس اگر بے گناہ ہوتا تو لازمی راولپنڈی کمشنر کو اپنی عدالت میں بلاتا۔ اب میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر انہوں نے عدلیہ کو تباہ کرنے کی کوشش کی تو میں سڑکوں پر احتجاج کی کال دوں گا-
مخالف ٹیم کو میدان میں نہیں اترنے دیا گیا پھر بھی یہ بری طرح ہار گئے۔ جن کو بیس سیٹیں نہیں ملیں انھیں جعلی مینڈیٹ دیکر بٹھا دیا گیا ۔۔جو کام دشمن نہیں کر سکا وہ یہ خود کر کے ادارے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
2
قوموں کو تباہ کرنے کے لیے دشمن کے حملے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔اداروں پر کرپٹ اور نااہل لوگ بٹھا دئیے جائیں تو قوم تباہ ہو جاتی ہے۔محسن نقوی کو وزیر داخلہ اور کرکٹ بورڈ کا چیئرمین بنادیا گیا ۔اسکی تقرری بڑے صاحب نے کی ہے اور اس نے کرکٹ کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ۔پاکستان کرکٹ ٹیم بنگلہ دیش سے وائٹ واش ہوگئی ہے اس سے بری اور شکست کیا ہوگی۔ایسا کون سا ایٹم بم پھٹا کہ تین سال میں ہماری کرکٹ بنگلہ دیش سے کارکردگی میں نیچے آ گئی اور تباہ ہو گئی۔کرکٹ ایک ٹیکنیکل کھیل ہے اس پر آپ نے سفارشی بٹھا دئیے ہیں ۔ محسن نقوی کی کیا قابلیت ہے؟ رمیز راجہ میرا رشتہ دار نہیں تھا ایک پروفیشنل کرکٹر تھا جس کو میں نے چیئرمین پی سی بی بنایا ۔محسن نقوی نے الیکشن کا فراڈ اور گندم فراڈ کیا اور اس کو وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی بڑے صاحب نے مقرر کر دیا۔دبئی لیکس میں محسن نقوی کی بیوی کے پانچ ملین ڈالر سامنے آئے ، کہاں سے آیا وہ پیسہ؟
3
ڈھائی ماہ سے قاضی فائز عیسیٰ نیب ترامیم کیس کا محفوظ فیصلہ نہیں سنا رہے۔ وہ اس لئےکہ وہ چاہتے ہیں کہ القادر یونیورسٹی بنانے کے مضحکہ خیز کیس میں سزا ہونے کے بعد، نیب ترامیم کیس کا فیصلہ سنایا جائے گا- حالانکہ میں پہلے ہی کہ چُکا تھا کہ اگرچہ مجھے اس ترمیم سے فائدہ ہوگا لیکن میں قوم کے لیے یہ مقدمہ لڑ رہا ہوں۔ یہ پوری گیم کھیلی جا رہی ہے۔ نواز شریف کے چار ، شہباز شریف کے پانچ ، زرداری اور فرنٹ مینوں کے نو ریفرنسز فریز پڑے ہیں لیکن میرے خلاف جھوٹے ریفرنس پوری رفتار سے چل رہے ہیں-
4
نیب نے القادر یونیورسٹی کے عطیات بند کروا دئیے ہیں ۔القادر یونیورسٹی نمل کے بعد دیہاتی علاقے کی دوسری پرائیویٹ یونیورسٹی ہے۔
القادر یونیورسٹی میں سو فیصد طلبہ مفت تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ القادر یونیورسٹی بند ہو جائے۔ یونیورسٹی بند ہونے کا مجھے نہیں طلبہ کو نقصان ہوگا ۔بر صغیر میں تعلیم میں ہم پہلے ہی سب سے پیچھے رہ گئے ہیں ۔شوکت خانم بھی اگر بند ہوتا ہے تو لوگوں کو 10 گنا مہنگا کینسر علاج کروانا پڑے گا-
5-
میں ایک دن بھی جیل کے ہسپتال میں نہیں رہا ۔نواز شریف ، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کو ایئر کنڈیشن کمرے اور اٹیچ باتھ دئیے گئے تھے ۔قیدی میرے لیے کھانا بناتا ہے میں نے کبھی کوئی شکایت نہیں کی ۔ایک ہفتے میں صرف تین لوگوں کو مجھ سے ملنے کی اجازت دی جاتی ہے ۔نواز شریف جیل میں 40 لوگوں کو ملتا تھا اس کے لیے اوپن ہاؤس ہوتا تھا ۔نواز شریف صحافیوں سے بھی اپنے کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرتا تھا ۔میں چھ پارٹی لیڈران کے نام بھیجتا ہوں اور ہفتے میں مجھے تیس منٹ کے لیے اپنی پارٹی کے صرف تین لیڈران سے ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے ۔ میرے اتنے ذیادہ کیس ہیں لیکن مجھے صرف چھ وکلا سے ملنے دیا جاتا ہے۔ مجھے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے ، دن کے اکیس گھنٹے اپنے سیل میں ہی گزارتا ہوں ۔
6-
گرمی کی وجہ سے سیل اوون بن جاتا ہے مگر کبھی شکایت نہیں کی اور نہ کبھی کہا کہ میں مشکل میں ہوں ۔ مجھے نہانے کے لیے بھی دوسرے کمرے میں جانا پڑتا ہے۔میری بس ایک شکایت ہے کہ مجھے میرے بچوں سے بات نہیں کرنے دی جاتی جو میرا قانونی حق ہے۔پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ فایئوسٹار سہولیات دی گئی ہیں ۔ میرے پاس وہی سہولیات ہیں جو سزائے موت کے قیدی کو ملتی ہیں ۔ایسا لگتا ہے اوپر مارشل لا ایڈ منسٹریٹر بیٹھا ہوا ہے ۔ کس قانون کے تحت یہ پابندی لگا رہے ہیں کہ صحافی مجھ سے سوال نہیں پوچھ سکتے؟ میں پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں یہ میرا قانونی اور آئینی حق ہے کہ میں اوپن کورٹ میں صحافیوں اور میڈیا سے بات کر سکوں ۔
7-
پاکستانی معاشرہ میں اسلام کی وجہ سے خواتین کا ایک خاص مقام ، حرمت اور عزت ہے ۔ پچھلے سات ماہ سے میری بیوی کو نا حق قید میں رکھا گیا ہے ۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں انہوں نے کبھی حکومتی امور میں دخل نہیں دیا اور نہ ہی ان کا سیاست سے کوئی تعلق ہے۔ ان کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ میری بیوی ہیں ۔ اسی طرح پچھلے ڈیڑھ سال سے میری جماعت کی خواتین کے ساتھ جو ناروا سلوک رکھا گیا ہے وہ غیر انسانی اور انتہائی افسوسناک ہے۔
26/08/2024
یہ سراسر ضلم ہے ہم برداشت نہیں کر سکتے ،🥹
Click here to claim your Sponsored Listing.
