What is the Famous as Chinioti Food ???
CHINIOT : The Land Of Heritage
CHINIOT : The Land Of Heritage. Wikipedia
Weather: 9°C, Wind 0 km/h, 100% Humidity
Population: 172,522 (1998) UNdata
Local time: Thursday 3:12 am.
Chiniot
City in Pakistan
Chiniot is a city and the administrative headquarter of Chiniot District, in the state of Punjab, Pakistan.
چنیوٹ دا لینڈ آف ہیریٹیج
فیس بک پیج کے لیے ماڈریٹر ، مینجر کی ضرورت ہے
جو چنیوٹ کا مقامی رہائشی ہو۔
کم از کم چنیوٹ شہر سے متعلق ایک پوسٹ کر سکتا ہو۔ چنیوٹ شہر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے ۔
اور شہر کے مساءل ہو سامنے لائے اور لوگوں کو معلومات فراہم کر سکے۔
منجانب۔ ایڈمن ۔
چنیوٹ دا لینڈ آف ہیریٹیج
فیس بک پیج کے لیے ماڈریٹر کی ضرورت ہے
جو چنیوٹ کا مقامی رہائشی ہو۔
کم از کم چنیوٹ شہر سے متعلق ایک پوسٹ کر سکتا ہو۔ چنیوٹ شہر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکے ۔
اور شہر کے مساءل ہو سامنے لائے اور لوگوں کو معلومات فراہم کر سکے۔
منجانب۔ ایڈمن ۔
05/05/2021
Watch and explore the beautiful city chiniot
👇👇👇
A visit to chiniot | Best Tourist App| Famous things of chiniot | Enjoy on profit | Online earning Hi every one !This is the video in which i will introduce an app by punjab tourism department for almost 36 cities of punjab.Moreover,i will share my recent ...
برستی آگ اور چنیوٹ کا مندر
پچھلے چند برسوں سے دریائے چناب کے کنارے آباد شہر چن اوٹ کے بارے میں بہت کچھ سُن اور پڑھ رکھا تھا تب سے اندر اک طلب تھی کہ جلد از جلد اپنے قدرتی ہائی ریزونینس اور مگنیفیکیشن والے دو عدد لینز کی مدد سے اس شہر کا مشاہدہ کروں۔گر میوں کی اک شاندارصبح ،جسم و جاں یک دم تازہ ،دل و دماغ کھوج کے فتور سے بھرپور،میرے ہمراہ میرا سفری دوست اور سرگودھا سے چنیوٹ کی سمت گامزن۔ڈیڑھ سےدو گھنٹے کی مسافت کے بعد سڑک کے کنارے اک بورڈ آویزاں جو کہہ رہا تھا کہ چنیوٹ شہر آپکا استقبال کرتا ہے بنا پھولوں کے۔خیر ہم پھر بھی چہرے پہ مسکراہٹ سجائے شہر میں داخل ہو گئے۔اپنے معمول کے مطابق ناشتے میں ملک شیک کا ایک گلاس اپنے حلق کے پار اُتارا۔کیونکہ میری ایک عادت ہے میں جب بھی کسی مہم پہ ہوتا ہوں تو مجھے کھانے پینے کی اتنی طلب نہیں ہوتی میری اولین ترجیح ہوتی ہے زیادہ سے زیادہ قدرت اور تاریخ کے نظاروں سے لطف اندوز ہو سکوں۔لوگوں کا کہنا ہے کہ پیٹ بھرا ہو تو تب ہی کھوج لگائی جا سکتی ہے پر میرا ماننا ہے کہ آورگی کا فتور ہی سب سے بڑی انرجی ہوتا ہے۔معزرت ،واپس چنیوٹ آتے ہیں ناشتے سے فارغ ہو کر اب وقت تھا شہر کی گلیوں و سڑکوں کو چھاپنے کا۔اندرونِ شہر جا کر قیامِ پاکستان سے قبل کی عمارتیں ،گھر،تنگ گلیاں دیکھ کر مجھ پہ انکشاف ہوا کہ اس سے قدیم شہر جو ابھی تک وہ فنِ تعمیر اور ورثہ سنبھالے ہوئے ہے میں نے ابھی تک نہیں دیکھا ۔مجھے رشک آرہا تھا وہاں کے باسیوں پر جنھوں نے اس جدت پسند دور میں بھی بہت سی جگہوں کو منُ عین محفوظ کر رکھا تھا اب جا کر احساس ہوا کہ دراصل شہر والوں نے ہمارے لیے پھولوں کے ہار اس شکل میں رکھے ہوئے تھے۔
کچھ قدیم عمارتوں کی چمک بالکل ماند پڑ چکی تھی اور میں اپنے آپ سے ہی کہہ رہا تھا کچھ باذوق لوگوں کو اس تاریخی اور ثقافتی ورثے کی پھر سے آرائش و زیبائش کرنی چاہیے۔مجھے چند اور تاریخ سے لبریز مقامات دیکھنے تھے جن میں سے ایک چنیوٹ کی شاہی مسجد جس کا ذکر اس سے قبل ایک پوسٹ میں کر چکا ہوں اور ایک اور مسحورکن درسگاہ جس پر روشنی آنے والے دنوں میں ڈالوں گا۔ہر عمارت اپنے آپ میں ایک داستان تھی کچھ بہت پر رونق اور کچھ اپنی خستہ حالی کا چیخ چیخ کر بتا رہی تھی۔خیر پوچھتے پوچھاتے میں اپنی زیرِ ذکر منزل پر پہنچا جس کو کرتاری لال یا کلاں مندر سے بھی پکارا جاتا تھا۔یہ شہر کے محلہ لاہوری گیٹ میں مندر روڈ پر ہی واقع ہے۔دن کے ۱۲ بج چکے تھے اور سورج تیس کروڑ میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے زمین کی طرف لاوا پھینک رہا تھایہ تو بھلا ہو Ozone لیئر کا جو اس کو کافی حد تک قابل برداشت بنا دیتی ہے حالانکہ جون کےماہ میں اتنی تپش بھی مٹی کے پُتلوں کو پکانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ جب مندر کے بالکل قریب پہنچے تو ہمیں اُس کی کوئی راہ داری نظر نہ آئی۔خود سے مخاطب ہو کہ کہا کہ کیا یہ کوئی جادوئی مندر ہے جس کا کوئی دروازہ نہیں یا پھر ہو سکتا ہے تب کے حالات کے پیشِ نظر اس کی طرز تعمیر ہی ایسی کی گئی ہو جس میں کوئی زیرِ زمین خفیہ دروازہ رکھا گیا ہو۔تجسس کے مارے ایک اہلِ علاقہ سے دریافت کیا کہ یہ کیا ماجرہ ہے تو انھوں نے راہنمائی کی مندر میں تو پرائمری سکول بن چکا ہے جس کا وہ سامنے اوپر بورڈ لگا ہوا ہے اور نیچے دو کلو کا وزنی تالا ۔جو کہ آج کل تعطیلات کی وجہ سے بند ہے اور یوں چاچا جی نے میرے تجسس کو اضطراب میں بدل دیا۔
خیر میں نے بھی ٹھان لی کہ اب آئے ہیں تو دیکھ کر ہی جائیں گے۔چند قدم آگے بڑھےاک دُکاندار سے سلام دعا کے بعد عرض کی کہ اس عمارت تک جانے کا کوئی رستہ یا طریقہ ہوگا۔اُن کی طرف سے مثبت جواب سُن کر دلِ مضطرب کو کسی حد تک قرار آ ہی گیا۔انہوں نے بتایا کہ فلاں حلوائی کی دُکان پہ جاؤ اُن کی چھت اور مندر کی دونوں منسلک ہیں یہ ہی ایک واحد رستہ ہے ہم بھی ہمت کر کے چلے گئے اپنی بے چینی اُن کے گوش گزار کی اور انھوں نے خندہ پیشانی سے ہمیں اجازت دے دی۔میرا دل باغ باغ ہو گیا یہ ایسے تھا جیسے مجھے کسی نے بہت قیمتی تحفہ دیا ہو۔پتہ چلا کہ ایک دقت ہے کہ مندر کی چھت اور دیوار ان کی چھت سے کافی اونچی ہے اُسے چڑھ کر پھلانگ کہ ہمیں دوسری طرف جانا ہوگا۔اور ہم جیسے ایڈوینچر کرنے والو کو اور کیا چاہیے تھا ہم نے خوش دلی سے اس چیلنج کو قبول کیا اور سیڑھیاں چڑھنے لگے چند ہی لمحوں میں ہم اُس دیوار کو دیکھ رہے تھے جس کو پار کر کہ ہمیں کسی انتظار کرنے والے کو ملنے جانا تھا اوپر سورج بابو بھی اس مہم میں ہمارا پورا پورا ساتھ دے رہے تھے کہ کہیں ہمارے جزبے ٹھنڈے نہ پڑ جائیں ۔اللہ کا نام لیا اور سپائیڈر مین کی شکل اختیار کرتے ہوئے تھوڑی سے دشواری کے بعد ہم نے منزل پا لی اور اُس وقت ہماری کیفیت کیا تھی وہ ہمارا لباس بتا سکتا تھا جو کہ ہمارے پورے جسم سے نکلنے والے خوشی کے آنسوں سےتر ہو چکا تھا۔میں نے بڑے عمیق انداز میں ساری عمارت کا جائزہ لیا۔اس کی تین منزلیں تھی سب سے زیریں میں سکول قائم کر دیا گیا تھا درمیانی خستہ حالی کی وجہ سے بند پڑی تھی جب کہ بالائی جس پہ ہم موجود تھے یہ بھی چند بوسیدہ چوبرجیوں اور کلس پر مشتمل تھی مگر اس کی طرز تعمیر خوشنما تھی وہاں بیٹھے میں تخیالات کی دنیا میں چلا گیا جو ایک اور لمبی داستان ہے یہاں بیان نہیں کر سکتا ۔اس دوران ہائی ڈگری کی پڑتی تپش بھی مجھے محسوس نہیں ہورہی تھی ساتھ ہی ساتھ مجھے اس کی اُجڑی ہوئی حالت پہ ترس بھی آ رہا تھا میرا ماننا ہے کہ ثقافت کا تعلق مٹی سے ہوتا ہے مذہب سے نہیں۔تو ہمارے محکمہ اوقاف کو اس ثقافتی ورثے کی طرف توجہ مبذول کرنی چاہیے۔چند حسین لمحات وہاں گزارنے کے بعد بوجھل قدموں کے ساتھ بہت سی یادیں سمیٹتے ہوئے میں نے واپسی کی راہ اختیار کی۔جب مڑتے ہوئے میں اُس کی دیواروں کو ہاتھ لگا رہا تھا تو میں اُن میں اُس کے معماروں کی انگلیوں کی نرماہٹ محسوس کر رہا تھا۔ختم شُد
لکھاری:شیراز اکمل
12/11/2020
29/10/2020
شاہی مسجد چنیوٹ سے متعلق خوبصورت ویڈیو
https://lm.facebook.com/l.php?u=https%3A%2F%2Fyoutu.be%2F8tczTLtdDw8%3Ffbclid%3DIwAR1lmouRHXWH1A6OvrSsKi30uYTp_EUvPzC9L-juvvzQyzNHguH1PM3OCG8&h=AT2fGjK12AzpAqxcbkWBsCkTwhi6dhYocB72OLowBm4O21UbNJPgKu_JY7a5Abx8cMGsZpKnCOyq0O-1EXkkxBa7u9wFvKcfzBdagTKRXzWpKETpx5iS2aEXomf_WmjIfKnG
Shahi Masjid Chiniot | Historical Places in Chiniot | Visit To Badshahi Mosque Chiniot - YouTube Shahi Masjid Chiniot | Historical Places in Chiniot | Visit To Badshahi Mosque Chiniot
26/06/2019
Preparation Building in district chiniot Pakistan.
Photo by : Babar shah .
شہر چنیوٹ سے رہنے والے دوست جو اس پیج کو چلا سکیں رابطہ کریں۔ ان کو مینجر بنایا جائے گا ۔ ایسے لوگ رابطہ کریں جو شہر کی تازی ترین تصاویر اور معلومات شئیر کر سکیں۔
ایڈمن چنیوٹ دی لینڈ آف ہیرٹیج ۔
05/05/2019
پاکستان میں"لکڑی کی شاعری کا دنیا کا اکلوتا دلکش محل"، فن تعمیر کا شاہکار و نادر نمونہ "عمر حیات محل، چنیوٹ" ۔
تحقیق و تحریر شاہد محمود، ایڈووکیٹ ہائیکورٹ
مئی 4 سال 2019ء، بروز ہفتہ، لاہور
عمر حیات محل جو گلزار منزل اور گلزار محل کے نام سے بھی معروف ہے، دنیا بھر میں پاکستان کے شہر چنیوٹ کی خاص پہچان ہے جسے دیکھنے کے لئے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔
چنیوٹ شہر کے وسط میں بنی لکڑی کی یہ عمارت نایاب مغل و ایرانی فن تعمیر کا حسین نمونہ ہے۔ اس کے دروازوں، کھڑکیوں، دیواروں، چھت و فرش پر بنے نقش و نگار انتہائی نایاب، خوبصورت و دلکش ہیں۔ خوبصورت رنگوں والی کھڑکیوں پر سے نظر ہٹائے نہیں ہٹتی۔ عمارت کی دیواریں، سیڑھیاں، بالکونیاں، چبوترا اور چھتیں بھی فن تعمیر کا نادر و نایاب حسین نمونہ ہیں جو اپنے بنانے والوں کے ہنر کی داد والوں تحسین کا آج بھی دنیا بھر میں باعث ہیں۔ عمارت میں خوبصورت سنگ مرمر کا کام بھی اس کے حسن کو جلا بخشتا ہے۔
اٹھارھویں صدی عیسوی کے اواخر اور انیسویں صدی عیسوی کی شروعات میں برصغیر پاک و ہند کی مایہ ناز کاروباری شیخ برادری کے کئی افراد نے کلکتہ سے چنیوٹ ہجرت کی جن میں سے ایک ممتاز نام شیخ عمر حیات کا ہے جو اپنے وقت کے ایک انتہائی کامیاب و خوشحال تاجر تھے۔
چنیوٹ کی شیخ برادری بلاشبہ انسانی قابلیت کے اعلٰی معیار کا نمونہ ہے۔ یہ لوگ اپنی محنت، کاروباری فطانت اور محتاط رویوں کے سبب پچھلے تین سو سال سے برصغیر پاک و ہند کی تجارت میں نمایاں ترین مقام رکھتے ہیں۔ چھوٹی عمر کی شادیاں، بزرگوں کا احترام اور انتہائی منظم طور پر ایک دوسرے سے پیوستہ خانگی زندگیاں، ان کی شناختی علامات ہیں۔ شیخ عمر حیات کا تعلق بھی انسانوں کے اسی باکمال گروہ سے تھا۔ دوسری طرف چنیوٹ میں ہی الٰہی بخش پرجھا جیسا فن کار بھی اپنی طرز کا ایک جداگانہ منعم تھا، جس کے ہاتھ میں آتے ہی لکڑی موم ہو جاتی تھی اور اس کی شہرت برطانیہ کے بکنگھم پیلس تک پھیل چکی تھی اور ملکہ برطانیہ اپنے محل کی تزئین و آرایش کے لئے بھی الٰہی بخش کے ہنر کی دلدادہ تھی۔
شیخ عمر حیات نے اپنے اکلوتے پیارے و لاڈلے بیٹے گلزار کے لیے ایک شاندار محل بنانے کا فیصلہ کیا تو نظر انتخاب الٰہی بخش پرجھا پر پڑی تو اس کو بلا کر کہا کہ وہ اپنے بیٹے کے لئے شاندار و منفرد محل تعمیر کروانا چاہتا ہے، جو شان و شوکت اور خوب صورتی کا نادر نمونہ ہو۔ کہتے ہیں کہ الٰہی بخش نے جواب دیا کہ تمھارا سرمایہ میرے فن کا بوجھ نہیں ا ٹھا سکتا۔ لیکن بالآخر دونوں کی گفتگو کا حاصل عمر حیات محل کی صورت سن 1922ء میں بننا شروع ہوا۔ عمر حیات نے اپنے وقت کی معروف شخصیت سید حسن شاه کو نگرانی پر مامور کیا۔ جنہوں نے الٰہی بخش پرجھا اور برصغیر پاک و ہند سے اپنے اپنے فن کے ماہر کاریگروں کی مدد سے دس سال کی شبانہ روز محنت سے سن 1935ء میں محل کی تعمیر و تزئین مکمل کی لیکن شومئی قسمت کہ محل کی تعمیر مکمل ہونے سے صرف دو ماہ قبل (بعض روایات کے مطابق دو سال قبل) عمر حیات کا انتقال ہو گیا جب کہ اس کا بیٹا کہا جاتا ہے کی صرف پندرہ برس کا تھا۔
اس زمانے میں چار لاکھ روپے کی خطیر رقم سے تیار ہونے والے اس محل میں تہ خانوں کو ملا کے پانچ منزلیں ہیں۔ چودہ مرلے پر محیط اس عمارت کے باہر بعد میں شاندار باغ بھی تعمیر کیا گیا۔
عمر حیات کی بیوہ نے تین سال بعد اپنے بیٹے گلزار محمد کی 1938ء میں شاہانہ انداز میں شادی کی جس میں کہا جاتا ہے کہ چنیوٹ کا ہر خاص و عام مدعو تھا لیکن قسمت کے کھیل دیکھیں کہ گلزار محمد اپنی شادی کے اگلے ہی دن پراسرار طور پر موت کا شکار ہو گیا۔ اپنے اکلوتے بیٹے کی ناگہانی موت سے گلزار محمد کی والدہ کو ایک اور بڑا صدمہ پہنچا۔ ماں نے اپنے بیٹے کو محل کے صحن میں دفن کروایا اور اُس کی موت کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے خود بھی اس دُنیا سے جلد ہی رُخصت ہو گئی اور وصیت کے مطابق انھیں بھی بیٹے کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ یوں یہ محل اپنے ہی مکینوں کا مقبرہ بن گیا۔ ان سانحات کے بعد خاندان کے باقی لوگ اس محل کو منحوس تصور کر کے اس محل کو چھوڑ گئے۔ کچھ عرصہ کے لئے اس محل میں یتیم خانہ قائم رہا لیکن محل کی نگہداشت نہ ہونے کے باعث عمارت زبوں حالی کا شکار ہوتی گئی اور بالائی حصے کی چھت گر کر تباہ ہو گئی تو یتیم خانہ کہیں اور منتقل ہو گیا اور امتداد زمانہ کے ہاتھوں اس محل پر عرصہ تک مختلف لوگوں نے قبضہ کیے رکھا اور عمارت کو کافی نقصان پہنچایا۔ لیکن اس محل کی خوبصورتی، شہرت و تاریخی اہمیت کے پیش نظر نظر حکومت نے سن 1989ء میں اس محل کو اپنی حفاظت میں لیتے یہاں سے ناجائز قبضہ ختم کیا اور خطیر رقم سے محل کی ازسرنو تعمیر و تزئین کی۔ اب اس محل میں لائبریری، ثقافتی مرکز اور میوزیم قائم ہے۔ 7 جون 1990ء میں اسے عام لوگوں اور سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا اور اب شہر کے عین وسط میں واقع اس محل میں قائم لائبریری میں علم کی پیاس بُجھانے والوں کا رش لگا رہتا ہے۔
محل میں میوزیم بھی قائم کیا گیا ہے جہاں عمر حیات اور ان کے اہل خانہ کے استعمال میں آنے والی چیزیں رکھی گئی ہیں۔
عنر حیات محل کے احاطے میں داخل ہوں تو نظر ایک شاہکار جھروکے پر جا رکتی ہے، جس کے نیچے داخلی دروازہ ہے۔ محل کے اس مرکزی دروازے کے ساتھ ایک تختی پر ان کاریگروں کے نام درج ہیں جنھوں نے اس ہنرمندی کے شاہکار اس محل کے خواب کو تعبیر سے ہم کنار کیا اور دوسری طرف ایک تختی پر ان اصحاب کا ذکر ہے، جنھوں نے اس تاریخی ورثے کو موجودہ شکل میں بحال کیا۔
اب بات ہو جائے فن کے شاہکار جھروکے کی۔ پانچ کھڑکیوں اور دوپہلو دریچوں پر مشتمل اس جھروکے کو فن کے دلدادہ لکڑی کی شاعری کہتے ہیں۔ دیوار سے قدرے باہر کو نکلتے ہوئے اس چوبی شاہ کار کو سہارا دینے کے لیے لکڑی کے آٹھ ستون بنائے گئے ہیں۔ پانچوں کھڑکیوں کے پٹ جُڑے ہوئے ہیں، جو باہر کو بند ہونے پر ایک بیل کی شکل بناتے ہیں اور اندر کو کھلنے پر پھول کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔
محل کے درمیان خوبصورت صحن میں محل کے تمام کمروں کے دروازے کھلتے ہیں اور ہر کمرے کا فرش اور چھت کا طرز تعمیر ہر دوسرے کمرے سے یک سر مختلف اور انتہائی دل کش ہے۔ عمر حیات نے اکثر کمروں میں اپنے نام کے حروف مختلف انداز میں کندہ کروا رکھے تھے۔ کسی کمرے میں U کے درمیان H پیوست ہے، تو کہیں پھول کی پتیوں میں U اور H کی تکرار ہے۔ کھڑکیوں پر چڑھا طلائی رنگ اب بھی ماند پڑنے سے منکر ہے۔ اور اٹلی سے منگوائے کھڑکیوں میں جڑے شیشے اب بھی رنگ و نور کی داستان بکھیر دیتے ہیں۔ ایک کمرے میں ٹائل اپنی جگہ سے اکھڑی تو اس کی پشت پر جاپان کی کسی فیکٹری کی مہر ثبت تھی۔ اس محل کی تعمیر میں کوئی ایک چیز ایسی نہیں تھی جو اعلٰی ترین معیار کی نہ ہو۔ محل کی سیڑھیوں پر لکڑی کے تختے منڈھے ہیں تا کہ سیڑھیاں چڑھتے اترتے وقت دھمک کا احساس دماغ تک نہ پہنچے۔ جس رنگ کی پچی کاری نیچے کی دیواروں پر چلی ہے، ویسے ہی نقش نگاری اوپر کی منزل میں بھی ہوئی ہے۔ پہلی منزل کی چھت اطالوی کلیسائوں کی طرز پر بنائی گئی ہے، جس پہ چاروں اطراف ہندوستان کے تاریخی مناظر کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ تاج محل سے شالامار باغ اور کانگڑہ کی پہاڑیوں سے جے پور کے مناطر تک بنانے والے نے اس وقت کا پورا ہندوستان اس چھت میں سنیاسی ندرت و مہارت سے بنا ڈالا ہے۔ دروازوں کے قبضوں سے لے کر درزوں اور چوکھٹوں تک لکڑی پر شاعری کا گمان ہوتا ہے۔
یہ وہ محل ہے جو اپنے مکینوں کا مزار بھی ہے اور دیا بھر میں پاکستان کی ثقافت و ہنرمندی کا اخبار بھی ہے۔ اس کی مسلسل تزئین و آرائش و بحالی و بین الاقوامی سطح پر اس کی تاریخی اہمیت اجاگر کرتے رہنے سے "لکڑی کی شاعری کے دنیا کے اکلوتے دلکش محل" کی طرف سیاح بے ساختہ کھنچے چلیں آئیں گے۔
26/07/2018
چنیوٹ کی بادشاہی مسجد نواب سعد اللہ خان نے 1655ء میں تعمیر کروائی تھی۔
What is Heritage ? How to Save it .
Must See Interview Chairman of LSF Syed Faizan Naqvi at Sohni Dharti Prgrame Urdu Point .
Sep Thanks Chand Shakeel And Urdu Point team .
ورثہ کیا ہوتا ہے؟ قومی ورثے کے تحفظ کیلئے کیا اقدامات کیے جاسکتے ہیں؟ نوجوان نسل کو اپنے قومی ورثے سے کیسے آشنا کروایا جاسکتا ہے؟ جانیئے ریسرچ سکالر سید فیضان نقوی المشہور "لاہور کا کھوجی" سے۔۔۔ پروگرام "سوہنی دھرتی پاکستان"۔۔۔ چاند شکیل کے ساتھ
https://www.facebook.com/urdupoint.network/videos/10156565094662044/
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Website
Address
Chiniot
35400
