Ghizer Valley

Ghizer Valley

Share

One of the beautiful districts of Gilgit Baltistan.The people of the Ghizer valley are very peaceful,hard workers and brave.

A true community is not just about being geographically close to someone or part of the same social web network. It's about feeling connected and responsible for what happens. Humanity is our ultimate community, and everyone plays a crucial role.

28/08/2025

welcome to Shandoor Lake Ghizer

14/07/2022

قرقلتی یوتھ فورم زندہ باد زبردست پروگرام❤

03/07/2022

یاسین میں بچے پہ تشدد کیس میں بچے کے والد پر جھوٹا پرچہ کرکے جیل بھیج دیا گیاہے ۔ملزم ازاد گھوم رہا ہے

Photos from Ghizer Valley's post 15/02/2022

Sabiha Channd ,the proud daughter of Ghizer qualified CSS exam 2021 and allocated in IG.She is the first CSS officer from Ghizer

Ghizer Valley Gilgit Baltistan - Ghizer Valley 28/01/2022

Welcome to Yasin Valley

Ghizer Valley Gilgit Baltistan - Ghizer Valley Ghizer valley is the most beautiful valley of Gilgit Baltistan. It is paradise on earth and is a land of colorful water, dotted with trees, deep blue sky, and green fields.

20/01/2022

تحریر:عدنان علی

موڑوری قلعہ 🏰 جو سندی کے اختیتام اسمبر اور قرقلتی کے سنگم پہ ایک سنگلاخ دشوار گزار چٹان پہ مشتمل ڈیڑھ سو میٹر بلندی پہ واقع ہے ۔جو اپنے ساخت دفاعی لحاز سے "قلعہ الموت "سے مماسلت رکھتا ہے . جسے اپنے زمانے کا ناقابل تسخئر ہونے کا شرف حاصل تھا مگر جب گھر کے بھدی لنکا ڈھا دے تواہنی دروازے بےبس ہوتے ہیں فولاد کی فصیلیں بھی ریت کی دیوار ثابت ہوتیں ہیں
آ ج میں موڑوری کے ان کھنںڈرات اور پتھروں پہ بیھٹا ہوں جو زمانے کے اتاروچڑھاو کو قریب سے دیکھیں ہیں ۔وہ زمانے کےاچھے اور برےایام کے اشنا ہیں ۔ بہتے ہوئے اس بے گناہ لہو کےچشم دید گواہ ہےجو اپنوں نےغیروں کے اشرواد کی خاطر بہائے تھے
جنوری کےخنکی۔سرسراتی ہوئی یخ بستہ ہواوں میں بھی گرمی کی حدت محسوس ہوتی ہے۔ایک جمالیاتی حس رکھنے والے شخص کے لئے ایک ایسی طلسماتی اور افسانوی جگہ جہاں وقت تھم جاتا ہےگردشیں رک جاتی ہیں غم دوران اور جانان کے سارے جھگڑے اپنے وجود کو کھو دیتے ہیں ایسا لگتا ہے یہاں فنا اور بقا کے سارے فلسفےبیکار ہو جاتے ہیں۔اس خاک پر بیٹھ کر ایک شخص تصور اور تخیل کی مدد سے یہاں کے مکینوں پہ جو بیتی ان کے درد محسوس کر سکتا ہےاور تصور کر سکتا ہے کہ یہاں کے پناہ لئے ہوئے لوگ کو دشمن کے کن کن مظالم کا سامنا کیا ہوگا۔
اس پرسکون خاموش چٹان پہ مدھم سی سرگوشیاں بچوں کی چیخیں، عورتوں کے سسکیاں، مرنے والوں کی آخری ہچکیاں، تلواروں کے جنکاریں،گھوڑوں کی ہنہناہٹ، فاتح کے قہقہے اور مفتوح کی دہایاں سنائی دیتی ہے۔ اس پاس کے پہاڑوں سے آنے والی شوخ ہوا کے جھونکوں میں ان معصوم شہداء کے پرچھائیاں رقص کر تے ہوئےمحسوس ہوتے ہیں
یہاں نہ حال ہےنہ ماضی اور نہ ہی مستقبل۔ سارےزمانے گڑمڑ ہو کراپس میں مدغم ہوجاتے ہیں ۔عجیب ڈراؤنی قسم کے خیالی میلے سامنےآتے ہیں۔ان ہی خیالات کی دنیا میں غرق ہو کر مجھے محسوس ہوا کہ چاروں سمت دھند پھیل جاتی ہے اور کچھ غیر مرئی چیزیں دکھائی دیتی ہے وقت پیچھے کی جانب بڑی تیزی سے دوڑ رھا ہے میں بھی ننگے پاؤں ان پرچھائوں کے تعاقب میں الٹےسمت ماضی کے دھند میں بھٹک جاتا ہوں تخیل کے بل بوتے پر اس پراشوب زمانےمیں داخل ہوتا ہوں۔ گردش لیل ونہار جلوت اور خلوت کے تمام بندیشوں سے موارا ہوکر تعصب سے اپنے دامن بچا کر میں تاریخ پہ پڑی موڑوری واقعے کے دبیز راگھ کو کرید کر چنگاریاں ڈھونڈتا ہوں تو وہ ظلم کے شعلوں سے واسط پڑ جاتاہے،میری رونگٹھے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔تاریخ کے ان بھول بھلیوں اور الجھنوں کو سلجھاتے سلجھاتے میں خود الجھ جاتا ہوں۔ حقیقت کے ڈور کوکیسے تلاش کریں ؟جھوٹ اور حقیقت کو الگ کرنامیرےلئے جاں کا روگ بن جاتا ہے۔ کاش ! میری بس میں ہوتا تو ماضی کے تلخیوں کو شیرنی بنا کر پیش کرتا۔
جب دھندچھٹ جاتی ہے کیا دیکھتاہوں 1860 کا زمانہ ہے جب "گوہر امان "اپنی عظیم سلطنت کے23 سال دبدبےکے بعد51 سال میں مرگ مفاجات کےبعد طاوس میں تدفین کر دیتے ہیں۔اس عظیم راجہ جس نے ڈوگرہ حکومت کےطاقت اور غرور کو کچھل کے رکھ دیا تھا ڈوگرہ راجداہنی خوش ہوتے ہیں اس سے بھی زیادہ شادیانے وہ نام نہاد مقامی راجے مناتے ہیں جو جاگیروں کی لالچ اورایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے لیے موقع کی تلاش میں تھے۔ اور ان لوگوں کی خوشی کی انتہا نہیں رہتی ہے، جو گوہر امان کے ستائے ہوئے تھے۔اپنے پرانے زخموں کا حساب برابر کرنے کا اس سے اچھاوقت پھر ہاتھ آنا نامکن تھا ۔ مہاراجہ کشمیر رنبیر سنگھ کے دربار میں ،واہ گرو۔ جو بولے سو نہال، کے نعرے لگانےوالوں کے باچھیں کھل جاتی ہے۔ قسمت کی دیوی ان پہ مہرباں ہوتی ہے۔کچھ مقامی راجے عسی بہادر، عظمت شاہ ،(جو سوات میں پناہ لے چکےتھے) وزیر سلطان سئی کے ساتھ تحائف سے لدھے پھندے مہاراجہ کشمیر کے قدموں میں گرنے کے بعد اسے گوہر امان کے چھینے ہوئے جاگیروں کو واپس لینے اور دل کا بڑھاس نکالنے پر قائل کرنے میں تین مہینے لگا لیتےہیں
زورآور سنگھ کی قیادت عسی بہادر، عظمت شاہ۔عبدلصمد خان، وزیر روزی خان ، سیف علی 4000 کالشکر لیکر ایک مہنےتک استور میں پڑاو ڈالتےہیں۔ جب حالات سازگار ہوتے ہی بدلےکی اگ میں جلتے ہوئے بونجی سےمزید کمک ساتھ شامل کرکے گلگت پہنچ جاتے ہیں یہاں سے11000 فوج جنرل ہوشیار اور کرنل دیوی سنگھ کی سربراہی میں راستےمیں آنے والے علاقوں کو روندتے ، دعوت سمرقند اڑاتے ہوے یاسین کی وادی میں پنچ جاتے ہیں۔ اس زمانے میں۔ یاسین کی تخت پہ ملک امان (ماتم تھم) براجمان تھے بھاری لشکر کاسن کے یہ اپنے قریبی اہلوعیال کو لیکر چترال کی جانب چلے جاتے ہیں اوریاسین کے ہزاروں بےیاروں مددگار لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ تب قلعہ کی کمان "راجہ دریمان" اور" مہری بیگل" سنبھال لیتے ہیں
قلعے کو دیکھ کر اور ملک امان کی فرار سن کر دشمن بے بس ہو جاتے ہیں کچھ دن محاصرہ کر لینے کے بعد ان کو کچھ آستین کے سانپ مل جاتے ہیں اور کچھ خاص بندوں کو لالچ دیکر رام کر دیتے ہیں۔
پہلی دفعہ میں نے ارسالہ خان ،نوروز اورعبدالللہ جیسے کرداروں کو قریب سے دیکھا، جن کو مستقبل کی سہانی خواب دکھائے جا رہے ہیں۔جو قلعے تک لے جانے خوفیہ راستوں سے واقف تھے۔زمین دوز پانی کے سرنگ ان کی نشاندھی پہ قبضہ کر لیا جاتا ہے۔یہاں سے ہی قیامت صغرا شروع ہوجاتی یے میں نے دیکھا
دروازہ ان کی سازش سے سے کھول دیا جاتا ہے
اپنوں کے ساتھ متحدہ فوج قلعے میں پنچ جاتی ہے
دروازے پہ سپ سے پہلےبسپائےقوم کے:"مس نامی جوان اپنی سر کو دھرتی پہ قربان کر دیتا ہے۔
مجھے زیرک جنگجو اور سپہ سالار "راجہ دوریمان"
اپنے دو بیٹوں کے ساتھ بڑی بہادری سے لڑتے جام شہادت نوش کرتے دیکھائی دیتے ہیں، میں کھبی نہ ہارنے والا نامور تلوار باز اور پہلوان "مہری بیگل" کو موت کے ہاتھوں ہارتے ہوئے دیکھتا ہوں اس کے سر کٹی جسد خاکی زمین پر پڑی ہے اور سر کاٹ کر مہاراجہ کشمیر کے دربار کے لئے رکھا جاتا ہے زخموں سے نڈھال ہو کر گرنےوالےمجھےمشوقے فیملی کےبہادربیگ اور انکے بیٹے نظر آجاتے ہیں، قریب ہی قرابیگےقوم کے دو عظیم جنگجو درمن اور شرمن بے جگری سے لڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں
میں آگے بڑھتا ہوں ہو کیا دیکھتا ہوں ہوں میرزمان اور میروایل شریفی بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے ایک اپنی ٹانگ سے محروم ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری ہے دوسرا اپنی جان کو اسی مٹی کے حوالے کر دیتا ہے
میں مغربی کنارے کی طرف بڑھتا ہوں ہو مجھے محسن علی خان شامون، مالا بپ،دوح بیگ شامون اپنے رفقاء کے ساتھ جان دیتے نظرآتے مجھے ایک جگہ" اپنی بھائیوں کے قربانی کے بعد شاہ زالم خان'' کو گرفتار ہوتےہوئے دیکھتا ہوں مجھے فوکن قوم اور خیبرے قوم کے جانباز اپنی جانوں کو مٹی پہ قربان کرتے دیکھائی دیتے ہیں۔
میں دبے پاوں عظمت شاہ کے ان حامیوں کے پاس پہنچ جاتا یوں جن کے ٹوپیوں میں مخصوص گھاس(بوڈالنگ) لگائےاس قتل وغارت کے درمیان ہاتھ پہ ہاتھ دہرے لطف اٹھا ریے ہیں لیکن کسی میں "حر" بنے کی جرات نہیں ہے ۔میں سوچ کے ان کے آگے سے نکلتا ہوں اگر یہ بغاوت میں کامیاب ہوتے ہیں تو تاریخ انہیں انقلابی، اگر ناکام ہوتے ہیں تو انھیں غدار کے لقب سے دنیا یاد کریں گی۔
ایک جگہ میری نظر" شرباز" شاہ بارگاہ" پہ پڑتی ہے جو دشمن پہ قہر بن نازل ہو رہے ہیں۔جب دوریمان شہد ہوجاتے ہے یہ اکیلے گھمسان کی جنگ کے دوران اس کی لاش کو سلطان آباد پنچا دیتے ہیں تاکہ لاش کی بے حرمتی کی نوبت ہی نہ ائے۔
قلعے میں 80 جنگجو ایک ایک ہو کے گیت گاتے ہوئے راہ عدم پہ چلے جاتے ہیں۔تب قتل عام اور لوٹ مار شروع ہو جاتی ہے ۔میرے بدن پر چیونٹے رینگنے لگے میری آنکھیں وہ منظر بھی دیکھی جب خزاں رسیدہ اور صاحب فراموش لوگوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ ان مرمری ہاتھوں کو دیکھتا ہوں جن میں رسیاں ڈال دی گئی ہیں۔ دور نازبر کے سنگلاخ پہاڑوں کو دیکھتے ہوئےخوف سے بھر ے ان جھیل جیسے انکھوں کو دیکھتا ہوں جو کہ آس لگائے بیٹھے ہیں شاید ملک امان کمک لیکر واپس اجائے ۔
ان معصوم بچےجن کے عمریں کھیلنے کی ہیں ۔ان کے ساتھ موت کی بےرحمانہ کھیل کھیلا جا رہا ہے چند ماہ کے ان مسکراتےہوئےمعصوم بچوں کو میری نظروں کے سامنے ہی ہوا میں اچھالا جاتا دوسرے ہی لمحے دردناک چیخ کے ساتھ ان کے جسم دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔اپنوں کو شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کر تے دیکھ کر افسوس کے سوامیں کر بھی کیا سکتا تھا ۔ دریاے قرقرتی اور اسمبر کی جانب حسرت سے دیکھتے پیاس سے بلکتے ہوئےوہ مرجھائےخشک ہونٹوں پہ ایک عجیب سی بےبسی اور تشنگی مچل رہی ہے۔
دور افق کو دیکھتے ہوئے ان خوبرو دوشزوں کی جھرمٹ پہ نظر پڑتی ہے جن کے نگاہوں میں موت کے سائے بالکل عیاں ہیں ،ان کےٹمٹماٹے ارمانوں کے پرخچے اڑتے دکھائی دے رہی ہیں تھوئی کے برف پوش پہاڑوں کو تکنے والے وہ اداس انکھیں دیکھتا ہوں جو کسی مسیحا کے منتظر ہیں
پھول جیسے بچوں کے دو ٹکڑے ہوئے لاشوں پہ نظر پڑتی ہے تو واقعی مجھے یقین ہوجاتا ہے کہ زندگی دو دن کی ہے میں ان بزرگ خواتین کو دیکھتا ہوں جن کی سفید بال خون اورمٹی سے لٹھڑے ہوئے ہیں
اپنی عصمت کی خاطر اس پہاڑی سے کودتے ہوے وہ شہزادیاں بھی دیکھتا ہوں؛ جن کی اخری چیخ کسی کھائی سے سنائی دیتی ہیں ۔میں چٹان سے نیچے جھانکتا ہوں، نیچےلاشیں ہی لاشیں پڑی ہیں ۔مجھے چٹانوں میں پھنسے ہوئے، وہ زخمی ،بھی نظر آتے ہیں ہے جو امداد کے لیے آواز بلند کرتے ہیں
مجھے نشیب کی جانب فٹ بال کی طرح لڑھکتے ہوئے وہ انسانی سر نظر آتے ہیں جو پتھروں اور جھاڑیوں میں اوجھل ہو جاتے ہیں ۔میں بہت کچھ دیکھتاہوں:- بن کھلے مرجھائے ہوئے کلیاں, دعاکے لئے اٹھے وہ کانپتے ہوے ضعیف ہاتھ؛امیدوں کے بجھتے ہوئے چراغ ؛ خون کے جھرنے؛سورج کی تپش،لوٹتے ہوئے ارمانوں کے نخلستان ،ٹوٹتے ہوئے سپنے۔زمین دوز ہوتے دیوار یں، جلتے ہوے گھر ۔دریاے فرات کی طرح بہتے ہوئے دریا اور اس دریا کے لئے پیاس سےمچلتے ہوئے لب، مجھ میں اور کچھ دیکھنے کی ہمت ختم ہو جاتی ہے ۔
خون اور مٹی سے لت پت لاشوں کے بیچ میں ایک پھتر کےسہارے بیھٹتا ہوں۔ میرے سامنے ایک ماں اپنےبچے کی اخری دیدار کررہی ہے، کچھ دور دو ننگے بچےایک لاش کے پاس رو رہے ہیں ۔برابر میں ایک لرز تےضعیف شخص کلمہ کے بعد آخری ہچکی لیتا ہے اور جسم یک دم ٹھنڈا پڑ جاتا ہے
میں آنکھیں موند لیتا ہوں، میری آنکھوں سے آنسو رواں ہیں۔ مجھے:- راجہ گوہر امان ،بدنگ اور بوڑل ہلبی، حکیم بالی، سوبہ بپ ،میر سعدی زوندرے، فوکن بپ ،راجہ اکبرامان، ابولحسن، محمد ظفر خان اور سربلند خان بیگل، راجہ سلیمان شاہ،خلیفہ شاہ بلاول ، شاہ مرکل ،بسپائےقوم کے چن ،تغزی کوچک ،حیات الللہ؛ مشقولی خان بیگل، عبادی ناصر، تجمل اتلیغ شین فمیلی قرقلتی کے چوشو بپ، بٹو باپ، أروک خان بہت یاد آئے
وہ زندہ ہوتےآج جنگ کا منظر ہی کچھہ اور ہوتا ۔مجھے حکیم رحمت الللہ اور محبی حکیم کی کمی شدت سے محسوس ہوئی۔ اور تاریخ کے وہ تمام گمنام سورمااور سرفروش یاد آئے جو تاریک راہوں میں مارے گئے لیکن ان کے نام بھی بےرحم تاریخ کے اوراق سے مٹ چکے ہیں
یاسین سے ایک ہفتہ خون کا دریا بہانے کے بعد 23ستمبر 1863سہ پہر کے وقت اڑتی دھویں کے بادلوں سے مجھے احساس ابھی قلعے میں قتل کرنے کے لیے کچھ نہیں بچا ہوگا1800کے قریب مردوزن کے شکار کے بعدغنیم تھک چکے ہونگے۔یا دل کا بڑھاس پورا ہوا ہوگا دھویں کے بادل زخمیوں کے کراہنے کی صدائیں ،قیدیوں کی آہیں ،اڑتی ہوئی دھول میں مال غنیمت ڈھور ڈنگر قلعے کی سونا زیورات غلے،مردوں کے علاوہ دوسو حسین "دوشیزوں "کو لاٹھیوں سے ھانکتے ہوےراستے میں آنے والے گھروں کوجلاتے ہوئے "یاسین شوارن," پنچا دیتے ہیں عجیب سما یے ایک جانب جشن ،دوسری جانب ماتم رات کی تاریکی میں کچھ بھاگ جاتے ہیں کچھہ اپنی جان دریائے نچھلوغ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی مال غنیمت کی تقسیم اور کنواری لڑکیوں کو قربانی کےجانور کی طرح ہر کوئی ٹٹول ٹٹول کے منتخب کر لیتا ہے۔ میں اپنے آپ کو ملامت کرنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکا۔میں چیخ چیخ کے کچھ بتانا چاہتا ہوں مگر نقار خانے میں طوطے کی کون سنتا ہے۔ عسیٰ بہادر نے درجن کے قریب لڑکیوں کو الگ کیا ۔ جنرل ہوشیارہ سنگھ، دیوی سنگھ وزیر روزی خان، عبدل صمت خان نے بھی چن چن کےلڑکیوں کو اٹھائے کر شرعی اور غیر شرعی طور پر اپنے ساتھ رکھ لئں۔ قافلعہ آگے بڑھتی اور پہلی پڑاؤ کر لیتی ہےیہاں تک پہنچتے پہنچتے اٹھارہ دوشزے کھائیوں اور دریائے یاسین میں کود کر اپنی جان دیتی ہیں یہ سلسلہ سری نگر تک جاری رہتی ہے۔ البتہ راستےمیں کچھ گوروں کے دل کو بھاتی ہیں یوں "تشبولی" نامی لڑکی ہلن بن جاتی ہے مرگست کا نام ہیری رکھا جاتا ہے باقی سرعام فروخت کی جاتی ہیں چند سرداروں کی قسمت میں اگے جو جورمس سے جورکور چنبیلی سے چمی کور ، قسمت کور، شمشر کور اور بعض کی مقدر میں کوٹھے کی زینت بنی تھی
میں واپس یاسین پنچ جاتا ہوں عجیب سما ہے لاشیں بےگوروکفن پڑی ہیں تدفین کے لئے کوئی نہیں بچا تھا تھوئی،یاسین ،نازبر سندھی غوجلتی ویران ہو چکے ہیں عظمت شاہ جسے یاسین کا حکمران بنایا تھا وہ بھی مایوس ہوکر جاگیر کو ترجیح دیتا ہے
مجھے حیرت تب ہوئی جب اپریل میں کھیتی باڑی کے لیے بیچ اور جانور یاسین کے ان گاؤں جو محفوظ تھے
سے لانے کی بجائے پھنڈر ،بروغل اور چترال سے لے آئے۔
7 سال بعد بعد جب زندگی معمول پہ آتی ہے میرولی ڈوگروں کی حمایت سے یاسین پہ براجمان ہے
کرنل جارج ہیورڈ جب ان کھنڈرات پہ پنچ جاتے ہیں
میں بھی تیزی سے پسینےمیں شرابور اوپر پنچ جاتا ہوں کیا دیکھتا ہوں اس پہ کپکپی طاری ہے کہ پوری پہاڑی انسانی ہڈیوں سے سفید ہوچکی ہے۔ وہ اپنےہاتھ سے
147 انسانی کھوپڑیاں 💀 گنتا ہے ،جو صرف خواتین اور بچوں کے ہیں۔پہلی بار کسی کافر کے آنکھوں سے گرتے ہوئے موتی دیکھتا ہوں۔ ایک آہ کے ساتھ وہ اسے انسانیت کی تاریخ کا شرم ناک واقعہ قرار دیتا ہے۔ وہ سندی کے ان اعضاءِ سے محروم بچوں ،خواتین سے ملتا ہے جو اس جنگ میں معجزانہ طور پر بچ چکے تھے وہ کچھ نوٹ کر لیتے ہیں۔ کلکتہ اخبار" pioneer "میں اس واقعہ پہ کالم لکھ دیتا ہے جس سے انگریز اور خالصہ سرکار میں ہلچل مچ جاتی ہے،اور اسی سچ لکھنےپہ میر والی کے ہاتھوں 1870 میں ان بے گناہ لوگوں پہ آواز اٹھانے کی پاداش میں درکوت میں اپنی جان بھی قربان کر دیتا ہیورڈ کے جانے کے بعد میں بڑی دیر تک خلا کو دیکھتا رہا میں سوچ رہا تھا
بےشک اقتدار کے لئے اس دور میں بھائی نے بھائی کو نہیں بخشا۔ باپ نے بیٹے کو، اور بیٹے نے باپ کا سر قلم کر دیا تھا "مہاتما بدھا "نے اس لئے کہا تھا کہ٫٫ ساتھ سمندروں سے زیادہ انسان نے انسو بہائے ہیں؛؛ ۔ مگر جنگ کے بھی اداب ہوتے ہیں( جی ۔بی )دور کی بات دنیا کے چند واقعات مثلا واقعہ "کربلا "ہو یا "ہالوکاسٹ"، کے بعد یہ واقعہ تاریخ بنی نوع میں انسانیت کے چہرے پہ بدنما داغ ہیں۔
ایک اوارہ بکری کی وجہ سے میں تخیل کی دنیا سے واپس حقیقت کی دنیا میں آیا ہوں میرے سامنے وہی پہاڈی ہے جو بنجر پڑی ہے۔ اس پہاڈی کے چاروں جانب انسان کے ہاتھ جہاں تک پہنچ سکتے ہیں قبضہ کر چکے۔ ہوسکتا ہے کچھ عشرے بعد بےہنگم قبرستان بنا دے کچھ عجب نہیں اس چوٹی کےاوپربھی مویشی خانے بن جائیں ۔
دھوپ ڈھلنے کے ساتھ شام کی بڑھتی اداسی ہر سو پھیل رہی ہے اور میں بوجھل قدموں کے ساتھ اس پہاڈی سے اس امید اور سوچ کے ساتھ اترتا ہوں۔ دوسروں کی برسی میں عبدالللہ دیوانہ تو بہت بنے اس سال ان مرحومین کی157وی برسی کیوں نہ منا ئیں ۔کوئی ساتھ دیں یا نہ دیں ہم خود دو چراغ اور فاتحہ پڑھنے کا حق ادا کرینگے۔

Photos 08/01/2022

Snow man challenge 😍

Heavy snow fall in yaseen valley.Enjoyable moment for people.

26/12/2021

فخر گلگت بلتستان فخر غذر فخر یاسین

Want your business to be the top-listed Government Service in Gilgit?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Address

District Ghizer
Gilgit
5100