Voice of Hisper Nager

Voice of Hisper Nager

Share

Slam to all
Dear respected members , let you know that this page is made for social service so for that all you request to serve as well as possible. Thanks

Photos from The North Associates Private Limited's post 25/12/2025
02/11/2025
24/08/2025

ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے ذوالفقار علی بھٹو شہید کے
سپریم کورٹ میں آخری بیان سے چونکا دینے والا اقتباس
(اردو ترجمہ: ساجد کلیم)

ہڈیوں کا ڈھانچہ بنے بھٹو شہید کافی دیر سے اپنے دفاع میں بولے جا رہے تھے اور اپنے خلاف جھوٹے مقدمہ قتل کے بخیے ادھیڑ رہے تھے کہ یحیی بختیار نے عدالت سے استدعا کی کہ مسٹر بھٹو تھک گئے ہیں لہذا عدالت کی کارروائی کل پر ملتوی کی جائے۔ اس مرحلے پر بھٹو شہید بولے:

"طویل مدت بعد یہ پہلا موقع ہے کہ میں سات فٹ ضرب دس فٹ کی سزائے موت کی کوٹھڑی سے/ قید تنہائی سے باہر آیا ہوں۔ میں بمشکل کھڑا ہو پا رہا ہوں۔ مجھے اتنی دیر کھڑے ہو کر توازن برقرار رکھنے میں بہت مشکل پیش آ رہی ہے۔"
چیف جسٹس نے کہا: مسٹر بھٹو اگر آپ چاہیں تو اپنا بیان جاری رکھ سکتے ہیں۔
بھٹو شہید نے کہا: "اگر عدالت کی یہی خواہش ہے تو میں جاری رکھتا ہوں۔"
جسٹس صفدر شاہ نے مداخلت کرتے ہوئے کہا: کوئی ضروری نہیں کہ مسٹر بھٹو آج مزید بیان جاری رکھیں۔ لہذا عدالت کی کارروائی اگلے روز پر ملتوی کر دی گئی۔
یحیی بختیار نے عدالت سے استدعا کی کہ کارروائی کل صبح ساڑھے نو بجے شروع کی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نہیں نو بجے بالکل ٹھیک ہے کیونکہ مسٹر بھٹو صبح بہت جلدی اٹھنے کے عادی ہیں۔
اس پر جناب بھٹو نے کہا: "ہاں میں زندگی بھر صبح جلدی اٹھنے کا عادی رہا ہوں لیکن اب مجھے رات بھر سونے نہیں دیا جاتا۔ کوٹ لکھپت جیل میں 50 پاگلوں کو تین ماہ تک میری کوٹھڑی کے ساتھ بند کر دیا گیا۔ وہ ہر وقت چیختے چلاتے رہتے اور میں سو نہ سکتا۔ جب مجھے راولپنڈی جیل منتقل کیا گیا، پہلے تو میری کوٹھڑی کی چھت پر رات بھر پتھر پھینکے جاتے رہے۔ میں نے شروع میں سوچا شاید میرا وہم ہو یا خواب ہو۔ لیکن جب رمضان آیا تو میں نے سونے کی کوشش نہیں کی بلکہ سحری تک جاگتا رہا۔تب میں نے اپنے سیل سے ملحقہ شیڈ کی ٹین سے بنی چھت پر شور سنا اور پھر میری کوٹھڑی کی چھت پر پتھر گرانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ کچھ ہفتے یہ پتھراو جاری رہا پھر نیا ہتھکنڈہ یہ اختیار کیا گیا کہ میری کوٹھڑی کے ساتھ ملحقہ کمرے کی چھت پر فوجی بوٹ پہنے گارڈز کی پریڈ شروع کرا دی گئی، وہ ہر رات چھت پر پریڈ کرتے ہیں اور میں رات بھر سو نہیں سکتا۔ پچھلی رات میں نے سوچا تھا کہ صبح لمبے عرصے بعد مجھے عدالت کے روبرو پیش ہونا ہے اسلئے شاید آج مجھے اس اذیت سے نہ گزرنا پڑے لیکن ہمیشہ کی طرح گزشتہ رات بھی وہی بوٹوں کی دھمک اور وہی کمانڈوز کی پریڈ جاری رہی اسلئے میں ایک سیکنڈ بھی سو نہیں سکا۔
یہ میرا عزم ہے اور میرا جذبہ ہے۔ عوام نے مجھ پر اعتماد کیا ہے اور میں انکے اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گا اسلئے یہ سب اذیتیں برداشت کر پا رہا ہوں ورنہ جسمانی طور پر میں انتہائی کمزور ہو چکا ہوں لیکن اپنی قوت ارادی کے بل پر زندہ ہوں۔میری جگہ کوئی اور ہوتا تو کب کا ٹوٹ چکا ہوتا۔ پچھلے 25 دن سے میرا پانی بند ہے۔ کل 25 دن بعد مجھے پانی فراہم کیا گیا لیکن اگر عدالت کی یہی خواہش ہے کہ میں نو بجے عدالت میں آؤں تو ٹھیک ہے میں 9 بجے آ جاؤں گا بلکہ عدالت کہے تو میں آٹھ بجے بھی آ جاوں گا۔"
چیف جسٹس نے وکیل استغاثہ کو کہا مسٹر بھٹو کو اجازت دی جائے کہ وہ صبح عدالت میں حاضری کے لئے جلدی تیار ہو سکیں۔

Photos from Gohari Social Voice's post 24/08/2025
Want your business to be the top-listed Government Service in Gilgit?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Gilgit

Opening Hours

Friday 09:00 - 17:00
Saturday 20:30 - 12:00
Sunday 10:00 - 21:00