JUI Digital Media Cell District Chaman

JUI Digital Media Cell District Chaman Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from JUI Digital Media Cell District Chaman, Political organisation, Chaman.

جمعیت علماء اسلام ضلع چمن کا ( آفیشل )باضابطہ
ڈیجیٹل میڈیا سیل۔ دینی، سیاسی و سماجی سرگرمیوں، قائدین کے بیانات اور عوامی مسائل کی مؤثر ترجمانی۔
کوآرڈینیٹر ، بلال احمد
جے یوآئی ڈیجیٹل میڈیا سیل ضلع چمن

20/09/2026
18/09/2026

(صَلَّى ٱللَّٰهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ)

حاجی آمان اللہ اچکزئی: اخلاص، نظریاتی وابستگی اور جماعتی خدمت کی روشن مثالتحریر: حافظ محمد صدیق مدنیسابق ممبر یوتھ پارلی...
12/09/2026

حاجی آمان اللہ اچکزئی: اخلاص، نظریاتی وابستگی اور جماعتی خدمت کی روشن مثال

تحریر: حافظ محمد صدیق مدنی
سابق ممبر یوتھ پارلیمنٹ
سیاسی جماعتوں کی اصل قوت صرف ان کے عہدے، تنظیمی ڈھانچے یا جلسے جلوس نہیں ہوتے بلکہ وہ مخلص، نظریاتی اور ثابت قدم کارکن ہوتے ہیں جو مشکل حالات میں بھی اپنی جماعت کے نظریے، دستور اور قیادت کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کی طویل سیاسی و نظریاتی جدوجہد میں ایسے کارکنوں کی ایک قابلِ قدر تعداد موجود ہے جنہوں نے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر جماعتی خدمت کو اپنا مقصد بنایا۔ حاجی آمان اللہ اچکزئی بھی انہی مخلص اور نظریاتی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ حاجی آمان اللہ اچکزئی اس وقت جمعیت علماء اسلام تحصیل سٹی چمن کے جنرل سیکرٹری، ضلع چمن کے ضلعی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور ڈسٹرکٹ کونسل چمن کے چیئرمین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ان کے لیے یہ عہدے محض منصب یا اختیارات کا نام نہیں بلکہ عوام اور جماعت کی خدمت کی ذمہ داری ہیں۔ ان کی سیاسی و جماعتی زندگی کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ موجودہ ذمہ داریوں تک ان کا سفر اچانک شروع نہیں ہوا بلکہ کئی برسوں کی مسلسل جدوجہد، تنظیمی وابستگی اور نظریاتی استقامت کے بعد یہاں تک پہنچا ہے۔ حاجی آمان اللہ اچکزئی نے جمعیت علماء اسلام حلقہ بوغرہ یونین چمن کے سیکرٹری جنرل اور امیر کی حیثیت سے دو دہائیوں سے زائد عرصے تک جماعتی خدمات انجام دیں۔ یہ ایک طویل مدت ہے جس میں سیاسی حالات بدلتے رہے، مشکلات آتی رہیں، ترجیحات تبدیل ہوتی رہیں مگر ان کی جماعتی وابستگی میں کوئی کمزوری نہیں آئی۔ یہی مستقل مزاجی کسی بھی نظریاتی کارکن کی اصل پہچان ہوتی ہے۔ راقم الحروف حافظ محمد صدیق مدنی خود بھی حاجی آمان اللہ اچکزئی کے ساتھ اس طویل جماعتی سفر میں شریک رہا ہے۔ قریب سے مشاہدے کی بنیاد پر یہ بات پورے اطمینان کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ان کی شخصیت میں جماعتی خدمت، اخلاص اور وفاداری نمایاں خصوصیات ہیں۔ انہوں نے جماعتی ذمہ داریوں کو محض رسمی طور پر ادا کرنے کے بجائے انہیں ایک امانت سمجھ کر نبھانے کی کوشش کی۔ جمعیت علماء اسلام ایک نظریاتی اور دینی سیاسی جماعت ہے جس کی سیاست کا بنیادی محور دین، جمہوریت، آئین، عوامی حقوق اور ملک و قوم کی خدمت ہے۔ ایسے ماحول میں کارکن کے لیے ضروری ہے کہ وہ وقتی سیاسی حالات اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے نظریے کے ساتھ وابستہ رہے۔ حاجی آمان اللہ اچکزئی کی طویل جماعتی وابستگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انہوں نے جماعتی سفر کو محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے طور پر لیا۔ ایک مخلص کارکن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ عہدے کے بغیر بھی جماعت کے لیے کام کرے اور عہدہ ملنے کے بعد بھی اپنے آپ کو کارکن ہی سمجھے۔ حاجی آمان اللہ اچکزئی کی شخصیت میں یہی پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ انہوں نے طویل عرصے تک تنظیمی سطح پر ذمہ داریاں ادا کیں اور کارکنوں کے ساتھ رابطہ برقرار رکھا۔ یونٹ اور حلقہ کی سطح پر جماعتی تنظیم کو فعال رکھنا، کارکنوں کے ساتھ رابطے میں رہنا اور مشکل وقت میں جماعت کے ساتھ کھڑے رہنا آسان کام نہیں ہوتا، مگر یہی وہ عملی خدمات ہیں جو کسی کارکن کے اخلاص کو ثابت کرتی ہیں۔ سیاسی زندگی میں عہدے آتے جاتے رہتے ہیں۔ آج کوئی ذمہ دار ہے تو کل کوئی دوسرا اس منصب پر فائز ہو سکتا ہے لیکن ایک نظریاتی کارکن کی اصل پہچان اس کی طویل جدوجہد اور مشکل وقت میں ثابت قدمی ہوتی ہے۔ حاجی آمان اللہ اچکزئی کی دو دہائیوں سے زائد جماعتی خدمات اس اعتبار سے قابلِ تحسین ہیں کہ انہوں نے مسلسل تنظیمی کردار ادا کیا اور جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے رہے۔ ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ جماعتی معاملات میں کارکنوں کے ساتھ تعلق اور رابطے کو اہمیت دیتے ہیں۔ کسی بھی سیاسی تنظیم کی مضبوطی کا انحصار اس کے نچلی سطح کے کارکنوں پر ہوتا ہے۔ اگر قیادت اور کارکن کے درمیان رابطہ مضبوط ہو تو جماعت مشکل حالات میں بھی اپنی تنظیمی قوت برقرار رکھ سکتی ہے۔ حاجی آمان اللہ اچکزئی نے اپنے طویل تنظیمی تجربے کے دوران اسی رابطے اور تنظیمی وابستگی کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ آج جب وہ ڈسٹرکٹ کونسل چمن کے چیئرمین کی ذمہ داری بھی انجام دے رہے ہیں تو ان کے لیے خدمت کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔ بلدیاتی ادارے عوام کے بنیادی مسائل کے حل کا اہم ذریعہ ہوتے ہیں اور اس منصب پر فائز شخص سے عوامی خدمت، دیانت داری اور ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ ان کی جماعتی زندگی کا تجربہ اس عوامی ذمہ داری میں یقیناً معاون ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ طویل سیاسی و تنظیمی جدوجہد انسان کو عوام کے مسائل، ان کی مشکلات اور ان کی ضروریات کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ حاجی آمان اللہ اچکزئی ان کی خدمات کو محض کسی ایک عہدے یا ایک سیاسی دور تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی جماعتی زندگی کئی برسوں پر محیط ہے اور اس میں مسلسل وابستگی کا عنصر نمایاں ہے۔ ایسے افراد کسی بھی جماعت کا قیمتی اثاثہ ہوتے ہیں، کیونکہ نظریاتی کارکن ہی جماعت کے نظریے کو نسل در نسل منتقل کرتے ہیں۔ راقم الحروف کے لیے بھی یہ سفر محض ایک سیاسی تعلق نہیں بلکہ ایک طویل رفاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس رفاقت کے دوران حاجی آمان اللہ اچکزئی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس مشاہدے کی بنیاد پر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ان کی شخصیت میں سب سے نمایاں وصف اخلاص ہے۔ وہ جماعتی وابستگی کو ذاتی مفاد کے بجائے ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں اور یہی وصف انہیں اپنے دیگر ساتھیوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مخلص اور نظریاتی کارکنوں کی خدمات کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ نئی نسل کو بھی ان کی جدوجہد سے روشناس کرائیں۔ کیونکہ سیاسی جماعتوں کی تاریخ صرف بڑے جلسوں، انتخابی نتائج اور بڑے عہدوں سے نہیں بنتی اس تاریخ کے پیچھے ایسے کارکنوں کی محنت، قربانیاں، وقت اور اخلاص شامل ہوتا ہے جو خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہتے ہیں۔ حاجی آمان اللہ اچکزئی بھی جمعیت علماء اسلام کے ایسے ہی کارکن ہیں جنہوں نے طویل عرصے تک تنظیمی سطح پر اپنی خدمات انجام دیں اور جماعت کے ساتھ اپنی وابستگی کو برقرار رکھا۔ ان کی دو دہائیوں سے زائد خدمات اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ عہدہ وقتی ہوتا ہے مگر اخلاص اور نظریاتی وابستگی انسان کی اصل پہچان بن جاتی ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حاجی آمان اللہ اچکزئی کو صحت، استقامت اور مزید اخلاص کے ساتھ دین، جماعت اور عوام کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی تمام مخلصانہ کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین۔

7 ستمبر 1974 — یومِ فتح ختمِ نبوت "اَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ"امتِ مسلمہ کے عظیم قائدین بالخصوص فق...
07/09/2026

7 ستمبر 1974 — یومِ فتح ختمِ نبوت "اَنَا خَاتَمَ النَّبِيِّيْنَ لَا نَبِيَ بَعْدِيْ"

امتِ مسلمہ کے عظیم قائدین بالخصوص فقہی امت حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ,
حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ اور جمعیت علماء اسلام کے دیگر اکابر نے قادیانیت کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دلا کر تاریخ رقم کی,

اللہ تبارک و تعالیٰ ان عظیم ہستیوں کی قبروں کو نور سے بھر دے۔
آمین یا رب العالمین 🌹

06/09/2026

اب تو سرکار کے ایوانوں میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ہاں، ہم اسی سال کی کمزوریوں کا نشانہ ہیں۔ بابا! کس کے ہاتھوں؟ تیرے ہی ہاتھوں!

جو لوگ کہتے ہیں کہ نظام فیل ہو چکا ہے، اور کسی ایک خاص زمانی کی بات نہیں کر رہا، میں تو اسی سالہ تاریخ کی بات کر رہا ہوں، تو ہم بھی آپ سے اسی سالہ تاریخ کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن یہ اسی سال کی تباہی تمہاری وجہ سے ہے، کسی اور کی وجہ سے نہیں۔

قتل حسین بھی اور ہائے حسین بھی، یہ نہیں چلے گا۔ ملک کو تباہ کرنے کی تم نے ذمہ داری تسلیم کر لی ہے، اب چھپتے کس چیز کے پیچھے ہو؟

نظام تبدیل کرو۔ نظام کون سا؟ جو اسی سال آپ کے قبضے میں رہا، اب مزید کوئی نیا طریقہ اپنے قبضے میں رکھنے کا۔

تو میں نے کہا، ظالموں! انگریز کے زمانے کے پڑے ہوئے سبق اور وہی روّیے، کم از کم وہ تو تبدیل کر لو۔ اپنے مخالفین کے خلاف رویّوں میں کوئی تبدیلیاں تو لاؤ۔ اگر میری حکومت ہے تو میرے مخالف جیل میں ہونا چاہیے، اگر مخالف کی حکومت ہے تو مجھے جیل میں ہونا چاہیے۔ یہ کوئی سیاست ہے؟ کسی دوسری دنیا میں بھی اس طرح ہوتا ہے؟ تو طریقے تو تبدیل کر لو۔ ذرا معلوم تو کر لو کہ ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے۔

ہمارا امن و امان کہاں کھڑا ہے؟ ہمارے دو صوبے جل رہے ہیں۔ دیہاتوں میں عام آدمی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا، نہ وہ دکان پہ جا سکتا ہے، نہ بچوں کو سکول بھیج سکتا ہے، نہ کھیتوں میں جا سکتا ہے، نہ مزدوری کر سکتا ہے۔ دیہات خالی ہو گئے ہیں۔ کہیں تو زندگی گزارنی ہے۔

اور یہ کہتے ہیں، ہم بیس، پچیس سال سے آپریشن کر رہے ہیں۔ آپریشن پہ آپریشن، تو آپریشن پہ آپریشن! بھئی، کس چیز کا آپریشن؟ جتنا آپریشن کرتے ہو، مرض بڑھتا گیا۔ آپ کی حکمتِ عملی میں ڈیفالٹ کہیں، جھول ہے، کہیں کمزوری ہے۔

میری تنقید کو برا ماننے کی بجائے کہیں اپنی کمزوری بھی تو ٹٹولو۔ ایک دن ۔۔۔اپنے لیے صرف یہ کہ میرے اقتدار پر قبضہ کیسے رہے، بس! چاہے قوم برباد ہوتی رہے۔

ہم بھی مانتے ہیں ریاست اہم ہے، لیکن ریاست عوام سے بنتی ہے۔ عوام کے بغیر ریاست ایک خالی برتن ہے، خالی ڈول ہے۔ کیا حیثیت ہے اس کی؟

حکومت یہ لوگوں کے معاملات کا نظم و تدبیر، انتظام ہے۔ تو ریاست ہو، عوام ہو، حکومت ہو، ان تین چیزوں کے ساتھ ریاست مکمل ہو جاتی ہے۔

جہاں امن و امان نہیں ہے، وہاں معیشت کیا ہوگی؟

آج ہندوستان دنیا کی چوتھی معیشت بن گیا ہے، اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب کے لگ بھگ پہنچ گئے ہیں۔ اور ہمارے ہاں لوگوں سے خیرات مانگ کر کوئی دس گیارہ ارب جمع ہو گئے ہوں گے،۔

کہاں دس گیارہ، کہاں سات سو ارب ڈالر !

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ضلع ساہیوال میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 05 ستمبر 2026

گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ایک ہمسایہ ملک کے سفارتخانے میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب پر جس شدت کے ساتھ واوی...
02/09/2026

گزشتہ دنوں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے ایک ہمسایہ ملک کے سفارتخانے میں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب پر جس شدت کے ساتھ واویلا کیا گیا، آج اسی ملک کے سفیر صاحب کے سامنے سب نے آنکھیں موند رکھی ہیں جبکہ پروپیگنڈا آپریٹرز نا جانے کن کی ایماء پر گامزن ہیں وہ ابھی تک منظر عام سے اوجھل ہیں ، بخدا ان مناظر کو دیکھ کر دلی خوشی ہوئی ، کہ آخر خدا خدا کرکے کفر ٹوٹ رہا ہے ۔

حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب ہمیشہ خطے میں بہتر اور برادرانہ تعلقات کے داعی رہے ہیں۔ ان کا مؤقف کسی وقتی مصلحت یا بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ تبدیل نہیں ہوتا، بلکہ سیاسی بصیرت، قومی مفاد اور حالات کے گہرے ادراک پر قائم ہے۔

اس لئے مولانا صاحب کے ایک سفارتی تقریب میں خطاب پر جن بچونگڑوں کو اُس وقت اچانک حب الوطنی کا مروڑ اٹھا تھا، آج ان کے لئے یہ سب سے شافی علاج ہے کہ وہ اپنے کل کے شور اور آج کی خاموشی کا موازنہ کرلیں کہ تمہارا بیانیہ تو ایک ہفتہ بھی نہ چل سکا، جبکہ مولانا فضل الرحمٰن اپنی بصیرت اور حالات کے درست ادراک کی بنیاد پر برسوں قبل ان حقائق کو بھانپ چکے تھے۔

جن تعلقات کی بہتری اور استحکام کو آج ضروری سمجھا جا رہا ہے، مولانا فضل الرحمٰن ہمیشہ اس حقیقت کے داعی رہے ہیں کہ خطے کے ممالک کے درمیان کشیدگی کے بجائے باوقار، متوازن اور مضبوط تعلقات ہی امن اور قومی مفادات کے لیے بہترین راستہ ہیں۔

اور وہ دیہاڑی دار سن لیں ! ہم ایسے وقتی پروپیگنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ کل جنہیں حب الوطنی کا دورہ پڑا ہوا تھا اور آج وہی منظر بدلتے ہی خاموش ہیں، ان کی یہ خاموشی خود ان کے پروپیگنڈے کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

ان میں اور ہم میں فرق صرف اتنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن صاحب حالات کو اپنی سیاسی بصیرت سے پہلے ہی بھانپ لیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ حکم آنے کے بعد آنکھیں کھولتے ہیں اور حکم بدلنے پر اپنا بیانیہ ، اور نظریہ بھی بدل دیتے ہیں۔

حب الوطنی کے نام پر مولانا صاحب کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کے منہ پر آج کے یہ مناظر ہی کڑاکے دار طمانچہ ہیں ۔
ان شاءاللہ جلد دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین مضبوط اور شاندار تعلقات استوار ہوں گے۔

جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کی لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو لاڑکانہ۔نئے صوبوں اور صوبوں کی تقسیم کا سوال پہ...
31/08/2026

جے یو آئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کی لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو

لاڑکانہ۔نئے صوبوں اور صوبوں کی تقسیم کا سوال پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔دنیا کے مختلف میں صوبے بنتے ہیں لیکن یہاں نہ ماحول ہے اور نہ تیاری ۔ مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔جب ماحول اور تیاری نہ ہو تو تباہی ہوتی ہے ۔ مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔18ویں ترمیم میں صوبوں کو ملنے والے وسائل ہضم نہیں ہورہے ۔ مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔غیر سیاسی لوگوں کے زبان پر ایسی باتیں لائی جارہی ہیں جن کی کوئی حیثیت نہیں۔ مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔پیپلزپارٹی کے خلاف بھی سب سے بڑی تحریک چلائی اور ایم آر ڈی میں ساتھ رہے مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔سیاست میں کوئی آخری حد نہیں ہوتی مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔2018 اور 2024 کے انتخابات کو تسلیم نہیں کرتے مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔ہمیں عوام کی جانب سے پذیرائی مل رہی ہے مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔اگر کوئی سیاستدان امن امان اور معاشی صورت حال کو نظر انداز کرے تو اس سے زیادہ غلط اور کچھ نہیں مولانا فضل الرحمن

لاڑکانہ۔تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کی بات کی ہے مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔ہمارا تو مطالبہ ہوگا کے انتخابات میں کوئی ادارہ مداخلت نہ کرے مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔اس موقف میں جتنا عوام شامل ہوگی اتنی ہماری موقف میں طاقت آئے گی مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔جمہوریت میں یکدم کو انقلابی قدم نہیں اٹھایا جاسکتا مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔ہمارے سیاستدانوں نے حالات سے سمجھوتا اپنے اقتدار بچانے کے لیے کیے مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔ہم سیاست دان اگر ڈٹے رہیں اور دوسروں کو مداخلت کی اجازت نہیں دیں تب ہی طاقتور ہوسکتے ہیں مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔ملک میں ہونے والی بدامنی نے عوام کی زندگی مفلوج کردی ہے مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔تمام فریقوں سے مشاورت سے ہی اس کا حل نکل سکتا ہے محض طاقت ہی اس مسئلے کا حل نہیں مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔ہمارے ملک میں بہت سے فریق ہیں جو ملک میں کام کررہے ہیں مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔ہم کسی سیاسی آدمی کو جیل میں رکھنے کا حامی نہیں مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔میرا شدید مخالف بھی آزاد ہونا چاہئے کردار کشی کے بجائے اختلاف رائے پر بات کریں۔ مولانا فضل الرحمان

لاڑکانہ۔شادی مجھ سمیت سب نے کی ہوئی ہے بلاول کی شادی کوئی نئی بات نہیں ۔مولانا فضل الرحمان

ملک میں آئین کے خلاف قانون سازیاں کی جارہی ہیں اس لیے اختلاف ہے مولانا فضل الرحمان

ریاست ماں ہے ماں بچوں کو اکٹھا کرتی ہے لڑاتی نہیں مولانا فضل الرحمان

31/08/2026
جمعیت علماء اسلام ضلع چمن کی ضلعی مجلس عاملہ کا ماہانہ اجلاسجمعیت علماء اسلام ضلع چمن کے ضلعی امیر مولانا عبدالمنان صاحب...
30/08/2026

جمعیت علماء اسلام ضلع چمن کی ضلعی مجلس عاملہ کا ماہانہ اجلاس
جمعیت علماء اسلام ضلع چمن کے ضلعی امیر مولانا عبدالمنان صاحب کی زیرِ صدارت آج 30 اگست بروز اتوار بوقتِ شام 4 بجے ضلعی سیکرٹریٹ، کالج روڈ چمن میں ضلعی مجلس عاملہ کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ موسیٰ کلیم صاحب نے حاصل کی۔
اجلاس میں چمن شہر کی موجودہ امن و امان کی صورتحال سمیت مختلف اہم جماعتی امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اراکینِ مجلس عاملہ نے امن و امان کی صورتحال اور عوام کو درپیش مسائل کے حوالے سے اپنی آراء اور تجاویز پیش کیں، جبکہ تنظیمی و جماعتی امور کو مزید فعال اور مؤثر بنانے کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں دیگر اہم جماعتی امور بھی بہ اجازتِ امیر ضلع مولانا عبدالمنان صاحب زیرِ غور آئے، اور تنظیمی معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے باہمی مشاورت سے مختلف امور پر غور کیا گیا۔
ضلعی امیر مولانا عبدالمنان صاحب نے جماعتی نظم و ضبط، باہمی اتحاد، عوامی مسائل کے حل اور جماعتی سرگرمیوں کو مزید منظم و فعال بنانے پر زور دیا۔
جاری کردہ:
عبدالوارث جانثار
ضلعی ترجمان، جمعیت علماء اسلام ضلع چمن
JUI Digital Media Cell District Chaman

30/08/2026

Address

Chaman

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JUI Digital Media Cell District Chaman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share