05/08/2021
مالی امداد کی اپیل۔۔۔
میرا شاگرد اور میرا دوست عدنان خان بہت سخت بیمار ہے۔
دوستوں سے مالی امداد کی اپیل کی جاتی ہیں۔
عدنان گھر کا واحد کمانے والا ہے اور 12000 روپے پر ایک دوکان کیساتھ کام کرتا تھا۔ عدنان کی ماں اور ایک چھوٹا بھائی بھی ہیں، ایک چھوٹے کرایے کے گھر میں گزارا کر رہا ہے گھر کا کرایہ 3000 روپے ہے اس سخت گرمی میں بجلی کنیکشن نہیں ہے دن کے وقت ایک سولر سے کام چلاتا ہے رات کو کوئی سہولت موجود نہں۔
عدنان کی ماں کو احساس پروگرام میں بھی شامل نہیں کیا ہے ۔ اور احساس والوں کیساتھ رابطہ بھی کیا تھا۔
اور اب بہت سخت بیمار ہے۔ کل پشاور علاج کے لئے آرہا ہے
انکے پاس پشاور آنے کا کرایہ بھی موجود نہیں،،،
جو لوگ اللہ کی رضا کی خاطر امداد کرنا چاہتے ہیں وہ اس نمبر پر 03459870821 ایزی پیسہ کر دیں۔
اللہ دونوں جہاں میں جزاے خیر عطا فرماہیں۔ امین
واٹس ایپ یا کال پر رابطہ کر لیں۔
03459870821
03129870821
پوسٹ کو آگے ضرور شئر کریں تاکہ حکومت یا کسی کو احساس ہوجائیں اور احساس پروگرام میں بھی شامل کر لئے جاہیں، شکریہ
08/03/2021
لڑکیوں پرپابندیاں لگانے کی کیا وجہ ہے
ایک بار ایک لڑکی نے مولاناصاحب سے کہاکہ ایک بات پوچھوں؟؟
مولانا صاحب نےفرمایا؛ بولو بیٹی کیا بات ھے؟؟
لڑکی نے کہا ہمارے سماج میں لڑکوں کو ہر طرح کی آزادی ہوتی ہے !! وہ کچھ بھی کریں؛ کہیں بھی جائیں، اس پر کوئی خاص روک ٹوک نہیں ہوتی!
اس کے بر عکس لڑکیوں کو بات بات پر روکا جاتا ہے۔ یہ مت کرو! یہاں مت جاو! گھر جلدی آجاؤ !!..٠٠
یہ سن کر مولانا صاحب مسکرائے اور فرمایا !!..
بیٹی آپ نے کبھی لوہے کی دکان کے باہر لوہے کے گودام میں لوہے کی چیزیں پڑیں دیکھیں ہیں ؟ یہ گودام میں سردی ٠گرمی ٠ برسات ٠رات٠ دن٠ اسی طرح پڑی رہتی ہیں ٠٠ اس کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگڑتا اور ان کی قیمت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا٠
لڑکوں کی کچھ اس طرح کی حیثیت ہے سماج میں!
اب آپ چلو ایک سنار کی دکان میں۔ ایک بڑی تجوری اس میں ایک چھوٹی تجوری اس میں رکھی چھوٹی سُندر سی ڈبی میں ریشم پر نزاکت سے رکھا چمکتا ہیرا٠۔۔
کیو نکہ جوہری جانتا ہے کی اگر ہیرے میں ذرا بھی خراش آ گئی تو اس کی کوئی قیمت نہیں رہے گی۔۔
اسلام میں بیٹیوں کی اہمیت بھی کچھ اسی طرح کی ھے
۔ پورے گھر کو روشن کرتی جھلملاتے ہیرے کی طرح ذرا سی خراش سے اس کے اور اس کے گھر والوں کے پاس کچھ نہیں بچتا
بس یہی فرق ہے لڑکیوں اور لڑکوں میں ٠
پوری مجلس میں خاموشی چھا گئ اس بیٹی کے ساتھ پوری مجلس کی آنکھوں میں چھائی نمی صاف صاف بتا رہی تھی لوہے اور ہیرے میں فرق ٠٠
دوسری طرف خاتونِ جنت فاطمہ الزہرہؓ فرمایا کرتی تھی کہ
میرا جنازہ گھر سے رات کے اندھیرے میں نکالنا تاکہ غیر محرم کی نگاہ نہ پڑے
آپ سے التجا ہے کہ یہ پیغام
اپنی بیٹیوں بہنوں کو ضرور
سنائیں، دکھائیں اور پڑھائیں
جزاک اللہ خیرا کثیرا
19/02/2021
سالہ پاکستانی "محمد شہیر" کو کوئی نہیں جانتا جس نے فزکس میں ایک سرچ آرٹیکل لکھ کر دنیا کو حیرات میں ڈال دیا لیکن اسے اب بھی کوئی نہیں جانتا۔
لاہور کی "زرا نعیم" نے اے سی سی اے میں 179 ممالک کے 527000 سے ٹاپ کیا لیکن اسے بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں۔
لیکن اس دوشیزہ کو آدھا پاکستان جانتا ہے جس نے " پارٹی ہورہی ہے" کہ کر پوری دنیا میں شہرت کما لی۔
شکوہ نہیں کر رہا قوم کی ترجیحات بتا رہا ہوں۔
28/11/2020
ڈیرہ اسماعیل خان(رپورٹ۔نثار بیٹنی+ عمران کنڈی)،
زندگی جہاں خوشی اور مسرت کا نام ہے وہاں زندگی میں غم بھی آتے ہیں، انسان کہنے کو تو بہت نازک ہے لیکن جب کچھ ناقابل بیاں غم ان کی زندگی میں آتے ہیں تو وہ ان تکالیف اور غموں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی سی بھرپور کوشش کرتا ہے، دنیا میں انسان پر ہر طرح کے غم اور تکالیف آتے ہیں لیکن اولاد کی بیماری کا غم سب سے بڑا غم اور تکلیف دہ ہوتا ہے اور اس پر مستزاد اگر کسی کا کمسن بچہ کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوں جس کا علاج ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو تو یہ غم دہرا ہو جاتا ہے، ایسا ہی غم اور دکھ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ عرفان سٹی کے رہائشی رسول خان کو بھی لاحق ہے جس کا 3 سالہ بیٹا عبداللہ خان اس وقت انتہائی خطرناک بیماری تھیلیسمیا میں مبتلا ہے، عرفان سٹی میں ایک کمرہ کے کرایہ کے مکان میں رہنے والے رسول خان انتہائی نامساعد حالات کا شکار ہیں اور وہ اس پرفریب زمانے میں اپنے 3 سالہ بیمار بچے عبداللہ خان کے علاج کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں، تھیلیسمیا جیسے موذی مرض کا شکار عبداللہ خان جس کی عمر 3 سال ہے اس کی زندگی اپنے والدین کی ان کوششوں کے گرد گھوم رہی ہے تھیلیسمیا کے خطرناک مرض میں مبتلا عبداللہ خان کو ہر ہفتے نیا خون لگایا جاتا ہے جو اس کی زندگی کی ضمانت ہے، عبداللہ خان کے والد رسول خان ایک مزدور پیشہ غریب انسان ہیں جو عرفان سٹی کے ایک کمرے کے کرائے کے مکان میں رہ رہے ہیں اس کرائے کے مکان کا کرایہ بھی کالونی کے لوگ مل کر ادا کر رہے ہیں تھیلیسمیا کے مریض عبداللہ خان کا علاج کرتے کرتے اور ان کو خون لگاتے لگاتے اس کے والدین لاکھوں روپے کے مقروض ہو چکے ہیں لیکن اپنے بیٹے کی زندگی کے لئے وہ یہ تلخ گھونٹ بھی بخوشی پی رہے ہیں لیکن اب حالات فاقوں تک آگیے ہیں، عبداللہ خان کے والد رسول خان نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میں ایک انتہائی غریب مزدور شخص ہوں اور عرفان سٹی میں ایک کرایہ کے مکان میں رہتا ہوں میرا 3 سال کا بیٹا عبداللہ تھیلیسمیا جیسے مرض میں مبتلا ہے جس کی زندگی کی ضمانت اس کے رگوں میں ہر ہفتے نئے خون کی دوڑ ہے آج کے اس مہنگائی اور پر آشوب دور میں جہاں دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل تر ہوچکا ہے وہاں پر میں اپنے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا کر اور ادھار پر ادھار لے کر اس کے خون کو تبدیل کرتا رہتا ہوں، رسول خان نے بتایا کہ اب قرض لے لے کر بھی تھک چکا ہوں جبکہ حکومتی ایوانوں تک آواز پہنچانے کے لیے بھی بارہا کوشش کرچکا ہوں لیکن ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکا، ان کا کہنا تھا کہ ابھی تک حکومتی سطح پر ہماری کوئی مدد نہیں ہوئی، میں حالات سے مجبور ہوکر میڈیا کا تعاون لے رہا ہوں، انہوں نے حکومت پاکستان، وزیراعظم عمران خان، وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمودخان اور وفاقی وزیر علی امین گنڈاپور سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے معصوم بچے کی زندگی کو بچانے اور ان کو مزید مقروض ہونے سے بچانے کے لئے ان کی مدد کی جائے اور میرے بیٹے کا سرکاری سطح پر علاج کیا جائے تاکہ ناصرف ہم والدین کی مشکلات کم ہوسکیں بلکہ ان کا بیٹا بھی دیگر بچوں کی طرح ہنسی خوشی زندگی گزار سکے.
اگر کوئی بندہ امداد کرنا چائے تو Easy Paisa نمبر دے رہے ہیں. اس پر اپنی عطیات جمع کراسکتے ہیں,
Easy Paisa Number 03459873792
22/11/2020
کیا ہم غیرت کو سمجھ نہ سکے۔ معملولی تکرار پر قتل
22/11/2020
سنیارا / زرگر / جیولر*
میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ جیولرز کیسے اچھے خاصے پڑھے لکھے سمجھدار لوگوں کو ایک روایتی طریقے سے بیوقوف بنا لیتے ہیں اور ان پڑھ لوگوں کی تو بالکل مت ہی مار دیتے ہیں
مثلاً
ایک تولہ سونا میں 11.664 گرام ہوتے ہیں۔
اسی طرح 1 تولہ سونے میں 12 ماشے ہوتے ہیں۔
اگر آپ 1 تولہ زیور بنا سونا فروخت کرتے ہیں تو سنیارا اگر تو اس نے زیور آپ کو خود بنا کر دیا ہے، 2 ماشے کٹوتی کرتا ہے اور اگر آپ نے کسی اور سے بنوایا اور فروخت کسی اور سنیارے کو کر رہے ہیں تو وہ ایک تولہ سونے کی 3 ماشے کٹوتی کرے گا۔
نوٹ: اس اوپر بیان کیے گئے داؤ کو سنیارا ایک رتی ماشہ یا 2 رتی ماشے کا نام دے گا۔
آپ نے اگر 1 تولہ سونا زیور فروخت کیا تو کٹوتی کے نام پہ آپ کے زیور سے 3 ماشے گئے۔
ایک ماشے کی اندازہ قیمت 9000 روپے ہے آج کل
یعنی ایک تولہ سونا زیور بیچنے سے سنیارے نے آپ کے 27000 کٹوتی کے نام پہ کاٹ لیے۔
اب دوسری طرف آتے ہیں یعنی اگر آپ زیور بنواتے ہیں تو
۔👇
ایک تولہ سونا 24 قیراط ہوتا ہے۔
پہلے آپ کو سمجھاتا ہوں کہ قیراط کس بلا کا نام ہے۔
* #قیراط*
قیراط (Carat) سونے کے خالص پن کو ناپنے کے معیار کا نام ہے۔
تقریباً سو فیصد خالص سونا 24 قیراط ھوتا ہے، جتنے قیراط کم ہوں گے مطلب اتنی اس سونے میں ملاوٹ شامل ہے۔
ویسے یہ 99.99 ٪ خالص ہوتا ہے۔
12 قیراط مطلب 50 فیصد ملاوٹ اور 18 قیراط 75 فیصد خالص اور 25 فیصد ملاوٹ ہے۔
قیراط کمیت (وزن) کے پیمانے کیلئے بھی استعمال ہوتا ہے۔
ہیرے جواہرات اور قیمتی پتھروں کا وزن عام طور پر قیراط میں ناپا جاتا ہے۔
{ ویسے قیراط عربی زبان کے ایک وزن کا نام بھی ہے جو 5 جو کے برابر ہوتا ہے۔ ایک قیراط 200 ملی گرام یعنی 0.007,055 اونس یا 3.086 گرین حبہ (grains) کے برابر ہوتا ھے }
اب آتے ہیں اصل بات کی جانب کہ جب آپ سونا بنواتے / خریدتے ہیں تو سنیارے عام طور پہ 15 یا 18 قیراط سونا بنا کے دیتے ہیں اور پاکستان میں چند ایک بڑے جیولرز کو چھوڑ کر کسی کے پاس 21 قیراط سے زیادہ سونا بنانے کی مشین ہے ہی نہیں !
22 قیراط بس کراچی میں ایک 2 جیولرز بنا کے دیتے ہیں.
اگر سنیارے نے آپ کو 18 قیراط زیور بنا کر دیا ہے تو اس نے سونے میں 25 فیصد ملاوٹ کی ہے۔
مطلب اگر ایک تولہ زیور بنا کر دیا ہے تو مثلاً ایک تولہ ایک لاکھ کا ہے تو سنیارا آپ کو 75000 کا سونا دے کر ریٹ ایک لاکھ روپے لگا رہا
سیدھی سے بات ہے کہ ایک تولہ زیور ملاوٹ کر کے آپ کو بس 75000 سے 87500 کا دیں گے اور قیمت پورے تولے کی ایک لاکھ لگائیں گے۔
دوسرا داؤ ان کا پالش کے نام پہ ہوتا ہے۔ ایک آدھ ماشہ الگ سے لگا لیں گے کہ اتنا ہمارا سونا زیور بناتے ہوئے ضائع ہو گیا ہے جس کی ایک تولے کے پیچھے قیمت 9000 سے 10000 ہو گی۔
یاد رہے کہ سنیارے کی دوکان کا کوڑا بھی لاکھوں میں بکتا ہے اور ان کا کچھ ضائع نہیں ہوتا۔
آخر پہ انہوں نے مزدوری ڈالی ہوتی ہے۔ آپ کے بہت زیادہ اصرار پہ آپ کو مزدوری کا 2000 سے 4000 چھوڑ کر آپ پہ بہت بڑا احسان کریں گے اور کہیں گے آپ نے ہمیں بچنے کچھ نہیں دیا اور یہ مزدوری بس آپ کو چھوڑ رہے ہیں کیونکہ آپ کے ساتھ ہمارا دوسری یا تیسری نسل سے تعلق ہے۔
سونا بیچتے وقت سونے کی ڈلی بنوائیں (وہ بھی اعتماد والے بندے سے، رعایت خیر وہ بھی نہیں کرتا) مطلب ملاوٹ نکال دی جاتی ہے اور خالص 24 قیراط سونا رہ جاتا ہے۔
پھر اس ڈلی یعنی خالص 24 قیراط سونے کو اس دن کے سرکاری ریٹ پہ بیچیں ورنہ آپ کو بہت بڑا چونا لگ جائے گا۔
زیور بنواتے وقت پہلے طے کریں کہ سونا 21 قیراط بناؤ گے 18 یا 15
جتنا خالص وہ سونا بنائے اس حساب سے 15، 18 یا 21 قیراط کے مطابق قیمت دیں نہ کہ 24 قیراط کی قیمت ادا کریں، ساتھ دھمکی دیں کہ میں ابھی اسی مشین پہ چیک بھی کرواؤں گا کہ یہ 15، 18 ہے یا 21 قیراط !
اور وقت یا سہولت میسر ہو تو اس کو مشین پہ چیک بھی کروا لیں کہ کتنے قیراط بنا اور آپ نے کتنے قیراط کے حساب سے قیمت ادا کی۔
میری ان سب باتوں سے ہو سکتا میرے چند دوست ناراض ہوں لیکن میرا بتانا فرض تھا تاکہ لوگ آگاہ ہوں۔
یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کے ساری انگلیاں برابر نہیں، چند ایک اچھا کاروبار کرنے والے بھی ہوں گے لیکن میرے خیال میں ان کی تعداد شاید ایک فیصد سے زیادہ نہ ہو گی۔
نوٹ: چوری کے مال کی خرید و فروخت الگ ڈاکہ ہے۔ میری حکومت پاکستان سے اپیل ہے کہ سونے کی خرید و فروخت اور زیورات کی بناوٹ پہ باقاعدہ قانون سازی کی جائے
17/11/2020
گاڑی میں سفر کے دوران سرچکرانے یا جی متلانے کی شکایت ہوتی ہے؟
اور وہ عارضہ ہے موشن سکنس یا سفر کے دوران جی متلانا اور سرچکرانا وغیرہ۔
اس کے نتیجے میں متعدد افراد کو بس، گاڑی، ٹرین، طیارے یا امیوزمنٹ پارک رائیڈ میں متلی بلکہ کئی بار تو قے کا سامنا بھی ہوتا ہے اور ایک تحقیق میں تو یہ بھی بتایا گیا تھا کہ تھری ڈی فلمیں بھی کچھ افراد کو اس کا شکار بناسکتی ہے
درحقیقت سمندری سفر کے دوران جن افراد کی حالت بگڑتی ہے وہی کیفیت زمینی سفر کے دوران بھی لوگوں کی ہوسکتی ہے اور یہ دونوں ایک ہی بیماری ہے جسے سی سکنس بھی کہا جاتا ہے۔
1 اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟
موشن یا حرکت کو ہمارا دماغ اعصابی نظام کے مختلف راستوں جیسے کان کا اندرونی حصہ، آنکھیں اور جسمانی سطح کے ٹشوز وغیرہ کے ذریعے سمجھتا ہے، جب جسم دانستہ حرکت کرتا ہے جیسے ہم کہیں پیدل چلتے ہیں تو یہ تمام راستے دماغ سے تعاون کرتے ہیں۔
2 موشن سکنس کا سامنا اس وقت ہوتا ہے جب مرکزی اعصابی نظام کو عصبی نظام کو متضاد پیغامات ملتے ہیں یعنی جیسے ہم کسی جھولے میں بیٹھتے ہیں جو گول گھومتا اور مکمل الٹا ہوجاتا ہے تو ہماری آنکھیں ایک چیز دیکھتی ہیں، ہمارے مسلز کو کچھ اور محسوس ہوتا ہے جبکہ کان کے اندرونی حصے کا بالکل مختلف احساس ہوتا ہے۔
3 ہمارا دماغ اس طرح کے ملے جلے سگنلز کو برداشت نہیں کرپاتا اور اس کے نتیجے میں لوگ سرچکرانے، متلی اور قے وغیرہ کی شکایت کرتے ہیں۔
علامات
اس کی علامات درج ذیل ہیں:
متلی ہونا
قے ہونا
پسینہ آنا
چہرے پر پیلاہٹ
رال بہنا
سانس لینے میں مشکل
سر چکرانا
غنودگی طاری ہونا
اس کی دیگر نشانیاں یہ بھی ہوسکتی ہیں :
بے سکونی کا احساس
طبیعت خراب لگنا یا بے قراری
سردرد
جماہیاں
مگر یہ اچھی بات یہ ہے کہ یہ عارضہ اکثر زیادہ سنگین نہیں ہوتا اور اس سے بچنے کے لیے چند عام ٹوٹکے مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔
5 سامنے دیکھنا
ایک عام اور آسان حل تو یہی ہے کہ چلتی ہوئی گاڑی کی کھڑکی سے باہر اس سمت میں دیکھیں جس طرف یہ گاڑی سفر کررہی ہو، اس سے اندرونی حس کو توازن کے احساس کو بحال کرنے میں مدد مل سکے گی۔
6 آنکھیں بند کرکے کچھ دیر کی نیند
اگر رات کا وقت ہے یا کھڑکی سے سامنے دیکھنا مشکل ہے تو بہتر ہے کہ آنکھیں بند کرلیں یا اگر ممکن ہو تو کچھ دیر کے لیے سوجائیں۔ اس سے بھی آنکھوں اور کان کے اندرونی حصے کے درمیان تضاد پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
7 کچھ چبائیں
گاڑیوں میں سفر کے دوران متلی یا سرچکرانے سے بچنے کا ایک اور آسان طریقہ کچھ چبانا ہے، چیونگم اس حوالے سے زیادہ موثر ثابت ہوتی ہے، مگر چیونگم ہی واحد ذریعہ نہیں، کچھ میٹھا کھانا یا کچھ بھی چبانا نظر اور توازن کے درمیان تصادم کے اثرات کو کم کردیتا ہے۔
8 ادرک
ادرک سے بھی اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے، ادرک کی کچھ مقدار چبانے سے طبیعت میں بہتری آسکتی ہے۔
9 پودینے سے بھی مدد لیں
پودینے کو کھانا بھی جسم کو پرسکون بناسکتا ہے، کم از کم اس کی مہک بھی ذہن کو پرسکون بنادیتی ہے۔
10 تازہ ہوا
تازہ ہوا میں گہری سانسیں لینے سے بھی سر چکرانے یا جی متلانے کے مسئلے میں کچھ کمی آجاتی ہے۔
11 بچنے کے طریقے
ہمیشہ ایسی پوزیشن میں بیٹھیں جس میں آنکھیں وہی حرکت دیکھیں جو جسم اور اندرونی کان محسوس کرے۔
12 گاڑی میں ایسے افراد کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھ کر سامنے کی جانب دور کے منظر کو دیکھنا چاہیے
13 کشتی میں سفر کے دوران سامنے کی جانب دیکھیں۔
14 طیارے میں کھڑکی والی نشست پر بیٹھیں اور باہر دیکھیں، اگر ممکن ہو تو کھڑکی والی نشست لیں جو پروں کے ساتھ ہوتی ہے جس سے بھی یہ اثر کم ہوسکتا ہے
اگر موشن سکنس کا سامنا ہوتا ہے تو سفر کے دوران کچھ پڑھنے سے گریز کریں یا ایسی نشست پر مت بیٹھیں جس میں آپ کا چہرے کا رخ حرکت کے مخالف سمت میں ہو۔
اگر یہ مسئلہ اکثر درپیش ہوتا ہے تو سفر سے پہلے اور اس کے دوران تیز بو اور مصالحے دار یا چکنائی والی غذاﺅں سے گریز کریں۔
اس حوالے سے ادویات بھی موثر ثابت ہوسکتی ہیں مگر بہتر ہے کہ ان کا انتخاب ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جائے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
عام طور پر یہ مسئلہ سفر ختم ہونے پر غائب ہوجاتا ہے، تاہم اگر سر چکرانے، سردرد، قے ہونے، سننے میں مشکل یا سینے میں درد کی شکایت ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔اور ہومیوپیتھک میں بھی اسکی کافی ادویات موجود ہیں ان-باکس رابطہ کریں
12/11/2020
ایک ضروری اصلاح
کفار مکہ نے بہت سے اشعار لکھے جن میں حضورؐ کی گستاخی کی کوشش کی گئی ۔
لیکن
وہ اشعار ہم تک نہیں پہنچے
کیوں ؟؟؟
کیونکہ
صحابہ نے وہ اشعار نہ ہی یاد کیے اور نہ ہی شیئر کیے ۔
اسطرح وہ سارے اشعار فنا ہو گئے
آج کل یہ دیکھنے میں آرہا ھے کہ
گستاخان مواد کو کفار سے زیادہ مسلمان پھیلا رہے ہیں ۔۔۔۔
اور وہ یوں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
کفار ایک گستاخانہ خاکہ یا تصویر بناتے ہیں اور اوپر لکھ دیتے ہیں کہ :
لکھنے یا بنانے والے پر لعنت بیجھ کر شیئر کریں۔۔
اب کفار کا کام ختم ۔
اور مسلمانوں کا کام شروع ہو جاتا ہے ۔
اس کے بعد مسلمان لعنت بھیجنے کے چکر میں ایسے شروع ہوتے کہ پوری دنیا تھا یہ گستاخانہ مواد پہنچ جاتا ہے ۔
حل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔
کوئی بھی گستاخانہ مواد ، خاکہ ،تصویر یا کسی فلم کا ٹکرا
یا کوئی ایسی چیز آپ تک پہنچے !!!
تو آپ خود اپنے ایمان کی حفاظت کرتے ہوئے ۔
صحابہ کرام کے راستے پر چلیں ۔
بغیر دیکھے
بغیر کسی کو شیئر کیے ،
فوراً اسے ڈیلیٹ کر دیں ۔
لعنتی تو لعنتی ھے ،
اس کو لعنت بیجھنے سے کیا فرق پڑے گا ؟؟؟
البتہ ہماری بیوقوفی کی وجہ سے گستاخانہ مواد کی پوری دنیا میں تشہير ہو جاتی ہے اور
کفار کا مقصد پورا ہو جاتا ہے ۔
ہمیں چاہیے کہ ھم ایسا مواد آگے مزید شیئر کرنے کی بجائے اسے
Hide ''یا Delete
کردیں
تاکہ گستاخانہ مواد کی تشہير رک جائے اور کفار کا مقصد ناکام ہو جائے ۔💖
Its_Raja da buner⚡
10/11/2020
مرد دودھ پلائی بھی دے مرد جوتا چھپائی بھی دے مرد حق مہر بھی دے مرد منہ دکھائی بھی دے مرد جیب خرچ بھی دے مرد نان نفقہ بھی دے مرد آپ کے زیور کی زکوٰۃ بھی دے مرد آپ کے بہن بھائیوں کے بچوں کو عیدیاں بھی دے مرد آپ کے پورے میکے کا خیال اس طرح رکھے جیسے فرض عبادت ہو مرد آپ کو ہر موقع پر مہنگے کپڑے مہنگے جوتے بھی لے کر دے اور مرد کی جیب سے آپ چھپ چھپ کر پیسے بھی نکالتی جائیں مرد کو شادی کرنے کے لئے برسرِروزگار ہونا بھی لازم ہے مرد کا اپنا گھر ہونا بھی لازمی ہے مرد کی تنخواہ بھی آپ کو ایک لاکھ چاہئیے ان سب کے باوجود بھی جب آپ سڑا سا منہ بناکر کہہ دیں کہ ساس سسر کی خدمت کرنا عورت پر فرض نہیں ہے...
بھئی واااہ حد ہے دوغلے پن کی..
سارے فرائض بس مردوں کے ذمہ میں ہیں اور سارے حقوق عورتوں کے لئے ہیں.!!!🙏🙏🙏🙏
10/11/2020
کل رات سے سوشل میڈیا پلیٹ فورمز میں ماسٹر ٹائلز والوں کے گھرانے کی شادی پہ ہونے والا 80 کروڑ (بعض کے نزدیک 200 کروڑ) روپے کا خرچہ موضوع بحث بنا ہوا ہے . اس تقریب میں جہاں نامور فنکاروں نے اپنے فن کے جلوے بکھیرے تو وہیں دوسری جانب نکاح خواں بننے کا اعزاز جناب مولانا طارق جمیل صاحب کے حصے میں آیا .
اب یہاں کُچھ حضرات کو اس شاہانہ خرچ والی شادی پہ اعتراض ہے ، تو اکثریت کو ایسی نمود و نمائش والی شادی میں نکاح خواں بننے پہ مولانا طارق جمیل صاحب پہ بھی اعتراض ہے کہ ایک طرف مولانا سادگی کی بات کرتے ہیں تو دوسری جانب خود کارپوریٹ کلچر کے دیوتاؤں اور ایلیٹ کلاس کے منظور نظر بھی ہیں .
جبکہ مجھے تو اس شادی کے خرچ یا مولانا طارق جمیل صاحب کی شرکت پہ اعتراض کرنے والے سراسر منافق / حاسد لگتے ہیں ۔
ارے بھائی یہ ارب پتی لوگ ہیں لہٰذا اپنی حیثیت مطابق ہی خرچ کر رہے ہیں ٹھیک اُسی طرح جیسے آپ اور ہم "ککھ" پتی بھی نہیں ہوتے لیکن پھر بھی مانگ تانگ کر بیسیاں کمیٹیاں اور بینکوں سے فنڈ نکال کر لاکھوں روپے خرچ کر کے شادی کرتے ہیں . جس بندے کی سالانہ آمدن دس لاکھ بھی نہیں ہوتی وہ بھی اپنی اولاد کی شادی پہ پندرہ بیس لاکھ پھونک رہا ہوتا ہے تو یہ کون سی سادگی ہوتی ہے؟
اگر آپکی اور ہماری آمدن کا اِن ماسٹر ٹائلز والوں کی آمدن سے تناسب کا تقابل کیا جائے تو شادیوں پہ خرچ کرنے میں ہمارا تناسب اُن دو گنا زیادہ ہی مِلے گا ۔
اگر وہ پچاس ارب روپے کے مالک ہوکر دو ارب شادی پہ لگا رہے ہیں تو اپنی کل رقم کا محض 4 فیصد لگا رہے ہیں ، دوسری جانب آپ جس کی کل جمع پونجی ہی آٹھ دس لاکھ ہے اور وہ پندرہ لاکھ شادی پہ خرچ کر رہا ہے تو اپنی کل دولت سے بھی زیادہ خرچ کر رہا ہے ۔
ایسے میں مست کون ہوا ؟
یہ ارب پتی لوگ یا ہم جیسے لوگ ؟
سادگی کا درس مولانا طارق جمیل صاحب کو اُن ارب پتیوں کو دینا چاہیے یا ہماری شادیوں پہ شرکت کرنے والے اُس مولوی صاحب کو ہمیں دینا چائیے جو کہ ایک ہی محلے میں ہمارے ساتھ رہتے ہوئے ہمارے تمام معاشی حالات جانتے ہوئے بھی دو لاکھ روپے میں بک کیے شادی ہال میں تین لاکھ کا کھانا لگتا ہوا دیکھ رہا ہے ؟
شادیوں میں عاطف اسلم اور راحت فتح علی خان کو بلانے کی فرمائشیں کرنے والے وہ ارب پتی دلہن والے زیادہ مست ہیں یا چالیس ہزار ماہوار کمانے والے لڑکے سے دس تولہ سونا مانگنے والے لڑکی والے زیادہ مست ہیں ؟
میں ایک غریب معاشرے میں اِس اربوں روپے کے ضیاع والی شادی کی حمایت نہیں کر رہا ہوں ۔ میں صرف تنقید کرنے والے اُس اکثریتی طبقے کو آئینہ دکھانے کی ایک ناکام کوشش کر رہا ہوں . حق بات تو یہ ہے کہ یہی باتیں میں اپنے خاندان اور گھر میں بھی کرتا ہوں جہاں "الحمدللہ" کوئی بھی میری بات نہیں سنتا/مانتا ہے۔
لے دے کر آخر میں یہی کہتے ہیں
" بچوں کی خوشی ہے جی "
"اولاد کیا سوچے گی "
"رشتے دار کیا کہیں گے "
تو بس اس "لوگ کیا کہیں گے" والے نقار خانے میں مجھے طوطی کی آواز کوئی نہیں سن پاتا ۔ حالانکہ " کچھ کہنے" والے لوگ خود بھوکے ننگے ہیں لیکن پھر بھی مست ہیں۔ لہٰذا یہی کہوں گا کہ اس معاشرے کے حسد زدہ مذہبی حضرات اس شاہانہ خرچ پہ استغفار پڑھ کر ماسٹر ٹائلز والوں کو کوسیں جبکہ حاسد لبرل حضرات مولانا طارق جمیل صاحب کی شرکت پہ پھبتیاں کس کر اندر کی جلن مٹائیں . بدلنا اُنہوں نے نہیں ہے کہ سدھرتے تو آپ بھی نہیں ہیں ۔
رہے نام اللہ کا !
ملک جہانگیر اقبال
09/11/2020
ایک خاتون ایک صوفی بزرگ صاحب کے پاس گئیں، "صوفی صاحب، کوئی ایسا تعویز لکھ دیں کہ میرے بچے رات کو بھوک سے نہ رویا کریں۔"
صوفی صاحب نے تعویذ لکھ دیا۔
اگلے ھی روز کسی نے روپوں سے بھرا تھیلا اُن کے صحن میں پھینک دیا۔
خاتون کے شوھر نے ایک دوکان کرائے پر لے لی۔ کاروبار میں برکت ھوئی اور دوکانیں بڑھتی گئیں اور پیسے کی ریل پیل ھو گئی۔
ایک دن خاتون کی نظر اُس پرانے صندوق پر پڑی جس میں انہوں نے تعویذ کو محفوظ رکھا تھا۔
"جانے صوفی صاحب نے تعویذ میں کیا لکھا تھا؟" تجسّس میں اس نے تعویذ کھول ڈالا۔
لکھا تھا، "جب پیسے کی ریل پیل ھو جائے تو سارا پیسہ تجوری میں چھپانے کی بجائے کچھ ایسے گھروں میں ڈال دینا جہاں رات کو بچوں کے رونے کی آواز آتی ھو۔"