23/06/2025
❤️❤️❤️
Pic Credits: Mahtab Ahmad
Official Verified - ORIGINAL PAGE
23/06/2025
❤️❤️❤️
Pic Credits: Mahtab Ahmad
#عنوان
عوام کی بے بسی اور واپڈا کی بےحسی
گاؤں ڈھکی کی بجلی لائنوں کا مسئلہ
ہمارے گاؤں ڈھکی میں بجلی کی فراہمی کا مسئلہ ہمیشہ سے سنگین نوعیت کا رہا ہے، مگر حالیہ دنوں میں ایک اور نیا مسئلہ سامنے آیا ہے جس نے لوگوں کی زندگی کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ ہمارے گاؤں کی بجلی لائن کے چھے پولز سے تاریں چوری کرلی گئی ہیں اور اس عمل کو ایک ماہ سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے ، اور یہ اقدام نہ صرف عوام کی بے بسی کا عکاس ہے بلکہ واپڈا کی بےحسی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔
1. عوام کی بے بسی:
گاؤں کی بیشتر آبادی روزانہ کی بنیاد پر اپنے روزگار اور زندگی کے دیگر معاملات کے لئے بجلی پر انحصار کرتی ہے۔ جب چھے پولز سے تاریں اتار لی گئیں، تو گاؤں میں بجلی کی فراہمی کا نظام مکمل طور پر معطل ہوگیا۔ اس صورت حال میں، گاؤں کے لوگوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے۔ بچوں کا اسکول کا کام، گھریلو کام، اور کاروبار کی چلتی کائنات سب رک گئی ہے۔ لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے دن رات محنت کرتے ہیں، لیکن بجلی کی عدم دستیابی نے ان کی محنت کو بے کار کر دیا ہے۔
2. واپڈا کی بےحسی:
جب عوام نے واپڈا حکام سے رابطہ کیا تو ان کی جانب سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں آیا۔ بجلی کی تاریں اتارنے کے بعد، واپڈا کے افسران اور عملے کی طرف سے گاؤں کے لوگوں کو یہ بتایا گیا کہ "مسئلہ حل کرنے میں کچھ وقت لگے گا"، لیکن اس وعدے کے باوجود کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ گاؤں کے لوگ بار بار شکایت کر چکے ہیں، مگر کوئی سنوائی نہیں ہو رہی۔ واپڈا کی بےحسی اور غیر سنجیدہ رویہ عوام کے لئے مزید پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔
3. معاشی اور سماجی اثرات:
بجلی کی عدم فراہمی کا گاؤں کے کاروباروں اور تعلیم پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ دکانوں کے کاروبار، جو عموماً بجلی پر منحصر ہیں، مکمل طور پر ٹھپ ہو چکے ہیں۔ بچوں کا تعلیمی عمل بھی متاثر ہوا ہے کیونکہ آج کل تعلیم کا زیادہ تر عمل انٹرنیٹ اور بجلی سے چلنے والے آلات کے ذریعے ہوتا ہے۔ خواتین بھی گھریلو کاموں میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، جیسے کھانا پکانا، صفائی، اور دیگر روزمرہ کے کام جو بجلی کی ضرورت رکھتے ہیں۔
4.تعلیمی تباہی:
آج کل نہم دہم کے سالانہ امتحان جاری ہیں اور ہمارا گاؤں تعلیم کے میدان میں پورے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک ممتاز حیثیت اور اپنا ایک الگ مقام رکھتا ہے لیکن بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے طلباء امتحان کی تیاری صحیح طرح سے نہیں کر پا رہے اور ذہنی ٹینشن کی وجہ سے پیپر بھی صحیح طرح سے نہیں کر پا رہے جس کا نقصان انہیں اور ان کے خاندان کو ساری زندگی رہے گا.
4. مستقبل کے امکانات:
گاؤں کی عوام کو یہ امید ہے کہ واپڈا حکام جلدی سے اس مسئلے کا حل نکالیں گے اور گاؤں میں بجلی کی فراہمی کو بحال کریں گے۔ لیکن عوام کی بے بسی اور واپڈا کی بے حسی کے باعث انہیں یقین نہیں آ رہا کہ یہ مسئلہ جلد حل ہوگا۔ حکام کو عوامی شکایات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اس مسئلے کا دیرپا حل نکالا جا سکے۔
5. نتیجہ:
گاؤں کی بجلی لائنوں کے تاروں کا اتارنا نہ صرف عوام کی مشکلات کو بڑھاتا ہے بلکہ واپڈا کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ اگر حکام نے اس مسئلے کو حل کرنے میں تیزی اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا، تو عوام کا اعتماد مزید متزلزل ہوگا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ واپڈا عوامی مسائل کو ترجیح دے اور فوری طور پر اس سنگین مسئلے کا حل نکالے تاکہ گاؤں کے لوگ دوبارہ اپنی روزمرہ کی زندگی کو معمول پر لا سکیں۔
خلاصہ:
یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ ہمارے گاؤں کی عوام کی مشکلات کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے اور واپڈا کی بےحسی عوام کی بے بسی کا سبب بن رہی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ حکام اس معاملے کو فوری طور پر حل کریں گے تاکہ لوگوں کی زندگی میں ایک بار پھر روشنی واپس آ سکے۔