17/11/2025
تعلیم سے محرومی، ترقی کی راہ میں رکاوٹ – سکوار میں ہائی اسکول کا قیام ناگزیر ہے
سکوار اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن
تحریر : ظہیر رضوی
تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے جو فرد کی شخصیت کو نکھارتی ہے، اس کی فکری، سماجی اور اخلاقی تربیت کرتی ہے، اور ایک باشعور معاشرے کی بنیاد رکھتی ہے۔ تعلیم کی اہمیت دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں یکساں ہے، مگر دیہی علاقوں میں اس کی ضرورت کہیں زیادہ شدت سے محسوس کی جاتی ہے کیونکہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں وسائل، شعور اور بنیادی سہولیات کی کمی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ ایسے میں تعلیم ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو فرد اور معاشرے کو ان مسائل سے نکال کر ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے۔
گلگت بلتستان کے مضافاتی علاقے سکوار کی مثال ہمارے سامنے ہے، جو ایک بڑا، گنجان آباد اور تیزی سے ترقی کرتا ہوا دیہی علاقہ ہے۔ حالیہ برسوں میں اندرون و بیرون گلگت سے سینکڑوں خاندان یہاں آ کر آباد ہوئے ہیں، جس کے باعث یہاں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود، یہ ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ سکوار میں آج تک نہ تو لڑکیوں کے لیے اور نہ ہی لڑکوں کے لیے کوئی سرکاری ہائی اسکول قائم کیا گیا ہے۔ دونوں کے لیے صرف مڈل سطح تک تعلیمی ادارے موجود ہیں، جو بڑھتی ہوئی آبادی اور تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔
نتیجتاً، علاقے کے طلبہ و طالبات، خاص طور پر بچیاں، مڈل کے بعد تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہ صورت حال صرف ایک فرد یا خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی ترقی کے پورے عمل میں رکاوٹ ہے۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں دنیا تیزی سے ڈیجیٹل، سائنسی اور تکنیکی ترقی کی جانب گامزن ہے۔ آج تعلیم صرف روایتی کتابی علم تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل مہارت، سائنسی شعور اور فنی تربیت وقت کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ ملازمتوں، خود انحصاری اور سماجی شعور کا انحصار تعلیم پر ہے۔ اگر سکوار جیسے علاقے میں تعلیمی سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو یہاں کی نوجوان نسل جدید دنیا سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت کھو بیٹھے گی۔
سکوار میں لڑکیوں کی تعلیم کی صورت حال مزید تشویشناک ہے۔ مڈل کے بعد قریبی ہائی اسکول نہ ہونے کی وجہ سے بچیوں کو شہر جانا پڑتا ہے، جو نہ صرف مہنگا بلکہ غیرمحفوظ بھی ہے۔ اسی لیے اکثر والدین مڈل کے بعد بچیوں کی تعلیم روکنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ محرومی پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے کیونکہ ایک تعلیم یافتہ لڑکی ایک تعلیم یافتہ خاندان کی بنیاد رکھتی ہے۔
سکوار میں ہائی اسکول کا قیام اب محض ایک تعلیمی سہولت نہیں بلکہ ایک سماجی انصاف کی علامت بن چکا ہے۔ عرصہ دراز سے سکوار اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کا یہ دیرینہ اور پُرخلوص مطالبہ ہے کہ علاقے کے موجودہ مڈل اسکولوں کو فوری طور پر ہائی اسکول میں اپ گریڈ کیا جائے تاکہ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو ان کے بنیادی تعلیمی حق سے محروم نہ رکھا جائے۔ ہم حکومت گلگت بلتستان، محکمہ تعلیم اور تمام متعلقہ اداروں سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری اقدامات کے تحت سکوار میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ ہائی اسکول قائم کیے جائیں۔
اس کے لیے اضافی کلاس رومز، سائنس و کمپیوٹر لیب، لائبریری اور تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ آئندہ تعلیمی سال سے سکوار کے طلبہ و طالبات کو ہائی اسکول کی سطح کی تعلیم ان کے اپنے علاقے میں میسر آ سکے۔
دیہی علاقوں کی ترقی کا راستہ تعلیم سے ہو کر گزرتا ہے۔ سکوار جیسے علاقے میں ہائی اسکول کا قیام وقت کی سب سے اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک روشن، باوقار اور باخبر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں دیہی علاقوں کی تعلیمی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ سکوار کی نئی نسل تعلیم کی منتظر ہے — سوال یہ ہے: کیا ہم اُن کی آواز سننے کو تیار ہیں؟

27/10/2019
25/03/2019
08/10/2018
12/07/2018