Govt Primary School Kass No.1 Dir

Call

Govt Primary School Kass No.1 Dir Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Govt Primary School Kass No.1 Dir, Government Official, Mohalla Kass, Dir.

25/08/2026

محترم والدین،
السلام علیکم!
آپ کو مؤدبانہ طور پر مطلع کیا جاتا ہے کہ 12 ربیع الاول کی مناسبت سے بروز بدھ، 26 اگست کو اسکول میں تعطیل ہوگی۔ یہ دن حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی یاد میں عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
اسکول بروز جمعرات، 27 اگست کو معمول کے مطابق دوبارہ کھلے گا۔ تمام والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کی بروقت حاضری یقینی بنائیں۔
آپ کے تعاون کا شکریہ۔
: انتظامیہ گورنمنٹ پرائمری سکول کس نمبر 1

تمام سرکاری تعلیمی ادارے یکم اگست سے کھلے گے۔ڈی ای او دیر بالا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
30/07/2026

تمام سرکاری تعلیمی ادارے یکم اگست سے کھلے گے۔
ڈی ای او دیر بالا نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔

سوال پوچھنے کا فن(منصور اختر غوری) بہترین استاد جواب نہیں، بہترین سوال پیدا کرتا ہےکلاس روم میں استاد نے بلیک بورڈ پر ای...
06/07/2026

سوال پوچھنے کا فن
(منصور اختر غوری)

بہترین استاد جواب نہیں، بہترین سوال پیدا کرتا ہے
کلاس روم میں استاد نے بلیک بورڈ پر ایک سادہ سا سوال لکھا: "پانی کیوں ضروری ہے؟" چند ہی لمحوں میں کئی ہاتھ بلند ہو گئے۔ بچوں نے کتاب میں موجود جملے دہرانا شروع کر دیے۔ "پانی زندگی ہے"، "پانی پینے کے لیے ضروری ہے"، "پانی کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔"
استاد نے مسکرا کر دوسرا سوال پوچھا: "اگر دنیا سے صرف ایک ہفتے کے لیے پانی ختم ہو جائے تو سب سے پہلے کیا ہوگا؟"
اب کلاس میں خاموشی چھا گئی۔ بچے سوچنے لگے۔ کچھ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، کچھ نے اپنے ذہن میں مختلف امکانات تلاش کرنا شروع کیے۔ چند لمحوں بعد ایک بچے نے کہا، "پودے مر جائیں گے۔" دوسرے نے کہا، "جانور پیاس سے مر جائیں گے۔" ایک بچی بولی، "ہسپتالوں میں بھی مسائل پیدا ہوں گے۔" پھر ایک اور طالب علم نے کہا، "سر! شاید جنگیں بھی شروع ہو جائیں۔"
اب کلاس صرف جواب نہیں دے رہی تھی، بلکہ سوچ رہی تھی۔
یہی ایک عظیم استاد اور ایک عام استاد کے درمیان فرق ہے۔ عام استاد جواب پوچھتا ہے، عظیم استاد سوچ پیدا کرنے والے سوال پوچھتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے بہت سے کلاس رومز میں سوال پوچھنے کا مقصد صرف یہ جاننا ہوتا ہے کہ بچے نے سبق یاد کیا یا نہیں۔ ایسے سوال عموماً "ہاں یا نہیں"، "صحیح یا غلط" یا کتاب کے الفاظ دہرانے تک محدود ہوتے ہیں۔ اس طرح بچے یاد تو کر لیتے ہیں، لیکن سوچنے، تجزیہ کرنے اور اپنی رائے قائم کرنے کی صلاحیت کمزور رہ جاتی ہے۔
تعلیم کا اصل مقصد صرف معلومات منتقل کرنا نہیں بلکہ ذہنوں کو متحرک کرنا ہے۔ جب استاد ایسا سوال پوچھتا ہے جس کا جواب کتاب کے ایک جملے میں موجود نہ ہو، تو بچہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے۔ وہ اپنے تجربات، مشاہدات اور پہلے سے موجود علم کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہی عمل حقیقی سیکھنے کی بنیاد بنتا ہے۔
مشہور ماہرِ تعلیم بنجمن بلوم نے اپنی معروف درجہ بندی (Bloom's Taxonomy) میں واضح کیا کہ سیکھنے کا اعلیٰ ترین درجہ صرف معلومات یاد رکھنا نہیں بلکہ تجزیہ کرنا، تخلیق کرنا اور تنقیدی انداز میں سوچنا ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کا سب سے مؤثر ذریعہ معیاری سوالات ہیں۔
اسی طرح دنیا کے بہترین تعلیمی نظاموں میں اساتذہ کو یہ تربیت دی جاتی ہے کہ وہ صرف معلومات پوچھنے کے بجائے ایسے سوالات تیار کریں جو بچوں کو دلیل دینے، موازنہ کرنے، مسئلہ حل کرنے اور نئی تجاویز پیش کرنے پر آمادہ کریں۔
فرض کریں آپ اردو پڑھا رہے ہیں۔ اگر آپ صرف پوچھیں کہ "کہانی کا مرکزی کردار کون تھا؟" تو بچہ کتاب دیکھ کر جواب دے دے گا۔ لیکن اگر آپ پوچھیں، "اگر آپ اس کہانی کے مرکزی کردار کی جگہ ہوتے تو کیا مختلف فیصلہ کرتے؟" تو بچہ سوچنے پر مجبور ہوگا۔
اسی طرح ریاضی میں صرف فارمولا پوچھنے کے بجائے اگر استاد سوال کرے، "اگر یہ فارمولا موجود نہ ہوتا تو آپ مسئلہ کیسے حل کرتے؟" تو بچے کا ذہن نئے راستے تلاش کرنا شروع کر دیتا ہے۔
سوال صرف معلومات حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ اعتماد پیدا کرنے کا بھی ایک مؤثر طریقہ ہے۔ جب استاد بچوں کو اپنی رائے دینے، مختلف جواب پیش کرنے اور غلطی کرنے کی آزادی دیتا ہے تو کلاس روم میں ایسا ماحول پیدا ہوتا ہے جہاں ہر بچہ خود کو سیکھنے کے عمل کا حصہ محسوس کرتا ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ سوال پوچھنے کے بعد فوراً جواب نہ لیا جائے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ اگر استاد سوال پوچھنے کے بعد چند سیکنڈ انتظار کرے تو زیادہ بچے سوچتے ہیں، بہتر جواب دیتے ہیں اور کمزور طلبہ بھی گفتگو میں شامل ہونے لگتے ہیں۔ اس مختصر انتظار کو تعلیمی تحقیق میں Wait Time کہا جاتا ہے، اور یہ مؤثر تدریس کی ایک اہم تکنیک ہے۔
بدقسمتی سے بعض اوقات استاد خود ہی سوال پوچھ کر فوراً جواب بھی دے دیتا ہے۔ اس صورت میں بچے سوچنے کی زحمت ہی نہیں کرتے۔ ایک اچھا استاد جانتا ہے کہ خاموشی بھی تدریس کا حصہ ہے۔ کبھی کبھی چند لمحوں کی خاموشی بچے کے ذہن میں نئے خیالات پیدا کر دیتی ہے۔
آج جب مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں ہر سوال کا جواب دے سکتی ہے، تو استاد کی اصل ذمہ داری جواب دینا نہیں بلکہ ایسے سوال پیدا کرنا ہے جو بچوں کو سوچنے، تحقیق کرنے اور بہتر انسان بننے کی طرف لے جائیں۔
اسی لیے اگلی بار جب آپ کلاس روم میں جائیں تو خود سے یہ سوال ضرور پوچھیں: "آج میں بچوں سے کتنے ایسے سوال پوچھوں گا جو انہیں صرف جواب دینے کے بجائے سوچنے پر مجبور کریں؟"

غور و فکر
کل اپنی کلاس میں کتاب سے باہر کا صرف ایک سوال ضرور پوچھیے۔ ممکن ہے اسی ایک سوال سے کسی بچے کے اندر ایک نئی سوچ جنم لے۔
(کامیاب تدریس کے 100 اصول)

#تعلیم

16/06/2026

❤️❤️❤️❤️

11/06/2026
Today, our respected School Leader *Mr. Rehan Sahib* conducted special periods with Class 5 students focused on exam pre...
10/06/2026

Today, our respected School Leader *Mr. Rehan Sahib* conducted special periods with Class 5 students focused on exam preparation.
Students were guided on study techniques, time management, and effective ways to attempt the paper.
Under Mr. Rehan Sahib’s mentorship, the students’ confidence and morale were greatly boosted. May Allah reward him abundantly.
We salute our School Leader for his dedication and love for the students.

31/05/2026

📢 اہم اطلاع برائے والدین و طلبہ! 📢
السلام علیکم!

امید ہے آپ سب نے عید الاضحیٰ کا بابرکت تہوار خیر و عافیت اور سنتِ ابراہیمی کے جذبوں کے ساتھ منایا ہوگا۔

عید الاضحیٰ کی تعطیلات کے اختتام کے بعد، اب وقت ہے دوبارہ علم و عمل کے میدان میں سرگرم ہونے کا۔ تعلیمی عمل کا تسلسل ہی بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

🗓️ سکول کھلنے کی تاریخ اور وقت:
دن: پیر

تاریخ: 1 جون 2026ء (کل سے)

وقت: صبح ساڑھے سات (07:30) بجے کلاسز کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔۔

🤝 معزز والدین سے مخلصانہ گزارش ہے کہ تعلیمی حرج سے بچنے کے لیے کل پہلے ہی دن سے بچوں کو باقاعدگی سے سکول بھیجیں اور اس تعلیمی سفر کو جاری رکھنے میں ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون فرمائیں۔

"مستقبل کی کامیابی کا راز وقت کی پابندی اور مسلسل محنت میں چھپا ہے۔"

آئیں مل کر اپنے بچوں کے تعلیمی سفر کو کامیاب بنائیں۔ آپ کا تعاون ہی ہماری کامیابی ہے۔

منجانب:ہیڈ ماسٹرو جملہ سٹاف

گورنمنٹ ماڈل پرائمری سکول کس نمبر 1۔ 🎓

30/05/2026

تین بھائی، تینوں نے ایک ہی گھر، اور تقریباً ایک جیسے حالات میں زندگی کا آغاز کیا۔

بڑا بھائی استاد بن گیا۔ گاؤں کے سرکاری اسکول میں ملازمت مل گئی۔ وہ ایمانداری سے بچوں کو پڑھاتا رہا، اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا اور ایک مقررہ تنخواہ پر زندگی گزارتا رہا۔ والد کی طرف سے ملنے والے دو کچے کمروں کے گھر میں ہی اس کی زندگی گزر گئی۔ اس نے اپنے بچوں کو پڑھایا، ان کی ضروریات پوری کیں، مگر محدود آمدنی کی وجہ سے وہ اپنے گھر کو مکمل طور پر پکا بھی نہ کر سکا۔ تنخواہ اچھی تھی مگر صرف روزمرہ اخراجات کے لئے۔ جب نوکری ملی تھی تو لگتا تھا کامیاب ہو گیا

دوسرا بھائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیرونِ ملک چلا گیا۔ وقت کے ساتھ جدوجہد کی وقت کے ساتھ اس کی آمدنی بڑھی، حالات بدلے اور اس کا معیارِ زندگی بھی بدل گیا۔ آج اس کے پاس وہ سہولتیں ہیں جن کا اس نے شاید کبھی خواب دیکھا تھا۔

تیسرا بھائی شہر چلا گیا اور ایک بینک میں ملازمت اختیار کر لی۔ ( شروع میں لگا کہ سرکاری نوکری نہیں ملی تو شاید ناکام ہو گیا لیکن) شہر میں رہتے ہوئے اسے نئے مواقع ملے، اس کے بچے اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھے، آگے بڑھے اور خاندان کی معاشی حالت بہتر ہوتی گئی۔

تینوں بھائی محنتی تھے، تینوں نے اپنی اپنی جگہ جدوجہد کی، لیکن ان کی منزلیں ایک جیسی نہ تھیں۔ فرق صرف محنت کا نہیں تھا، بلکہ مواقع، ماحول اور آمدنی کے ذرائع کا بھی تھا۔

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ سرکاری استاد کی زندگی بہت آسان اور اس کی تنخواہ بہت زیادہ ہوتی ہے، لیکن ایک عام سرکاری استاد اپنی پوری زندگی ایک محدود تنخواہ میں گزار دیتا ہے۔ وہ اپنے بچوں کی تعلیم، گھر کے اخراجات، بیماریوں اور روزمرہ ضروریات کو پورا کرتے کرتے عمر گزار دیتا ہے۔ بہت سے اساتذہ ایسے ہیں جو تیس تیس سال ملازمت کرنے کے باوجود اپنا گھر بہتر نہیں بنا پاتے، ایک مناسب گاڑی نہیں خرید پاتے اور نہ ہی اپنے لیے کوئی بڑی مالی آسائش حاصل کر پاتے ہیں۔

وہ قوم کے بچوں کو پڑھاتے ہیں، ان کا مستقبل سنوارتے ہیں، مگر اکثر اپنی ہی زندگی کی بہت سی خواہشات ادھوری رہ جاتی ہیں۔ وہ دوسروں کے بچوں کو کامیابی کے راستے دکھاتا رہتا ہے، مگر اکثر اپنی زندگی کی کئی منزلیں صرف خوابوں میں ہی دیکھ پاتا ہے۔

کسی بھی پیشے پر رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے پیچھے چھپی جدوجہد کو بھی سمجھنا چاہیے۔

Date sheet for winter zone Semester 1st examination 2026. (Class 3rd to 8th)Exam start from: 04 June 2026Exam End:  23 J...
22/05/2026

Date sheet for winter zone Semester 1st examination 2026. (Class 3rd to 8th)
Exam start from: 04 June 2026
Exam End: 23 June 2026

Today, the honourable Assistant Commissioner Dir Mr Numan Hafeez sb and Tehsildar Mr Zakir khan Afridi paid an unannounc...
21/05/2026

Today, the honourable Assistant Commissioner Dir Mr Numan Hafeez sb and Tehsildar Mr Zakir khan Afridi paid an unannounced visit to our institution and meticulously observed the academic proceedings in various classrooms. During the visit, the students were engaged through an interactive question-and-answer session, where their remarkable confidence, intellectual acumen, and scholastic proficiency received immense appreciation. The Assistant Commissioner profoundly admired the exemplary discipline, congenial educational environment, and the unwavering dedication demonstrated by the worthy Head Teacher and the entire staff. In recognition of the students’ outstanding performance and commendable response, cash prizes were generously distributed among the deserving learners, making the visit an inspiring and memorable occasion for the whole school community.

Address

Mohalla Kass
Dir

Telephone

+923139582626

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Govt Primary School Kass No.1 Dir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share