Hikmat - Herbal

Hikmat - Herbal

Share

اپنے قمتی مشورے اور صحت کے لیے رابطہ

27/02/2026

اسلام علیکم

09/01/2025
09/01/2025

اکسیر جگر ۔ خون کی کمی یرقان آور جسمانی کمزوری کے لیے ۔ ربطہ نمبر 03216007698

05/11/2024

*﷽*
**السلام علیکم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ*‎
*ان گنت درودوسلام بحضور سرور کونین ﷺ
سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم

الصلوۃ والسلام علیکَ یارسول اللّٰہﷺ
الصلوۃ والسلام علیکَ یا خاتم النبیینﷺ
الصلوۃ والسلام علیکَ یا رحمت العالمینﷺ
صبح بخیر.

یاﷲ عزوجل ہماری مانگی اور بن مانگی دعائیں ہماری بہتری کے لیے اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرما۔

ہماری مشکلیں اور پریشانیاں آسان فرما، ہمیں ہدایت پر رکھ، ہمیں اپنے والدین عزیز و اقارب اور غریب رشتہ داروں سے حسن و سلوک اور نیکی کرنے کی توفیق بخش۔

یاﷲ ہماری اصلاح فرما اور ہمیں سیدھے راستہ پر چلا کر نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے ہمارے رب تو بابرکت و بلند ہے تو ہماری دعائيں قبول فرما۔
آمیـــــــن يارب العالمـــــــــین* بجاہ نبی الکریم ❤️
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کثیرا *
جزاک اللہ بالخیر.

17/07/2024

‏🔷 کربلا اچانک نہیں ہوئی ایک طویل نفرت بٹھائی گئی جو دلوں میں پنپتی رہی🔷

‏آپ نے کبھی سوچا کہ امام حسن علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کی پانچ چھ سال کی عمر تک تو واقعات ملتے ہیں مگر اس کے بعد تاریخ میں ان کا ذکر صرف تب ہوا جب ان کی شہادت ہوئی۔

‏کئی نامور اصحاب حضرت سلمان فارسی کہ جس کے بارے میں نبی کریم نے فرمایا کہ اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو اہل فارس وہاں پہنچ جائیں۔

‏حضرت ابوذر کہ جنہیں زمین پر سب سے سچا انسان قرار دیا۔

‏حضرت مقداد جن کی جنت مشتاق ہے۔

‏حضرت ایوب انصاری جو نبی کریم کے مدینہ میں میزبان تھے۔

‏حضرت جابر بن عبداللہ انصاری جو نبی کریم سے لے کر ان کی پانچویں نسل تک حیات رہے۔

‏حضرت عمار یاسر جن کی شان میں آیات نازل ہوئیں۔

‏حضرت بلال حبشی جو موذنِ رسول تھے۔

‏تاریخ ان کے بارے میں مکمل خاموش نظر آتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے رحلت نبی کریم ص کے بعد وہ اس دنیا سے غائب رہے اور بس شہادت یا وفات کے وقت دنیا میں کچھ دیر کے لئے آئے۔

‏آخر کہیں تو کچھ غلط ہوا ہے کہ ان شخصیات کا ذکر کرنا عیب سمجھا گیا۔

‏دوسری طرف جو افراد نبی کریم ص کی وفات سے سال دو سال قبل مسلمان ہوئے, ان کی سوانح عمری سے تاریخ بھری نظر آتی ہے۔

‏نبی کریم ص کی وفات کے بعد ایسا کیا ہوا کہ ان کی آل اور بہت سے وفادار اصحاب کو تاریخ نے مکمل نظرانداز کر دیا۔

‏کہاں کچھ غلط ہوا کہ نبی کریم ص کی وفات کے بعد ان کی آل کے کسی بھی فرد کی طبعی وفات نہ ہوئی۔

‏تمام قتل ہوئے اور قاتل بھی وہ جو ان کے جد کا کلمہ پڑھتے نہیں تھکتے تھے۔

‏آج چودہ صدیاں بعد بھی ہم جانتے ہیں کہ حسن و حسین علیہم السلام جنت کے سردار ہیں۔

‏ایسا کیا ہوا کہ جنت کے طلب گاروں نے سرداروں کو انتہائی اذیت کے ساتھ قتل کر دیا۔

‏مورخ نے آخر ان تمام ہستیوں کو اتنا غیر اہم کیسے سمجھا کہ تاریخِ اسلام میں ان کا حصہ ایک صحابی جتنا بھی نہیں رکھا۔

‏کربلا اچانک نہیں ہوئی۔
‏ایک طویل نفرت تھی جو دلوں میں پنپ رہی تھی۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا, نفرت بڑھتی رہی اور ہر ہستی کے بعد دوسری ہستی پر پہلے سے زیادہ ظلم ہوتا نظر آیا۔

‏اتنی نفرت کہ اس مقدس گھرانے کی مطہرات پر ظلم کرنے سے بھی نہ چوکے۔

‏چھ ماہ کے بچے کا سر کاٹنا بھی ثواب سمجھا گیا حالانکہ بدترین دشمن کے چھ ماہ کے بچے سے بھی کوئی دشمنی کا بدلہ لینے کا نہیں سوچتا۔

‏امت نے تو آل رسول پر ظلم کیا ہی تھا مگر مورخین نے ان سے کہیں زیادہ ظلم کیا کہ جن کے فضائل تھے, انہیں چھپایا جبکہ ان کے دشمنوں کے فضائل سے کتابیں سیاہ کیں۔

‏24 ذوالحجہ کو واقعہ مباہلہ کی یاد منائی گٸی۔ اس واقعہ میں بنص قران پانچ ذواتِ مقدسہ میدان میں توحید کے گواہ بن کر پیش ہوئے اور قران مجید نےانہیں صداقت کی سند عطا کی۔
‏واقعہ مباہلہ کے کچھ مدت بعد ان پانچ ہستیوں میں بزرگ ترین ہیستی کا وصال ہوا جنازے میں کتنے کلمہ گو تھے؟؟

‏پھر 75 دن بعد اس گھر کا دوسرا جنازہ رات کی تاریکی میں اُٹھا اور چند مخلصین کی موجودگی میں بڑی خاموشی اور مظلومیت سے دفن کردیا گیا اور نشانِ قبر تک مٹا دیا گیا جو آج تک نہ مل سکا۔

‏پھر اسی گھرانے کا تیسرا جنازہ 40 ہجری میں کوفہ سے آدھی رات کے وقت اٹھا اور پشتِ کوفہ ریت کے ٹیلوں کے درمیان خاموشی سے دفن کر دیا گیا اور مدتوں قبر کا نشان نامعلوم رہا۔

‏پھراسی ج**عت کے چوتھے فرد کا جنازہ 50 ہجری میں شہر مدینہ سےاُٹھا اور نانے کی مزار کی طرف چلا مگر کچھ لوگ تیروں سے مسلحہ راستے میں حاٸل ہوٸے کہ نواسے کو نانے کے پہلو میں دفن نہیں ہونے دیں گے آخر وہ جنازہ بقیع کے عوامی قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔

‏پھر 61 ہجری میں اصحاب مباہلہ کے آخری فرد کا جنازہ اٹھایا بھی نہ جا سکا بلکہ جنازہ گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کر دیا گیا۔

‏بحثیت مسلمان کیا ہم یہ حق نہیں رکھتے کہ کم از کم ہم مورخ اسلام سے یہ تو پوچھیں کہ جنکی صداقت کا گواہ خود اللہ ہے اور وہ توحیدِ خدا کے گواہ ہیں امت رسول نے انکے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا۔؟

‏ہمارا یہ سوال امت مسلمہ پر قیامت تک قرض رہے گا اور اگر اس دنیا میں اس کا جواب نہ ملا تو میدان محشر میں عدالت خداوند تعالیٰ میں ہم یہ سوال اٹھائیں گے
‏کیوں لگتا ھے کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دنیا سے ظاہری پردہ فرمانے کے بعد کا مورخ وھی ھے جسکی اولاد نے پاکستان میں معاشرتی علوم لکھی۔

17/07/2024

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کا عبرتناک انجام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محترم قارٸینِ کرام ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَ کَذَالِکَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضاً بِمَا کَانُوا یَکْسِبُوْنَ ۔ (پ۸ الانعام ۱۲۹)
ترجمہ : اور یوں ہی ہم ظالموں میں ایک کو دوسرے پر مسلط کرتے ہیں ۔ بدلہ ان کے کئے کا ۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : بے شک اللہ عزوجل اس دینِ اسلام کی مدد فاجِر یعنی بدکار آدمی کے ذریعہ سے بھی کرا لیتا ہے ۔ (صحیح بخار ج۲ ص۳۲۸ دار الکتب العلمیۃ بیروت)

اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وحی فرمائی کہ میں نے یحییٰ بن زکریا (علیہما السلام) کے قتل کے عوض ستر ہزار افراد مارے تھے اور تمہارے نواسے کے عوض ان سے دُگنے (یعنی ڈبل) ماروں گا ۔ (المستدرک للحاکم جلد ۳ صفحہ ۴۸۵ حدیث نمبر ۴۲۰۸)

تاریخ شاہد ہے کہ حضرتِ یحییٰ بن زکریا علیہما الصلوۃ و السلام کے خونِ ناحق کا بدلہ لینے کےلیے اللہ تعالیٰ نے بختِ نصر جیسے ظالم کو متعین کیا جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا ۔ اِسی طرح حضرتِ امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خونِ ناحق کا بدلہ لینے کےلیے اللہ تعالیٰ نے مختار ثقفی جیسے کذاب کو مقرر فرمایا ۔ (شامِ کربلا ص۲۸۵،چشتی)

اللہ تعالیٰ کی مصلحتیں خود وہی جانتا ہے ۔ وہ اپنی مَشیّت سے ظالموں کے ذریعے بھی ظالموں کو ہلاک کرتا ہے ۔

بد بخت قاتلانِ امام حسین رضی اللہ عنہ کے حالات ان لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہوں گے جنہوں نے کتبِ تاریخ کا مطالعہ کیا ہے ۔ ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے قتل امام حسین رضی اللہ عنہ میں شریک تھا یا اس پر راضی اور خوش تھا ۔ عذاب اخروی جس کا وہ مستحق ٹھہرا ، سے قطعِ نظر اس دنیائے ناپائیدار میں بھی اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچا ۔ ہر وہ شخص جو معرکۂ کربلا میں حضرت سید الشہداء کے مقابلہ کی غرض سے آیا تھا اس دنیا سے عذاب دیکھے بغیر اور اپنے کیے کی سزا پائے بغیر نہیں گیا۔بعض قتل کر دیے گئے ۔ کچھ نابینا ہو گئے ، بعض کا چہرہ سیاہ ہو گیا ، کچھ شدت پیاس سے ہلاک ہوئے اوربعض کی دولت و حکومت قلیل مدت میں جاتی رہی ۔ بعض دیگر عقوبات میں مبتلا ہوئے ۔

حضرت علامہ ابن جوزی نے سدّی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک شخص کی دعوت کی مجلس میں یہ ذکر چلاکہ حضرت حسینؓ کے قتل میں جوبھی شریک ہوا اس کو دنیا ہی میں جلد سزا مل گئی اس شخص نے کہاکہ بالکل غلط ہے میں خود ان کے قتل میں شریک تھا میرا کچھ بھی نہیں ہوا،اتنا کہہ کریہ شخص مجلس سے اٹھ کر گھرگیا جاتے ہی چراغ کی بتی درست کرنے لگا اتنے میں اس کے کپڑوں میں آگ لگ گئی اوروہیں جل بھن کررہ گیا ۔ سدّی کہتے ہیں کہ میں نے خود اس کو صبح دیکھا تو کوئلہ ہوچکا تھا ۔(اسوۂ حسینی صفحہ ۱۰۱ ، ۱۰۲،چشتی)

یزید پلید کا عبرتناک انجام : ⏬

واقعہ کربلا کے کچھ ہی دنوں کے بعد یزید ایک ہلاکت خیز اور انتہائی مُوذِی مَرَض میں مبُتلا ہوا ، پیٹ کے دَرْد اورآنتوں کے زَخْموں کی ٹِیس (یعنی تکلیف) سے ماہیِ بے آب (یعنی جس طرح مچھلی پانی کے بغیر تڑپتی ہے) کی طرح تڑپتا رہتا تھا ، حِمْص میں جب اُسے اپنی مَوت کا یقین ہوگیا تو اپنے بڑے لڑکے مُعاویہ کو بِسْترِ مَرْگ پر بُلایا اور اُمورِ سَلْطَنَت کے بارے میں کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ بے ساخْتہ بیٹے کے مُنہ سے چیخ نکلی اور نہایت ذِلَّت و حقارت کے ساتھ یہ کہتے ہوئے باپ کی پیشکش کو ٹھکرا دِیا کہ جس تاج و تخت پر آلِ رسول کے خُون کے دَھبّے ہیں ، میں اُسے ہرگز قبول نہیں کر سکتا ، خُدا اِس منحوس سَلْطَنَت کی وِرَاثَت سے مجھے مَحْرُوم رکھے ، جس کی بنیادیں نواسَۂ رسول کے خُون پر رکھی گئی ہیں ۔یزیداپنے بیٹے کےمُنہ سے یہ اَلْفاظ سُن کر تڑپ گیا اور شِدّتِ رَنْج واَلَم سے بستر پر پاؤں پٹخنے لگا ، مَوت سے کچھ دن پہلے یزید کی آنتیں سڑ گئیں اور اُس میں کیڑے پڑ گئے ، تکلیف کی شِدّت سے خِنزیر کی طرح چیختا تھا ،پانی کا قَطرہ حَلْق سے نیچے اُترنے کے بعد نِشْتَر کی طرح چبھنے لگتا تھا ، عجیب قَہْرِ الٰہی کی مارتھی ، پانی کے بغیر بھی تڑپتا تھا اور پانی پاکر بھی چیختا تھا ، با لآخر اِسی دَرْد کی شِدّت سے تڑپ تڑپ کر اُس کی جان نکلی ، لاش میں ایسی ہولناک بدبُو تھی کہ قریب جانا مشکل تھا ، جیسے تیسے اُس کو سِپُردِ خاک کِیا گیا ۔ (تاریخ کربلا صفحہ ۳۴۵)

یزید پلید کی مَوت کا ایک سَبَب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک رُومیُّ النَّسْل لڑکی کے عشق میں گرفتار ہوگیا تھا ، مگر وہ لڑکی اندرونی طور پر اُس سے نفرت کرتی تھی ، ایک دن رنگ رلیاں مَنانے کے بہانے اُس نے یزید کو دُور ویرانےمیں تنہا بُلایا ، وہاں کی ٹھنڈی ہواؤں نے یزید کو بَدمَسْت کر دِیا ، اُس دوشیزہ نے یہ کہتے ہوئے کہ جو بے غیرت و نابَکار (یعنی نِکَمّا) اپنے نبی کے نواسے کا غَدّار ہووہ میرا کب وفادارہو سکتا ہے ، خنجرِ آبدار (تیز دھار) کے پے در پے وار کر کے چِیْر پھاڑ کر اُس کو وہیں پھینک دِیا ۔ چند روز تک اُس کی لاش چِیْل کوّوں کی دعوت میں رہی ۔ بالآخر ڈُھونڈتے ہوئےاُس کے اَہالی مَوالی (یعنی نوکر چاکر) وہاں پہنچے اور گڑھا کھود کر اُس کی سڑی ہوئی لاش کو وہیں داب (دَفنا) آئے ۔ (امام حسین کی کرامات صفحہ ۴۷)

یزید کی قَبْر کا حال : ⏬

دِمِشْق کے پُرانے قَبْرِستان بابُ الصَّغِیْر کے کچھ آگے یزید کی قَبْر کا نشان تھا ، جس پر آج سے کئی سالوں پہلے لوگ اینٹیں پتّھر مارتے تھے اور اکثر اینٹوں کا ڈھیر لگا رہتا تھا ، وہاں اب شیشہ ، کانچ ، (اور) لوہا گَلانے کی بھَٹّی لگی ہوئی ہے ، اُس کارخانے میں شیشے کے برتن بنائے جاتے ہیں ، اُس لوہے اور کانچ کو گَلانے کی آگ والی بھٹی بالکل ٹھیک جس جگہ قَبْر تھی وہاں بنی ہوئی ہے ۔ گویا یزید کی قَبْر پر ہر وقت آگ جلتی رہتی ہے ۔ (شَہادت نواسۂ سید الابرار صفحہ ۹۱۸-۹۱۹)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے : جس شخص نے میرے اہْلِ بَیْت پر ظُلم کِیا اور مجھے میری عِترَتِ پاک (یعنی اولاد) کے بارے میں اَذِیَّت دی ، اُس پر جنَّت حرام کر دی گئی ۔ (برکات آل رسول صفحہ ۲۵۹)

ایک اور حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص بَیْتُ اللہ شریف کے ایک کونے اور مقامِ ابراہیم کے درمیان کھڑے ہوکرنَماز پڑھے ، روزے رکھے اور پھر اہْلِ بَیْت رضی اللہ عنہم کی دشمنی پر مر جائے تو وہ جہنّم میں جائے گا ۔ (مُسْتَدْرَک ،کتاب معرفۃ الصحابۃ،مبغض اہل البیت یدخل النار ۔۔۔ الخ جلد ۴ صفحہ ۱۲۹-۱۳۰ حدیث نمبر ۴۷۶۶)

حضرت امام حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : جن لوگوں نے حضرت امام حُسَیْن رضی اللہ عنہ کو قتل کِیا ہے ، اگر وہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے بخشے بھی جائیں تووہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا مُنہ دکھائیں گے ۔ اللہ عزوجل کی قسم ! اگر حضرت امام حُسَیْن رضی اللہ عنہ کے قتل میں میرا دَخْل ہوتا اور مجھے جنّت اور دوزخ کا اِخْتیار دِیا جاتاتو میں دوزخ اِخْتیار کرتا ، اِس خوف کے سبب کہ جنّت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کس منہ سے جاؤں گا ۔ (تنبیہ المغترین الباب الاوّل الحسن البصری وقتلۃ الحسین صفحہ ۵۴)

حضرت عمر بن عبدُ العزیز اموی رضی اللہ عنہ قاتِلِ حُسَیْن”یزید پلید“ کو خلیفہ نہیں تسلیم کرتے تھے ، چُنانچہ ایک بار دورانِ گُفتگو کسی نے یزید کو اَمِیْرُ المُومنین کہا تو (آپ سخت ناراض ہوئے اور) اُس سے فرمایا : تم یزید کو اَمِیْرُ المُومنین کہتے ہو ؟ پھر اُسے بیس (20) کوڑے مارنے کا حکم دِیا ۔ (تاریخ الخلفاء یزید بن معاویہ ابوخالد الاموی صفحہ ۲۰۹،چشتی)

اَعْلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں جب یزید کے بارے میں سوال کیا گیا کہ یزید کو پلید کہنا شرعاً جائز ہے یا نہیں ، نیز اُس کے نام کے ساتھ رحمۃ اللہ علیہ کہنا دُرُسْت ہے یانہیں ؟ تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا : یزید بے شک پلید تھا ، اُسے پلید کہنا اور لکھناجائز ہے ، اور اُسے رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نہ کہے گا مگر ناصبی (یعنی اپنے سینے میں حضرت علی اور حَسَن و حُسَیْن رضی اللہ عنہم سے بُغْض و کِیْنہ رکھنے والاہے جو) کہ اَہْلِ بَیْتِ رسالت کا دُشمن ہے ، وَالْعِیَا ذُ بِاللہِ تَعَالٰی ۔ (فتاوی رضویہ جلد ۱۴ صفحہ ۶۰۳)

حضرت علّامہ اِبْنِ حَجَر ہیتَمی مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : حضرت صالح بن احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کی : (بابا جان) ایک قوم ہماری جانب یہ بات مَنْسُوب کرتی ہے کہ ہم یزید کے حِمایتی ہیں ، آپ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : يَابُنَیَّ وَهَل يَتَوَلّٰى يَزِيْدَ اَحَدٌ يُؤمِنُ بِاللهِ ، اے میرےبیٹے ! کیا اللہ تعالٰی پر ایمان رکھنے والا بھی یزید پلید کا حِمایتی ہو سکتا ہے ؟ ۔ (الصواعق المحرقۃ الباب الحادی عشر الخاتمہ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ صفحہ ۲۲۲)

یزید کا بیٹا مُعاویہ جو کہ نیک و صالح تھا ،قتلِ امام حُسَیْن رضی اللہ عنہ کی وجہ سے اپنے باپ یزید غَدّار و مَکّار سے سخت نفرت کرتا تھا،چُنانچہ (اپنے باپ یزید پلید کے بارے میں) کہنے لگا : میرے باپ کو حکومت دی گئی ، وہ نالائق تھا ، نواسَۂ رسول سے لڑا ، اُس کی عُمْر کم کردی گئی اوراس کی نَسْل تَباہ کر دی گئی ، وہ اپنی قَبْر میں گُناہوں کے سبب گِروی رکھ دِیا گیا (یعنی تاقیامت مبُتلائے عذاب ہو گیا) ، پھر روتے ہوئے کہنے لگے : ہم پر سب سے زِیادہ گِراں اُس کی بُری مَوت اور بُرا ٹِھکانہ ہے ، اُس بَدبَخْت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اَولاد کو قتل کِیا ، شراب حلال کی اور کعبے کی بے حُرمتی کی ۔ (الصواعق المحرقۃ الباب الحادی عشر الخاتمہ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ صفحہ ۲۲۴،چشتی)

صَدْرُ الشَّریعہ حضرت مُفتی محمد امجد علی اَعْظَمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : یزید پلید فاسق ، فاجِر ، مُرتکبِ کبائر (یعنی گناہِ کبیرہ کرنے والا) تھا ، مَعَاذَ اللہ (عزوجل) اُس سے اور رِیْحانَۂ رسولُ الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا امام حُسَیْن رضی اللہ عنہ سے کیا نسبت ؟ آج کل جو بَعْض گمراہ کہتے ہیں کہ ہمیں اُن کے مُعامَلہ میں کیا دَخْل ؟ ہمارے وہ (یعنی امام حُسَیْن رضی اللہ عنہ) بھی شہزادے (ہیں) ، وہ (یزید پلید) بھی شہزادے (ہیں) ایسا بکنے والا مَردُود ، خارِجی ، ناصبی (یعنی اپنے سینے میں حضرت علی اور حَسَن و حُسَیْن رضی اللہ عنہم سے بُغْض و کینہ رکھنے والا ہے اور ) مُسْتَحِقِّ جہنّم ہے ۔ (بہار شریعت جلد ۱ صفحہ ۲۶۱ حصہ اوّل)

قہرِ الہٰی کی بھڑکائی ہوئی آگ : ⏬

روایت ہے کہ ایک ج**عت آپس میں گفتگو کر رہی تھی کہ دشمنانِ حسین میں سے کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جو اس دنیا سے مصیبت و بلاء میں مبتلاء ہوئے بغیر چلا گیا ہو ۔ اس ج**عت میں سے ایک بوڑھے نے کہا کہ میں بھی قتلِ حسین بن علی میں شریک تھا ۔ مجھ پر تو ابھی تک کوئی مصیبت نازل نہیں ہوئی ۔ ابھی یہ بات کر رہی رہا تھا کہ چراغ کے فتیلہ کو درست کرنے کے لیے اپنی جگہ سے اٹھا ۔اچانک شعلۂ چراغ نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس بری طرح سے جلا کہ اچھلتا کودتا واپس آیا اور چلانے لگا:میں جل گیا ۔ میں جل گیا ۔ یہاں تک کہ اس کی یہ سوزش اس درجہ بڑھی کہ اس نے اپنے آپ کو دریا میں ڈال دیا ۔ مگریہ آگ تو قہرِ الہٰی نے بھڑکائی تھی دریا اسے کیا ٹھنڈا کرتا؟وہ تو اس کےلیے تیل کا کام کر گیا اور وہ اس انداز سے جلا کہ اس کا وجود جہنم کا ایندھن بن گیا ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

ایک پری چہرہ سیاہ رو ہو گیا : ⏬

مزید روایت ہے کہ ابن زیاد کے لشکریوں میں سے ایک شخص جس نے امام عالی مقام کے سر کو اپنے فتراک میں ڈالاتھا خوبصورتی کے اعتبار سے بہت زیادہ شہرت یافتہ تھا ۔ بعد میں جب اسے دیکھا گیا تو اس کا چہرہ سیاہ ہو چکاتھا۔اس سے پوچھا گیا : تو تو بڑا خوب رو اور صاحبِ حسن و جمال تھا ۔ کیا وجہ ہے کہ تیرے چہرے پرسیاہی اور کالک نے ڈیرہ جما لیا ہے ۔ کہنے لگا : جس روز میں نے حسین کے سر کو اپنے فتراک میں ڈالاتھا اسی دن سے روزانہ دو آدمی آتے ہیں مجھے دونوں بازؤں سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے آگ کے پاس لے جاتے ہیں اور پھر مجھے اس آگ پر الٹا لٹکا دیتے ہیں بعد ازاں اتار لاتے ہیں ۔ اس دن سے میرا چہرہ سیاہ اور حال تباہ ہے ۔ یہ شخص اسی عذاب میں مبتلا رہا یہاں تک کہ راہی جہنم ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

آنکھوں میں خون آلود سلائی پھیر دی گئی : ⏬

واقدی سے منقول ہے : مقتلِ حسین کے حاضرین میں سے ایک بوڑھا آدمی نابینا ہو گیاتھا۔جب اس سے نابینا ہونے کا سبب پوچھا گیاتو کہنے لگا: میں نے خواب میں رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کو دیکھا : انہوں نے بازو تک آستین چڑھائی ہوئی تھی اور دستِ مبارک میں ننگی تلوار تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم کے رو بروزمین پر فرش بچھایا گیا تھا یہ فرش دس قاتلانِ حسین کو ذبح کر کے ان کے سروں پر بچھایا گیا تھا ۔جوں ہی آں جناب کی نظرمجھ پر پڑی ۔ آپ نے مجھے نفرین کی اور میری آنکھوں میں خون آلود سلائی پھیردی گئی جس کے سببمیں اندھا ہوگیا ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

ڈاڑھی خنزیر کی دم بن گئی : ⏬

کہتے ہیں شام میں ایک شخص تھا جو قتلِ حسین میں شریک تھا اس کی داڑھی خنزیر کی دم بن کر لوگوں کےلیے نشانِ عبرت بن گئی تھی ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

سینے میں آتش جہنم : ⏬

روایت ہے کہ وہ شخص جس نے حضرت عبد اللہ علی اصغر کے تشنہ حلقوم پر تیر چلایا تھاایک ایسے مرض میں مبتلا ہو گیا جس سے اس کے سینہ میں حرارت اور گرمی جب کہ پشت میں ٹھنڈک پیدا ہو گئی۔ہر چند کہ اس کے سامنے پنکھا جھلتے تھے اور اس کی پشت کی جانب آگ روشن کرتے تھے وہ واویلا کرتا تھا ۔ نہ تو اس کی آتشِ سینہ سرد ہوتی اور نہ ہی پشت کی ٹھنڈک کو افاقہ ہوتا تھا ۔ پیاس کی شدت اس درجہ بڑھ گئی کہ مٹکوں کے مٹکے پانی پی لیتا تھا اور پھر بھی ۔ العطش ۔ العطش ۔ کی صدائیں بلند کرتا۔یہاں تک کہ اس کا پیٹ پانی پی پی کر پھول گیا اور بالآخر پھٹ گیا ۔اسی عقوبت کی وجہ سے واصل جہنم ہوا ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

ابن سعدکا انجام : ⏬

جب مختار ثقفی نے کوفہ پر اپنے تسلط کو مضبوط کر لیا تو اس نے فرمان جاری کیا کہ وہ تمام لوگ جو ابن سعد کے لشکر میں شامل تھے اورحسین ؑ کے قتال میں شریک تھے ان کو ایک ایک کر کے میرے پاس لایا جائے چنانچہ چند سو لوگ لائے گئے جن تمام کی گردن مار کر انہیں سولی پر لٹکا دیا گیا ۔ مختار ثقفی نے اپنے خاص غلام کو حکم دیا کہ وہ ابن سعد کو حاضر کرے ۔حفص بن سعد حاضر ہوا ۔ مختار نے پوچھا تمہارا باپ کہاں ہے ۔ بولا گھر میں بیٹھا ہے ۔ مختار نے کہا : ’’اب وہ ’’رے‘‘ کی حکومت اور اس کے اختیارات سے دست بردار ہو کر کس طرح اپنے گھر میں بیٹھا ہوا ہے ۔ اس نے قتلِ حسین کے دن خانہ نشینی کیوں اختیار نہ کی‘‘ یہ کہہ کر حکم دیا کہ ابن سعد کا سر کاٹ لیا جائے اور اس کے بیٹے کو بھی قتل کر دیا جائے ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

شمر ذی الجوشنکی گردن زدنی : ⏬

پھر شمر کو طلب کیا اور اس کی گردن زدنی کا حکم جاری کیا ۔ اس کے بعد مختارثقفی نے ان ملعونوں کے سروں کو محمد بن حنفیہ کے پاس بھیج دیااور حکم دیا کہ معرکہ کربلا میں ابن سعد کے ساتھ شریک ہونے والے باقی ماندہ لوگوں میں سے جس کو بھی پائیں قتل کر دیں۔جب لوگوں نے یہ دیکھا کہ مختارثقفی امام عالی مقام کا قصاص لے رہا ہے تو انہوں نے بصرہ بھاگ جانے کا ارادہ کر لیا۔لیکن مختار ثقفی کے لشکریوں نے ان کا تعاقب کیا اور جو جو دستیاب ہوتے انہیں قتل کر کے لاشوں کو جلا دیا جاتا اور ان کے گھروں کو مسمار کر دیا جاتا ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

خولی بن یزید کا انجام : ⏬

جب خولی بن یزید کو اسیر کر کے مختار ثقفی کے سامنے لایا گیاتو اس نے حکم جاری کیا:پہلے اس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں اور پھر اسے سولی پر چڑھا دیا جائے۔اس کے بعد اسے آگ میں جلادیا گیا۔اسی طرح دوسرے لشکریانِ ابن زیاد جو دستیاب ہوئے انہیں دردناک انداز میں قتل کر دیا گیا ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

قتل ابن زیاد بد نہاد کی مزید تفصیلات : ⏬

مختصر یہ کہ جب مختار ثقفی ابن سعد ، شمراور خولی بن یزید علیہم اللعنۃ کے قتل سے فارغ ہو کر مطمئن ہوا تو ابن زیاد کے قتل کے درپے ہوا۔چناں چہ ابراہیم بن مالک اشتر کو سپاہیوں کی ایک ج**عت کے ساتھ ابن زیاد کے مقابلہ کے لیے بھیجا۔جوں ہی ابراہیم موصل کی سرحد پر پہنچے ابن زیاد موصل سے پانچ فرسنگ کے فاصلے پر واقع ایک دریا کے کنارے اپنے لشکر کے ساتھ مقابلہ کےلیے تیار ہو گیا ۔ صبح کے وقت طرفین میں مقابلہ کا آغاز ہوا۔شام کے قریب ابراہیم بن مالک اشتر نے ابن زیاد کے لشکر کو شکست دی ۔ابن زیاد کی شکست خوردہ فوج نے راہِ فرار اختیار کی ۔ ابراہیم اپنی فوج کے ساتھ ان کے تعاقب میں روانہ ہوئے اور حکم جاری کیا کہ مخالف فوج میں سے کسی کو بھی پائیں تو زندہ نہ چھوڑیں۔چناں چہ ابن زیاد کے بہت سے ہم راہی جان سے گئے اور ابن زیاد بھی قتل کر دیا گیا۔اس کا سر کاٹ کر ابراہیم بن مالک اشتر کے سامنے پیش کیا گیا اور ابراہیم نے اسے مختار ثقفی کے پاس کوفہ بھیج دیا ۔ ابن زیاد کا سرجب کوفہ پہنچا تواسی وقت مختار ثقفی نے دارالامارۃ میں اہلیانِ کوفہ کو جمع کر کے ایک بزم آراستہ کی اور حکم جاری کیا کہ ابن زیاد کا سر پیش کیا جائے ۔ جب ابن زیاد کا سر پیش کیا گیا تو مختار ثقفی نے کہا : یہ ابن زیاد کا سر ہے ۔ اے کوفہ کے لوگو ! دیکھ لو کہ خونِ حسین کے قصاص نے ابن زیاد کو زندہ نہ چھوڑا ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

مختار ثقفی نے قصاص میں ستر ہزار افراد کو قتل کیا : ⏬

مفتاح النجاء میں منقول ہے کہ مختار ثقفی کے واقعہ میں اہل شام کے ستر ہزار افراد قتل کیے گئے اور یہ واقعہ دس محرم ۶۷ ہجری (واقعۂ کربلا کے سال بعد) رونما ہوا ۔

ابن زیاد کے نتھنوں میں تین بار سانپ کا گھسنا : ⏬

روایاتِ صحیحہ میں مروی ہے کہ جب ابن زیاد اور اس کے دوسرے سرداروں کے سر مختار ثقفی کے سامنے لائے گئے تو اچانک ایک سانپ ظاہر ہوا اور سروں کے درمیان سے گزرتا ہوا ابن زیاد کے سر کے قریب آیا اور اس کے ناک کے سوراخ میں داخل ہو گیا ۔ کچھ دیر سر کے اندر رہا اور پھر منہ کے راستے باہر نکل آیااور غائب ہوگیا۔کہتے ہیں کہ اسی طرح یہ سانپ تین مرتبہ ظاہر ہوا اور ناک کے سوراخ سے داخل ہو کر منہ کے راستے باہر نکلا ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار،چشتی)

دیگر اعیانِ یزیدپلید کا عبرتناک انجام : ⏬

بالجملہ ابن زیاد ، ابن سعد ، شمر ذی الجوشن ، عمر بن الحجاج ، قیس بن اشعث کندی ، خولی بن یزید ، سنان بن انس نخعی ، عبداللہ بن قیس ، حکم بن طفیل اور یزید بن مالک کے علاوہ دیگر اعیان یزیدکو طرح طرح کے عذاب دے کر ہلاک کیا گیااور ان کے لاشوں پر گھوڑے دوڑائے گئے ۔ یہاں تک کہ ان کی ہڈیاں چور چور ہو گئیں ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

مخفی نہ رہے کہ کتب تاریخ میں اختلاف ہے ۔ بعض کتب میں ابن سعد اور شمر کا قتل ابن زیاد کی ہلاکت سے پہلے مذکور ہے اور بعض کتب میں ابن زیاد کے بعدذکر کیا گیا ہے۔اور جیسا کہ منتقم حقیقی کا وعدہ تھا جس کاذکر واقعہ کربلا سے متعلق روایات کے ضمن میں بہ روایت حاکم مذکور ہو چکا ہے پورا ہوا اور قاتلانِ حسین امام حسین رضی اللہ عنہ مختار ثقفی کے ہاتھوں اپنے انجام کو پہنچے ۔ گو کہ آخر کار مختار ثقفی کے اعتقادات (مختار ثقفی نے بعد میں دعویٰ نبوت کر لیا تھا) میں بھی شقاوتِ ازلی کا ظہور ہوا ۔ جس کی تفصیل کتبِ تاریخ میں مسطور ہے ۔ (تاریخ الخلفاء ، تارخِ کربلا ، شھادت نواسہ سیّد الابرار)

بد بخت قاتلانِ حسین کے حالات ان لوگوں پر پوشیدہ نہیں ہوں گے جنہوں نے کتبِ تاریخ کا مطالعہ کیا ہے۔ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے قتل حسین میں شریک تھا یا اس پر راضی اور خوش تھا ۔ عذاب اخروی جس کا وہ مستحق ٹھہرا ، سے قطعِ نظر اس دنیائے ناپائیدار میں بھی اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچا ۔ ہر وہ شخص جو معرکۂ کربلا میں حضرت سید الشہداء کے مقابلہ کی غرض سے آیا تھا اس دنیا سے عذاب دیکھے بغیر اور اپنے کیے کی سزا پائے بغیر نہیں گیا ۔ بعض قتل کر دیے گئے ۔ کچھ نابینا ہو گئے ، بعض کا چہرہ سیاہ ہو گیا ، کچھ شدت پیاس سے ہلاک ہوئے اوربعض کی دولت و حکومت قلیل مدت میں جاتی رہی ۔ بعض دیگر عقوبات میں مبتلا ہوئے ۔

14/03/2024

یرقان کے لیے
پٹھکری. سہاگہ. الائچی خورددانہ. . نوشادر. ہر ایک دس دس گرام. . پوڈر کرکے بھون لینا. ہے. . . خوراک ایک ماشہ. . کیلےکو درمیان سے کاٹ لیں اور اس کے اندر. ایک ماشہ دوائ کیلےمیں بھر کر صبح نہار منہ کھا لیں 25دن

15/01/2024

مردانہ نظام تولید Male reproductive system
تحریر و تحقیق۔ ھومیوپیتھک ڈاکٹر و حکیم محمدارشد
منی کیا ہے۔۔۔۔؟؟؟
بلوغت کے بعد خصیئوں میں مسلسل بننے والی رطوبت کو منی یا سیمن کہا جاتا ہے۔ یہ پیدا ہوکر سیمینل ویسلز seminal vessels میں جمع ہوتی رہتی ہے اور بوقت انزال خارج ہوجاتی ہے۔
یہ ایک سفیدی مائل گاڑھی رطوبت ہے اس کی مخصوص بو ہوتی ہے جسے seminal odour کہتے ہیں۔ یہ رطوبت ہلکی الکلائین ہوتی ہے۔ اس رطوبت کے دو حصے ہوتے ہیں۔
اول سیال مواد۔ liqour seminalis یہ انڈے کی سفیدی کی طرح شفاف ہوتی ہے۔
دوئم۔ دانے دار مواد۔ granules seminal یہ چھوٹے چھوٹے دانے نما ذرات ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کرم منی پائے جاتے ہیں۔
انزال کے وقت ایک تندرست مرد کی منی دو سے پانچ ملی لیٹر ہوتی ہے۔ مادہ تولید میں۔ درجہ ذیل اجزاء پائے جاتے ہیں۔
1۔ سیرم
2۔ البیومن
3۔ گلیسیتھن
4۔ کولیسٹرین
5۔ البیومی نینیٹ
6۔ روغنی اجزاء۔
مادہ تولید میں سب سے اہم جزو حونیات منی s***ms ہے۔
منی کی اقسام۔۔۔۔۔
مباشرت کے دوران خارج ہونے والی رطوبت کو چار اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے۔
1۔ ناقص منی۔
اس میں گاڑھا پن اور حونیات منی کم ہوتے ہیں۔ ایسی منی کپڑے پر خشک ہونے کے بعد اکڑاو پیدا نہیں کرتی۔
2۔ خون آمیز منی۔
اس منی میں ہلکی سرخی پائی جاتی ہے۔ منی میں خون شامل ہونے کی وجہ احتلام۔ جلن۔ اغلام بازی۔ اور کثرت مباشرت کی وجہ سے متعلقہ اعضاء اور نالیوں کی سوزش و ورم ہونا ہے۔ کثرت مباشرت سے منی کی تھیلی منی سے خالی ہوجاتی ہے۔ اور خصیئوں کو منی تیار کرنے کا وقت نہیں ملتا تو منی کے ساتھ خون خارج ہونے لگتا ہے۔
3۔ بیکار منی۔
یہ منی پتلی۔ پانی جیسی اور کپڑے پر فورا خشک ہوجاتی پے۔ اس منی میں پس سیلز بھی پائے جاتے ہیں۔

بہترین منی۔
یہ منی کی وہ قسم ہے جو ایک تندرست انسان کے عضو سے خارج ہوتی ہے۔ ایسی منی کپڑے پر دیر سے خشک ہوتی ہے۔ اور گاڑھی ہوتی ہے۔ یہ کپڑے کو اکڑا دیتی ہے۔

چند غلط فہمیوں کا ازالہ
عموما نوجوان منی سے متعلق کچھ مغالطوں کا شکار رہتے ہیں۔ ذیل میں چند عام غلط فہمیاں اور ان کی حقیقت پیش کی جاتی ہے۔
1۔ ایک صحت مند مرد کا مادہ تولید کپڑے پر گرنے کے بعد دیر سے خشک ہوتا ہے اور کپڑے میں سختی پیدا کرتا ہے۔
2۔ اخراج منی کی مقدار اور گاڑھے پن کا عضو تناسل کی ایستادگی پر قطعا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
3۔ عموما لوگوں کو مغالطہ ہے کہ منی کا ایک قطرہ خون کے ستر یا سو قطروں کے برابر ہوتا ہے۔ یہ قیاس بےبنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منی کی قدر و قیمت اتنی ہی ہے جتنی کہ لعاب دہن کی۔ دونوں کا بدل فوری طور پر پیدا ہوجاتا ہے۔
4۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ج**ع کے بعد عورت کے اندر منی ٹھہرتی نہیں اور خارج ہوجاتی ہے جبکہ ج**ع کے بعد عضو تناسل کو باہر نکالا جائے تو ف*ج vegina کی اگلی پچھلی دیواریں ملنے سے منی کی کچھ مقدار ف*ج سے باہر نکل آتی ہے لیکن ف*ج کے بالائی حصے میں پہنچی ہوئی منی اندر ہی چپک جاتی ہے۔
5۔ پروسٹیٹ گلینڈ کے آپریشن کے بعد کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ج**ع کے بعد منی مثانے میں چلی جاتی ہے۔ ایسے مریضوں میں یہ کیفیت retrograde ej*******on کہلاتی ہے۔ جو کہ عموما آپریشن کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ دراصل آپریشن کے دوران پیشاب کی نالی کے پچھلے حصے کا اندرونی عضلہ internal sphincter مجروح ہوجاتا ہے۔ جس کی وجہ سے منی کی تھیلیوں سے آنے والی اخراجی نالیوں کا رخ پیشاب کی نالی کے بیرونی سوراخ کی سمت ہونے کے بجائے مثانے کی طرف ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں جنسی تعلق برقرار رکھنے سے خارج شدہ منی مثانے سے پیشاب کرتے وقت باہر خارج ہوجاتی ہے۔
کرم منی۔۔۔ S***mmatozoa
تحریر و تحقیق۔ ھومیوپیتھک ڈاکٹر و حکیم محمدارشد
کرم منی یا سپرم 0.05cm لمبا ہوتا ہے۔ یہ تولیدی خلیات منی کے اندر پائے جاتے ہیں۔ اور منی کا دانے دار حصہ ہوتے ہیں۔ یہ خصیئوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ اس نطفے یا کرم کی شکل مینڈک کے لاروا سے بہت ملتی ہے۔ یہ نطفے اس قدر چھوٹے ہوتے ہیں کہ اگر 500 ملین سپرمز کو ایک قطار میں سر اور دم ملا کر کھڑا کردیا جائے تو صرف ایک انچ لمبی لکیر بنتی ہے۔ یہ بلوغت کی عمر سے بننا شروع ہوتے ہیں۔ اور مرتے دم تک بنتے رہتے ہیں۔ سپرم فیرس ٹیوبلز میں پیدا ہوتے ہیں ان کے پیدا ہونے کا عمل follicle stimulating harmone اور testosterone کے زیر اثر تکمیل پاتا ہے۔ سپرم جب تیار ہوجاتے ہیں۔ تو انزال کی صورت خارج ہوجاتے ہیں۔ اگر سپرم خارج نہ ہوں تو دوبارہ ری جنریٹ ہوکر جسم میں تونائی کا باعث بنتے ہیں۔ مرد کے مباشرت کرنے سے یہ بڑی تعداد میں خارج ہوجاتے ہیں ایک وقت کے انزال میں ان کی تعداد دو سے پانچ سو ملین ہوتی ہے۔
ہر سپرم کے تین حصے ہوتے ہیں۔
1۔ سر Head اس کی مدد سے سپرم بیضہ میں داخل ہونے کیلیئے راستہ بناتا ہے۔ اس کا سر نیزے کی شکل کا ہوتا ہے
2۔ جسم۔ body
یہ سپرم کا درمیانی حصہ ہے جو جسم کہلاتا ہے۔ اس حصے سے حاصل کردہ توانائی کی وجہ سے سپرم کی دم حرکت کرتی ہے۔ اور سپرم تیزی سے آگے بڑھتا ہے۔
3۔ دم۔ Tail
دم کی حرکت سے سپرم تیرتا ہے اور بیضہ میں چھید کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔
کرم منی s***m کے افعال۔۔۔۔
1۔ یہ اندام نہانی میں خارج ہونے کے ڈیڑھ منٹ بعد رحم تک پہنچ جاتے ہیں۔
2۔ سپرم کی نارمل رفتار دو سے تین ملی میٹر فی منٹ ہوتی ہے۔
3۔ یہ عورت کے بیضہ سے مل کر زائیگوٹ بناتے ہیں۔ اور حمل قرار پاتا ہے۔
4۔ سپرم کو پختہ ہونے میں تقریبا دس ہفتے لگ جاتے ہیں۔
5۔ ہر جرثومہ میں 23 کروموسومز پائے جاتے ہیں مگر صرف ایک جرثومہ بچہ بناتا ہے۔
6۔ ایک خصیئہ 1500 سپرمز فی سیکنڈ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ذہنی پریشانی اور ٹینشن کا شکار شخص میں یہ شرح نہایت کم ہوجاتی ہے۔
7۔ ایک صحت مند بالغ مرد ایک دن میں تقریبا 500 ملین سپرمز پیدا کرتا ہے۔
8۔ سپرمز کی زندگی تقرئبا 72 گھنٹے ہوتی ہے۔ اگر اندام نہانی کا ماحول تیزابی ہوتو اس کی زندگی فقط چھے گھنٹے رہ جاتی ہے۔

صحت مند سپرمز اور صحت مند اولاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر و تحقیق۔ ھومیوپیتھک ڈاکٹر و حکیم محمدارشد
مرد کے کرم منی s***ms کا صحت مند ہونا صحت مند اولاد کی بنیادی شرط ہے۔ اگر مرد تمباکو نوشی شراب نوشی۔ تھکن کا شکار۔ وائرسی امراض میں مبتلاء ہوتو سپرمز نہایت کمزور ہوتے ہیں۔ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ قدرتی اور تازہ غذائیں کھانے والے جوڑوں کے ہاں پیدا ہونے والے بچے ذہنی اور جسمانی لحاظ سے تندرست اور توانا پائے گئے ہیں۔ بچے کی پلاننگ کیلیئے یہ بھی ضروری ہے کہ والدین کیفین ملے مشروبات اور ایسی چیزیں نہ کھائیں پیئیں جو جسمانی اور ذہنی طور پر ضرر رسان اثرات کی حامل ہوں۔ خیال رہے کہ کرم منی مرد کی صحت کا آئینہ ہوتا ہے۔ صحت اچھی ہوگی تو کرم منی بھی صحت مند و تندرست ہونگے۔ کیفین ملی اشیاء کا استعمال سپرمز کو کمزور کردیتا ہے۔

منی کا لیبارٹری تجزیہ۔۔۔۔Semen Analysis
تحریر و تحقیق۔ ھومیوپیتھک ڈاکٹر و حکیم محمدارشد
سیمن اینالائسز یعنی منی کا لیبارٹری تجزیہ مردانہ بانجھ پن کا پتہ لگانے والا بنیادی ٹیسٹ ہے۔ کسی تشخیص سے پہلے یہ ٹیسٹ کرلینا ضروری ہے۔ اس ٹیسٹ کیلیئے مرد کو ہاتھ کے زریعے اپنا مادہ منویہ نکالنا پڑتا ہے اس مادے کا آدھے گھنٹے کے اندر اندر لیبارٹری ٹیسٹ کرلیا جاتا ہے۔ ایک نوجوان مرد کی منی کے سپرمز کی طبعی مقدار و تعداد ذیل ہوگی۔ ۔۔

منی کی طبعی مقدار Normal values...
تحریر و تحقیق۔ ھومیوپیتھک ڈاکٹر و حکیم محمدارشد
1۔ مقدار volume
اس کی نارمل مقدار 1.5 سے 5 ملی لیٹر تک ہوتی ہے۔ نارمل سے زیادہ یا کم مقدار اثرانداز ہوتی ہے۔
2۔ لیس دار viscosity
نارمل منی انڈیلی جائے تو قطرہ قطرہ گرتی ہے۔ زیادہ گاڑھی یا پتلی منی نامل تصور نہیں کی جاتی۔
3۔ مائع حالت۔ liquification
تازہ منی دس سے پندرہ منٹ میں مائع حالت میں تبدیل ہوجاتی ہے یا زیادہ سے زیادہ تیس منٹ تک منی کو مائع میں تبدیل ہوجانا چاہیئے۔
4۔ مائیکروسکوپک معائنہ Microscopic Exam
اس معائنہ میں سپرم کی تعداد اور حرکت نوٹ کی جاتی ہے۔ جو کہ درج زیل ہے۔
تعداد. S***m count
نارمل سپرم کی تعداد 60 تا 120 ملین فی ملی لیٹر ہوتی ہے اس سے کم سپرم کی تعداد ہو تو اولیگو سپرمیا oligos***mia کہتے ہیں جبکہ سپرم کی تعداد سرے سے موجود ہی نہ ہو تو ایزو سپرمیا azoos***mia کہا جاتا ہے
طبعی حرکت.. motality
نارمل حالت میں سپرم کا حرکت کرنا ضروری ہوتا ہے عمومی طور پر 60 تا80 فیصد سپرم حرکت کرنے چاہیے اگر سپرم کی حرکت 60 فیصد سے کم ہو تو یہ صحت مندی کی علامت نہیں ہے
طبعی شکل.. shape
نارمل منی میں 20 تا 30فیصد سے کم سپرم کی شکل نارمل سے مختلف ہوتی ہے اس سے زیادہ مقدار میں نارمل سے مختلف شکلیں بانجھ پن کا باعث ہو سکتی ہیں۔
خون کے سفید و سرخ زرات. WBC & RBC.......
نارمل منی میں خون کے سفید و سرخ زرات موجود نہین ہوتے اگر یہ موجود ہوں تو انفیکشن کی نشانی ہے۔ ایسی صورت میں حسب علامات سوزش و ورم کے لئے ادویہ کا استمعال ضروری ہوتا ہے۔
عموما شادی کے ایک دو سال بعد تک حمل نہ ٹھہرے تو میاں بیوی دونوں کے ٹیسٹ کرا لینے چاہیئے تاکہ کسی کمی کمزوری کے ظاہر ہونے پر فوری علاج کرایا جا سکے اکثر مرد اپنا ٹیسٹ کرانے سے کتراتے ہیں حالانکہ مردانہ ٹیسٹ نہایت آسان ہوتا ہے عمومی طور پر منی کا تجزیہ درج ذیل کفیات مین معاون ثابت ہوتا ہے
نوٹ۔۔۔۔ یہ سلسلہ ابھی مزید جاری ہے۔
تحریر و تحقیق۔ ھومیوپیتھک ڈاکٹر و حکیم محمدارشد

01/12/2023

1: ہڈیوں کی تعداد: 206
2: پٹھوں کی تعداد: 639
3: گردے کی تعداد: 2
4: دودھ کے دانتوں کی تعداد: 20
5: پسلیوں کی تعداد: 24 (12 جوڑے)
6: دل کے چیمبرز کی تعداد: 4
7: سب سے بڑی شریان: شہ رگ
8: نارمل بلڈ پریشر: 120/80 ایم ایم ایچ جی

9: خون کا پی ایچ: 7.4
10: ریڑھ کی ہڈی میں ریڑھ کی ہڈی کی تعداد: 33
11: گردن میں ریڑھ کی ہڈی کی تعداد: 7
12: درمیانی کان میں ہڈیوں کی تعداد: 6
13: چہرے پر ہڈیوں کی تعداد: 14
14: کھوپڑی میں ہڈیوں کی تعداد: 22
15: سینے میں ہڈیوں کی تعداد: 25
16: بازو میں ہڈیوں کی تعداد: 6
17: انسانی بازو میں پٹھوں کی تعداد: 72
19: قدیم ترین رکن: چمڑا
20: سب سے بڑی خوراک: جگر
21: سب سے بڑا خلیہ: مادہ بیضہ
22: سب سے چھوٹا خلیہ: سپرم سیل
23: سب سے چھوٹی ہڈی: درمیانی کان کی رکاب
24: پہلا ٹرانسپلانٹ شدہ عضو: ایک گردہ
25: پتلی آنت کی اوسط لمبائی: 7 میٹر
26: بڑی آنت کی اوسط لمبائی: 1.5 میٹر
27: نوزائیدہ بچے کا اوسط وزن: 3 کلوگرام
28: ایک منٹ میں دل کی دھڑکن: 72 بار
29: جسمانی درجہ حرارت: 37 °C
30: خون کا اوسط حجم: 4 سے 5 لیٹر
31: خون کے سرخ خلیوں کی عمر: 120 دن
32: سفید خون کے خلیات کی عمر: 10 سے 15 دن
33: حمل کی مدت: 280 دن (40 ہفتے)
34: انسانی پاؤں کی ہڈیوں کی تعداد: 33
35: ہر کلائی میں ہڈیوں کی تعداد: 8
36: ہاتھ کی ہڈیوں کی تعداد: 27
37: سب سے بڑا اینڈوکرائن غدود: تھائرائڈ گلینڈ
38: سب سے بڑا لمفیٹک عضو: تللی
40: سب سے بڑی اور مضبوط ہڈی: فیمر
41: سب سے چھوٹا پٹھوں: سٹیپیڈیئس (درمیانی کان)
41: کروموسوم نمبر: 46 (23 جوڑے)
42: نوزائیدہ بچے کی ہڈیوں کی تعداد: 306
43: خون کی واسکاسیٹی: 4.5 سے 5.5 تک
44: یونیورسل ڈونر بلڈ گروپ: O
45: یونیورسل ریسیور بلڈ گروپ: AB
46: سب سے بڑا leukocyte: monocyte
47: سب سے چھوٹی leukocyte: lymphocyte
48: خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں اضافے کو پولی گلوبولی کہتے ہیں۔
49: جسم کا بلڈ بینک ہے: تللی
50: زندگی کے دریا کو خون کہا جاتا ہے۔
51: عام خون میں کولیسٹرول کی سطح: 100 ملی گرام/ڈی ایل
52: خون کا مائع حصہ ہے: پلازما
تُو پاک ہے، اے رب، تو کتنا عظیم ہے۔
(اللہ نے سب کچھ کامل بنایا)

Want your business to be the top-listed Government Service in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address

IQBAL COLONY NEAR MCB ALI GHOSIYA DAWAKHANA SARGODHA
Faisalabad
38000