29/08/2025
چلاس:(ہڈور کے سامنے افسوسناک واقعہ کی شدید مذمت).
ہم گلگت بلتستان سکاٹس پر دیامر میں ہونے والے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے میں شہید ہونے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور ان کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے اور ان کے خاندانوں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
یہ واقعہ گلگت بلتستان کے امن، ترقی اور نوجوان نسل کے روشن مستقبل پر حملہ ہے۔ نااہل حکومتی رویے اور ناقص حکمت عملی کے باعث خطے کو وزیرستان بنانے کی سازش کی جا رہی ہے، جسے ہم ہرگز کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ روایتی بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے اور اس واقعے کوسنجیدگی سے لے۔ مخصوص ٹاؤٹس یا پس پردہ عناصرکےذریعے مسئلے کو چھپانے کی بجائے، ریاست مین اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر ایک جامع اور دیرپا حل نکالے۔
دیامر کے نوجوانوں کو شدت پسندی اور انتہا پسندی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں تعلیم، روزگار اور ترقی کے مواقع دیے جائیں تاکہ وہ دباؤ یا گمراہ کن نظریات کی بجائے آزادانہ سوچ کے ساتھ اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں۔
ہم ایک پُرامن، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ گلگت بلتستان کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔۔
منجاب۔۔پاکستان نظریاتی پارٹی دیامر۔۔۔(صدر شفقت علی غوری).
25/12/2024
پاکستان نظریاتی پارٹی دیامر کے صدر شفقت عت علی غوری کی جانب سے
گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول گوہر آباد کے تعلیمی مسائل پر اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس کی اپیل
محترم اعلیٰ حکام،
یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ گورنمنٹ گرلز مڈل اسکول گوہر آباد کا تعلیمی نظام شدید بحران کا شکار ہے۔ اسکول میں تعینات بعض مستقل سرکاری اساتذہ نے اپنے بچوں کے بہتر تعلیمی مواقع کے لیے شہری علاقوں میں رہائش اختیار کر لی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی سرکاری ذمہ داریوں سے غفلت برت رہے ہیں۔ نتیجتاً، گاؤں کے معصوم بچے معیاری تعلیم سے محروم ہو رہے ہیں اور ان کا تعلیمی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔
اسکول میں نااہل اور غیر مستند افراد کو تدریسی فرائض سونپنا طلباء کے روشن مستقبل کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف انتظامیہ کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ محکمہ تعلیم کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔
ہم پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اسکول کے تمام غیر حاضر سرکاری اساتذہ کو فوراً اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہونے کا پابند بنایا جائے۔ جو اساتذہ اپنی سرکاری ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہیں، انہیں فوری طور پر منتقل کیا جائے اور ان کی جگہ اہل، قابل اور ذمہ دار اساتذہ کو تعینات کیا جائے تاکہ بچوں کو ان کا تعلیمی حق مل سکے۔
یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب گاؤں کے بچے بنیادی اور معیاری تعلیم سے محروم رہیں گے تو وہ مستقبل میں کسی اعلیٰ سرکاری عہدے یا مسابقتی امتحانات میں کیسے کامیاب ہو سکیں گے؟ کیا یہ ریاست اور محکمہ تعلیم کی بنیادی ذمہ داری نہیں کہ دیہی علاقوں کے بچوں کو بھی وہی تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں جو شہری علاقوں کے بچوں کو میسر ہیں؟
مزید برآں، ہم اس بات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں کہ ایک مقامی صحافی بھائی، جنہوں نے اس سنگین مسئلے پر آواز اٹھائی، کو دھمکی آمیز فون کالز موصول ہو رہی ہیں۔ یہ عمل آزادیِ صحافت اور اظہارِ رائے کے آئینی حق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ آپ اس اہم مسئلے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے گاؤں کے بچوں کے بہتر تعلیمی مستقبل کے لیے مؤثر اور دیرپا اقدامات کریں گے۔
شفقت علی غوری
صدر، پاکستان نظریاتی پارٹی دیامر۔