Urdu Novels

Urdu Novels

Share

New and Old Books Novels Monthly Digest
And Much More Books

11/07/2024

Hy Friends I am back Request your book and novels

21/06/2021

main ny google drive banyi ha jaha par novels and books ha jis kisi ny add hona ha wo comments kary

28/05/2021

آپ کی آمدنی کیوں نہیں بڑھ رہی؟
تحریر : قاسم علی شاہ
یہ بات ہر اہل ایمان کو سمجھنی چاہیے کہ رزق کا بڑھنا اللہ نے سخاوت اور صدقے میں رکھا ہے
انسان فطری طور پر اس وقت بہت خوش ہوتا ہے جب اس کو کسی چیز کابہترین نتیجہ اور ثمرملے ۔بچپن میں وہ کھلونے کے لیے ضد کرتا ہے ،روتا ہے اور جب اس کو وہ کھلونا مل جائے تو وہ خوش ہوجاتا ہے ۔اسکول کے زمانے میں وہ اس لیے محنت کرتا ہے تاکہ اچھے نمبروں سے امتحان میں پاس ہو ۔کھیل میں اس لیے جان لگاتا ہے تاکہ وہ ٹرافی جیت سکے ۔کالج یونیورسٹی میں وہ اس لیے محنت سے کام کرتاہے تاکہ اس کو ڈگری ملے اور اس ڈگری پر کوئی اچھی نوکری مل جائے ۔عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد وہ نوکری یا کاروبار کی صورت میں پھر سے محنت شروع کرلیتا ہے تاکہ اس کے بدلے اس کو کچھ پیسے ملیں اور وہ ان سے اپنی ضروریاتِ زندگی پوری کرے
آمدنی کی اہمیت
انسان کی اس دنیا میں آمد کے ساتھ ہی اس کی احتیاجی بھی شروع ہوجاتی ہے۔وہ کھانے پینے ،پہننے اور زندگی بسر کرنے کے لیے مختلف طرح کی چیزوں کا محتاج ہوتا ہے او ر یہ محتاجی اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے لیے مستقل طورپر کچھ رقم کا بندوبست کرے تاکہ اس کی یہ ضروریات پوری ہوتی رہیں۔اس لحاظ سے ہر انسان کی زندگی میں ’’آمدن‘‘ بہت اہمیت رکھتی ہے ، کیونکہ ایک تو اس کے لیے اس نے ایک لمبا عرصہ تعلیم حاصل کی ہوتی ہے ، پھرجب روزگار مل جائے تو اس میں بھی وہ بھرپور محنت اور مشقت سے کام لیتا ہے اور تب جاکر اس کی آمدنی کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔
’’آمدن‘‘ کے پیچھے کوئی نہ کوئی قابلیت ہوتی ہے ،جو اللہ نے انسان کو دی ہوتی ہے اور اس کو استعمال میں لاکروہ پیسے کماتا ہے۔اس کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں۔کبھی تو ایک انسان اپنا وقت دیتا ہے اور اس کے عوض اس کو اجرت ملتی ہے۔بعض لوگوں کا رزق ان کے جسم میں رکھا ہوتا ہے ۔وہ محنت، مشقت اور مزدوری کرتے ہیں اور انہیں رزق ملتا ہے۔بعض اوقات کسی کا رزق اس کے آئیڈیاز اور خیال میں رکھا ہوتا ہے ۔جیسے ایک شخص کسی علاقے کا جائزہ لیتا ہے اور وہاں کسی چیز کی کمی محسوس کرکے مطلوبہ چیز کی سپلائی شروع کردیتا ہے اور یوں اس کا رزق بننے لگ جاتا ہے ۔بعض اوقات کسی کا رویہ اور اخلاق ہی اس کا رزق بنتاہے ،جیسے کسٹمر کیئرٹیکر کی جاب ۔بعض لوگوں کی آواز ، لہجہ اور بولنے کا انداز ان کا رزق بنتا ہے۔اسی طرح بعض لوگوں کا فن ان کا رزق بن جاتا ہے جیسے ایک جوکراپنے کرتب دکھاکر اپنا رزق کماتا ہے۔کوئی شاعر اپنی شاعری سے وہ رزق کماتا ہے۔
دوطرح کی آمدنی
پوری دنیا میں آمدنی کے لحاظ سے دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ایک قسم وہ ہے جن کی آمدن مخصوص ہوتی ہے ۔وہ کام پر جاتے ہیں تب انہیں معاوضہ ملتا ہے ۔جیسے ڈاکٹرمریضوں کو چیک کرتا ہے تب اس کو فیس ملتی ہے ۔وکیل کوئی کیس لڑتا ہے تب اس کو فیس ملتی ہے وغیرہ ۔دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو کام پر موجود نہ بھی ہوں تب بھی ان کی آمدنی جاری رہتی ہے ۔جیسے کہ بزنس مین یا انٹرپرینور، یہ وہ لوگ ہیں جو کسی آئیڈئیے کو عملی شکل پہناتے ہیں اور پھر اس کے بعد وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں ، چاہے آرام کریں یا کام ،ان کی آمدنی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ یوٹیوب چینل بھی اس کی ایک بہترین مثال ہے۔
آپ کی آمدنی مندرجہ بالا کسی بھی صورت کے ساتھ ہے ، لیکن اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ کافی عرصہ گزرجانے کے باوجود بھی اس میں کوئی اضافہ نہیں ہورہا،آپ کی آمدن رُکی ہوئی ہے اور اس وجہ سے آپ معاشی تنگی کا شکار ہیں توآج کے مضمون میں ہم اس اہم مسئلے کی وجوہات بیان کرنے کی کوشش کریں گے ۔
(1) خود کوسنوارنا(اپ گریڈنگ)
کسی انسان کی معاشی ترقی نہیں ہورہی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ انسان خود کو اپ گریڈ نہیں کررہا اوروہ اپنی صلاحیتوں کو مزید نہیں نکھار رہا ۔ آسان الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس انسان نے خود کو قیمتی نہیں بنایا جس کی وجہ سے وہ سستا ہوگیا۔اگرو ہ مہنگا ہونا چاہتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی ویلیو بڑھائے اور اپنی ویلیو بڑھانے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ خود پر محنت کرکے اپنی قابلیت بڑھائے ۔اس کی مثال یوں سمجھیے کہ بازار میں ایک درزی بیٹھتا ہے جو ایک سوٹ سینے کے پانچ سو روپے لیتا ہے ۔اس طرح ایک اور درزی ہے جس کاکام پہلے والے سے بہترہے اوروہ ایک سوٹ سینے کے پندرہ سو روپے لیتا ہے۔اس کے ساتھ ایک اور درزی بھی ہے جو وہی کام کرتا ہے جو باقی دونوں کرتے ہیں لیکن اگراس سے کپڑے سلوانے ہوں تو آپ کوکچھ دِنوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے ۔ باری آنے پرآپ کا ناپ لیا جاتا ہے ۔وہ آپ کو یہ بھی بتاتا ہے کہ آپ پر کون سا کپڑا جچے گا۔وہ کپڑوں کے رنگ منتخب کرنے کے بارے میں آپ کو مفید مشورہ دیتا ہے اور ساری کارروائی مکمل ہونے کے بعدبڑے ہی ماہرانہ انداز میں کپڑے تیار کرکے آپ کے حوالے کردیتا ہے۔اب ایسا ممکن ہے کہ اس درزی کا ریٹ پانچ ہزار روپے ہواور آپ بخوشی اسے مطلوبہ رقم دے دیں۔
اب سوال یہ ہے کہ ایک جوڑا سینے کے وہ پانچ ہزار کیوں لے رہا ہے ؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ اس درزی نے اپنی قابلیت اتنی بڑھائی کہ وہ مہنگا ہوگیا۔اب اگر پانچ سو روپے والا اور یہ پانچ ہزار روپے والا درزی آپس میں بیٹھیں اور پانچ سووالااس سے پوچھے کہ آپ ایک جوڑے کا اس قدر زیادہ معاوضہ کیسے لے رہے ہیں تو پانچ ہزار والا درزی بتائے گا کہ ’’پہلے میں بھی پانچ سو روپے لیتا تھا لیکن میں نے آہستہ آہستہ اپنی قابلیت بڑھائی اور اپنی محنت سے آج اس مقام پر پہنچا ہوں۔ میں اپنے کسٹمر کو اچھے طریقے سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔میں ان کی ضروریات اور خواہش کے مطابق کام کرکے دیتا ہوں۔میں دِل و جان سے اپنی سروس دیتا ہوں اس وجہ سے میں مارکیٹ کامہنگا درزی بن گیا ہوں۔‘‘
(2) سخاوت اور صدقہ
یہ بات ہر اہل ایمان کو سمجھنی چاہیے کہ رزق کا بڑھنا اللہ نے سخاوت اور صدقے میں رکھا ہے۔ہمارے معاشرے میں یہ کمزوری پائی جاتی ہے کہ ہم خیرات نہیں کرتے اور اگرکریں بھی تو وہ اصل روح سے خالی ہوتی ہے ۔صدقہ اورخیرات کا اصل مطلب یہ ہے کہ وہ کسی محروم کی محرومی کو دور کردے۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ یہاں معمولی صدقہ اور خیرات کوبھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا جاتا ہے۔
صدقہ اور خیرات اتنی زبردست چیز ہے کہ کوئی بھی انسان جب اس کو اپناتا ہے تو یہ چیز اس کے لیے گارنٹی کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے کہ اس کا رزق بڑھے گا۔ظاہری آنکھ سے دیکھا جائے تو اس سے مال میں کمی ہوتی ہے ۔دنیا کے تمام کیلکولیٹرز بھی یہی کہتے ہیں کہ صدقے سے مال گھٹ جاتا ہے لیکن رب کا نظام یہ ہے کہ جب بھی انسان خیرات کرتا ہے تواس کا رزق بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔
(3)صلہ رحمی
ہمارے رزق کا بڑا گہرا تعلق رشتے داروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کے ساتھ بھی ہے۔یہ بات واضح ہے کہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ نیکی اور صلہ رحمی سے انسان کی عمر کے ساتھ ساتھ رزق میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔رشتوں میں خاص طورپر خواتین رشتے دار جیسے کہ خالہ اور پھوپھی وغیرہ کے ساتھ اچھا سلوک کرنا چاہیے اور خاص طورپر بہنوں کے ساتھ بہتر رویہ اپنانے سے انسان کے رزق میں ترقی شروع ہوجاتی ہے۔
(4)دوست احباب
انسان جن لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے ان کی وجہ سے بھی اس کے رزق پراثر پڑتا ہے۔جیک کین فیلڈ اپنی کتاب ’’دی سکسیس پرنسپلز‘‘ میں بتاتے ہیں کہ انسان جن پانچ لوگوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے ، ان کی آمدن کا اگر اوسط نکالا جائے تو وہی اس انسان کی بھی آمدنی ہوگی ۔اس بات کو میں نے بڑی حد تک درست پایا ہے ۔
انسانی نفسیات اس بات کا تقاضہ کرتی ہیں کہ جیسے وہ خود ہے ،وہ اپنے طرح کے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھے۔چنانچہ ایک کمزور انسان ،کمزور بندوں کے ساتھ ہی خود کومحفوظ تصورکرتا ہے۔ایک بیلو ایوریج(Below Average) انسان اپنے جیسے ہی لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا پسند کرتا ہے۔اس کے برعکس اعلیٰ اقدار کا مالک انسان بڑے لوگوں کے ساتھ تعلق بنانے کو ترجیح دیتا ہے۔جب بھی انسان اپنا تعلق اور صحبت بہتر بناتا ہے توان اچھے لوگوں کی اچھی صفات بھی اس کے اندر آجاتی ہیں۔مثلاً اگر آپ کسی اعلیٰ حلقہ احباب کے ساتھ اپنا تعلق رکھیں گے تو ان میں آپ کو اخلاقیات زیادہ ملیں گی۔وہاں آپ کو خیرات ،سخاوت ،رسم و رواج ، طور طریقے اور نباہ ، زیادہ ملے گااور یہ چیزیں یقینی طورپر آپ کے اندر بھی پیدا ہوں گی ۔
لہٰذا اس بات کی کوشش کیجیے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ تعلق رکھیے جو معاشی اور اخلاقی اعتبار سے بہترین ہوں، یوں آپ کے اخلاق و عادات بہترین ہونے کے ساتھ ساتھ آپ کی آمدنی بھی بڑھنا شروع ہوجائے گی۔

03/03/2020

بچی چپ نہیں کر رہی

جاوید چوہدری

راولپنڈی میں ایک علاقہ ہے رتہ امرال‘ اس علاقے کے ایک
صاحب چھوٹے سے سرکاری ملازم ہیں‘ دو سال قبل ان کی اہلیہ کا انتقال ہو گیا‘ بچے چھوٹے تھے‘ صاحب نے نئی شادی کر لی مگر اہلیہ سوتیلے بچوں کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی چناں چہ وہ ناراض ہو کر میکے چلی گئی‘ یہ صاحب صبح نوکری پر جاتے تھے اور رات کو لیٹ واپس آتے تھے‘بچے گھر میں اکیلے ہوتے تھے‘ بیٹی کی عمر 14 سال تھی‘ یہ بچی اپنے بھائی پالتی تھی‘ جون 2019 میں ان کا ایک ہمسایہ اسد علی زبردستی گھر میں داخل ہوا اور 14 سال کی بچی کا ریپ کر دیا۔

بچی خوف کی وجہ سے خاموش رہی‘ ہمسائے نے اس کے بعد ریپ کو روٹین بنا لیا‘ یہ والد کی غیر موجودگی میں ان کے گھر داخل ہو جاتا تھا‘ یہ سلسلہ چند دن چلا‘ یہ اس کے بعد اپنے ایک دوست بہادر علی کو بھی ساتھ لے گیا‘ بہادر علی نے بھی بچی کے ساتھ زیادتی شروع کر دی‘ یہ دونوں بچی کو قتل کی دھمکی بھی دیتے تھے اور محلے میں بدنام کرنے کی بھی لہٰذا بچی ڈر کر خاموش ہو جاتی تھی‘ یہ دو لوگ چند دنوں میں تین اور پھر چار ہو گئے‘عابد اور یحییٰ بھی ان کے ساتھ مل گئے اور یہ چاروں بچی کو مسلسل ریپ کرتے رہے‘ دسمبر 2019میں بچی کے پیٹ میں خوف ناک درد اٹھا‘ والد بیٹی کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا‘ پتا چلا بچی چھ ماہ کی حاملہ ہے۔

والد نے ابارشن کی کوشش کی لیکن ابارشن اب ممکن نہیں تھا‘ والد نے پولیس کو درخواست دے دی‘ ملزمان گرفتار ہوگئے‘ اعتراف جرم بھی ہو گیا اور یہ جیل بھی بھجوا دیے گئے‘ یہ کہانی کا ایک پہلو تھا‘ اگلا ہول ناک پہلو اس کے بعد آتا ہے‘ 14 سال کی اس بچی نے چند دن قبل ایک بچی کو جنم دے دیا‘ یہ بچی اب اپنی چودہ سال کی ماں کی گود میں ہے اور یہ روز چیخ کر اس واہیات سماج سے صرف ایک سوال پوچھ رہی ہے‘ یہ پوچھ رہی ہے میں کون ہوں اور اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں میرا مستقبل کیا ہے؟ کیا ہمارے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے؟۔
ہمیں بہرحال یہ ماننا ہو گا ہم درندوں کے سماج میں رہ رہے ہیں‘ ہمارے دائیں بائیں جانو رہتے ہیں اور یہ جانور خون سونگھتے پھرتے رہتے ہیں لیکن ٹھہریے جانور بھی ہم سے بہتر ہیں‘ یہ بھی اس وقت تک اپنی کسی مادہ کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتے جب تک وہ ’’ہیٹ‘‘ پر نہیں آتی جب کہ ہم تو چھوٹی معصوم بچیوں کو بھی نہیں بخشتے‘ ہم انھیں ہوس کا نشانہ بھی بنا دیتے ہیں‘ قتل بھی کردیتے ہیں‘ چودہ سال کی عمر میں ماں بھی بنا دیتے ہیں اور پھر اس کی گود میں پڑی اپنی اولاد کو بھی نہیں پہچانتے ‘ آپ نے کبھی سوچا اللہ تعالیٰ نے جانوروں کے لیے کوئی کتاب‘ کوئی نبی کیوں نہیں اتارا تھا؟ اس لیے کہ جانور اپنے اصولوں‘ اپنے ضابطوں کے پکے ہوتے ہیں۔

شیر اس وقت تک کسی دوسرے جانور پر حملہ نہیں کرتا جب تک وہ بھوک سے بے حال نہیں ہو جاتا‘ درندے بھی بچوں پر حملے نہیں کرتے‘ شیرنی بھیڑ کا بچہ پال لے گی اور بھیڑ شیر کے بچے کو دودھ پلا دے گی لیکن یہ ہم انسان ہیں جن کا کوئی ضابطہ‘ کوئی اصول اور کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی لہٰذا اللہ تعالیٰ کو ہمیں یہ یاد کرانے کے لیے ’’تم انسان ہو‘ تم اشرف المخلوقات ہو‘‘ ایک لاکھ 24 ہزار نبی اور چار کتابیں اتارنا پڑیں مگر آپ ہمارا کمال دیکھیے ہم اس کے باوجود انسان نہیں بن سکے‘ ہم نے اللہ کے گھر میں بھی شیطانیت نہیں چھوڑی‘ ہم نے اللہ کا نام لے کر انسانوں کے سر اتارے‘ عورتوں کو لونڈی بنایا اور بچوں کو غلام بناکر بازار میں فروخت کیا‘ آپ المیہ ملاحظہ کیجیے قدرت نے آج تک کسی جانور پر عذاب نہیں اتارا لیکن ہم انسان بار بار اللہ کے عذاب کا نشانہ بھی بنے اور ہم نے قدرت کو شرمندہ بھی کیا‘ ہم انسان تو اپنی توبہ پر بھی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے چناں چہ ہم جانوروں سے بھی بدتر ہیں‘ میں 14سال کی اس ماں کی طرف واپس آتا ہوں۔

مجھے چند دن قبل امریکا کی ایک عدالت اور ایک جج کا فیصلہ پڑھنے کا اتفاق ہوا‘ جج کی عدالت میں ایک چور بچہ پیش کیا گیا تھا‘ بچے نے کسی اسٹور سے کھانے پینے کا سامان چوری کیا تھا‘ اسٹور کے مالک نے اسے پکڑ کر مارا اور پولیس کے حوالے کر دیا ‘ پولیس بچے کو لے کر عدالت میں پیش ہو گئی‘ جج نے بچے سے پوچھا ’’کیا تم نے چوری کی‘‘ بچے نے جواب دیا ’’جی میں نے کی‘‘ جج نے پوچھا ’’کیوں؟‘‘ بچے نے جواب دیا ’’میں تین دن سے بھوکا تھا‘ بھوک نے مجھے خوراک چرانے پر مجبور کر دیا‘‘ جج نے پوچھا ’’کیا تمہارا والد تمہارے کھانے پینے کا بندوبست نہیں کرتا‘‘ بچے نے جواب دیا ’’ میرا والد نہیں ہے‘‘ جج نے پوچھا ’’اور ماں‘‘ بچے نے جواب دیا ’’وہ معذور ہے اور وہ مجھ سے زیادہ بھوکی تھی۔

میں نے اس کے لیے بھی اسٹور سے خوراک چوری کی تھی‘‘ جج نے پوچھا ’’تم نے ہمسایوں اورسوشل سیکیورٹی سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟‘‘ بچے نے جواب دیا ’’میں نے ہمسایوں سے رابطہ کیا تھا لیکن کسی نے میری بات نہیں سنی تھی جب کہ سوشل سیکیورٹی کے دفتر چھٹیوں کی وجہ سے بند تھے‘‘ جج نے پوچھا ’’تم نے اسٹور کے مالک کو صورت حال بتائی تھی‘‘ بچے نے کہا ’’میں خوراک مانگنے کے لیے بار بار اس کے پاس جاتا تھا لیکن یہ مجھے دکان سے باہر نکال دیتا تھا‘‘ یہ سن کر جج کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس نے کمال فیصلہ لکھا‘ اس نے لکھا ’’میں عدالت میں موجود اپنے سمیت تمام لوگوں کو مجرم ڈکلیئر کرتا ہوں۔

ہم سب بچے کو فوری طور پر پچاس پچاس ڈالر فی کس جرمانہ ادا کریں گے‘ میں بچے کے تمام ہمسایوں کو بھی مجرم ڈکلیئر کرتا ہوں‘ یہ اگلے دس سال تک روز اس کے دروازے پر دستک دیں گے اور ماں بیٹے سے پوچھیں گے آپ کو کسی چیز کی ضرورت تو نہیں اور یہ جو کہیں گے ہمسائے انھیں وہ فراہم کریں گے‘ اسٹور کا مالک بچے سے تحریری معافی بھی مانگے گا اور اسے فوری طور پر ہزار ڈالر بھی ادا کرے گا اور آخری آرڈر سوشل سیکیورٹی کے دفتر چھٹیوں کے دن بھی کھلے رہیں گے اور اگر کوئی بچہ ان سے رابطہ کرے گا تو یہ دس منٹ میں اس کے گھر پہنچیں گے۔

آپ انصاف کا لیول دیکھیے لیکن ٹھہریے یہ کافر معاشرے کاانصاف اور جہنمی لوگوں کا جج تھا‘ ہم اور ہمارے جج اہل ایمان ہیں اور ہمارا معاشرہ جنتی لوگوں کا معاشرہ ہے لہٰذا ہمیں کافر جج کی طرف دیکھنے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں‘ہمیں 14سال کی ماں اور اس کی معصوم اور بے گناہ بچی کے لیے ہرگز ہرگز سوچنے کی کوئی ضرورت نہیں چناں چہ14 سال کی یہ ماں اور اس کی یہ بچی اہل ایمان جنتی مومنین سے کوئی سوال‘ کوئی مطالبہ نہیں کر رہی‘ یہ صرف اور صرف کسی ایسے کافر جج کا انتظار کر رہی ہے جو چاروں مجرموں اور بچی کا ڈی این اے ٹیسٹ کرائے‘ یہ بچی جس کا نطفہ ثابت ہو عدالت اس کو اس کا باپ ڈکلیئر کرے اور یہ حکم جاری کرے 14 سال کی ماں جس دن اٹھارہ سال کی ہو گی اسے اس دن عدالت میں لا کر نومولود بچی کے ’’والد‘‘ کے ساتھ اس کا نکاح کردیا جائے گا اور یہ باقی زندگی اسے طلاق نہیں دے سکے گا‘ یہ جس دن اسے طلاق دینے کی کوشش کرے گا اس دن اسے عمر قید کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے گا اور عدالت اس کے بعد باقی تینوں مجرموں کو سزا سنائے‘ یہ تینوں مرنے تک 14 سال کی اس بچی اور اس کی بچی کو ہر ماہ لاکھ لاکھ روپے ادا کریں گے‘ یہ لوگ یہ لاکھ روپے مانگ کر لائیں۔

کام کر کے لائیں‘ محنت مزدوری کریں یا پھر اپنے گردے بیچیں لیکن یہ ہر صورت یہ رقم ادا کریں گے‘ یہ جس دن یہ رقم ادا نہیں کریں گے یہ عمر قید میں ڈال دیے جائیں گے یا پھر انھیں ’’ریپ‘‘ کے جرم میں پھانسی چڑھا دیا جائے گا اور جج اس کے بعد چودہ سال کی ماں کے ہمسایوں کو بھی بلا لے اور ان سے پوچھے ’’بچی کا والد جب دفتر چلا جاتا تھا تو کیا تم اندھے اور بہرے تھے تمہیں پتا نہیں چلا کون‘ کون بچی کے گھر داخل ہوتا تھا اور اس بے چاری کے ساتھ کیا ہوتا تھا؟ جج ان ہمسایوں کو بھی بھاری جرمانہ کرے تا کہ آیندہ کوئی ہمسایہ اپنی آنکھیں بند نہ رکھ سکے‘ لوگ خالی گھروں اور بے ماں کی بچیوں کی حفاظت کر یں لیکن مجھے یقین ہے یہ اس ملک میں نہیں ہو سکے گا‘ ہم اہل ایمان ہیں اور ہم اہل ایمان ایسے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ کافر جج ہیں جو عدالت میں موجود لوگوں کو بھی جرمانہ کر دیتے ہیں‘ ہمارے ایمان دار ملک اور ہماری اخلاقیات میں چودہ سال کی اس ماں اور دو ہفتوں کی اس بچی کے لیے صرف ایک ہی انصاف ہے اور وہ انصاف ہے موت‘ یہ دونوں بے چاریاں مرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکیں گی اور ان کی موت کے بعد عدم پیروی اور ثبوتوں کی غیرموجودگی کے باعث مجرم بھی باعزت رہا کر دیے جائیں گے اور یوں یہ باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے گا۔

میں یہ حقیقت جانتا ہوں لیکن دو ہفتوں کی بچی یہ سچ نہیں جانتی لہٰذایہ روز چیخ کر کسی کافر جج کو بلا رہی ہے‘ یہ روز کسی کافر کو آواز دے رہی ہے‘ یہ چپ نہیں کر رہی۔

18/01/2020

Novel Name :
Wafa Hai Zaat Aurat Ki
Writter ::Riaz Aqib Kohler
Novel in PDF
Novel Size :8.4 Mb
Read Online Or Download link
https://mega.nz/ #!EeYwwaAQ!VdhkGf9GQeFNp9qxqeKgiQbmOCzOqYTqg1eAobw4tUk



Rana Talha Shahzad
Zaiba Nazz

18/01/2020

Novel Name :
Andaz-ay-Mohabbat
Writter ::Warda Batool
Novel in PDF
Novel Size : 534 KB
Read Online Or Download link
https://mega.nz/ #!ZbQCgQoL!w0-wDZVVP-pZnuecGbi4BWkGaeyWqEwXGuhg64iQG20



Rana Talha Shahzad
Zaiba Nazz

Want your business to be the top-listed Government Service in Faisalabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Faisalabad
38000