16/04/2025
Urdu Poetry Club
Classical Urdu Poetry
16/04/2025
دیکھ محبت کا دستور
تو مجھ سے میں تجھ سے دور
تنہا تنہا پھرتے ہیں
دل ویراں آنکھیں بے نور
دوست بچھڑتے جاتے ہیں
شوق لیے جاتا ہے دور
ہم اپنا غم بھول گئے
آج کسے دیکھا مجبور
دل کی دھڑکن کہتی ہے
آج کوئی آئے گا ضرور
کوشش لازم ہے پیارے
آگے جو اس کو منظور
سورج ڈوب چلا ناصرؔ
اور ابھی منزل ہے دور
ناصر کاظمی
بے دلی کیا یونہی دن گزر جائیں گے۔۔
صرف زندہ رہے تو مر جائیں گے۔۔
بڑی سوچیں میرے چہرے پہ چپکی رہ گئیں..
میں جواں عمری میں ہی صدیوں پرانا ہو گیا..
ﺑﻦ ﺗﯿﺮﮮ ﮐﺎﺋﻨﺎﺕ ﮐﺎ ﻣﻨﻈﺮ
ﺍﮎ ﺩﺳﻤﺒﺮ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ
ﺩﺭﺩ ﭨﮭﮩﺮﺍ ﮨﮯ ﺁ ﮐﮯ ﯾﻮﮞ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ
ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ ﮨﻮ ﺟﯿﺴﮯ..
زندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں
وقت کی روانی ہے بخت کی گرانی ہے
سخت بے زمینی ہے سخت لا مکانی ہے
ہجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے
بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے
عمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ہیں
درد کے سمندر میں
ان گنت جزیرے ہیں بے شمار موتی ہیں
آنکھ کے دریچے میں تم نے جو سجایا تھا
بات اس دئے کی ہے
بات اس گلے کی ہے
جو لہو کی خلوت میں چور بن کے آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پر ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
زندگی سے لمبی ہے بات رت جگے کی ہے
راستے میں کیسے ہو
بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے
پیار کرنے والوں کو اک نگاہ کافی ہے
ہو سکے تو سن جاؤ ایک روز اکیلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے ہیں
امجد اسلام امجد
اندھیری رات میں رہتے تو کتنا اچھا تھا
ہم اپنی ذات میں رہتے تو کتنا اچھا تھا
دکھوں نے بانٹ لیا ہے تمہارے بعد ہمیں
تمہارے ہاتھ میں رہتے تو کتنا اچھا تھا
وصی شاہ
تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے
"فیض احمد فیض"
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
Faisalabad
