Welcome to Pakistan.
Pakistan is sure, if not the most, one of the top most beautiful countries of the world.
Like & Share This Beautiful Video and Help us To Promote Postive Face of Our Beloved Country.
Fairy Meadows & Nanga Purbat
Our prices are competitive but never at the cost of quality. We deliver what we promise and do not promise what we cannot deliver.
We are specialized in organizing Treks,Tours, and Jeep Safaris in Gilgit-Baltistan, particularly in the Karakorum, Himalaya & Hindu Kush mountain ranges, that can be tailored to specific needs and budget. Our intention is to become one of the leading travel/tour agencies in the tourism sector whilst contributing to the culture promotion and socio- economic development of the region. We help inboun
11/06/2019
Skyline’s style of zip-lining emphasizes freedom of movement, providing an increased feeling of flight as you soar through the sky.
Pakistan's largest Zipline launched in Malam Jabba, Swat Valley. Pakistan.
26/07/2018
First ever MPA from Kalash community.
18/07/2018
Sunset At The Mighty Killer Mountain.
11/06/2018
Fairy Meadows
04/06/2018
Fairy Meadows .
07/05/2018
Rati Gali Lake
Heli Shot 5 May 2018
26/04/2018
Information For Tourists, who planned to visit GB in this season.
Save & Share with Others.
14/03/2018
انگاپربت پر ریسکیو آپریشن کی کہانی۔
تحریر: آصف پیرو
نانگاپربت حادثے کے بعد ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے کہ کیسے دونوں کی جان بچ سکتی تھی۔ کیا ہوسکتا تھا اور کیا نہیں کیا گیا۔ اس سارے معاملے کو سمجھنے کیلیے چند پوائنٹ ذہن نشین کرلیں۔
جب کوئی بھی غیرملکی ٹیم پاکستان میں 8000 میٹر والا پہاڑ سر کرنے آتی ہے تو وہ راولپنڈی میں عسکری ایوی ایشن میں ہیلی کاپٹر ریسکیو سروس میں سیکورٹی جمع کرواتی ہے تاکہ ایمرجنسی کیلئے ہیلی استعمال کیا جاسکے۔ اور اگر ہیلی استعمال نا ہوا ہو تو وہ رقم واپس مل جاتی ہے۔ یہ سیکورٹی رقم جمع کروائے بنا کسی کو پہاڑ پر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔
بالفرض محال ایمرجنسی میں ریسکیو کی ضرورت پڑ جائے تو یہ معاہدے کے مطابق یہ ہیلی ریسکیو بیس کیمپ سے ہوتا ہے بیس کیمپ سے اوپر ہیلی ریسکیو نہیں کرتا یا کر ہی نہیں سکتا۔ معاہدے میں لکھا ہوتا ہے کہ متاثرہ شخص کو پہاڑ کے اوپر سے بیس کیمپ تک لانا کوہ پیماؤں کی اپنی زمہ داری ہوگی اور بیس کیمپ سے ہیلی ریسکیو کرے گا۔
یاد رکھیں پاکستان کے 8000 میٹر والے پہاڑوں کا بیس کیمپ 5000 سے 5400 میٹر کی بلندی پر ہے۔ بیس کیمپ سے اوپر پہاڑ کی بلندی اور چڑھائی انتہائ سیدھی عمودی ہوتی ہے جس پر کہیں بھی ہیلی کاپٹر نہیں اتر سکتا اور نا ہی پہاڑ کے بہت قریب جاسکتا ہے۔ کیونکہ ہوا کی رفتار اور دباؤ کی وجہ سے ہیلی حادثے کا شکار ہوسکتا ہے۔ اور ہیلی کا ہوا میں کھڑے ہوکر کسی کو ریسکیو کرنا خود اپنی اور متاثرہ شخص کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہوتا ہے۔
حادثے کی صورت میں ریسکیو کرنے کیلے سب سے اہم اور بروقت کوشش یہی ہوسکتی ہے کہ اس پہاڑ پر موجود دوسرے کوہ پیما فوراً ریسکیو شروع کردیں۔ کیونکہ وہ اس کے قریب بھی ہیں اور ماحول اور بلندی سے ہم آہنگ بھی ہوچکے ہیں۔ نیچے سے کسی کا پہ پہاڑ پر جاکر ریسکیو کرنا بہت بڑی غلطی اور بیوقوفی ہوسکتا ہے۔
پہاڑ کے اوپر جب کوئی حادثے کا شکار ہوتا ہے تو اسکا مطلب ہے یا تو وہ گر کر زخمی ہوچکا ہے یا بلندی اور سردی کی وجہ سے کسی بیماری کا شکار ہوا ہے اور بلندی پر ہونے والی بیماریاں انسان کو وقتی طور پر اندھا اور معذور کردیتی ہیں کہ وہ مدد کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔ اور یہ بیماریاں ایسی ہیں کہ دو سے تین دن تک اگر ہسپتال تک نا پہنچ سکے تو موت واقع ہوجاتی ہے۔ بالفرض وہ بیمار نہیں ہے مگر راستہ بھول کر پھنس گیا ہے تو بھی اتنی بلندی پر دو تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا۔
کوہ پیمائی میں ماہر اور تجربہ کار ہونا اور ریسکیو کرنے میں بہت فرق ہے۔ برف کے اوپر بہت زیادہ بلندی سردی اور بالکل سیدھی چڑھائیوں پر اپنا آپ سنبھالنا مشکل ہوتا ہے کہ کسی کو رسیوں کے ساتھ باندھ کر کھینچنا یا اٹھانا جان لکھوں کا کام ہے۔
پہاڑوں کے اوپر انسانی جسم کی قوت برداشت کی ایک لمٹ ہوتی ہے۔ اور بلندی پر مرحلہ وار اوپر جانا ہوتا ہے۔ ایک دن میں 1000 میٹر اوپر چلے جانا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ اسے کوہ پیمائی میں acclimatization کہتے ہیں۔ 6000 میٹر کے بعد بہت تیزی سے اوپر جانے سے دماغ گردے اور پیھپڑے کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔ ایسی حالت میں ریسکیو کیلے جانے والے اگر نیچے سے جارہے ہیں تو وہ خود خطرے میں ہوں گے دوسروں کو ریسکیو کیسے کریں گے۔ کوہ پیماؤں کو ریسکیو کرنا یا ریسکیو کا ادارہ بنانا کوئی 1122 ادارہ جیسا کام نہیں ہے۔ پاکستان جہاں سالانہ بہت کم ٹیمیں آتی ہیں اور پھر ریسکیو کی سال میں ایک آدھ یا کبھی وہ بھی نہیں ضرورت نہیں ہوتی تو اس کیلے کروڑوں روپے لگا کر کون ادارہ بنائے گا اور تربیت دے گا۔ پھر یہ تربیت یافتہ لوگ کنکورڈیا سکردو گلگت یا کہاں پر بیٹھے ہوں گے اور ایمرجنسی میں کیسے پہنچیں گے جبکہ کوہ پیماؤں نے صرف ایک بار ہیلی استعمال کرنے کی سیکوریٹی دی ہوتی ہے۔ زیادہ سیکوریٹی لیں گے تو کوئی آنا پسند نہیں کرے گا۔ ریسکیو کی کال ملنے پر خرچہ پہلے لیں گے تو جان بچانے میں دیر ہوجائے گی۔ اور اگر پہلے ریسکیو کرلیا تو بعد میں پیسے ملنے کی کیا گارنٹی ہے۔ یا ریسکیو کرتے ہوئے کوئی لاپرواہی غلطی ہوگئی یا قدرتی طور پر کوئی مسئلہ ہوگیا تو بعد میں خرچہ دینے پر لڑائی شروع ہوجائے گی۔ کیونکہ پہلے جان کی اہمیت ہوتی ہے اور ریسکیو مکمل ہوجانے یا کام ہونے کے بعد پیسے کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
نیپال میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہیلی صرف بیس کیمپ سے ریسکیو کرتا ہے اور اوپر پھنسے لوگوں کو کوئی بھی نیچے سے جاکر ریسکیو نہیں کرتا۔ چونکہ نیپال میں ٹریفک زیادہ ہے اس لئے Acclimatize کوہ پیماؤں میں سے ہی کوئی نا کوئی ریسکیو کرلیتا ہے۔
پاکستان میں ریسکیو کا ادارہ بنانا عملی طور پر ناممکن ہے جب تک سالانہ سو سے زیادہ ایکسپیڈیشن نہیں ہوجاتیں۔ دنیا بھر کی جدید سہولتیں دینے کے بعد بھی نانگاپربت کےٹو پر 7000 میٹر سے اوپر ریسکیو کرنے کے چانسز نا ہونے کے برابر ہوں گے۔
&_TOMEK
سنا کہ گزشتہ روز پریوں کی وادی فیری میڈوز پر چھائے اک قاتل پہاڑ نے اپنے محب کو اپنی برفانی آغوش میں سمو کر اس قدر زور سے بھینچا کہ وہ اپنی جان اسکے قدموں میں ہار بیٹھا___!!!
!
جو موسم سرما میں نانگا پربت کو سر کرنے خواہش اپنے سینے میں دبائے تھا ' بارہا اس کو سر کرنے کے خواب دیکھ چکا تھا' سوتے میں اسکی نیندیں اپنے محبوب پربت کو دیکھتی تھیں اور جاگتے میں اس کا دل و دماغ صرف اسی کی طرف رہتا تھا۔۔۔
تقریبا پانچ مرتبہ ٹوم کوشش کر چکا تھا' مگر ہمیشہ ناکام رہتا' یا پھر نانگا پربت کیطرف سے ابھی اذن ہی نہیں ملا تھا کہ ٹوم اس کی آغوش میں اپنا مرقد بنا سکے۔۔۔
نانگا پربت کے برفاب' اور تند و تیز ہوائیں ٹوم کو راس ہی نہ آتیں اور ٹوم ہمیشہ اپنا سپنا ادھورا چھوڑ کر واپس پلٹ جاتا۔۔۔
لیکن! کل شب____ آہ
کل شب نانگا پربت نے ٹوم کو اس قدر زور سے بھینچا کہ وہ اپنی سانسیں ہی ہار بیٹھا
ٹوم کی ساتھی الزبتھ ٹوم کو 7200 میٹر تک لانے میں کامیاب ہوئی' ایسی حالت میں کہ ہاتھ پاوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا' الزبتھ نے ہمت نہیں ہاری ۔۔۔
7200 کی بلندی پر ٹوم کو کیمپ میں نیم مردہ حالت میں چھوڑتے الزبتھ ٹوم کو یہ تاکید کر رہی تھی کہ'
"آنکھیں کھلی رکھنا
"اگر آنکھیں بند ہوئیں تو زندگی ہار جاو گے
"بس سونا مت
"اپنی آنکھیں کھلی رکھنا
(شاید ایسے ہی تاکید کی ہوگی الزبتھ نے ٹوم کو)
مگر قدرت کچھ اور چاہتی تھی۔
ٹوم کو کیمپ میں لٹا کر الزبتھ رفتہ رفتہ نیچے اترنے لگی ۔ جانے اس نے دل کو کتنا سخت کر کے ٹوم کو چھوڑا ہوگا اکیلا' یقینا آنکھوں سے آنسو رستے ہونگے مگر گال تک پہنچتے پہنچتے سردی کی شدت سے وہیں جم جاتے ہوں گے۔
اور!
اور ٹوم! آنکھیں نیم موندے کیمپ کی پھڑپھڑاہٹ سنتا تھا' اور الزبتھ کے رفتہ رفتہ دور ہوتے قدموں کی مدھم سی آواز کہیں اسکے کانوں میں پڑتی تھی۔۔ اور وہ گمان کرتا ہوگا کہ شاید الزبتھ واپس آ جائے' مگر اجل قریب کھڑی اسکی سوچوں پر مسکرا رہی تھی ' اجل کو الزبتھ کے جانے کا ہی تو انتظار تھا۔۔۔
اور! ہاں نانگا پربت اک مغرور قاتل پہاڑ کیسے کسی کی دخل اندازی پسند کرتا ' اس صورت میں کہ محب اس کی آغوش میں اپنی آخری سانسیں لے رہا تھا'
نانگا پربت کو رحم آ گیا'وہ ٹوم کو سرد ہواوں کی مدھر لوریاں سنانے لگا' اجل ٹوم کے قریب کھڑی تھی' نانگا پربت رفتہ رفتہ ٹوم کے قریب آیا اور پھر اچانک اسطرح سے ٹوم کو اپنی آغوش میں بھینچاکہ ہمیشہ کے لیے اپنے پہلو میں سلا لیا' ۔۔۔۔
ٹوم اپنا عشق امر کر چکا تھا 😢
نانگا پربت پر
سرما کی برفباری میں
دھند زدہ____کسی ویران جگہ میں
اک قہر آلود ' ٹھٹھرتی سرد رات میں۔۔۔
اک پاگل کوہِ نورد
اپنے زرد خیمے میں دبکا
آنکھوں سے آنسو بہاتے ہوئے
اپنے کپکپاتے ہاتھوں کو اٹھا کر
نیلے پڑتے ہونٹوں سے
جانے خدا سے کیا مانگ رہا ہے
اور سن ہوتے دل و دماغ سے سوچ رہا ہے
شاید اگلے لمحے
اجل____اک مہرباں کی صورت آئے
اور اسے ان ظالم بلندیوں سے
دور لے جائے___
کہیں بہت دور
تحریر و نظم :- ہیرِ جبل (ثمرہ خان)
28/01/2018
Tomek, you love Nanga Parbat so the mountain does too, and in love, Nanga Parbat didn’t want to let you go back. You are going to rest in your loved mountain forever with eternal peace! Your passion will be remembered with great honor in the history of Nanga Parbat and mountaineering field.
Goodbye!!!!!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Contact the business
Telephone
Address
Chillas, Near Raikot Bridge. Diamir District, Pakistan
Gilgit
14300
