غلطی کس کی؟؟؟
غلط کراسنگ اوورلین کی خلاف ورزی نہ صرف قانون شکنی بلکہ جان کا خطرہ بھی
Public awareness message
Safe City DG Khan
Safe, Peaceful and Prosperous Cities of the Punjab
05/06/2026
https://www.facebook.com/share/p/1JVfpKi8mD/
#میراپیارا سوشل میڈیا کمپین کے ذریعے 14 سال بعد بچھڑا ہوا بیٹا عبدالصمد اپنے والد سے مل گیا
بعض اوقات ایک تصویر، ایک ویڈیو یا سوشل میڈیا پر کی جانے والی ایک شیئر برسوں سے بچھڑے ہوئے انسان کو اس کے اپنوں تک پہنچا دیتی ہے۔ "میرا پیارا" سوشل میڈیا کمپین بھی ایسے ہی ہزاروں خاندانوں کے لیے امید کی ایک کرن بن چکی ہے۔
حال ہی میں اس کمپین کے ذریعے 14 برس قبل اپنے خاندان سے بچھڑ جانے والے عبدالصمد کو اس کے والد اور اہلِ خانہ سے ملانے میں کامیابی حاصل ہوئی۔
ضلع قصور کے علاقے چونیاں سے تعلق رکھنے والے بشارت احمد گزشتہ 14 سال سے اپنے گمشدہ بیٹے کی تلاش میں تھے۔ وقت گزرتا رہا، حالات بدلتے رہے، مگر ایک باپ کے دل میں اپنے بیٹے سے ملنے کی امید کبھی ماند نہ پڑی۔
عبدالصمد کی معلومات اور ویڈیو جب میرا پیارا سوشل میڈیا کمپین کے ذریعے عوام تک پہنچائی گئی تو یہ پیغام سعودی عرب میں مقیم اس کے والد بشارت احمد تک بھی جا پہنچا۔ ویڈیو دیکھتے ہی انہوں نے میرا پیارا ٹیم سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ویڈیو میں موجود نوجوان ان کا وہی بیٹا ہے جو 14 برس قبل ان سے بچھڑ گیا تھا۔
بعد ازاں تمام ضروری تصدیقی مراحل مکمل کیے گئے۔ خاندان کی شناخت کی توثیق ہونے پر یہ خوشخبری سامنے آئی کہ عبدالصمد واقعی اپنے خاندان کا وہی بچھڑا ہوا فرد ہے جس کی تلاش برسوں سے جاری تھی۔
یوں 14 سالہ جدائی اپنے اختتام کو پہنچی اور ایک باپ کو اپنے بیٹے سے دوبارہ ملنے کی خوشی نصیب ہوئی۔
میرا پیارا سوشل میڈیا کمپین آج بھی ان گنت خاندانوں کے لیے امید کی ایک کرن ثابت ہو رہی ہے، جو برسوں سے اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔
Case ID: 223597186
گھریلو تشدد صرف ایک فرد نہیں، پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے۔ خاموشی نہیں، آگاہی اور مدد ہی اس کا حل ہے۔
03/06/2026
مزدوری نہیں، تعلیم ہے بچوں کا حق! 🚫👦👶
چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ کسی بھی شکایت کی صورت میں ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی سے رابطہ کریں۔
📱 کال کریں: 15 (پریس 3)
03/06/2026
#مریم نورین دختر محمد #ناصر، عمر تقریباً 5 سال، نند پور ہیڈ مرالہ #سیالکوٹ سے سال #2007 اپریل 27 سے لاپتہ ہے۔
مریم شام تقریباً 6 بجے اپنے والد کے ساتھ مارکیٹ کی طرف گئی تھی، لیکن اس کے بعد آج تک واپس نہ آ سکی۔ محض 5 سال کی عمر میں لاپتہ ہونے والی اس بچی کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
مریم کے والدین نے متعلقہ پولیس اسٹیشن میں FIR بھی درج کروائی اور ہر ممکن کوشش کے باوجود اپنی بیٹی کو تلاش نہ کر سکے۔ میرا پیارا ٹیم نے بھی پاکستان بھر کے یتیم خانوں اور فلاحی اداروں سے معلومات حاصل کیں، مگر اب تک مریم کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔
جب مریم لاپتہ ہوئی، اس وقت اس کے دو چھوٹے بھائی تھے جن کے نام فصیح الحسن اور فرحان حیدر ہیں۔ والدہ کا نام روزینہ کوثر ہے۔ مریم کے والد گوجرانوالہ DPO Office میں بطور جونیئر کلرک فرائض سرانجام دیتے تھے۔
مریم کے ہاتھ پر انگوٹھے کے جوڑ کے قریب پیدائشی طور پر ایک کالا سا نشان موجود تھا، جو اس کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر آپ مریم نورین کو جانتے ہیں، یا اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات رکھتے ہیں، تو براہِ کرم میرا پیارا ٹیم سے فوری رابطہ کریں۔ آپ کی ایک اطلاع یا ایک شیئر مریم کو اس کے والدین تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
Date: 03-06-2026
Case ID: 233096681
03/06/2026
واللہ المستعان
یہ کہانی ہے زینب طالب کی، ایک معصوم بچی کی جو سال 2022 میں تھانہ اے ڈویژن شیخوپورہ کے علاقے سے لاوارث حالت میں ملی تھی۔
ابتدائی طور پر بچی اپنی مکمل شناخت، گھر یا اہلِ خانہ کے بارے میں واضح معلومات فراہم کرنے سے قاصر تھی۔ بچی کی حفاظت اور بہتر دیکھ بھال کے لیے اسے ایدھی سینٹر لاہور منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ محفوظ ماحول میں رہی، مگر اپنے گھر اور پیاروں سے دوری کا درد اس کے ساتھ رہا۔ اسی دوران “میرا پیارا” ٹیم نے اس کیس کو لیا۔ ٹیم نے ابتدائی طور پر مختلف ذرائع سے ورثاء کی تلاش شروع کی،
وقت گزرتا گیا، مگر ٹیم کی کوششیں جاری رہیں۔ بچی سے تفصیلی بات چیت کی گئی اور اس کی فراہم کردہ معمولی معلومات کو بھی انتہائی باریکی سے جانچا گیا۔ انہی کوششوں کے دوران بچی کی بتائی گئی معلومات کی بنیاد پر ٹیم اسے تھانہ اے ڈویژن شیخوپورہ کے علاقے میں لے کر گئی، جہاں مزید تحقیقات اور فیلڈ ورک کیا گیا۔ میرا پیارا ٹیم نے بچی کی دی گئی معلومات سے اس کے ورثاء کی تلاش جاری رکھی۔
اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص کرم فرمایا… دن رات کی محنت، مختلف ذرائع اور مسلسل رابطوں کے بعد آخرکار بچی کے اہلِ خانہ تک رسائی حاصل کر لی گئی۔ تصدیق کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ یہ بچی زینب طالب ہی ہے، جو 2022 سے اپنے خاندان سے بچھڑی ہوئی تھی۔ یہ خبر اس کے خاندان کے لیے کسی معجزے سے کم نہ تھی۔ برسوں کی بے چینی، انتظار اور دعاوں کے بعد امید ایک بار پھر حقیقت میں بدل گئی۔ آخرکار وہ دن آیا جب زینب کو اس کے ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ ملاقات کا لمحہ انتہائی جذباتی تھا.
یہ صرف ایک بچی کی واپسی نہیں تھی بلکہ ایک گھر کی مکمل ہونے والی کہانی تھی، ایک خاندان کی بکھری ہوئی دنیا کے دوبارہ جڑنے کا لمحہ تھا۔
یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل، “میرا پیارا” ٹیم کی مسلسل محنت اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کا نتیجہ ہے۔
الحمدللہ!
03/06/2026
فضائی آلودگی کے خاتمے اور محفوظ ماحول کے لیے ہمارا ساتھ دیں! 🛑 🌲
کوڑا کرکٹ کو آگ لگانے سے گریز کریں اور اسے ہمیشہ کچرے دان میں ڈالیں، کیونکہ آپ کا ایک ذمہ دارانہ قدم ہماری آنے والی نسلوں کے صحت مند مستقبل کی ضمانت ہے۔
آئیں مل کر اپنے شہر کو صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک بنائیں۔
Aerial View of Dera Ghazi Khan
02/06/2026
ماشااللہ لا قوۃ الا باللہ
02/06/2026
#ماں تم کہاں تھی؟ یہ الفاظ اس معصوم اسپیشل بچے چانڈیو کے تھے جب میرا پیرا ٹیم نے اس کی ماں سے واپس ملوایا ۔۔۔۔
یہ وہ معصوم سوال تھا جو دو سال بعد اپنی ماں سے ملنے والے سپیشل بچے چانڈیو نے بھرائی ہوئی آواز میں کیا۔ چند لفظوں پر مشتمل یہ سوال اپنے اندر جدائی کے دو طویل سال، ایک بچے کی بےبسی اور ایک ماں کے کرب کی پوری داستان سموئے ہوئے تھا۔
چانڈیو دو سال قبل اپنے گھر سے بچھڑ گیا تھا۔ وقت کے ساتھ بہت سی چیزیں بدل گئیں، مگر ایک ماں کے دل میں اپنے بچے کی واپسی کی امید کبھی مدھم نہ پڑی۔ ہر گزرتا دن اس کے لیے ایک نئی آزمائش تھا اور ہر رات اپنے لختِ جگر کی سلامتی کی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوتی تھی۔
جب چانڈیو "میرا پیارا" ٹیم کی تحویل میں آیا تو اس کی شناخت معلوم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ تاہم اپنی ذہنی کیفیت اور معصومیت کے باعث وہ اپنے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہ کر سکا۔ گفتگو کے دوران وہ بار بار صرف ایک لفظ دہراتا رہا:
"چانڈیو"
یہی لفظ اس کی شناخت تک پہنچنے کا پہلا سراغ ثابت ہوا۔
محدود معلومات کے باوجود "میرا پیارا" ٹیم نے تلاش کا سلسلہ جاری رکھا۔ بچے کی ویڈیو اور دستیاب معلومات کو سوشل میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچایا گیا تاکہ شاید کوئی اس معصوم چہرے کو پہچان سکے۔ بظاہر امکانات کم تھے، لیکن کوشش جاری رہی۔
اسی دوران یہ ویڈیو ایک ایسی ماں تک پہنچی جو گزشتہ دو برس سے اپنے بیٹے کی جدائی کا دکھ سہہ رہی تھی۔ ویڈیو دیکھتے ہی اس نے اپنے بچے کو پہچان لیا۔ اس ایک لمحے نے امید، انتظار اور بے یقینی کے درمیان کھڑی طویل مسافت کو سمیٹ دیا۔
ضروری تصدیق اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ماں اور بیٹے کی ملاقات کا انتظام کیا گیا۔ جب وہ ایک دوسرے کے سامنے آئے تو جذبات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہ رہا۔ ایک طرف ماں تھی جس کی دعائیں رنگ لا چکی تھیں اور دوسری طرف ایک معصوم بچہ تھا جسے برسوں بعد اپنی سب سے محفوظ پناہ گاہ واپس مل گئی تھی۔
ماں نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگایا تو آنکھوں سے بہنے والے آنسو دو سالہ جدائی کی خاموش داستان سنانے لگے۔ اسی لمحے چانڈیو نے اپنی ماں کی طرف دیکھا اور معصومیت سے پوچھا:
"تم کہاں تھی؟"
یہ سوال سن کر وہاں موجود ہر شخص کی آنکھ نم ہو گئی، کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ ماں کہیں نہیں گئی تھی؛ وہ تو دو سال سے اپنے بچے کی واپسی کے انتظار میں ہر روز ایک نئی امید کے ساتھ زندگی گزار رہی تھی۔
یہ محض ایک گمشدہ بچے کی بازیابی کی کہانی نہیں، بلکہ امید، مسلسل کوشش، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی ہمدردی کی ایک ایسی مثال ہے جو اس یقین کو مضبوط کرتی ہے کہ مخلصانہ کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔
الحمدللہ، ایک اور بچھڑا ہوا بچہ اپنے خاندان تک پہنچ گیا۔
“میرا پیارا ٹیم” کا مشن ہے کہ کوئی بھی گمشدہ بچہ تنہا نہ رہے۔
ہر ماں کو اُس کا بیٹا، ہر بہن کو اُس کا بھائی،
اور ہر گھر کو اُن کا پیارا دوبارہ مل سکے
ان شاء اللہ، واللہ المستعان
Case ID: 185061206
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Dera Ghazi Khan
32200
