19/07/2026
وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کے زیر صدارت گلگت بلتستان ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ہنزل ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی صلاحیت 20 میگاواٹ سے بڑھا کر 40 میگاواٹ کرنے کی سفارش کی گئی۔ فورم میں پیش کیے جانے والے ریوائزڈ (ترمیم شدہ) پی سی ون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد اسے ضروری ترامیم کے ساتھ منظور کرتے ہوئے CDWP بھیجنے کی سفارش کر دی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہنزل پاور پروجیکٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، لہٰذا ریوائزڈ پی سی ون کی منظوری اور سائیٹ پر عملی کام کا آغاز آئندہ 2 ماہ میں یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہاکہ مفاد عامہ کے منصوبے مقررہ مدت میں مکمل نہیں ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ عوام بھی ان سے مستفید نہیں ہو پاتے۔ حکومت کو مفادِ عامہ، خصوصاً بجلی کے منصوبوں کے حوالے سے اپنی پالیسی سخت کرنے کی ضرورت ہے۔ مقررہ ٹائم لائنز کے مطابق منصوبوں کی بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس معاملے میں کسی قسم کی کوتاہی یا نااہلی برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہنزل پاور پروجیکٹ گلگت میں بجلی کے بحران کو کم کرنے کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اس منصوبے کو 2024 میں مکمل ہونا تھا لیکن اب تک اس پر کوئی خاص پیشرفت نہیں ہو سکی۔ اگر آئندہ 2 ماہ میں اس منصوبے کی متعلقہ فورم سے منظوری لے کر عملی کام شروع نہ کیا گیا، تو اس پر نظرثانی کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ کسی بھی منصوبے میں متعلقہ اتھارٹی کی منظوری کے بغیر کام کرنا غیر قانونی ہے، اور ایسا کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، سیکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، سیکریٹری برقیات، پروجیکٹ ڈائریکٹر ہنزل پاور پروجیکٹ، NESPAK کا نمائندہ اور محکمہ پلاننگ کے متعلقہ آفیسران نے شرکت کی۔
Amjad Hussain Advocate