Idara Tehqiqat E Imam Ahmad Raza Samundri

Idara Tehqiqat E Imam Ahmad Raza Samundri

Share

Syed Riasat Ali Qadri Razvi founded the Institute in 1980.

Idara Tahqeeqat Imam Ahmad Raza International is a research institute, working on the great life and books of a great scholar Maulana Ahmad Raza Khan (1856-1921).

26/05/2026
26/05/2026

دعا یومِ عرفہ

19/05/2026

#امام احمد رضا رحمہ اللہ تعالی کے چاہنے والے اور علم و دانش سے محبت کرنے والے۔۔۔ محترم ڈاکٹر پروفیسر دلاور خان صاحب Dilawar Khan کی یہ خوبصورت تحریر پڑھیں اور شئیر کرنے کی کوشش کریں۔۔۔۔۔

کنز الایمان کی تفسیری گہرائی: "تمام تعریفیں" بمقابلہ "سب خوبیاں"
دلاور خان
​تمہید (Introduction)
​قرآنِ کریم کلامِ الٰہی ہے، جس کا ہر لفظ بلاغت کے اعلیٰ ترین معیار پر متمکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی دوسری زبان میں اس کے لسانی اسرار، نحوی باریکیوں اور الہیاتی مفاہیم کو منتقل کرنا ایک غیر معمولی علمی و اجتہادی چیلنج رہا ہے۔ اردو تراجمِ قرآن کی تاریخ میں سورہ فاتحہ کی پہلی آیت مبارکہ "اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ" کے ترجمے میں عموماً جمہور مفسرین اور مترجمین نے "تمام تعریفیں" یا "سب تعریف" کا اسلوب اختیار کیا ہے۔ تاہم، چودہویں صدی کے عظیم فقیہ، محدث اور لسانیاتی عبقری، امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مایہ ناز ترجمہ "کنز الایمان" میں اس روایتی اور کثیر الاستعمال ڈگر سے ہٹ کر "سب خوبیاں اللہ کو" کا جملہ وضع فرمایا۔ بظاہر یہ ایک متبادل لفظ کا انتخاب نظر آتا ہے، مگر جب علمِ اشتقاق، فلسفہِ لغت اور علمِ کلام کی دوربین سے اس کا مطالعہ کیا جائے، تو یہ ترجمہ تفسیری گہرائی اور الہیاتی تحفظ کا ایک لافانی شاہکار بن کر سامنے آتا ہے۔ زیرِ نظر مضمون اس منفرد تفسیری انتخاب کا ایک کثیر الجہتی علمی و لسانیاتی جائزہ پیش کرتا ہے۔
​متن (Main Body)
​۱. لفظ "تعریف" کا لسانیاتی پس منظر اور حقیقت بمقابلہ مجاز کا اصول
​علمِ لغت کا یہ بنیادی اصول ہے کہ کلام کو حتی الامکان اس کے "حقیقی اور وضعی" معنی پر محمول کیا جاتا ہے اور جب تک حقیقت پر عمل ممکن ہو، "مجاز" کی طرف رجوع نہیں کیا جاتا۔
​لفظ "تعریف" کا مادہ ع - ر - ف (ع، ر، ف) ہے، جو بابِ تفعیل سے اسمِ مصدر ہے۔ لغوی اور منطقی اعتبار سے اس کا حقیقی اور بنیادی مفہوم "کسی چیز کو پہچاننا، اس کی حدود کا تعین کرنا، یا اس کی حقیقت کو نمایاں کرنا" (Definition/Identification) ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی اصطلاحات میں جب ہم کسی تصور کی "تعریف" کرتے ہیں، تو وہاں مقصد خوشامد یا مدح نہیں ہوتا، بلکہ اس کی سائنسی پہچان کروانا ہوتا ہے۔
​اردو روزمرہ میں اس لفظ کا استعمال "مدح و ثنا" (Praise) کے معنوں میں محض مجازی ہے، کیونکہ کسی کی خوبیاں بیان کرنے کا عمل بالآخر اس کی اصل قدر و منزلت کی "پہچان" کا سبب بنتا ہے۔ امام احمد رضا خان نے یہاں اس تفسیری باریکی کو ملحوظ رکھا کہ اگر ترجمہ "تمام تعریفیں" کیا جائے، تو کلامِ الٰہی کا ڈھانچہ ایک مجازی اور عرفی معنی پر قائم ہوگا، جبکہ لفظ "خوبی" اختیار کرنے سے وہ لغوی حقیقت بحال ہو جاتی ہے، کیونکہ خوبی ہی وہ وصفِ جمیل ہے جو کسی ذات کی اصل پہچان (تعریف) کا حقیقی محرک بنتی ہے۔
​۲. حقیقتِ حمد اور کلامی مجبوریوں کا سدِ باب
​عربی قواعد اور علمِ بلاغت کی رو سے حمد کی تعریف یوں کی گئی ہے: "الثَّنَاءُ بِالْجَمِيلِ عَلَى الْجِهَةِ الِاخْتِيَارِ" (کسی کے اختیاری حسن اور کمال پر اس کی ثنا کرنا)۔ جب دیگر تراجم میں "الحمد" کا ترجمہ "تمام تعریفیں" کیا جاتا ہے، تو اردو زبان کے مزاج کے مطابق اس میں درج ذیل دو علمی و کلامی خرابیاں پیدا ہونے کا احتمال رہتا ہے:
​فعلِ مخلوق پر انحصار کا وہم: اردو میں "تعریف" ایک ایسا فعل ہے جو کسی جاندار یا انسان کی طرف سے صادر ہوتا ہے (مثلاً: اس نے استاد کی تعریف کی)۔ اگر ترجمہ "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں" کیا جائے، تو بظاہر یہ وہم پیدا ہو سکتا ہے کہ جب کوئی مخلوق اپنی زبان سے باری تعالیٰ کی تعریف کرے گی، تبھی حمد کا وجود ہوگا۔ گویا اللہ کی حمد بندوں کے بولنے کی محتاج ٹھہری۔
​شکر اور حمد کا خلط ملط ہونا: شکر کا تعلق اللہ کے افعال (نعمتوں) سے ہوتا ہے، جبکہ حمد کا تعلق اللہ کے ذاتی کمال اور حسن سے ہے۔ "تعریف" کا لفظ اکثر کسی احسان کے بدلے کے تاثر کو ابھارتا ہے، جبکہ اعلیٰ حضرت نے "سب خوبیاں اللہ کو" کہہ کر حمد کو مخلوق کے فعل اور اسباب سے بلند کر کے براہِ راست باری تعالیٰ کے ذاتی و صفاتی کمال (Attributes) پر محیط کر دیا۔
​۳. علمِ معانی کی رو سے "الف لامِ استغراق" کا نحوی جلال
​آیتِ مبارکہ میں لفظِ حمد پر جو "الف لام" (اَلْحَمْدُ) داخل ہے، وہ قواعدِ عربی کے لحاظ سے "الف لامِ استغراق" ہے، یعنی اس جنس کا ہر ہر فرد اس میں شامل ہے۔
​اگر اس کا ترجمہ "تمام تعریفیں" کیا جائے، تو استغراقِ مفرط کا حق ادا کرنے میں منطقی دشواری پیش آتی ہے، کیونکہ دنیا میں بہت سی جھوٹی، مبالغہ آمیز اور درباری تعریفیں بھی ہوتی ہیں، جو معاذ اللہ باری تعالیٰ کی بارگاہ کے لائق نہیں ہو سکتیں۔ اس کے برعکس، اعلیٰ حضرت کا منتخب کردہ لفظ "خوبیاں" اس نحوی الجھن کو یکسر ختم کر دیتا ہے۔ "خوبی" کہتے ہی کمال، حسن اور سچائی کو ہیں، جس میں کسی کذب یا مبالغے کا وجود ہی ممکن نہیں۔ کائنات کی ہر سچی خوبی، خواہ وہ مادی ہو یا روحانی، وہ اصلاً اور حتماً اللہ ہی کی ملکیت ہے۔ یوں کنز الایمان میں الف لامِ استغراق کا حقیقی اور کامل حق ادا ہوتا ہے۔
​۴. کائناتی لسانِ حال اور نظریۂ وجود (Cosmological Perspective)
​کائنات کی اشیاء دو طریقوں سے اپنے خالق کی گواہی اور پہچان کرواتی ہیں: "لسانِ قال" (زبان سے بول کر) اور "لسانِ حال" (اپنے وجود اور حسنِ ساخت سے)۔
​اگر ترجمہ "تمام تعریفیں" کیا جائے، تو اس کا دائرہ صرف لسانِ قال (انسان، جن اور ملائکہ) تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے، کیونکہ بے جان مادی اشیاء زبان سے تعریف نہیں کرتیں۔ لیکن جب ترجمہ "سب خوبیاں" کیا جائے، تو کائنات کا ذرہ ذرہ اس ہمہ گیر الٰہی تسبیح کا حصہ بن جاتا ہے۔ سورج کی روشنی، پانی کی حیات آفرینی، پھول کی خوشبو اور نظامِ فلکیات کا توازن—یہ سب وہ وجودی خوبیاں (Ontological Goods) ہیں جنہیں دیکھ کر عقلِ انسانی اپنے رب کو پہچانتی ہے۔ فلسفہِ وجود کی رو سے وجود سراسر خیر ہے، اور کائنات کا یہ وجودی حسن دراصل اس "رب العالمین" کی ربوبیت کا نتیجہ ہے جو ہر مخلوق کو اس کے کمالِ آخری تک پہنچاتا ہے۔
​۵. منطقِ حصر اور توحیدِ صفات کا تحفظ
​آیتِ مبارکہ میں لفظِ اللہ پر جو "لام" داخل ہے (لِلّٰہِ)، وہ علمِ معانی کی رو سے اختصاص اور حصر (Exclusivity) کے لیے ہے۔ "تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں" کہنے سے یہ منطقی سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ دنیا میں جو انسان ایک دوسرے کے کمالات کی تعریف کرتے ہیں، اس کا کیا درجہ ہے؟
​اعلیٰ حضرت نے "سب خوبیاں اللہ کو" کہہ کر توحیدِ صفات کا ایک محکم کلامی ضابطہ بیان کر دیا۔ اس کا تفسیری مفہوم یہ بنتا ہے کہ کائنات میں اگر کسی بھی مخلوق کے اندر کوئی خوبی نظر آ رہی ہے (مثلاً طبیب کی حاذقیت یا مصنف کی ذہانت)، تو وہ خوبی اس کی ذاتی نہیں بلکہ اللہ کی عطا کردہ ہے۔ لہٰذا، جب ہم مخلوق کی کسی خوبی کی وجہ سے اس کی پہچان کرتے ہیں، تو وہ خوبی بھی اصلاً اللہ ہی کی طرف لوٹتی ہے۔ اس ترجمے سے مخلوق کے کمال کا اثبات بھی ہوتا ہے اور خالق کی توحید پر حرف بھی نہیں آتا۔
​حاصلِ کلام (Conclusion)
​اس تفصیلی علمی و لسانیاتی بحث کا نچوڑ یہ ہے کہ جہاں اردو کے دیگر روایتی تراجم قرآن کے الفاظ کا محض ایک "لسانیاتی ترجمہ" (Verbal Translation) پیش کرتے ہیں، وہاں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن کا ایک جامع "تصوری، کلامی اور معرفتی ترجمہ" (Conceptual & Theological Translation) پیش کیا ہے۔ "تمام تعریفیں" ایک انسانی اور محدود عمل کا نام ہے، جبکہ "سب خوبیاں" ایک الٰہی اور لاجرم کائناتی حقیقت کا نام ہے۔ کنز الایمان کا یہ تفسیری تفوق بندے کی نظر کو محض لفظی شکر گزاری سے اٹھا کر کائنات کے ذرے ذرے میں بکھرے الٰہی اوصاف کے مشاہدے پر لگا دیتا ہے، جہاں ہر خوبی خدا کی معرفت اور پہچان کا ایک مستقل اور ابدی دروازہ بن جاتی ہے۔ یہی وہ تفسیری جلال ہے جو کنز الایمان کو تراجمِ قرآن کی تاریخ میں ایک منفرد اور لائقِ رشک مقام عطا کرتا ہے۔
Aqaid e Ahlesunnat Idara Tehqiqat E Imam Ahmad Raza Samundri Maktaba Imam Ahmad Raza Ala Hazrat Mission Quaid-e-Ahlay Sunnat Hazrat Allama Maulana Shah Ahmed Noorani Siddiqui R.A.@

19/05/2026

عرس مبارک مولانا مفتی شاہ نقی علی خان قادری برکاتی قدس سرہ والد گرامی قدر حضور اعلٰی حضرت محدث بریلوی علیہ الرحمہ
150 سالہ یومِ وصال
ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل سمندری

08/05/2026

اگر استادِ کامل اپنے شاگرد کی تعریف کرے تو یہ تعریف شاگرد کے چہرے پر نہیں بلکہ اس کی روح کی آئینہ دار بن جاتی ہے۔ استاد کی زبانی تعریف دراصل اس کی اپنی علمی اور روحانی بلندی کا ثبوت ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے سینے سے نکال کر کسی کو عطا کر رہا ہوتا ہے۔ جب استاد امام اہل سنت محدث بریلیؒ جیسی شخصیت ہو تو شاگرد فکر وفن کے جس عروج پر ہو اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ جب اپنے کسی خلیفہ و شاگرد کی تعریف فرماتے ہیں تو گویا آسمانِ علم و عرفان سے ستارہ چُن کر اس کے پیشانی پر سجا دیتے ہیں۔ایسی ہی ایک جلیل القدر شخصیت جنہیں دنیا ملک العلماء حضرت مولانا محمد ظفر الدین بہاری قادری برکاتی رضویؒ کے نام سے جانتی ہے جنہیں اعلیٰ حضرت نے اپنے خطوط میں "ولدی الاعز"، "حبیبی و ولدی وقرۃ عینی" اور "از جان بہتر" جیسے الفاظ سے نوازا۔

ملک العلما مولانا ظفر الدین قادریؒ کے مورث اعلیٰ سید ابراہیمؒ بن سید ابو بکر غزنوی ؒملقب بہ مدار الملک و مخاطب بہ ملک بیا ہیں۔ ان کا نسب نامہ ساتویں پشت میں حضرت محبوب سبحانی، قطب ربانی، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تک پہنچتا ہے۔ ملک العلما محمد ظفر الدینؒ رسول پور میجر اضلع پٹنہ(اب ضلع نالندہ) صوبہ بہار میں ۱۰؍ محرم الحرام ۱۳۰۳ھ؍ مطابق ۱۹؍اکتوبر ۱۸۸۰ء کو صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔ خاندان کے لوگوں میں نام پر اختلاف رائے ہوکر ظفیر الدین پہ اتفاق ہوا، اور وہ عرصہ تک اسی نام سے پکارے جاتے رہے۔ جب وہ امام احمد رضاؒ کے شاگرد ہوئے تو انھوں نے ظفیر الدین پر ظفر الدینؒ کو ترجیح دی۔ رسالہ اقلیدس کا خطی نسخہ کتب خانہ خاص میں محفوظ ہے جو شعبان ۱۳۲۲ھ کا مکتوبہ ہے۔

ملک العلما فاضل بہار حضرت مولانا شاہ محمد ظفر الدین قادری رضویؒ ہندوستان کے ان عالموں اور مصنفوں میں تھے جن کی علمی شہرت دور دور تک پھیلی، اور جن کی تصانیف سے ہندوستان اور پاکستان کے رہنے والے بڑی تعداد میں مستفید ہوئے۔ وہ ٹھوس علمی صلاحیت رکھنے والے کامیاب اور شفیق استاذ، علمی تقریر کرنے والے شگفتہ بیان مقرر، دل نشیں باتیں کرنے والے مؤثر واعظ، اپنے منطقی وعلمی استدلال سے فریق(مخالف) کو لاجواب کردینے والے مناظر اور پچاسوں کتابوں کے نامور مصنف تھے۔ جن کی تالیفات و تصنیفات کا دائرہ وسیع تھا، اور بہت سے علوم و فنون پر مشتمل۔ اگر وہ کم عمری میں ذہین، طباع اور سخت جدو جہد کرنے والے طالب علم تھے، تو اپنے عہد شباب و کہولت بلکہ کبر سنی میں بھی جفاکش استاذ اور سر گرم عمل مصنف رہے۔ وہ عالم با عمل تھے، شریعت کے سخت پابند، طریقت کی راہ کے مجاہد اور حب رسول میں سرشار۔ ان کی زندگی کا نظام الاوقات سخت منضبط تھا۔ انھوں نے اپنے اوقات اس طرح تقسیم کر رکھے تھےکہ گونا گوں علمی مصروفیات کے باوجودان کا خاصہ وقت و ظائف و اوراد، اوریاد الٰہی کے لیے مخصوص تھا۔

آپ کے اساتذہ میں اگر ایک طرف حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی اور حضرت مولانا احمد حسن کان پوری رحمہما اللہ تعالیٰ تھے تو دوسری طرف حضرت مولانا لطف اللہ علی گڑھیؒ اور حضرت مولانا شاہ ارشاد حسین رام پوریؒ کے تلامذہ خاص مولانا سید بشیر احمد علی گڑھیؒ اور مولاناحامد حسن رام پوریؒ کے اسمائے گرامی بھی نظر آتے ہیں۔ لیکن جس ذات گرامی سے انھوں نے سب سے زیادہ علمی فیوض حاصل کیے، وہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ جن کی صحبت بابرکت میں وہ برسہا برس رہے، اور جو خاندان کے بزرگوں کی طرح ان پر شفقت فرماتے رہے۔ اس کا اندازہ کچھ ان مکاتیب اور مفاوضات سے ہوسکتا ہے جو شفیق استاذ نے اپنے لائق شاگرد کو لکھے ہیں، اور جن میں وہ انھیں کبھی ولدی الاعز لکھ کر مخاطب کرتے ہیں، کبھی حبیبی وولدی وقرۃ عینی لکھ کر۔ کبھی ولدی اعزل اللہ فی الدنیا والدین لکھتے ہیں۔ اور کبھی ولدی الاعز حامی السنن ماحی الفتن اور ایک خط میں تو جان پدر بلکہ از جان بہتر، لکھ کر خطاب فرمایا ہے۔

امام احمد رضاؒ کے دل میں اپنے اس شاگرد کی کیا قدر و عزت اور کیسی محبت تھی اس کا اندازہ ان کے اس مکتوب سے ہوتا ہے جو انھوں نے ان کے بارے میں خلیفہ تاج الدین احمد ناظمؒ انجمن نعمانیہ ہند لاہور کو اپنی رحلت سے بارہ سال پہلے ۵؍شعبان المکرّم ۱۳۲۸ھ کو تحریر کیا ہے:۔

مولانا مولوی محمد ظفر الدین صاحب قادریؒ سلمہ فقیر کے یہاں کے اعز طلبہ سے ہیں اور میرے بجان عزیز۔ ابتدائی کتب کے بعد یہیں تحصیل علوم کی اور اب کئی سال سے میرے مدرسہ میں مدرس اور اس کے علاوہ کار افتا میں میرے معین ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جتنی درخواستیں آئی ہوں سب سے یہ زائد ہیں مگر اتنا ضرور کہوں گا:

سنی خالص مخلص نہایت صحیح العقیدہ ہادی مہدی ہیں۔ عام درسیات میں بفضلہٖ تعالیٰ عاجز نہیں،مفتی ہیں، مصنف ہیں، واعظ ہیں، مناظرہ بعنونہ تعالیٰ کر سکتے ہیں۔ علمائے زمانہ میں علم توقیت سے تنہا آگاہ ہیں۔ امام ابن حجر مکیؒ نے زواجر میں اس علم کو فرض کفایہ لکھا ہے اور اب ہند بلکہ عام بلاد میں یہ علم علما، بلکہ عام مسلمین سے اٹھ گیا۔ فقیر نے بتوفیق قدیر اس کا احیا کیا اور سات صاحب بنانا چاہے جن میں بعض نے انتقال کیا، اکثر اس کی صعوبت سے چھوڑ کر بیٹھے۔ انھوں نے بقدر کفایت اخذ کیا اور اب میرے یہاں کے اوقات طلوع و غروب و نصف النہار ہر روز و تاریخ کے لیے اور جملہ اوقات ماہ مبارک رمضان شریف کے بھی بناتے ہیں۔

فقیر آپ کے مدرسے کو اپنے نفس پر ایثار کر کے انھیں آپ کے لیے پیش کرتا ہے۔ (مکتوبات)

یہ تو نثر ہوئی، اب نظم دیکھیے۔ امام احمد رضا ؒکا رسالہ الاستمداد ۱۳۳۷ھ تین سو ساٹھ اردو اشعار کا قصیدہ ہے۔ جس میں ۱۳۲ قافیے تو اصلاً مکرر نہیں، باقی میں یہ التزام ہے کہ کوئی قافیہ ۹؍شعر سے پہلے مکرر نہ ہو۔ اس میں عنوان ذکر اصحاب و دعائے احباب، کے تحت ۱۳؍ شعر درج ہیں، جن میں اپنے مخصوص خلفا وتلامذہ کا ذکر کیا ہے، چند شعر یہ ہیں:

تیرے رضا پر تری رضا ہو
اس سے غضب تھراتے یہ ہیں
بلکہ رضا کے شاگردوں کا
نام لیے گھبراتے یہ ہیں
حامد منی انا من حامد
حمد سے ہمد کماتے یہ ہیں
عبد سلام سلامت جس سے
سخت آفات میں آتے یہ ہیں
میرے ظفر ؒکو اپنی ظفر دے
اس سے شکستیں کھاتے یہ ہیں

حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خانؒ اور مولانا عبدالسلام جبل پوریؒ کے بعد ملک العلما فاضل بہار ؒکا ذکر کیا ہے۔ ان تینوں ناموں کے بعد علی الترتیب صدر الشریعہ مولانا امجد علی اعظمیؒ، سید العلما مولانا سید نعیم الدین مراد آبادیؒ اور مولانا محمد اشرفؒ وغیرہم کے اسمائے گرامی آتے ہیں۔ اور اخیر میں ان سبھوں کے لیے دعائے خیر۔

ملک العلماؒ چار سال کی عمر کے ہوئے تو ۱۳۰۷ھ میں ان کے والد ماجد نے ان کی تعلیم شروع کرادی۔ رسم بسم اللہ حضرت شاہ چاند صاحبؒ کے مبارک ہاتھوں سے انجام پائی۔ ابتدائی تعلیم خود والد ماجد نے دی، پھر قرآن مجید اور اردو فارسی کی کتابیں اپنے گھر پر حافظ مخدوم اشرف، مولوی کبیر الدین ؒاور مولوی عبداللطیفؒ سے پڑھیں۔ ۱۳۱۲ھ سے اپنی نانیہا ل موضع ‘‘بین’’ میں کئی سال رہ کر مدرسہ ‘‘غوثیہ حنفیہ’’ میں تفسیر جلالین، میر زاہد وغیرہ تک کا درس لیا۔ اساتذہ ان کی ذہانت و شوق علمی کی وجہ سے ان پر بہت شفقت فرماتے تھے۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سب یاد نہ کرنے کی وجہ سے اساتذہ ان سے ناخوش ہوئے ہوں۔ اس زمانہ میں عظیم آباد (پٹنہ) علم وفن کا مرکز تھا جہاں متعدد دینی مدارس قائم تھے۔ جن میں مدرسہ حنفیہ واقع بخشی محلّہ پٹنہ سٹی ممتاز حیثیت رکھتا تھا۔ اس مدرسہ کے بانی فارسی و اردو کے مشہور محقق قاضی عبد الودود بی اےؒ، کینٹب، بارایٹ لا (۱۸۹۶ء-۱۹۸۴ء) کے والد گرامی قاضی عبدالوحید صدیقی فردوسیؒ (۱۲۸۹- ۱۳۲۶ھ) تھے، جو وہاں کے ایک دین دار رئیس اور فاضل بریلویؒ کے معتقدین میں تھے۔ انھوں نے ۱۳۱۸ھ میں یہ دینی درسگاہ قائم کی اور ایک بڑی جائیداد اس کے اخراجات کے لیے وقف کردی۔ انھوں نے نامور اساتذہ کی خدمات حاصل کیں، اور کچھ ہی عرصہ کے بعد اس کی شہرت بہار کے قصبات و مواضع تک ہی نہیں دوسرے صوبوں تک پھیل گئی۔

اسی مدرسے کے ایک استاذ حضرت مولانا شاہ وصی احمد محدث سورتیؒ متوفیٰ ۱۳۳۴ھ کی علمی شہرت سن کر مولانا ۲۵؍جمادی الآخرہ ۱۳۲۰ھ کو مدرسہ حنفیہ بین سے مدرسہ ‘‘حنفیہ پٹنہ’’ آگئے، جہاں انھوں نے مسند امام اعظم، مشکوٰۃ شریف اور ملا جلال پڑھی۔ کچھ ہی دنوں کے بعد محدث صاحبؒ بوجہ علالت اوائل شعبان میں مدرسہ حنفیہ سے کنارہ کش ہوکر اپنے وطن پیلی بھیت تشریف لے گئے، تو ماہ شوال ۱۳۲۰ھ کو مولانا ظفر الدینؒ اپنے ہم سبق حکیم ابو الحسن ؒکے ساتھ دار العلوم کان پور پہنچے۔ ان کی بعض تحریرات سے جو خاندان میں محفوظ ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ کتابوں اور سامان کے ساتھ سفر کا کچھ حصہ انھوں نے پیدل چل کر طے کیا۔ پاؤں میں آبلے پڑگئے، لیکن طلب و شوق میں راہ علم کا مسافر آگے ہی بڑھتا رہا۔ انھوں نے مدرسہ امداد العلوم بانس منڈی کان پور میں مولانا قاضی عبدالرزاقؒ متوفیٰ ۱۹۴۶ء مرید حضرت حاجی امداد اللہ مکیؒ و شاگرد مولانا احمد حسن کانپوریؒ کے سلسلہ تلامذہ میں داخل ہوکر درس لینا شروع کیا۔ مدرسہ امداد العلوم کے علاوہ بعض اسباق مدرسہ احسن المدارس اور بعض دار العلوم میں پڑھتے رہے، گویا کان پور کے تینوں مدارس کے اساتذہ سے انھوں نے علمی فیوض حاصل کیے۔ وہاں کے مشہور استاذ مولانا احمد حسن کانپوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ متوفیٰ ۳؍صفر ۱۳۲۲ھ سے منطق کی کتابیں پڑھیں۔ اور مولانا شاہ عبید اللہؒ پنجابی کانپوری متوفیٰ ۶؍جمادی الاولیٰ ۱۳۴۳ھ سے ہدایہ آخرین ختم کی۔ پھر کان پور سے پیلی بھیت جہاں محدث سورتی پٹنہ سے واپس آکر اپنے قائم کردہ دارالحدیث میں درس دینے لگے تھے، پہنچے اور وہاں ان سے حدیث کا درس لیا۔

اس کے بعد خوب سے خوب ترکی تلاش انھیں بریلی اعلیٰ حضرت امام اہل سنّت مولانا احمد رضا خان فاضل بریلویؒ (۱۲۷۲۔ ۱۳۴۰ھ) تک لے گئی۔ جن کے علم اور قلم کی طاقت کی شہرت دور دور تک پھیلی ہوئی تھی۔ وہ پہلی ہی ملاقات میں ان سے مل کر بہت متأثر ہوئے، وہ ان سے فیض اٹھانا چاہتے تھے۔ اور ان کے علم سے متمتع ہونا چاہتے تھے، اور در سیات کی تکمیل بھی۔ لیکن فاضل بریلویؒ ہمہ وقت مطالعہ اور تالیف و تصنیف میں مشغول رہتے تھے، ان کے یہاں نہ باقاعدہ درس و تدریس کا کوئی سلسلہ تھا، اور نہ اس وقت کوئی مدرسہ قائم تھا۔ مولانا ظفر الدینؒ، اعلیٰ حضرت کے چھوٹے بھائی مولانا حسن رضا خاں حسن بریلویؒ (۱۲۷۶۔۱۳۲۶ھ) بڑے صاحب زادے مولانا حامد رضا خانؒ (۱۲۹۱۔ ۱۳۶۲ھ) مولانا حکیم سید محمد امیر اللہ شاہ بریلویؒ اور دوسرے اصحاب سے ملے اور ان لوگوں کے مشورے اور مساعی سے ایک مدرسہ قائم کرنے کے لیے راہ ہموار ہوئی۔ ملک العلماؒ فرماتے تھے کہ مدرسہ کے قیام میں حضرت مولانا حسن رضا خاںؒ اور مولانا سید محمد امیر اللہؒ کی مساعی کو بہت دخل ہے۔ اور یہ مدرسہ انھیں کی کوششوں سے قائم ہوا۔ یوں ۱۹۰۴ء/۱۳۲۲ھ میں مدرسہ منظر اسلام محلّہ سودا گران بریلی میں قائم ہوا۔ یہ تاریخی نام ہے۔ اس سے ۱۳۲۲ھ کے اعداد مستخرج ہوتے ہیں۔ مولانا حسن رضا خاںؒ اس کے پہلے ناظم مقرر ہوئے۔ مولانا ظفر الدینؒ کے ایک دوست اور ہم وطن مولانا سید عبدالرشید عظیم آبادیؒ بھی آگئے تھے۔ صرف انہی دو طالب علموں سے مدرسہ کا افتتاح ہوا۔ اور امام احمد رضاؒ نے بخاری شریف شروع کرائی۔ اب ملک العلماؒ نے بہار خطوط لکھ کر مدرسہ کے قیام کی اطلاع دی، اور دوستوں کو بھی بریلی بلالیا۔

مولانا نے امام احمد رضاؒ سے صحیح بخاری شریف پڑھنی، اور فتویٰ نویسی سیکھنی شروع کی۔ انھوں نے اعلیٰ حضرتؒ کے کچھ فتاوے جنھیں ظاہراً وہ املا کرادیتے تھے، ایک مجموعہ میں جمع کرنا شروع کیے تھے جس کے کچھ اوراق اس وقت پیش نظر ہیں۔ اس میں پہلا فتویٰ ۸؍رمضان ۱۳۲۲ھ کاتحریرکردہ ہے۔ بعد کو جب مدرسے میں کچھ جید علما اور مستند مدرسین کی خدمات حاصل کی گئیں، تو انھوں نے مولانا حکیم محمد امیر اللہ شاہ بریلویؒ، مولانا حامد حسن رام پوریؒ، مولانا سید بشیر احمد علی گڑھیؒ سے مسلم الثبوت، صحیح مسلم شریف اور دوسری کتب درسیات کی تکمیل کی۔ اعلیٰ حضرتؒ سے انھوں نے صحیح بخاری، اقلیدس کے چھ مقالے تصریح، تشریح الافلاک، شرح چغمینی تمام کر کے علم ہئیت ریاضی، توقیت، و تکسیر وغیرہ فنون حاصل کیے۔ تصوف کی کتابوں میں ان سے عوارف المعارف اور رسالہ قشیریہ کا درس بھی لیا۔ ان اسباق میں طلبہ کے علاوہ علما کی جماعت بھی شریک ہوئی تھی۔

ماہ شعبان ۱۳۲۵ھ کی کسی تاریخ کو علما کے ایک بڑے مجمع میں فاضل بریلوی کی درخواست پر چشتی مشرب کے مشہور بزرگ شیخ العالم حضرت مخدوم احمد عبدالحق ردولویؒ قدس سرہ العزیز کی بارگاہ کے سجادہ نشیں حضرت مخدوم شاہ التفات احمدؒ قدس سرہ نے ان کے سر پر دستار فضیلت باندھی، اور سلاسل عالیہ کی اجازت و خلافت عطا فرمائی، اور ملک العلما فاضل بہار، کا خطاب دیا

ملک العلماءؒ کی تدریسی زندگی کا آغاز بھی مدرسہ منظر اسلام بریلی ہی سے ہوا جہاں ان کی تعلیم کی تکمیل ہوئی۔ تقریباً چار سال تک وہ وہاں درس دیتے رہے، اور فاضل بریلویؒ کی ہدایت پر فتاویٰ نویسی کی خدمات بھی انجام دیتے رہے۔ اس زمانہ میں جو فتاوے انھوں نے لکھے ان میں سے کچھ کی نقلیں نافع البشر فی فتاویٰ ظفر میں موجود ہیں۔ ۱۳۲۹ ھ میں معززین شملہ کے اصرار و طلب اور اعلیٰ حضرتؒ کے حکم پر عالم و خطیب کی حیثیت سے وہ شملہ گئے۔ اگلے سال مولانا عبدالوہاب الٰہ بادیؒ نے اپنے قائم کردہ مدرسہ “حنفیہ” کے لیے جو آرا ضلع شاہ آباد بہار میں قائم ہوا تھا، اعلیٰ حضرتؒ کو لکھا کہ وہ مولانا ظفر الدینؒ کو صدر مدرس کا عہدہ پیش کرنا چاہتے ہیں، آپ انھیں آمادہ کریں، اعلیٰ حضرتؒ نے صرف اس خیال سے کہ نئے دینی مدارس کا قیام اور اس کی ترقی بھی ضروری ہے، وہاں جانے کی اجازت دے دی۔ اس طرح وہ منظر اسلام بریلی سے مدرسہ حنفیہ آرا ضلع شاہ آباد بہار تشریف لے گئے۔ جہاں وہ کئی سال اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ ۱۳۳۰ھ/ مطابق ۱۹۱۲ء میں عظیم آباد میں مسٹر سید نور الہدیٰ ڈسٹرکٹ سیشن جج نے اپنے والد ماجد سید شمس الہدیٰؒ کے نام پر مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی، قائم کیا، تو اس میں بحیثیت مدرس اول ان کا تقرر عمل میں آیا، جہاں وہ تفسیر و حدیث و فقہ کا درس دینے لگے۔ ۱۳۳۴ھ، ۱۹۱۶ء میں سید شاہ ملیح الدین احمدؒ سجادہ نشیں خانقاہ کبیریہ سہسرام کی فرمائش پر وہ صدر مدرس ہوکر سہسرام ضلع شاہ آباد بہار چلے گئے، جہاں وہ پانچ چھ سال مقیم رہے۔۱۳۳۸۔ ۱۹۲۱ء میں جب مسٹر سید نور الہدیٰؒ مرحوم و مغفور نے مدرسہ اسلامہ شمس الہدی کو حکومت بہار کے انتظام میں دے دیا اور حکومت نے مدرسہ کا نظام اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی تنظیم جدید کی اور نئے تقررات کیے، تو مولانا ظفر الدین قادریﷺ وہاں سینئر مدرس ہوکر آگئے۔ ۱۹۴۸ء میں وہ پرنسپل کے عہدے پر سر فراز ہوئے اور ۱۹۵۰ء میں تقریباً تیس سال علمی خدمات انجام دے کر انھوں نے سبکدوشی حاصل کی۔

حکومت بہار کی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد ملک العلماؒکو ذہنی سکون و اطمینان قلب بھی ملا اور فراغت کا وقت بھی۔ اب وہ اطمینان سے اپنے دینی و علمی مشاغل میں مصروف ہوگئے۔ کچھ تدریس کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

۲۱؍شوال ۱۳۷۱ھ کو شاہ شاہد حسین عرف درگاہی میاں خلف سید شاد حمید الدینؒ سجادہ نشین تکیہ حضرت شاہ رکن الدین عشقؒ متوفیٰ ۱۲۰۳ھ میتن گھاٹ پٹنہ کی استدعا پر کٹیہار ضلع پورنیہ بہار میں جامعہ لطیفیہ بحر العلوم کا افتتاح فرمایا، اور صدر مدرس کے عہدے کو رونق بخشی، صرف اس بنا پر کہ اس علاقے میں مسلمانوں کی خاصی آبادی کے باوجود کوئی قابل ذکر دینی مدرسہ نہ تھا۔

کبرسنی اور دوسری انتظامی ذمہ داریوں کے باوجود ملک العلماؒ روزانہ چھ گھنٹے پڑھاتے تھے۔ مدرسے کا نظام الاوقات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ انھوں نے اپنے ذمے تفسیر مدارک، بیضاوی شریف، بخاری، مسلم، ہدایہ آخرین اور مناظرہ رشیدیہ کی تدریس رکھی تھی۔ مدرسے کی نظامت و تدریس کے ساتھ فتاویٰ نویسی تالیف و تصنیف اور مواعظ حسنہ کا سلسلہ بھی انھوں نے جاری رکھا۔

سالانہ جلسہ دستار بندی کے موقع پر نامور علما ومقررین کو مدعوبھی کرتے رہے۔ حضرت مولانا سید محمد محدث کچھوچھویؒ، مفسر قرآن مولانا ابراہیم رضا خانؒ (جیلانی میاں) اور دوسرے علما کے مواعظ حسنہ سے بھی عوام اور مدرسہ کے طلبہ واساتذہ کو استفادہ کراتے رہے۔

جامعہ لطیفیہ کے قیام سےشمالی بہار کے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا، اور اس علاقہ میں دین کو فروغ ہوا۔ سیکڑوں طلبہ وہاں سے فارغ ہوکر دور دراز علاقوں میں پھیل گئے۔ بعضوں نے نئے مدارس بھی قائم کیے۔ کچھ اصحاب نے مواضع اور قصبات کے ان مدارس کو اپنی خدمات سے ترقی دی، جہاں اب تک محدود پیمانہ پر تعلیم کا انتظام تھا۔ اس لحاظ سے ملک العلما کا پورنیہ میں دو سالہ قیام بہت مفید رہا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ان کا لگایا ہوا پودا مضبوط و توانا ہوکر شجر بار آور ہوگیا تو ربیع الاول شریف ۱۳۸۰ھ میں جامعہ لطیفیہ کٹیہار سے وہ ظفر منزل شاہ گنج پٹنہ آکر مقیم ہوگئے، اور یہاں انھوں نے سلسلہ رشد و ہدایت شروع کیا۔

ملک العلما سے مختلف مدارس کے جن طلبہ نے علمی فیوض حاصل کیے، ان کی تعداد بتانا آسان نہیں۔ صرف مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے متخرجین کی تعداد ہزاروں تک پہنچے گی۔

متحدہ ہندوستان کے مختلف مقامات سے فنون ہئیت و توقیت سے دلچسپی رکھنے والے حضرات خاصی تعداد میں مولانا سے بذریعہ خط و کتابت اپنا علمی شوق پورا کرتے رہے۔ ان میں مولانا مفتی محمد عمیم الاحسانؒ استاذ مدرسہ عالیہ ڈھاکہ اور حاجی محمد ظہور نعیمیؒ مراد آباد کے استفسارات کے جواب میں متعدد مخطوط مجموعہ مکتوبا ت میں محفوظ ہیں۔ جن علما نے پٹنہ میں قیام کر کے ان سے یہ علوم سیکھے ان میں مولانا حافظ عبدالرؤفؒ نائب شیخ الحدیث مدرسہ اشرفیہ مبارک پور متوری ۱۹۷۱ء، مولانا نظام الدین بلیا ویؒ مدرس مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد، اور مولانا یحییٰ بلیاویؒ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

کبرسنی اور دوسری انتظامی ذمہ داریوں کے باوجود ملک العلماؒ روزانہ چھ گھنٹے پڑھاتے تھے۔ مدرسے کا نظام الاوقات دیکھنے سے معلوم ہوا کہ انھوں نے اپنے ذمے تفسیر مدارک، بیضاوی شریف، بخاری، مسلم، ہدایہ آخرین اور مناظرہ رشیدیہ کی تدریس رکھی تھی۔ مدرسے کی نظامت و تدریس کے ساتھ فتاویٰ نویسی تالیف و تصنیف اور مواعظ حسنہ کا سلسلہ بھی انھوں نے جاری رکھا۔

سالانہ جلسہ دستار بندی کے موقع پر نامور علما ومقررین کو مدعوبھی کرتے رہے۔ حضرت مولانا سید محمد محدث کچھوچھویؒ، مفسر قرآن مولانا ابراہیم رضا خان (جیلانی میاں) اور دوسرے علما کے مواعظ حسنہ سے بھی عوام اور مدرسہ کے طلبہ واساتذہ کو استفادہ کراتے رہے۔

جامعہ لطیفیہ کے قیام سےشمالی بہار کے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچا، اور اس علاقہ میں دین کو فروغ ہوا۔ سیکڑوں طلبہ وہاں سے فارغ ہوکر دور دراز علاقوں میں پھیل گئے۔ بعضوں نے نئے مدارس بھی قائم کیے۔ کچھ اصحاب نے مواضع اور قصبات کے ان مدارس کو اپنی خدمات سے ترقی دی، جہاں اب تک محدود پیمانہ پر تعلیم کا انتظام تھا۔ اس لحاظ سے ملک العلما کا پورنیہ میں دو سالہ قیام بہت مفید رہا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ ان کا لگایا ہوا پودا مضبوط و توانا ہوکر شجر بار آور ہوگیا تو ربیع الاول شریف ۱۳۸۰ھ میں جامعہ لطیفیہ کٹیہار سے وہ ظفر منزل شاہ گنج پٹنہ آکر مقیم ہوگئے، اور یہاں انھوں نے سلسلہ رشد و ہدایت شروع کیا۔ ملک العلما نے کوئی ۵۵ سال تک مسلسل تدریس کا سلسلہ قائم رکھا، اور بریلی، آرا، سہسرام، پٹنہ اور کٹیہار پورنیہ کے مدارس میں ہزاروں طالبان علم کو اپنے علمی فیوض سے سیراب کیا۔ تدریس کےساتھ افتا و مواعظ کا سلسلہ بھی برابر جاری رہا۔

ملک العلما کی تالیفات و تصنیفات کی تعدادستر سے زائد ہے۔ تصانیف کا سلسلہ ۱۳۲۲ھ سے شروع ہوکر تقریباً ان کی رحلت ۱۳۸۲ھ یعنی پچاس پچپن سال تک جاری رہا۔ کچھ کتابیں عربی زبان میں ہیں، لیکن زیادہ تر افادہ عام کی خاطر اردو میں لکھی گئی ہیں۔ یہ متعدد فنون اور موضوعات حدیث، اصول حدیث، فقہ، اصول فقہ، تاریخ، سیرت، فضائل، مناقب، اخلاق، نصائح، صرف، نحو، منطق، فلسلفہ، کلام، ہئیت، توقیت، تکسیر اور مناظرہ پر مشتمل ہیں۔ کچھ اب تک غیر مطبوعہ ہیں، اور کچھ زیور طباعت سے آراستہ ہوکر شائع ہوچکی ہیں:۔

سیرت:
شرح کتاب الشفا (نامکمل)، ١٣٢٤ھ
تنویر السراج فی ذکر المعراج، ١٣٥٣ھ
مولود رضوی، ١٣٦٠ھ

حدیث:
نزول اسکینۃ باسانید الاجازت المتینہ، ١٣٣٣ھ
جامع الرضوی معروف بہ صحیح البہاری، ٦ جلدیں، ١٣٤٥ھ
الافادات رضویہ-اصول حدیث، ١٣٤٤ھ

فقہ واصول:
مواہب ارواح القدس لکشف حکم العرس، ١٣٢٣ھ
اعلام اساجد بصرف جلو الاضحیہ فی المساجد، ١٣٢٥ھ
التعلیق علی القدوری، ١٣٢٥ھ
بسط الراحتہ فی الحظر والا باحتہ، ١٣٢٦ھ
الفیص الرضوی فی تکمیل الحموی
رفع الخلاف من بین الاحناف
القول الاظہر فی الا ذان بین یدی المنبر
تحفۃ الاحباب فی فتح الکوۃ والباب
نہایہ المنتہی فی شرح ہدایت المبتدی
تسہیل القول الی علم الاصول
نافع البشر فی فتاوی ظفر
نصرۃ الاصحاب باقسام ایصال الثواب
جامع القوال فی رویۃ الھلال
عید کا چاند
تنویر المصباح للقیام عند حی علی الفلاح
اصلاح الایضاح

عقائد و مناظرہ:
ظفر الدین الجید
الحسام المسلول علی منکر علم الرسول
مبین الھدی فی نفی امکان مثل المصطفیٰ
شکست سفاہت
ظفر الدین الطیب
سجم الکنزہ علیٰ الکلاب المطرۃ
النبراس لدفع المنہاس
کشف الستور عن مناظرۃ رامپور
گنجینہ مناظرہ
ندوۃ الملما
الفوائد التامہ فی اجوبۃ الامور العامۃ

فضائل و مناقب:
تحفہ الاحبار فی منافب الاخبار
تحفۃ المظا فی فضل العلما
النور والفیا فی سلاسل الاولیا
تاریخ و سوانح
المجمل المعدد لتالیف المجدد
جواہر البیان فی ترجمۃ خیرات الحسان (ترجمہ)
خیر السلوک فی نسب الملوک
اعلام الا علام باحوال العرب قبل الاسلام
چودھویں
صدی کے مجدد
حیات اعلیٰ حضرت
مظہر المناقب، ٤ جلدیں

ان کی زندگی کے آخری دو سال تالیف و تصنیف، وعظ ہدایت اور افتانویسی میں بسر ہوئے۔ جس رات انھوں نے رحلت فرمائی، اس شام کو بھی انھوں نے چار خطو ط لکھے۔ والدۂ مرحومہ فرماتی تھیں کہ دو خطوں کے بارے میں تو یاد نہیں کہ کن کو لکھے گئے تھے، تیسرا خط تمہارے نام تھا اور چوتھا خط بہت طویل تھا، جو وراثت کے ایک پیچیدہ مسئلے کے بارے میں تھا۔

ملک العلما عرصہ سے فشار الدم کے مرض میں مبتلا تھے اور بہت کمزور ہوگئے تھے۔ لیکن ان کی عبادت و ریاضت میں کوئی کمی نہیں آئی، نہ ان کے روزانہ کے معمولات میں کوئی فرق۔ زندگی کے آخری دن تک وہ علمی و دینی فرائض حسب معمول انجام دیتے رہے۔ شب دو شنبہ ۱۹؍جمادی الآخر۱۳۸۲ھ؍ ۱۸؍نومبر ۱۹۶۲ء کو ذکر جہر اللہ اللہ کرتے ہوئے انھوں نے اپنی جان جاں آفریں کو اس طرح سپرد کی کہ کچھ دیر تک اہل خانہ کو اس بات کا احساس بھی نہیں ہوا کہ وہ واصل بحق ہوچکے ہیں۔دوسرے دن حضرت شاہ محمد ایوب شاہدی رشیدی سجادہ نشیں خانقاہ اسلام پور ضلع پٹنہ حسن اتفاق سے تشریف لے آئے اور انہی نے نماز جنازہ پڑھائی۔

دسویں گیارہویں صدی ہجری کے مشہور بزرگ حضرت شاہ ارزاں متوفیٰ (۱۰۲۸ھ) کی درگاہ سے متصل شاہ گنج کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ ہر سال ان کے اعزہ و معتقدین و تلامذہ مختلف مقامات پر ان کے یوم ِوصال پر فاتحہ خوانی اور عرس و مواعظ حسنہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ خدا ان کی مغفرت فرمائے، ان کی تربت ٹھندی رکھے اور انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔

(تذکرہ مشائخ از تاج الشریعہ مولانا اختر رضا خان الازہری)

مولانا ظفر الدین بہاریؒ کی زندگی علم، عمل اور محبتِ رسول ﷺ کا ایک روشن مینار ہے۔ آج کے دور میں جب فتنے اور انتشار عام ہے، ان کی تعلیمات اور تصانیف ہمیں اہلِ سنت والجماعت کے عقائد پر قائم رہنے، علم حاصل کرنے اور رسولِ اکرم ﷺ کی سنت پر چلنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

القادری
٦مئی٢٠٢٦

Photos from Idara Tehqiqat E Imam Ahmad Raza Samundri's post 21/04/2026

جشن صبحِ بہاراں
20 اپریل کو میلادالنبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی خوبصورت بزم
سینکڑوں غلامان رسول ہاشمی کی تشریف آوری
علماء کرام مشائخ عظام کی برکات
امین فکر رضا پیر طریقت حضرت علامہ مولانا پیر محمد حامد سرفراز قادری رضوی صاحب نے خطاب دلنشین سے مہمانوں کو سرفراز کیا
9 واں سالانہ جلسہ میلاد شریف پہلے مختصر ہوتا تھا اب سے ان شاءاللہ تعالیٰ پوری شان و شوکت سے محبت رسول کے فروغ کے لیے اس دن کو منانے کا عزم
20 اپریل کو یوم محبت رسول کے طور پر منائیں یا یومِ درود کا نام دیا جائے
کام ہے ان کے ذکر سے یوں ہوا کہ یوں

Want your business to be the top-listed Government Service in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Jamia Hanfia Raza Islamic Research Centre 437/GB. Karol Near Motor Way Tehsil Samundri District Faisalabad Punjab
Faisalabad
37300