21/05/2026
اپر چترال والو!
کیا آپ اپنے ایم این اے کی آواز بننے کیلئے تیار ہیں؟ ✊💚
عوامی حقوق، انصاف اور اپنے نمائندے کی رہائی کیلئے عظیم الشان “رہائی موومنٹ” احتجاجی جلسہ اب
📍 بونی ہیڈکوارٹر، اپر چترال
📅 3 جون 2026، بروز بدھ
⏰ صبح 10 بجے
منعقد ہوگا۔
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات کے باعث جلسے کی تاریخ میں معمولی تبدیلی کی گئی ہے، مگر جذبہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔
تمام کارکنان، نوجوانوں اور غیور عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل ہے کہ میدان سجائیں اور اپنے ایم این اے کے ساتھ وفاداری کا عملی ثبوت دیں۔
“قید سے نہیں دبتی آوازیں،
عوام جب جاگ اٹھیں تو تاریخ بدل جاتی ہے!” ✌️🔥
منجانب: زبیر احمد چترالی
سابق جنرل سیکرٹری انصاف یوتھ ونگ ڈسٹرکٹ لوئر چترال 💚
02/05/2026
شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر سنگ باری: چترال کی سیاست کا "انوکھا" انصاف
فیسبک پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں مغفرت شاہ صاحب نے چترال کی سیاست اور چند اہم معاملات پر تفصیلی گفتگو کی۔ ان کی باتوں میں تین بنیادی نکات نمایاں تھے:
(1) پی ٹی آئی حکومت اور ضلعی انتظامیہ پر کرپشن کے الزامات،
(2) مسٹر طلحہ محمود کی چترال کی سیاست میں شمولیت پر اعتراض،
(3) ارندو کے عوام اور وہاں موجود لکڑی (ٹمبر) کے حوالے سے سخت مؤقف۔
سب سے پہلے کرپشن کے الزامات کی بات کی جائے تو اگر واقعی مغفرت شاہ صاحب کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں، تو محض تقاریر یا بیانات دینے کے بجائے انہیں قانونی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ عدالتیں اسی مقصد کے لیے موجود ہیں کہ ایسے معاملات کی شفاف تحقیقات ہو سکیں۔ مزید یہ کہ وہ خود یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے چترال کی ترقی کے لیے وفاقی حکومت کی حمایت کی، تو ایسی صورت میں ان کے پاس یہ موقع بھی ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو متحرک کریں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سزا دلوائیں۔ صرف الزامات لگانا اور ان پر عملدرآمد نہ کرنا عوام میں ابہام اور بداعتمادی پیدا کرتا ہے۔
دوسری جانب، ان کے اپنے ماضی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ وہ ماضی میں گولین کے ایک اہم ہائیڈرو پاور منصوبے سے دھماکہ خیز مواد کی چوری کے کیس میں گرفتار اور قید رہ چکے ہیں۔ اسی طرح بیجان ہوٹل کے لیے زمین کے حصول میں مبینہ مالی فوائد حاصل کرنے کے الزامات بھی زیرِ بحث رہے ہیں۔ بطور ضلع ناظم، ان پر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے لکڑی کے کاروبار سے وابستہ افراد پر دباؤ ڈالا اور اپنے ذاتی منصوبوں، خاص طور پر ہائیڈرو پاور چینل، کو فائدہ پہنچایا۔ ان تمام باتوں کی موجودگی میں یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو مکمل طور پر شفاف ثابت کریں تاکہ ان کے الزامات کو سنجیدگی سے لیا جا سکے۔
اب اگر مسٹر طلحہ محمود کے معاملے کو دیکھا جائے تو “غیر مقامی” ہونے کا اعتراض ایک حساس اور پیچیدہ مسئلہ ہے۔ ماضی میں مغفرت شاہ نے انتخابات کے دوران سیاسی اتحاد بنانے کی کوشش کی تھی، جس میں انہوں نے مسٹر عبدالاَکبر کو طلحہ محمود کے حق میں دستبردار ہونے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔ اس پس منظر کو دیکھتے ہوئے موجودہ بیانات یہ تاثر دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ اصولی مؤقف سے زیادہ سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
جب ہم پہلے اس معاملے کو اٹھارہے تھے تو تب یہ موصوف اتحاد کی کوشش میں مصروف تھا۔ تب اس کو یہ نظر نہیں ارہا تھا،
کسی بھی جمہوری نظام میں اصل اہمیت عوام کی رائے کو دی جاتی ہے، اس لیے کسی امیدوار کو صرف "مقامی نہ ہونے" کی بنیاد پر مسترد کرنا ایک متنازع مؤقف بن جاتا ہے۔
ارندوگول میں موجود لکڑی کے حوالے سے بھی صورتحال کو اس کے تاریخی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ 2004 سے 2013 کے دوران یہ علاقہ شدید بدامنی کا شکار رہا، جہاں شدت پسند عناصر اور غیر ملکی گروہ سرگرم تھے۔ اس عرصے میں سرکاری رٹ تقریباً ختم ہو چکی تھی، لوگ آزادانہ نقل و حرکت سے محروم تھے، اور لکڑی کی غیر قانونی کٹائی و اسمگلنگ ایک بڑے پیمانے پر جاری تھی۔ ایسے حالات میں مقامی آبادی کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں لگتا۔ اگر واقعی کسی فرد یا گروہ کی ذمہ داری ثابت ہوتی ہے تو اس کے لیے باقاعدہ شواہد، ایف آئی آرز اور سرکاری رپورٹس پیش کرنا ضروری ہے۔ بصورت دیگر زبردستی ضبطی جیسے اقدامات مزید مسائل کو جنم دے سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ بیانات عوامی مسائل کے حل کے بجائے سیاسی دباؤ اور ذاتی مفادات کے حصول کی کوشش معلوم ہوتے ہیں۔ ایسے حساس معاملات میں ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو، ٹھوس شواہد، اور قانونی راستہ اختیار کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ عوام میں اعتماد قائم رہے اور کسی بھی بے بنیاد الزام یا بیان سے معاشرتی ہم آہنگی متاثر نہ ہو۔ جماعت اسلامی جیسی منظم اور اصولی جماعت کے لیے بھی یہ ایک اہم امتحان ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو شفافیت، دیانتداری اور حقیقی عوامی خدمت کے لیے استعمال کرے، نہ کہ ذاتی یا گروہی مفادات کے لیے۔
شیرزادہ وردگ
جنرل سیکرٹری انصاف یوتھ ونگ تحصیل دروش
05/04/2026
آج انصاف یوتھ ونگ تحصیل دروش کی تعارفی میٹنگ کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی، جس کی صدارت صدر عبدالرزاق نے کی، جبکہ میٹنگ کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا۔
میٹنگ میں کابینہ کے تمام ممبران نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر ممبران کا جوش و جذبہ قابلِ دید تھا، اور سب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ ہر سطح پر کام کرتے ہوئے دروش میں تحریکِ انصاف کو مزید مضبوط اور فعال بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
میٹنگ کے دوران مختلف تنظیمی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔ ایک اہم فیصلہ یہ کیا گیا کہ وی سی سطح پر تنظیم سازی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
تمام ذمہ داران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی متعلقہ وی سی میں تنظیم سازی کا عمل ایک ہفتے کے اندر مکمل کریں اور اس حوالے سے پیش رفت سے آگاہ رکھیں۔
انشاءاللہ اس مشترکہ کوشش اور عزم کے ساتھ تنظیم کو مزید مستحکم اور مؤثر بنایا جائے گا
01/04/2026
سننے میں آ رہا ہے کہ زبیر احمد چترالی کو مشیر برائے کھیل بنانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، اور یہ خبر اس وقت میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے۔ اگر یہ فیصلہ حقیقت میں بدلتا ہے تو یہ صرف ایک تقرری نہیں ہوگی، بلکہ چترال کے نوجوانوں کے خوابوں کو نئی زندگی دینے والا ایک تاریخی قدم ثابت ہوگا۔
زبیر احمد چترالی وہ باہمت اور باوفا نام ہے جس نے اپنی جوانی، اپنی صلاحیتیں اور اپنا وقت پاکستان تحریک انصاف کے نظریے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وہ ان کارکنوں میں شامل ہیں جو مشکل ترین حالات میں بھی نہ جھکے، نہ بکے، بلکہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے نظریے پر ڈٹے رہے۔ ان کی جدوجہد صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک مشن ہے—اپنے علاقے کے نوجوانوں کو آگے لانا، انہیں مثبت راستہ دینا اور ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنا۔
اگر زبیر احمد چترالی کو مشیر برائے کھیل بنایا جاتا ہے تو یہ فیصلہ میرٹ، خلوص اور مسلسل جدوجہد کی جیت ہوگا۔ ان کی قیادت میں چترال کے میدان ایک بار پھر آباد ہوں گے، نوجوانوں کو کھیلوں کے بہتر مواقع میسر آئیں گے، اور وہ اپنی صلاحیتوں کو قومی سطح پر منوانے کے قابل بن سکیں گے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ نوجوان کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں، اور ان کی صحیح رہنمائی ہی ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔
یہ تقرری اس بات کا واضح پیغام ہوگی کہ جو لوگ اپنے نظریے کے ساتھ مخلص رہتے ہیں، وقت آنے پر انہیں ضرور عزت اور مقام ملتا ہے۔ زبیر احمد چترالی کی زندگی اس بات کی عملی مثال ہے کہ محنت، وفاداری اور لگن کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
چترال کے نوجوان آج ایک امید کے ساتھ اس خبر کو دیکھ رہے ہیں، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اگر ان کا اپنا ایک سچا، مخلص اور بہادر نمائندہ اس عہدے پر آتا ہے تو ان کے خوابوں کو نئی پرواز ملے گی۔ یہ صرف ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے—اور زبیر احمد چترالی اس ذمہ داری کو نبھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
تحریر: واجد خان سابقہ وائس پریزیڈنٹ انصاف یوتھ ونگ ڈسٹرکٹ لوئر چترال
28/03/2026
سابق معاون خصوصی ڈاکٹر شفقت ایاز نے عمران خان رہائی امن ممبرشپ کی مجموعی ذمہ داری نہایت احسن انداز میں نبھائی۔ محدود وقت کے باوجود ان کی محنت، لگن اور بہترین تنظیمی صلاحیتوں نے ایونٹ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
ان کی انتھک کاوشیں اور ذمہ دارانہ رویہ قابلِ ستائش ہے۔ ہم ان کی خدمات پر دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔
Shafqat Ayaz