30/05/2026
اسٹیبلشمنٹ کیساتھ ملکر کام کرنے کی بات ۔۔۔۔۔
آصف علی زرداری نے گذشتہ دنوں میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ملکر کام کرنے کی بات کی تو اسکے ترجمے ہر ایک نے نے اپنی سوچ کیمطابق کیئے ۔۔۔۔
میں برسوں پہلے اخبارات میں بھی لکھ چکا اور سوشل میڈیا پر بھی کہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کام کرنا کوئی طرز سیاست نہیں ۔۔۔۔دنیا کے 195 ممالک میں کوئ ایسی سیاسی جماعت نہیں جو یہ اعلان کرے یا منشور دے کہ اسنے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کام کرنا ھے ۔۔۔۔۔
1990 کی دہائی میں روزنامہ نوائے وقت میں اس موضوع پر ایک آرٹیکل وضاحت سے لکھ چکا ہوں ۔۔۔اسٹیبلشمنٹ کیا ہوتی ھے ۔۔۔۔۔فوج ۔۔۔عدلیہ اور سول محکمے یہ ریاست کی مشینری ھے جسے حکومت جمہوری یا آمرانہ چلاتی ھے ۔۔
پاکستان کی تاریخ میں سب سے طاقتور دو وزیراعظم آئے ۔۔۔۔پہلے شھید زوالفقار علی بھٹو اور اسکے بعد میاں نوازشریف جو دو تہائ اکثریت لیکر نہیں بلکہ انہیں اسٹیبلشمنٹ نے عطا کی تھی ۔۔۔۔
اسٹیبلشمنٹ نے اور پاکستان کے سماج نے اگر کسی سیاسی جماعت کی قیادت کا قتل عام genocide کی ھے تو وہ پیپلزپارٹی ھے ۔۔۔۔یہ سب کچھ مقامی اسٹیبلشمنٹ نے امریکی حکم پر کیا ۔۔۔۔
لیکن ہم سیاست کو ہمیشہ عہد کی روشنی میں دیکھیں گے ۔۔۔۔عہد گزر جاتے ہیں اور سیاست کے طریقے ۔۔۔اصول نہیں ۔۔۔۔بھی بدل جاتے ہیں ۔۔۔۔۔یہ ایک آفاقی سچائی ھے ۔۔
آصف علی زرداری کے بیان کو بھی بدلتے ہوئے بین الاقوامی طرز سیاست اور آج کے عہد کے تقاضوں کی روشنی میں دیکھنا اور سمجھنا ہو گا ۔۔۔۔ہمیں ریاستی اداروں کیساتھ تعاون کر کے ۔۔۔۔انکی بات سمجھ کر اور اپنی بات انہیں سمجھا کر ہی اسٹیبلشمنٹ یعنی تمام ریاستی اداروں اور پارلیمنٹ یا سیاستدانوں کے اتحاد سے ہی ایک مستحکم پاکستان دفاعی ، جمہوری اور معاشی حوالے سے آگے بڑھ سکتے ۔۔یہ آصف علی زرداری اور محب وطن پاکستانی کا ویژن ھے ۔۔۔

10/04/2026