23/04/2026
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا عالمی یوم کتب پر پیغام
آج یونیسکو کی طرف سے مختص کردہ عالمی یوم کتب پر میں پاکستان اور دنیا بھر کے قارئین، مصنفین،ادیب ناشرین، اساتذہ اورطالب علم کو انکی کتابوں سے لگاو اور مطالعہ سے رغبت پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
آج بالخصوص پاکستان کے ادباء اور اساتذہ کی قومی فکری ارتقاء میں تعمیری کردار اورانکی بیش قدر خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
کتابیں صدیوں سے علم و دانائی اور رہنمائی کا ایک لازوال ذریعہ رہی ہیں۔ کتابوں کی دائمی اہمیت اور مطالعہ کی انقلابی قوت کا ادراک یقیناً باشعور ذہن کا عکاس ہے۔
کتابیں نئی سوچ، مختلف نقطہ نظر اور ثقافتوں سے متعارف کرواتی ہیں اور ذہنی افق اور فہم کو وسعت دیتی ہیں۔
کتابیں باشعور ذہن کی تشکیل، تنقیدی سوچ کے فروغ کے ساتھ ساتھ ہمدردی، امن و برداشت جیسے اوصاف کی ترویج کا بھی ذریعہ ہیں۔یہی مثبت اوصاف ایک پرامن، اور ترقی یافتہ معاشرے کی بیناد کو مضبوط کرتےہیں۔
آج ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ترقی کے دور میں ڈیجیٹل ذرائع سے معلومات تک رسائی میں آسانی سے کتب اور مطالعہ کی اہمیت اور بھی اجاگر ہو گئی ہے۔مطالعہ کی عادت فکری نشوونما، تخلیقی صلاحیت اور باخبر شہری بننے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
پاکستان کی شاندار ادبی روایات، علمی ورثہ اور علم و دانش، قومی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔کلاسیکی علوم سے لے کر جدید ادب تک، ہمارے ادیب اور دانشوروں نے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں جو آج بھی نئی نسل کے لیے مشعل راہ ہیں۔
نوجوان نسل میں مطالعہ کے رحجان کو فروغ دینا اور معیاری کتب تک رسائی کو یقینی بنانا نہایت ضروری ہے تاکہ انکی بطور باشعور اور ذمہ دار شہری کے تربیت کی جا سکے۔
وفاقی وزارت تعلیم اور نیشنل بک فاؤنڈیشن مطالعہ کے فروغ، مصنفین و ناشرین کی معاونت اور معیاری و سستی کتب کی فراہمی کے لیٔے سرگرم عمل ہے۔
آج میں نوجوانوں، اساتذہ، والدین اور تعلیمی اداروں سے خصوصی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اجتماعی سطح پر معاشرے میں مطالعہ کی عادت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔
آئیے تجدید عزم کریں کہ ہم خواندگی کے فروغ، علم تک رسائی میں آسانی اور تحریر و کتب کی قدر کو اجاگر کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ تاکہ علم پر مبنی، باشعور اور
روشن خیال پاکستان کی تعمیر میں اپنا فرض ادا کر سکیں۔
23/04/2026
آج پاکستان سے تعلق رکھنے والے شطرنج کے عظیم کھلاڑی میر سلطان خان کی برسی ہے۔
میر سلطان خان کی پیدائش ضلع سرگودھا (موجودہ خوشاب) کے گاؤں مٹھا ٹوانہ میں ہوئی۔ سالِ پیدائش کے بارے میں معمولی سا اختلاف پایا جاتا ہے۔ کچھ ذرائع 1903ء جبکہ بعض 1905ء بیان کرتے ہیں ۔ محدود رسمی تعلیم کے باوجود انہوں نے شطرنج میں غیرمعمولی مہارت حاصل کی، جو زیادہ تر دیسی (انڈین) طرزِ شطرنج پر مبنی تھی۔
1929ء میں نواب سر عمر حیات خان ٹوانہ انہیں اپنے ہمراہ انگلستان لے گئے جہاں انہوں نے چند ہفتوں میں یورپی طرزِ شطرنج میں بھی مہارت حاصل کرلی اور انتہائی حیران کن کامیابیاں سمیٹیں۔ انہوں نے برٹش چیس چیمپئن شپ تین مرتبہ (1929ء، 1932ء اور 1933ء میں) جیتی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے ازمنہ جوانی میں صفِ اول کے کھلاڑی بن چکے تھے۔
یورپ میں قیام کے دوران انہوں نے اپنی شطرنج میں مہارت کے سبب سب کو حیران کئے رکھا ۔ جدید تجزیاتی نظام، جسے چیس میٹرکس کہا جاتا ہے ، کے مطابق ان کی کارکردگی اس معیار کی تھی جو آج کے حساب سے عالمی سطح کے گرینڈ ماسٹرز کے برابر سمجھی جا سکتی ہے۔ اگرچہ ان کے زمانے میں “گرینڈ ماسٹر” کا باقاعدہ اعزاز موجود نہیں تھا، تاہم میر سلطان خان کی وفات کے بعد شطرنج کی عالمی تنظیم (FIDE) نے انہیں بعد از مرگ “اعزازی گرینڈ ماسٹر “ کا درجہ دے کر ان کی خدمات کو تسلیم کیا۔
1930ء کی دہائی کے وسط میں برصغیر واپسی کے بعد میر سلطان خان نے عملی طور پر بین الاقوامی شطرنج کو خیرباد کہہ دیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے گاؤں مٹھا ٹوانہ ہی میں مقیم رہے اور مقامی لوگوں کے ساتھ شطرنج کھیل کر اپنا شوق پورا کرتے رہے ۔عمر کا آخری حصہ نسبتاً گمنامی میں گزار کر وہ 23 اپریل 1966 کے دن اس جہان فانی کو الوداع کہہ گئے۔
میر سلطان خان کا شمار آج بھی دنیا کے بڑے شطرنجی نابغوں میں کیا جاتا ہے۔
22/04/2026
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کا عالمی یومِ الارض پر پیغام۔
"یہ دن زمین کی ناگزیر اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور اس کے تحفظ کی اجتماعی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے۔ زمین کے قدرتی وسائل، انسانی زندگی کی موجودگی اور نشوونما کی ضمانت ہیں۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے متاثرین میں نمایاں ہے۔ یہ صورتحال زمین کے قدرتی خدوخال کے تحفظ کے عزم کو اور بھی پختہ کرتی ہے۔ موسمی شدت اور غیر معمولی تغیرات زمین کی ماحولیاتی تبدیلی کے عکاس ہیں۔ حکومتِ پاکستان زمین کے قدرتی وسائل، نباتات و ماحول کے تحفظ، موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے، اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ سمیت دیگر اقدامات کے لیے کوشاں ہے۔ اس تناظر میں عوامی آگاہی بھی انتہائی اہم ہے تاکہ زمین کے تحفظ میں انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کی جا سکیں۔ مزید برآں عالمی سطح پر مؤثر بین الاقوامی تعاون اور ماحول کے تحفظ سے ہم آہنگ اجتماعی حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔"
22/04/2026
ہم ہیں بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص
1st commemoration of Marka-e-Haq 2025
22/04/2026
وزیراعظم شہباز شریف کا جنگ بندی میں توسیع پر صدر ٹرمپ کا شکریہ، امن مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پرامید
وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اپنے ایک حالیہ بیان میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور اپنی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست قبول کر لی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر جاری اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ جنگ بندی میں توسیع سے جاری سفارتی کوششوں کو منطقی انجام تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان تنازعات کے مذاکراتی تصفیے کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ انہیں قوی امید ہے کہ تمام فریقین جنگ بندی کی پاسداری کریں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں ایک جامع 'امن معاہدہ' طے پا جائے گا، جو خطے میں جاری تنازع کے مستقل خاتمے کا سبب بنے گا۔
22/04/2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران پر حملے روکنے کا اعلان .
"امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم " ایکس"پر جاری پیغام میں کہا کہ" پاکستانی قیادت نے ہم سے کہاکہ ایران پر حملہ نہ کریں، وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہم سے ایرانی قیادت کی متفقہ تجاویز آنے تک حملے روکنے کا کہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کی درخواست پر ایران پر حملے روک رہے ہیں۔"
22/04/2026
صدر مملکت آصف علی زرداری کا عالمی یومِ الارض پر پیغام
یہ دن ہمیں زمین کے تحفظ اور قدرتی وسائل کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانے کی مشترکہ ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے۔
پاکستان ان درپیش ماحولیاتی چیلنجز سے بخوبی آگاہ ہے جن میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے لے کر ہمارے قدرتی ماحولیاتی نظام کی تنزلی اور ناگہانی سیلابوں سے لے کر لینڈ سلائیڈنگ تک شامل ہیں۔ بحیثیت ایک قوم، ہم نے سیلاب، خشک سالی اور شدید موسمی حالات کے تباہ کن نتائج کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ محض آنے والے خطرات نہیں بلکہ موجودہ حقائق ہیں جو ہمارے عوام کی زندگیوں اور روزگار کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔
پاکستان کے لیے میرا وژن ہمیشہ پائیدار ترقی اور ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں پر مبنی رہا ہے۔ میرے گزشتہ دورِ حکومت میں، بینظیر بھٹو شہید یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام جیسے اقدامات، جن میں شجرکاری کی وسیع مہم شامل تھی، ایک سرسبز پاکستان کے لیے ہمارے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہمیں ان کوششوں کو بنیاد بناتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے، اپنے جنگلات کے تحفظ، پانی کی بچت اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے اپنی پالیسیوں کو مزید مستحکم کرنا چاہیے۔
میں اس مقصد کے لیے اپنے عزم کی تجدید کرتا ہوں اور ہر شہری، کمیونٹی اور ادارے سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنا کردار ادا کریں۔ آئیے ہم زیادہ سے زیادہ درخت لگانے، پلاسٹک کے استعمال کو کم کرنے، پائیدار طریقوں کو اپنانے اور اپنے نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت سے آگاہ کرنے کا عہد کریں۔ ایک صاف ستھرا اور سرسبز پاکستان نہ صرف ایک ضرورت ہے بلکہ ہمارا وہ فرض ہے جو ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ادا کرنا ہے۔
ہم مل کر ایک ایسے خوشحال قوم کی تعمیر کر سکتے ہیں جو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ ہو۔ آئیے ہم مل کر اس بات کو یقینی بنائیں تا کہ پاکستان خوبصورتی، خوشحالی اور امید کی سرزمین کا استعارہ بنے۔
پاکستان زندہ باد۔
22/04/2026
عالمی یوم الارض: ایک عہد، ایک مقصد
عالمی یوم الارض (Earth Day) ہر سال 22 اپریل کو منایا جاتا ہے، جس کا بنیادی مقصد کرہ ارض کے تحفظ کے لیے شعور بیدار کرنا اور ماحولیاتی مسائل کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانا ہے۔ اس دن کا آغاز 1970 میں ہوا تھا، اور آج یہ دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کے لیے ایک یاد دہانی بن چکا ہے کہ زمین ہمارا واحد گھر ہے اور اس کی بقا ہماری اپنی بقا سے جڑی ہوئی ہے۔
موجودہ دور میں ہماری زمین کو موسمیاتی تبدیلی (Climate Change)، بڑھتی ہوئی تپش (Global Warming)، جنگلات کی کٹائی اور پلاسٹک کی آلودگی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ مسائل نہ صرف انسانی صحت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ جنگلی حیات اور قدرتی نظامِ توازن کو بھی درہم برہم کر رہے ہیں۔ عالمی یوم الارض ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔
پاکستان کے تناظر میں دیکھا جائے تو عالمی یوم الارض کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالنے کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ہم نے دیکھا ہے کہ گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں تیزی (GLOF)، شدید گرمی کی لہریں (Heatwaves) اور غیر یقینی بارشوں کی وجہ سے سیلاب نے ہمارے زراعت، معیشت اور انسانی زندگیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے
ہم کیا کر سکتے ہیں؟
زمین کو بچانے کے لیے کسی بڑے معجزے کی نہیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کی ضرورت ہے:
زیادہ سے زیادہ درخت لگانا تاکہ فضا صاف رہے۔
ماحول دوست تھیلوں کا انتخاب کرنا۔
پانی اور بجلی کو ضائع ہونے سے بچانا۔
تین اصول (3Rs): یعنی اشیاء کا دوبارہ استعمال (Reuse)، کمی (Reduce) اور ری سائیکلنگ (Recycle) پر عمل کرنا۔
یہ دن محض تقاریب منعقد کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ تجدیدِ عہد کا دن ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک سرسبز، محفوظ اور صحت مند زمین منتقل کریں گے۔ اگر ہم آج قدرت کا خیال رکھیں گے، تو کل قدرت ہمارا خیال رکھے گی۔
#پاکستان #شجرکاری #فطرت #آگاہی۔