Mudassar Ali Sindhu

Mudassar Ali Sindhu

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mudassar Ali Sindhu, Social service, Gujranwala.

21/10/2024
14/10/2022

انقلاب کا راستہ کون روک سکتا؟

13/10/2022

جو روٹی چرائے اُسے سُولی پہ چڑھا دو
جو ملک لُوٹے اُسے کُرسی پہ بٹھا دو....

اگر پاکستان میں احتساب و انصاف صرف غریب کا ہی ہونا ہے
تو بند کردیں ایسے ادارے جو غریب پاکستانی عوام کا پیسہ اور وقت ضائع کر رہے ہیں۔

23/11/2019

؟
___________________________

کافی عرصہ کی بات ہے کہ جب میں لیاقت میڈیکل کا لج جامشورو میں سروس کررہا تھا تو وہاں لڑکوں نے سیرت انبیۖ کانفرس منعقد کرائی اورتمام اساتذہ کرام کو مدعو کیا ۔

چنانچہ میں نے ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو ( جو ہڈی جوڑ کے ماہر تھے) کے ہمراہ اس کانفرنس میں شرکت کی۔ اس نشست میں اسلامیات کے ایک لیکچرار نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی پرائیویٹ زندگی پر مفصل بیان کیا اور آپ کی ایک ایک شادی کی تفصیل بتائی کہ یہ شادی کیوں کی اور اس سے امت کو کیا فائدہ ھوا۔

یہ بیان اتنا موثر تھا کہ حاضرین مجلس نے اس کو بہت سراہا ۔ کانفرس کے اختتام پر ہم دونوں جب جامشورو سے حیدر آباد بذریعہ کار آرہے تھے تو ڈاکٹر عنایت اللہ جوکھیو نے عجیب بات کی...

اس نے کہا کہ ۔۔۔۔۔۔ آج رات میں دوبارہ مسلمان ھوا ھوں ۔۔۔۔۔
میں نے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ آٹھ سال قبل جب وہ FRCS کے لیے انگلستان گئے تو کراچی سے انگلستان کا سفر کافی لمبا تھا ، ہوائی جہاز میں ایک ائیر ہوسٹس میرے ساتھ آ کر بیٹھ گئی ۔

ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی کے بعد اس عورت نے مجھ سے پو چھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے؟
میں نے بتایا، اسلام ۔ ہمارے نبی ﷺ کا نام پوچھا، میں نے حضرت محمد ﷺ بتایا ، پھر اس لڑکی نے سوال کیا کہ کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے نبی ﷺ نے گیارہ شادیاں کی تھیں؟

میں نے لاعلمی ظاہر کی تو اس لڑکی نے کہا یہ بات حق اور سچ ہے ۔ اس کے بعد اس لڑکی نے حضور ﷺکے بارے میں (معاذاللہ ) نفسانی خواہشات کے غلبے کے علاوہ دو تین دیگر الزامات لگائے، جس کے سننے کے بعدمیرے دل میں (نعوذ بااللہ) حضور ﷺکے بارے میں نفرت پیدا ہوگئی اور جب میں لندن کے ہوائی اڈے پر اترا تو میں مسلمان نہیں تھا۔

آٹھ سال انگلستان میں قیام کے دوران میں کسی مسلمان کو نہیں ملتا تھا، حتیٰ کہ عید کی نماز تک میں نے ترک کر دی۔ اتوار کو میں گرجوں میں جاتا اور وہاں کے مسلمان مجھے عیسائی کہتے تھے۔

جب میں آٹھ سال بعد واپس پاکستان آیا تو ہڈی جوڑ کا ماہر بن کر لیاقت میڈیکل کالج میں کام شروع کیا ۔ یہاں بھی میری وہی عادت رہی ۔ آج رات اس لیکچرار کا بیان سن کر میرا دل صاف ہو گیا اور میں نے پھر سے کلمہ پڑھا ہے۔

غور کیجئے ایک عورت کے چند کلمات نے مسلمان کو کتنا گمراہ کیا اور اگر آج ڈاکٹر عنایت اللہ کا یہ بیان نہ سنتا تو پتہ نہیں میرا کیا بنتا؟

اس کی وجہ ہم مسلمانوں کی کم علمی ہے۔ ہم حضور ﷺکی زندگی کے متعلق نہ پڑھتے ہیں اور نہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں ۔
کئی میٹنگز میں جب کوئی ایسی بات کرتا ہے تو مسلمان کوئی جواب نہیں دیتے، ٹال دیتے ہیں۔ جس سے اعتراض کرنے والوں کےحوصلے بلند ہوجا تے ہیں ۔

اس لئیے بہت اہم ہے کہ ہم اس موضوع کا مطالعہ کریں اور موقع پر حقیقت لوگوں کو بتائیں ۔

میں ایک دفعہ بہاولپور سے ملتان بذریعہ بس سفر کر رہا تھا کہ ایک آدمی لوگو ں کو حضور ﷺکی شادیوں کے بارے میں گمراہ کر رہا تھا۔ میں نے اس سے بات شروع کی تو وہ چپ ہوگیا اور باقی لوگ بھی ادھر ادھر ہوگئے۔

لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کی خاطر جانیں قربان کی ہیں۔ کیا ہما رے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم اس موضوع کے چیدہ چیدہ نکات کو یاد کر لیں اور موقع پر لو گو ں کو بتائیں ۔

اس بات کا احساس مجھے ایک دوست ڈاکٹر نے دلایا جو انگلستان میں ہوتے ہیں اور یہاں ایک جماعت کے ساتھ آئے تھے ۔ انگلستان میں ڈاکٹر صاحب کے کافی دوست دوسرے مذاہب سے تعلق رکھتے تھے ، وہ ان کو اس موضوع پر صحیح معلومات فراہم کرتے رہتے ہیں ۔

انہوں نے چیدہ چیدہ نکات بتائے، جو میں پیش خدمت کررہا ہو ں۔ اتوار کے دن ڈاکٹر صاحب اپنے دوستو ں کے ذریعے ” گرجا گھر“ چلے جا تے ہیں ، وہاں اپنا تعارف اور نبی کریم ﷺکا تعارف کراتے ہیں ۔ عیسائی لوگ خاص کر مستورات آپ کی شا دیوں پر اعتراض کرتی ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب جو جوابات دیتے وہ مندرجہ ذیل ہیں:

◀ (1) میرے پیا رے نبی ﷺ نے عالم شباب میں (25 سال کی عمر میں) ایک سن رسیدہ بیوہ خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی عمر 40 سال تھی اور جب تک حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ زندہ رہیں آپ نے دوسری شادی نہیں کی۔
50 سال کی عمر تک آپ نے ایک بیوی پر قناعت کیا ۔ (اگر کسی شخص میں نفسانی خواہشات کا غلبہ ہو تو وہ عالم ِ شباب کے 25 سال ایک بیوہ خاتون کے ساتھ گزارنے پر اکتفا نہیں کرتا ) حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کی وفا ت کے بعد مختلف وجوہات کی بناء پر آپ ﷺنے نکا ح کئے ۔

پھر اسی مجمع سے ڈاکٹر صاحب نے سوال پوچھا کہ یہاں بہت سے نوجوان بیٹھے ہیں ...... آپ میں سے کون جوان ہے جو 40 سال کی بیوہ سے شادی کرے گا....؟
سب خاموش رھے ۔ ڈاکٹر صاحب نے ان کو بتایا کہ نبی کریم ﷺنے یہ کیا ہے ، پھر ڈاکٹر صاحب نے سب کو بتایا کہ جو گیارہ شادیاں آپ ﷺنے کی ہیں سوائے ایک کے، باقی سب بیوگان تھیں ۔ یہ سن کر سب حیران ہوئے ۔

پھر مجمع کو بتایا کہ جنگ اُحد میں ستر صحابہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ۔ نصف سے زیادہ گھرانے بے آسرا ہوگئے ، بیوگان اور یتیموں کا کوئی سہارا نہ رہا۔
اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے نبی کریم ﷺنے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو بیوگان سے شادی کرنے کو کہا ، لوگوں کو تر غیب دینے کے لئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے

◀ (2) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا

◀ (3) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور

◀ (4)حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہ سے مختلف اوقات میں نکاح کئے ۔ آپ کو دیکھا دیکھی صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے بیوگان سے شادیاں کیں جس کی وجہ سے بے آسرا خواتین کے گھر آباد ہوگئے -

◀ (5) عربوں میں کثرت ازواج کا رواج تھا۔ دوسرے شادی کے ذریعے قبائل کو قریب لانا اور اسلام کے فروغ کا مقصد آپ ﷺ کے پیش,نظر تھا۔

ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ عربو ں میں دستور تھا کہ جو شخص ان کا داماد بن جاتا اس کے خلاف جنگ کرنا اپنی عزت کے خلاف سمجھتے۔

ابوسفیان رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے حضور ﷺکے شدید ترین مخالف تھے ۔ مگر جب ان کی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہ سے حضور ﷺکا نکاح ہوا تو یہ دشمنی کم ہو گئی۔ ہوا یہ کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا شروع میں مسلمان ہو کر اپنے مسلمان شوہر کے ساتھ حبشہ ہجر ت کر گئیں ، وہاں ان کا خاوند نصرانی ہو گیا ۔

حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے اس سے علیحدگی اختیار کی اور بہت مشکلات سے گھر پہنچیں ۔ حضور ﷺ نے ان کی دل جوئی فرمائی اور بادشاہ حبشہ کے ذریعے ان سے نکاح کیا.

◀ (6) حضرت جویریہ رضی اللہ عنہ کا والد قبیلہ معطلق کا سردار تھا۔ یہ قبیلہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان رہتا تھا ۔ حضور ﷺ نے اس قبیلہ سے جہاد کیا ، ان کا سردار مارا گیا ۔

حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا قید ہوکر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورہ کر کے سر دار کی بیٹی کا نکاح حضور ﷺ سے کر دیا اور اس نکاح کی برکت سے اس قبیلہ کے سو گھرانے آزاد ہوئے اور سب مسلمان ہو گئے ۔

◀ (7) خیبر کی لڑائی میں یہودی سردار کی بیٹی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا قید ہو کر ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے مشورے سے ا ن کا نکاح حضور اکرم ﷺ سے کرا دیا ۔

◀ (8) اسی طر ح میمونہ رضی الله عنہا سے نکاح کی وجہ سے نجد کے علاقہ میں اسلام پھیلا ۔ ان شادیوں کا مقصد یہ بھی تھا کہ لوگ حضور ﷺکے قریب آسکیں ، اخلاقِ نبی کا مشاہدہ کر سکیں تاکہ انہیں راہ ہدایت نصیب ہو ۔

◀ (9) حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا سے نکاح بھی اسی سلسلہ کی کڑی تھا۔ آپ پہلے مسیحی تھیں اور ان کا تعلق ایک شاہی خاندان سے تھا۔ ان کو بازنطینی بادشاہ شاہ مقوقس نے بطور ہدیہ کے آپ ﷺکی خدمت اقدس میں بھیجا تھا۔

◀ (10) حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے نکاح متبنی کی رسم توڑنے کے لیے کیا ۔ حضرت زید رضی الله عنہ حضور ﷺ کے متبنی(منہ بولے بیٹے) کہلائے تھے، ان کا نکاح حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے ہوا ۔ مناسبت نہ ہونے پر حضرت زید رضی الله عنہ نے انہیں طلاق دے دی تو حضور ﷺنے نکاح کر لیا اور ثابت کردیا کہ متبنی ہرگز حقیقی بیٹے کے ذیل میں نہیں آتا.

◀ (11) اپنا کلام جاری رکھتے ہوئے ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ علوم اسلامیہ کا سرچشمہ قرآنِ پاک اور حضور اقدس ﷺ کی سیرت پاک ہے۔
آپ ﷺکی سیرت پاک کا ہر ایک پہلو محفوظ کرنے کے لیے مردوں میں خاص کر اصحاب ِ صفہ رضی الله عنہم نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ عورتوں میں اس کام کے لئیے ایک جماعت کی ضرورت تھی۔

ایک صحابیہ سے کام کرنا مشکل تھا ۔ اس کام کی تکمیل کے لئیے آپ ﷺنے کئی نکاح کیے ۔ آپ نے حکما ً ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا تھا کہ ہر اس بات کو نوٹ کریں جو رات کے اندھیرے میں دیکھیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو بہت ذہین، زیرک اور فہیم تھیں، حضور ﷺ نے نسوانی احکام و مسائل کے متعلق آپ کو خاص طور پر تعلیم دی ۔

حضور اقدس ﷺکیوفات کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا 45 سال تک زندہ رہیں اور 2210 احادیث آپ رضی اللہ عنہا سے مروی ہیں ۔
صحابہ کرام رضی اللہ علیہم اجمعین فرما تے ہیں کہ جب کسی مسئلے میں شک ہوتا ہے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوتا ۔
اسی طرح حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات کی تعداد 368 ہے ۔
ان حالا ت سے ظاہر ہوا کہ ازدواجِ مطہرات رضی اللہ عنہما کے گھر، عورتوں کی دینی درسگاہیں تھیں کیونکہ یہ تعلیم قیامت تک کے لئیے تھیں اور سار ی دنیا کے لیے تھیں اور ذرائع ابلاغ محدود تھے، اس لیے کتنا جانفشانی سے یہ کام کیا گیا ہو گا، اس کا اندازہ آج نہیں لگایا جاسکتا۔

آخر میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ یہ مذکورہ بالا بیان میں گرجوں میں لوگوں کو سناتا ہوں اور وہ سنتے ہیں ۔ باقی ہدایت دینا تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ۔
اگر پڑھے لکھے مسلمان ان نکات کو یاد کرلیں اور کوئی بدبخت حضور ﷺکی ذات پر حملہ کرے تو ہم سب اس کا دفاع کریں ۔

*🌹جزا الله عنا سيدنا محمد ﷺما هوا اهله🌹*

اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے اور عمل کرنے والا بنائے ۔ (آمین )

مہربانی فرما کر اس پوسٹ شیئر کیجئے!!

11/07/2018

Docomentry about PMLn Manister Khurram Dastgir Khan... must watch

11/07/2018

Docomentry about PMLn Manister Khurram Dastgir Khan... must watch

23/05/2018

آپ کا تعلق کسی بھی پارٹی سے ہو، کسی بھی برادری سے ہو، لیکن کیا آپکو اپنی سیاست کیلئے ختم نبوت، ملک سے غدداری اور ڈاکہ قبول ہے؟ اگر ہے تو بے شک ن لیگ کو ووٹ دیں، اور اگر نہیں تو ہر ن لیگی سے یہ تین سوال ضرور کریں۔ ٹیک کریں، واٹس ایپ پر شیئر کریں اور جواب طلب کریں۔

25/12/2017

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے قبلہ اول کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی غلطی کی طرف بعد میں آئیں گے‘
ہم پہلے ماضی کی طرف جائیں گے۔
یہودیوں کی مقدس کتاب تلمود
(کتاب ہدایات)
کے مطابق دنیا کا یہ فیز چھ ہزار سال پر محیط ہے‘
یہودی سال ستمبر میں شروع ہوتا ہے‘
2017ء کے 21 ستمبر کو یہودیوں کے کیلنڈر نے 5778 سال پورے کر لئے‘
یہودی عقیدے کے مطابق دنیا کے خاتمے میں اب صرف 222 سال باقی ہیں‘
یہ دنیا 222 سال بعد مکمل طور پر فنا ہو جائے گی‘
یہودیوں نے قیامت سے قبل دو اہم کام کرنے ہیں‘
تابوت سکینہ کی تلاش
اور
ہیکل سلیمانی کی تعمیر۔
یہ کہانی حضرت ابراہیم ؑ سے شروع ہوتی ہے‘
حضرت ابراہیم ؑ چالیس سال حضرت اسماعیل ؑ کے پاس مکہ مکرمہ میں رہائش پذیر رہے‘
آپؑ نے خانہ کعبہ تعمیر کیا
اور
آپؑ وآپس فلسطین تشریف لے گئے‘
آپؑ نے وہاں اللہ تعالیٰ کا دوسرا گھر بیت المقدس تعمیر فرمایا‘
خانہ کعبہ اور بیت المقدس کی تعمیر کے درمیان چالیس سال کا فرق تھا‘
حضرت ابراہیم ؑ نے فلسطین میں انتقال فرمایا‘
آپ کا روضہ مبارک یوروشلم کے مضافات میں ہے‘
یہ علاقہ حضرت ابرہیم ؑ کی مناسبت سے ہیبرون یا الخلیل کہلاتا ہے‘
حضرت اسحاق ؑ اور حضرت یعقوب ؑ کے مزارات بھی حضرت ابراہیم ؑ کے ساتھ موجود ہیں‘
بنی اسرائیل حضرت یعقوب ؑ کی اولاد ہیں‘
یہ لوگ قحط کا شکار ہوئے‘
مصر کی طرف نقل مکانی کی‘
فرعون کی غلامی میں گئے‘
سینکڑوں سال ذلت برداشت کی
اور 33سو سال پہلے حضرت موسیٰ ؑ کی معیت میں فلسطین واپس آئے‘
حضرت داؤد ؑ نے ہزار سال قبل مسیح میں یوروشلم فتح کیا
اور اسے اپنی سلطنت ”کنگڈم آف ڈیوڈ“ کا دارالحکومت بنایا‘
حضرت داؤد ؑ نے بیت المقدس کی بنیادوں پر یہودیوں کا عظیم معبد تعمیر کرانا شروع کیا‘
آپ کے بعد حضرت سلیمان ؑ نے یہ تعمیر جاری رکھی‘
حضرت سلیمان ؑ کے پاس حضرت موسیٰ ؑ کا ایک تابوت تھا‘
اس تابوت میں پتھر کی وہ دو تختیاں بھی تھیں
جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ پر کوہ طور پر اتاری تھیں‘
ان تختیوں پر اللہ کے دس احکامات درج تھے‘
تابوت میں حضرت ہارون ؑ کا عصاء اور وہ برتن بھی تھا
جس سے من وسلویٰ نکلتا تھا‘
حضرت سلیمان ؑ نے یہ تابوت اس معبد کی بنیادوں میں چھپا دیا‘
آپؑ کے دور میں بڑے بڑے جادوگر بھی تھے‘
آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر ان تمام جادوگروں کو قتل کر دیا
اور ان کے جادو کے نسخوں کو بھی صندوقوں میں بند کر کے معبد کے نیچے غاروں میں چھپا دیا‘
یہودی حضرت سلیمان ؑ کے معبد کو ہیکل سلیمانی کہتے ہیں‘
یہ ہیکل 586 قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ بخت نصر نے تباہ کر دیا تھا
تاہم اس نے ہیکل سلیمانی کی بیرونی دیوار چھوڑ دی‘
یہودی اس دیوار کو کوتل جبکہ مسلمان دیوار گریہ کہتے ہیں‘
یہودیوں کا خیال ہے حضرت سلیمان ؑ نے تابوت سکینہ اور جادو کے نسخے بیت المقدس کے نیچے غاروں میں چھپائے تھے
چنانچہ یہ لوگ تین ہزار سال سے بیت المقدس کے نیچے غار کھود رہے ہیں‘
یہ بیت المقدس کو گرا کر مستقبل میں ہیکل سلیمانی کو یہاں تک پھیلانا بھی چاہتے ہیں‘
؟
ہم اس کی طرف بھی بعد میں آئیں گے‘
ہم پہلے بیت المقدس میں مسلمانوں کی دلچسپی کا ذکر کریں گے‘
بیت المقدس 11 فروری 624ء تک مسلمانوں کاقبلہ اول تھا‘
نبوت کے دسویں سال رجب کی ستائیسویں شب کو معراج کا واقعہ پیش آیا‘
اللہ تعالیٰ نبی اکرمؐ کو مکہ مکرمہ سے یوروشلم لے کر آیا‘
آپؐ نے قبلہ اول میں انبیاء کرام کی امامت فرمائی‘
آپؐ برآق پر تشریف فرما ہوئے
اور براق آپؐ کو اللہ تعالیٰ کے حضور لے گیا‘
آپؐ بیت المقدس کے صحن سے آسمان پر تشریف لے گئے تھے‘
آج بھی وہاں سات فٹ لمبی‘ چالیس فٹ چوڑی اور چھ فٹ اونچی چٹان موجود ہے‘
یہ چٹان آپؐ کے ساتھ اوپر اٹھ گئی تھی‘
حضرت جبرائیل ؑ نے اس پر ہاتھ رکھ کر اسے دوبارہ زمین سے جوڑ دیا تھا‘
چٹان پر حضرت جبرائیل ؑ کے ہاتھ کا نشان آج تک موجود ہے‘
اموی خلیفہ عبدالملک نے 691ء میں چٹان کے گرد سنہرے رنگ کی عمارت بنا دی‘
یہ عمارت عربی میں قبہ الصخرہ اور انگریزی میں ”ڈوم آف دی راک“ کہلاتی ہے‘
یہ مسلمانوں کے ہاتھوں عرب سے باہر پہلی عمارت تھی‘
یہ عمارت آج پوری دنیا میں یوروشلم کی پہچان ہے‘
یہ سنہری عمارت قبلہ اول نہیں‘
بیت المقدس سنہری عمارت سے ذرا سے فاصلے پر تہہ خانے میں ہے‘
آپ کو وہاں جانے کیلئے سیڑھیاں اترنا پڑتی ہیں‘
سلطان صلاح الدین ایوبی نے آج سے آٹھ سو سال قبل مسجد اقصیٰ کی توسیع کی‘
یہ توسیع اقصیٰ جدید کہلاتی ہے‘ یہودی اس سنہری عمارت اور اقصیٰ جدید کو بھی گرانا چاہتے ہیں‘
یہودیوں کا خیال ہے کہ ہیکل سلیمانی بیت المقدس اور اقصیٰ جدید تک وسیع ہو گا۔
یہودیت‘ عیسائیت اور اسلامی عقائد کے مطابق قیامت سے قبل دجال کا ظہور ہو گا‘
یہودی دجال کو مسیحا کہتے ہیں
جبکہ عیسائی اسے اینٹی کرائسٹ کا نام دیتے ہیں‘
یہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر کے بعد ظاہر ہو گا‘
پوری دنیا کے یہودی اسرائیل میں جمع ہوں گے‘
دجال اسرائیل کو ”کنگڈم آف ڈیوڈ“ ڈکلیئر کرے گا
اور دنیا کو فتح کرنا شروع کر دے گا‘
یہ پوری عیسائی اور مسلمان دنیا کو تباہ وبرباد کر دے گا‘
یہ جنگ چالیس پچاس سال جاری رہے گی‘
دنیا ملبے کا ڈھیر بن جائے گی
یہاں تک کہ دنیا کے قدیم ترین شہر دمشق میں حضرت امام مہدی کا ظہور ہو گا‘
فجر کی نماز سے قبل حضرت عیسیٰ ؑ جامعہ امیہ کے سفید مینار سے اتریں گے‘
یہ حضرت امام مہدی کے پیچھے نماز ادا کریں گے
اور یہ دونوں دجال کے خلاف صف آراء ہو جائیں گے‘ بڑی جنگ ہو گی‘
یہودی اس جنگ کو آرما گیڈن کہتے ہیں‘
اسلامی عقائد کے مطابق مسلمان یہ جنگ جیت جائیں گے‘
فتوحات کے بعد اسلامی ریاست بنے گی‘
حضرت عیسیٰ ؑ 45 سال کی زندگی گزار کر انتقال فرمائیں گے‘ یہ نبی اکرمؐ کے پہلو میں دفن ہوں گے‘
ان کے بعد حضرت مقعد کی حکومت آئے گی‘
حضرت مقعد کے انتقال کے 30 سال بعد
اچانک سینوں سے قرآن مجید اٹھا لیا جائے گا
جس کے بعد قیامت کے آثار شروع ہو جائیں گے
جبکہ یہودی عقائد کے مطابق یہ جنگ دجال جیت جائے گا
جس کے بعد یوروشلم کے مضافات میں جبل الزیتون پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی‘
یہ قیامت کی پہلی نشانی ہو گی‘
جبل الزیتون (ماؤنٹ آف اولیوز) یوروشلم کے مضافات میں ہے‘
یہودی اس پہاڑی پر دفن ہونا اعزاز سمجھتے ہیں‘
یہودی دن میں تین بار اپنے سیناگوگا میں دجال کی آمد کی دعا کرتے ہیں‘
یہ دعا ”شمونے عسرے“ کہلاتی ہے‘
یوروشلم یہودیوں‘ عیسائیوں اور مسلمانوں تینوں مذاہب کیلئے مقدس ترین شہر ہے‘
یہ انبیاء کرام کا شہر ہے‘
مسلمان 13 سال بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز ادا کرتے رہے‘
یہ شہر حضرت عمرفاروقؓ کے دور میں فتح ہوا
اور یہ سینکڑوں سال مسلمانوں کے قبضے میں رہا‘
سنہری گنبد قبہ الصخرہ آج بھی مسلمانوں کی نشانی بن کر یہاں موجود ہے‘
یہ شہر قیامت کی اہم ترین نشانیوں میں بھی شامل ہے‘
وہ چٹان جو معراج کے وقت برآق کے ساتھ اوپر اٹھ گئی تھی
وہ مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کیلئے مقدس ہے‘
یہودی اسے ماؤنٹ ماریحا کہتے ہیں‘
یہودیوں کا خیال ہے یہ چٹان دنیا کا مقام آغاز تھا‘
حضرت ابراہیم ؑ نے قربانی کیلئے حضرت اسحاق ؑ (یہودی عقیدے کے مطابق حضرت ابراہیم ؑ نے حضرت اسحاق ؑ کو قربان کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ ہم مسلمان حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی پر ایمان رکھتے ہیں) کو بھی اسی چٹان پر لٹایا تھا‘
یہودی اگلے تیس برسوں میں بیت المقدس‘ اقصیٰ جدید اور سنہری عمارت یہ تینوں عمارتیں گرائیں گے‘
مسلمانوں کے ساتھ ان کا تصادم ہو گا‘
دجال کا ظہور ہوگا‘
عالمی جنگ شروع ہو گی‘
دجال احدکی پہاڑیوں تک پہنچ جائے گا‘
جبل الزیتون پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گی
اور پھر قیامت آ جائے گی‘
ہم مسلمان دجال تک یہودیوں سے متفق ہیں
لیکن ہم آخر میں اسلام کے اور مسلمانوں کے غلبے پر ایمان رکھتے ہیں۔
ہم اب ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت کی طرف آتے ہیں‘
دنیا اس وقت دو خوفناک خطرات کے درمیان سانس لے رہی ہے‘
دنیا میں تباہ کن ہتھیاروں کی انبار لگے ہیں‘
کرہ ارض کے چاروں کونوں میں شدت پسندوں کی حکومتیں ہیں‘
پیوٹن جیسا شدت پسند روس میں موجود ہے‘
شمالی کوریا میں کم جونگ جیسا پاگل برسر اقتدار ہے‘
نریندر مودی جیسا شدت پسند بھارت کا وزیراعظم ہے‘
امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت آ چکی ہے‘
ایران بھی میدان میں بس اترا ہی چاہتا ہے‘
عراق اور شام میں داعش پھیلتی چلی جا رہی ہے
اور پاکستان کے حالات ہم سب کے سامنے ہیں‘
یہ پہلا خطرہ ہے‘
دوسرا خطرہ اسرائیل اور یہودی ہیں‘
یہ قیامت کی چاپ سن رہے ہیں‘
یہ روز دن میں تین مرتبہ ”شمونے عسرے“ کرتے ہیں‘
یہ اونچی آواز میں دجال کو آواز دے رہے ہیں
چنانچہ بس یہ آواز سننے کی دیر ہے
اور یہ دنیا چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس کر برابر ہو جائے گی‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6دسمبر 2017 ء کو اچانک اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یوروشلم شفٹ کرنے کا اعلان کر کے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا‘
دنیا کو ٹرمپ کے پروانے میں اپنی تباہی صاف نظر آ رہی ہے‘
یہ اعلان جس دن پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اس دن دنیا کی تباہی کا عمل شروع ہو جائے گا‘
ہم تیسری عالمی جنگ کا رزق بن جائیں گے
چنانچہ میری آپ سے درخواست ہے
آپ اللہ سے جتنی معافی مانگ سکتے ہیں آپ مانگ لیں‘
آپ سکھ کے جتنے سانس لے سکتے ہیں آپ لے لیں
اور آپ اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کر سکتے ہیں آپ کر لیں
کیونکہ
خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے‘
اب بس ایک دھماکے کی دیر ہے ۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address

Gujranwala
52250