Sartaj Aziz Khan

Sartaj Aziz Khan

Share

Pakistan ki Awaaz...
Feel the peoples.....

Photos from Sartaj Aziz Khan's post 24/11/2021

Vaccination of Khasra and Rubella at school

03/07/2021

2021

23/05/2021

2k21 May 🔒 down

24/04/2020

M***i Muneeb Ur Rehman sahab aap ne telescope k agay laga hua black label nai hataya hy... plz check it

14/04/2020

ایک دلچسپ واقعہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ایک شخص ملک شام سے سفر کرتا ہوا آیااور اپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ آپ امیر بھی ہیں یعنی مالدار بھی ہیں اور امیر بھی یعنی مسلمانوں کے سربراہ بھی ہیں۔
عرض کرنے لگا حضور میرے اوپر قرضہ چڑھ گیا ہے میری مدد کریں ۔تو آپ اس کو اپنے گھر لے گئے شخص کہتا ہے کہ باہر سے دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھر پر ایک چارپائی بھی نہ تھی کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں اور وہ بھی پھٹی ہوئی فرماتے ہیں سیدناصدیق ابوبکر(رضی اللہ تعالی عنہ)نے مجھے چٹائی پر بٹھا لیا اور مجھے کہنے لگے یار ایک عجیب بات نہ بتاؤں میں نے کہا بتائے تو عرض کرنے لگے تین دن سے میں نے ایک اناج کا دانہ بھی نہیں کھایا کھجور پر گزارا کر لیتا ہوں آجکل میرے حالات کچھ ٹھیک نہیں ہے توشخص کہنے لگا حضور میں اب پھر کیا کروں میں تو بہت دور سے امید لگا کر آیا تھا۔
تو فرمانے لگے تو عثمان غنی کے پاس جا شخص کہنے لگا مجھےتو بہت سارے پیسے چاہیے ہیں۔تو آپ نے فرمایا تیری سوچ وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے عثمان کی سخاوت شروع ہوتی تو جو سوچتا ہے اتنے ملیں گے تیری سوچ ختم ہوتی ہیں وہاں سے عثمان کی سخاوت شروع ہوتی ہے تو جا ان کے پاس شخص کہنے لگا آپ کا نام لوں کے مجھے امیرالمومنین نے بھیجا ہے توفرمانا لگےاس کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
صرف اتنا بتانا کہ میں مقروض ہوں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ کا نوکر ہوں۔ وہ شخض کہنے لگا کے وہ دلیل ،حوالہ مانگے گے فرمایا عثمان سخاوت کرتے وقت دلیل یا حوالے نہیں مانگتے عثمان اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے تفتیشے نہیں کرتا ،اور سخاوت کرتے وقت ٹٹولنا عثمان کی عادت نہیں ۔
وہ شخص کہتا ہے کہ میں چلا گیا پوچھتا پوچھتے دروازے پر دستخط دی حضرت عثمان غنی کے اندر سے بولنے کی آواز آ رہی تھی "اپنے بچوں کو ڈانٹ رہے تھے کہ یار تم لوگ دودھ کے اندر شہد ملا کر پیتے ہوں خرچا تھوڑا کم کرو اتنا خرچا بڑھا دیا ہے دودھ میٹھا شہد بھی مٹھا ایک چیز استعمال کرلو تم کوئی بیمار تھوڑی ہوں"
شخص کہتا ہے میں نے کہا ابوبکر تو بڑی باتیں بتا رہے تھے یہاں تو دودھ اور شہد پر لڑائی ہو رہی ہے اور مجھے تو کئی ہزار دینار چاہیے کیا یہ دے دے گا۔ شخص کہتا ہے کہ میں ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ اندر سے دروازہ کھلنے کی آواز آئ۔
وہ باہر آئے اور میں نے کہااسلام علیکم!انہوں نے سلام کا جواب دیں اور وہ سمجھ گئے کہ میں مسلمان ہوں اور مخاطب ہوکر کہنے لگے معاف کرنا بچوں کو ذرا ایک بات سمجھنی تھی آنے میں ذرا دیر ہو گئی۔ان کا پہلا جملہ ان کے بڑے پن کا مظاہرہ کر رہا تھا پھر دروازہ کھولا اور مجھے انہوں نے گھر بٹھایا اور میرے لئے جو پہلی چیز پیش کی گئی وہ دودھ میں شہد ڈال کر دیا گیا اور پھر کھجور کا حلوہ پیش کیا۔
شخص کہتا ہے کہ میرے دل میں خیال آیا عجیب شخص ہے گھر والوں کے ساتھ جھگڑا کر رہے تھے ایک چیز استعمال کیا کرو میرے لیے تین تین چیزیں آ گئی ہےلیکن ابھی میرا تصور جما نہیں تھا میں نے دل میں خیال کیا اتنا تگڑا نہیں جتنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بتایا ہے۔وہ شخص کہتا ہے کہ کھلانے پلانے کے بعد پوچھنے لگے کیسے آئے ہو ۔
میں نے کہا کہ" میں مسلمان ہو اور ملک شام کے گاؤں کارہنے والا ہوں اور کچھ کاروباری مشکلات آئی تو مقروض ہوگیا ہوں اور میرے اوپر قرضہ ہےاور مجھے کچھ پیسوں کی حاجت ہے "

کہنے لگا تو میں نے کچھ پیسے کہا تو انہوں نے ایک آواز دی تو ایک غلام اونٹ پر سامان لدا ہوا لیکر حاضر ہوا۔شخص کہتا ہے کہ مجھے تین ہزار اشرفیاں چاہیے تھی۔ابھی میں نے بتایا نہیں تھا کیا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے کہ" اس اونٹ پر تیرے لیے تیرے گھر والوں کے لئے میں نے کپڑے اور کھانے پینے کا سامان اور 6000 اشرفیاں رکھوا دی ہے اورتو پیدل آیا تھااب اونٹ لے کر جانا"
شخص کہنے لگا میں نے فورن سے کہا حضور یہ اونٹ انہیں واپس کرنے کون آئے گا۔حضرت عثمان فرمانےلگے واپس کرنے کے لیے دیا ہی نہیں یہ تحفہ ہے تو لے جا۔
شخص کہتا ہے کہ میں کہاں سے چلا تھا ڈھونڈتا ہوا اور پھر مدینے میں آیا اور جب مدینے میں آیا تو اللہ نے مجھے جھولی بھر کے عطا فرمایا کہتا ہے میری آنکھوں میں آنسوں آگئے اور میں نے کہا حضور آپ نے تو مجھے میری ضرورت سے کہیں بڑھ کر نواز دیا ہے معاف کیجئے گا میں سوچ رہا تھا دودھ شہد پر تو گھر میں لڑائی ہو رہی ہے۔۔۔
تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ نے جو پیسے عثمان کو دیے ہیں وہ اس لئے نہیں دیے کہ عثمان کی اولادیں عیش مستی کرتی پھیرے میرے مالک نے مجھے نوازا ہے تاکہ میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کہ نوکروں کی نوکری کروں۔
شخص کہتا ہے میں دروازے تک گیا تو میں نے کہا شکریہ!
کہتا ہے ابھی میں نے بتایا نہیں تھا کہ مجھے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے بھیجا ہے کہ آپ فرمانے لگے کہ شکریہ ابوبکرصدیق (رضی اللہ تعالی عنہ) کا ادا کرنا جس نے تجھے یہ راستہ دکھایا ہے۔
شخص کہتا ہے کہ میں نے کہا حضور آپ کو تو میں نے بتایا ہی نہیں کے مجھے ۔۔۔۔تو آپ رضی اللہ تعالی عنہہ مسکرا کر فرمانے لگے چھوڑوں آپ کا کام ہو گیا اس تفصیلات میں نہ پڑوں۔(سبحان اللہ)
یہ شان ہے خدمت گاروں کی
سرکار کا عالم کیا ہوگا۔
{ماخذ سیرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ}

06/04/2020

Answer plz

11/02/2020

Gift from Almighty Allah

09/02/2020

Great man with great step

08/02/2020

I Love my all ❤️ friends

18/07/2019

مجھے نوکری ملی میں بہت خوش تھا کچھ مہینوں بعد میں نے اس نوکری میں ترقی کرنے کا پکا عہد کر لیا مجھے اس کے لئے کافی وقت آفس میں گزارنا پڑتا تھا۔میری والدہ ضعیف العمر تھی بیچاری میرے آفس جانے سے پہلے میرے لئے ناشتہ اور میرا تھری پیس سوٹ تیار کرکے میز پر رکھ دیتی تھی۔میں صبح آٹھ بجےاٹھتا اور آفس چلا جاتا چھ مہینے ہوگئے اور آخرکار میں نے پراجیکٹ مکمل کردیا۔میں بہت خوش تھا کہ میری ماں کو میری وجہ سے کوئی تکلیف نہیں ہےمگر درحقیقت ایسا بلکل بھی نہیں تھا۔میری ماں اداسی کا شکار تھی جس سے میں بلکل لا علم تھا کیونکہ چھ مہینے میں اپنے کام میں اتنا مگن تھا کہ ماں سے پانچ منٹ بات بھی نہیں ہو پاتی تھی۔پھر وہ دن آگیا جس کے لئے میں نے چھ ماہ محنت کی تھی میں نے اپنا پراجیکٹ جمع کروا دیا دل ہی دل میں میں بہت خوش تھا کہ اب میری ترقی سے مجھے کوئی نہیں روک سکتا مگر سب کچھ الٹ ہو گیا میرے باس کو میرا پراجیکٹ بےکار لگا اور اس نے مجھے نوکری سے نکالنے کا فیصلہ کرلیا کیونکہ یہ ایک بیرونی ملک کےلئے بنایا گیا تھا جو 2 دن بعد ان کے حوالے کرنا تھا۔باس نے کہا کہ آپ کی نوکری ختم ۔مجھے اپنی محنت پر بہت دکھ ہورہا تھا کہ چھ مہینے میں نارمل نیند نہیں کرپایا اور آج میری محنت ضائع ہورہی ہےآنکھوں میں آنسوں کے دریا چلتے چلتے رک گئے میں دکھی صورت لے کر گھر میں داخل ہوا ماں روز کی طرح کھانا لگایا رات دس بجے ہی گھر پہنچا تھا۔ماں نے میری صورت پڑھ لی اور پاس آکر پوچھنے لگی کہ میرا لعل کیوں اداس ہے میں نے ماں کو سارا واقعہ سنادیا ماں نے کہا اللہ خیر کرے گا بیٹا اب تو سو جا مجھے ماں کی بات پہ غصہ بھی آرہا تھا کہ میرا حال دیکھو اس حال میں میں بھلا کیسے سو سکوں گا۔مگر کود پہ قابو کرکے سونے کی کوشش کرنے لگا رات کے تین بجھ گئے مگر میں کروٹے بدلتا رہا مگر نیند نہیں آرہی تھی دل کمرے میں بہت تنگ تھا اس لئے کمرے سے باہر نکلا۔نظر امی کے کمرے پر پڑی تو لائٹ آن تھا میں سمجھا شاید امی لائٹ بند کرنا بھول گئی ہےمیں امی کے کمرے کی طف بڑھا تو اندر داخل ہونے کے لئے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ امی سجدے پہ پڑی ہے اور رورہی ہے۔میرے دل پر خوف طاری سی جاری ہوئی ایک دم سے میرے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا میں جیسے جیسے اپنے کمرے تک پہنچا اور بے دم لیٹ گیا مگر نیند نہیں آئی صبح ہوئی ناشتہ کیا سارا دن کمرے میں گزرا مگر دن کا پتہ نہیں چلا کیونکہ میرا دماغ سن سا ہوگیا تھا۔اگلے صبح جب میں اٹھا تو طبیعت سازگار تھی اور ہوش بھی تھا معمول کی طرح سات بجے ناشہ کیا اور امی کے پاس جا کے بیٹھ گیا امی سے معافی مانگ لی کہ اپنے کام کی وجہ سے میں آپ کو ٹائم نہیں دے پایا ماں بھی رورہی تھی اور دل کی گہرائی سے دعا دے رہی تی کہ اللہ آپ کو سدا کامیاب رکھیں۔اتنے میں آفس سے کال آیا امی کے اجازت سے آفس چلا گیا تو دیکھا کہ بیرونی ملک کا سی ای او میرے سامنے کھڑا مجھے دیکھ رہا تھا اور اس کے منہ سے جو الفاظ نکلے سپنا لگ رہا تھا "مسٹر عزیز کیا آپ ہمارے کمپنی کو سینئر مینیجر کی حیثیت سے جوائن کرنا پسند کرینگے"منہ سے ہاں تو نکلا مگر یقین نہیں آرہا تھا۔اندر ہی اندر مجھے سارا ماجرا سمجھ آگیا ۔ماں کی آدھی رات کی عبادت اور وہ رونا ماں سے معافی مانگنا ماں کے ساتھ چند لمحے گزارنا ماں کی دعا لے کر گھر سے نکلنا میرے سامنے یہ سب ایک نقشے کی طرح اگئے۔میں نے اس دن سے توبہ کرلی کہ ماں کو کبھی اداس نہیں چھوڑوں گا اور اپنے رب کی عبادت کر کے اسی سے مانگوں گا۔

11/06/2019
Want your business to be the top-listed Government Service in Gilgit?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address

Kashrote
Gilgit