26/02/2026
کتاب کلچر کے فروغ میں تنظیم الفانوس کی خدمات
ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم
319 وائی۔علامہ اقبال کالونی سرگودھا
[email protected]
انسان کائنات کی اٹل حقیقت ہے ۔ معاشرتی تشکیل انسان کی ضرورت اور جبلت ہے ۔ انسان کو ہنسنے کے لیے اپنے سامنے ایک چہرے کی جب کہ رونے کے لیے ایک کندھے کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ انسانی ارتقا و رہنمائی میں آسمانی کتابوں اور صحیفوں کی اہمیت اظہر من الشمس ہے ۔ انسان اور کتاب کا تعلق اتنا ہی قدیم ہے جتنا تخلیقِ آدم کا وجود ہے ۔ انسانی جسم و روح میں کتابوںکی دنیا ہمیشہ سے زندہ و سلامت ہے ۔
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ سماجی شناخت کے لیے ثقافت لازم و ملزوم ہے ۔ ثقافتی رویوں سے ہی کوئی معاشرہ اپنا وجود برقرار رکھتا ہے ۔ ثقافت کو انگریزی میں کلچر کہتے ہیں ۔اس کی اصلCultivationجس کے معنی کاشت کرنے کے اور بونے کے ہیں۔ کلچر اپنے دامن میں حُسنِ معانی کا خزینہ رکھتا ہے ۔٭ ۔کاشت کاری ۔٭کسی چیز کو سنوارنا اور ترقی دینا٭۔تعلیم و تربیت سے معاشرے کو مہذب و شائستہ بنانا۔٭۔کسی کے اخلاق و عادات کو سنوارنا۔٭۔کسی قوم کی تہذیب و ثقافت عیب و نقائص سے پا ک کرناکلچر کے ان لغوی معانی سے یہ حقیقت اجاگرہوتی ہے کہ صفائی و نفاست کا مفہوم قدر مشترک کے طور پر اس لفظ کے ہر معنی میں پایا جاتا ہے۔ خواہ یہ صفائی کسی فرد واحد کی شخصی زندگی میں پائی جاتی ہو یا قومی و اجتماعی طرز حیات میں اسی بناءپر جو شخص طرز زندگی لباس و خوراک ، علم و ادب ، عادات و اطوار اور دیگر امور میں صفائی و نفاست کا خوگر ہوتا ہے اِسے کلچر (Cultured)یعنی مہذب کہا جاتا تھا۔
مورخین کے نزدیک کلچر کی تعریف یہ ہے:
” تاریخ کے کسی دور میں کوئی قوم مجموعی حیثیت سے آرٹ‘ موسیقی ‘ ادب ‘ فلسفہ اور مذہب و سائنس وغیرہ میں سے جو کچھ حاصل کر لیتی ہے وہ اس قوم کا کلچر کہلاتا ہے“ ۔
اس تعریف کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ کا مطالعہ کرتے وقت جب کسی مخصوص خاندان کے کلچر کا جائزہ لینا مقصود ہو تو اس وقت دیکھا جائے گا کہ اس دور کے لوگوں نے ادب و آرٹ ‘ مذہب و سائنس اور موسیقی میں کہاں تک ترقی کی ‘ یہی ان کا کلچر ہے۔
معاشرتی علوم کے علماءکے نزدیک کلچر کی تعریف یہ ہے:
” کلچر کسی قوم کے افکار اعمال اور نتائج کے مجموعے کوکہتے ہیں“۔
کسی بھی معاشرے کو مہذب بنانے کے لیے علم سائبان کا درجہ رکھتا ہے ۔ تعلیم حقیقت میں فروغ علم کا ذریعہ ہے علمی و تعلیمی ترقی کتاب کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ بحیثیت مسلمان ہماری زندگی کا سب سے بڑا آئینہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب ” قرآن مجید “ ہے ۔ مخزنِ اسرار ربانی ، مرکز ِ انوار رحمانی ، مصدر ِ فیوض یزدانی ، قاسم برکات ہمدانی ، دانش ِ برہانی ، راہی ِ لا مکانی ، دست ِ ترجمانی ، تحفہ¿ عرفانی ، اسوہ¿ حسنہ کی نشانی اور آئینہ حقانی محمد مصطفی ﷺنے کتاب الہٰی کے ایک اک لفظ کی تشریح کر کے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ۔ اس کتاب نے انسان کو انسانیت کے سانچے میں ڈھالا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ انقلاب دانشوروں کے اذہان میں پرورش پاکر کتابوں کی زینت بنتے ہیں ۔ مبلغین اور مفسرین عوام الناس تک یہ خیالات منتقل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ کیوں کہ کتاب آدمی کو انسان بناتی ہے ۔کتاب انسان کو انسانیت سکھاتی ہے ۔ کتاب شخص کو شخصیت میں ڈھلاتی ہے ۔ کتاب روشنی ، امید اور کرن ہے ۔ اچھی کتاب اور اچھے دل بہت کم لوگوں کو سمجھ آتے ہیں ۔ خیالات کی جنگ میں کتاب ہتھیار کا کام کرتی ہے ۔ کتابوں کے بغیر کمرے کی وہی حیثیت ہے جو بے روح بدن کی ہوتی ہے ۔ اہل قلم ، قوم کے دل ، روح اور دماغ کا درجہ رکھتے ہیں ۔ کتاب انسان دوستی اور محبت کا پیغام ہے۔ضرب قلم سے اچھی کتاب کا وجود منظر عام پر آتا ہے ۔
جس معاشرے میں کتاب کلچر فروغ پاتا ہے وہ معاشرہ مہذب کہلاتا ہے ۔ قیام پاکستان کا خواب اعلیٰ قیادت اور جذبہ حریت سے لبریز کتابوں کا مرہون منت ہے ۔ پاکستان عطیہ خداوندی ہے ۔ ۴۱ /اگست ۷۴۹۱ ءکو ہم قافلے لٹا کر آزادی کی دہلیز تک پہنچے تو مسائلستان ہمارے سامنے تھا اسے پاکستان بنانے کے لیے شعوری انقلاب کا راستہ کتابوں نے ہموار کیا ۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ شاعروں و ادیبوں کی وجہ سے ہر قسم کی کتب منظر عام پر آئیں ۔ کتابوں کی دنیا آباد ہوئی ۔ مقام افسوس ہے کہ مغل شہنشاہوں نے ہمارے اس خطہ میں پُر شکوہ عمارات تو تعمیر کروائیں لیکن تعلیمی اداروں کی طرف کوئی توجہ نہ دی ۔پاکستان بھر میں نیشنل فاﺅنڈیشن کے علاوہ کئی نجی تنظیمیں کتاب کلچر کے فروغ میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ گوجرانوالہ کو شمع¿ کتب بنانے میں میرے محترم شہباز ساحر کی سرپرستی میں قابلِ تعریف ، قابلِ ستائش اور قابل تقلید، کام کر دکھایا ہے ۔ شہبازِ اَدب ، شہباز ساحر کی شخصیت ” کتب نما “ بن چکی ہے ۔ اُن کی وساطت سے ملک بھر کے اہلِ قلم اُن کی لائبریری میں سمٹ گئے ہیں۔ گوجرانوالہ کو پہلوانوں کا شہر کہا جاتا ہے ۔ اچھی صحت کے لیے بہترین غذا کا ہونا از بس ضروری ہے ۔ پہلوان تو خوراک اور ورزش میں مصروف ہیں لیکن الفانوس تنظیم نے یہاں کے عوام کو ذہنی خوراک دے کر اُن میں علمی توانائی منتقل کی ہے ۔ شہباز کی ساحرانہ خدادا د خوبیوں نے اُن کی ترقی کے در وا کردیے ہیں۔ اس بات سے انکار مفر ہے کہ ورزشی لوگ تو وقت کے ساتھ جسم کی توانائی سے محروم ہونا شروع کر دیتے ہیں لیکن تنظیم الفانوس کے اکھاڑے میں آنے والوں کو جو ذہنی آسودگی ملتی ہے ،وہ پہلوانوں کے نصیب میں کہاں۔ اندھیری شب ہو اور وہاں ایک ٹمٹماتا ہوا دیارکھا جائے تو وہ مسافروں کو روشنی تو نہیں دیتا لیکن نشانِ منزل ضرور دیتاہے ۔
فروغِ علم و اَدب میں ایک عرصہ سے مصروف عمل اَدبی تنظیم ” الفانوس انٹرنیشنل پاکستان(گوجرانوالہ)“ کی چھٹی سالانہ مقابلہ¿ کتب خوش آئند ہے۔ مزیدبرآں قندیل فاﺅنڈیشن پاکستان رجسٹرڈ کے تیسرے سالانہ مقابلہ¿ کتب کوٹلی محمد صدیق ایوارڈ کا اہتمام اہلِ قلم کے لیے نہ صرف ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے بل کہ سکون کا باعث بھی ہے کہ وہ جو لفظ قرطاس پر بکھیر رہے ہیں اُن کی پذیرائی کی جارہی ہے ۔ شہباز ساحر جیسے لوگ جذبہ¿ شوق میں بہت آگے نکل جاتے ہیں۔ اُن کی دیوانگی کامیابی کی دہلیز کو سجدہ کرنے لگتی ہے ۔
فرزانگی میں طے نہ ہوئی منزلِ حیات
دیوانگی میں دونوں جہاں پا رہا ہوں مَیں
دلوں میں صداقت ہو اور کام کرنے کی لگن ہو تو راستے خود ہی ہموار ہو جاتے ہیں۔ شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گرتا کے مصداق محترم شہباز ساحر ہمہ وقت پُر دم ہیں۔ ایک ایسا علاقہ جہاں اَدب شناسی ناپید تھی اُنھوںنے فانوسِ اَدب روشن کر کے زندگی کو حرارت اور طبیعتوں حلاوت بخشی ہے ۔ ہر چند کے ظاہری طور پر کتاب ، کتاب کھیلنے کا فائدہ نظر نہیں آتا لیکن لائبریری میں بیٹھنے والوں کو علم و آگہی کا حصار ضرور مل جاتاہے۔ مقصدِ زیست کی تکمیل کے لیے تنہا محوِ سفر کو کارواں بنانے والے ضرور ملتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ معجزے روز روز نہیں ہوتے لیکن ہوتے ضرور ہیں۔ پاکستان کا قیام شاعرِ بے بدل ، ترجمانِ حقیقت، اقلیم سخن اور دانائے رازکے پیش کردہ خاکے کا ثمر ہے جس میں قائداعظم محمد علی جناحؒ نے حقیقت کا رنگ بھرا۔ علامہ محمد اقبال ؒ کی کتاب دوستی اور سحر انگیزی نے اُنھیں دنیا بھر میں لامحدود دیا ہے ۔ اُن کی کتاب پروری کی باگ ڈور آج شہباز ساحر کے ہاتھ میں ہے ۔ آپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ اُن کی شخصیت شہباز بھی ہے اور ساحر بھی ہے ۔اُنھوں نے حقیقت کی وہ شمع جلائی ہے جس کے گرد محبانِ کتب گھوم رہے ہیں۔ اُن کی خودی ہے کہ وہ شمع کے گرد چکر لگاتے ہیں لیکن شمع کے عشق میں جب وہ جان وار دیتے ہیں تو لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتے ہیں۔
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آدابِ فرزندی
مری مشّاطگی کی کیا ضرورت حسنِ معنی کو
کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالے کی حنا بندی!
اصولِ فطرت ہے کہ چاہنے والوں کو منزل ملتی ہے ۔ شجرِ سایہ دار میسر آجاتے ہیں۔ شہباز ساحر خدمتِ ادب کی حیثیت کچھ ایسی ہی ہے جو اقبال کے شہباز اور قوتِ عمل کا عملی نمونہ ہیں۔ آج اَدبی افق پر اُن کا نام مہتابِ اَدب کے طور پر چمک رہا ہے ۔ سال بھر تخلیق کاروں سے رابطہ رکھنا، کتابوں کی چھان بین کرنا ، حتیٰ کہ گھر پھونک تماشاکر کے دوسروں کو خوش کرتے ہیں۔ اُن کی کتاب دوستی نے اُنھیں ہزاروں دوست عطاءکیے ہیں۔ آج وہ ملک کے کونے کونے میں مقبول ہیں۔ اظہار و تشکر کے تمام جذبے اُن کی نذر کہ اُنھوںنے اربابِ فکر و دانش کی جولانی¿ تخلیق کی قدر افزائی کی۔ اہلِ قلم کو نیا ولولہ اور تسخیرِ قلم و قرطاس کے لیے نیا اُفق مہیا کیا ہے ۔ اُن کے پاس الفانوس لائبریری میں علم و آگہی کا سمندر موجود ہے ۔ یہ ہماری زندگی کا آفاقی اثاثہ ہے۔ جس طرح میرے مرشد ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ کے کلام میں ایک نیا جہان موجود ہے ، حسنِ معانی کا مینا بازار اُن کی دسترس میں ہے ۔ اِسی طرح شہباز ساحر نے لکھاریوں کو ولولہ¿ تازہ عطاءکر دیا ہے ۔ مجھے اُمید ہے کہ اُن کی محبت کا خمیر ہمیشہ ترو تازہ رہے گا۔ عروسِ تحریر کو دولتِ وجدان ملتی رہے گی۔ اُن کی سوچ حریت فکر کا پرچم لہراتی رہے گی۔ الفانوس اور قندیل دونوں ہی روشنی کے استعارے ہیں۔ روشنی اپنا راستہ خود تراشتی ہے ۔ خوشبو کی طرح روشنی کو مٹھی میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ مَیں سمجھتا ہوں کہ آپ کے پُر خلوص الفاظ عظیم الشان تحفہ سے کم نہیں ہیںجو دوسروں کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ مَیں الفانوس اور قندیل کے پروانوں کو ہدیہ¿ تبریک پیش کرتاہوں کہ وہ اقبال کا یہ پیغام لیے پھر رہے ہیں۔
لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائے
ہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
کتاب کل بھی ہماری ضرورت تھی اور آج بھی اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔جو لوگ کتاب کلچر کے فروغ میں مصروفِ عمل ہیں اُن کی حوصلہ افزائی کرنا حکومت کا فرض عین ہے لیکن فدایانِ تخت و تاج کو اہلِ علم سے کیا واسطہ ؟میری دُعا ہے کہ شہباز یونہی محوِ پرواز رہے اور ہم اُمید کے پروں پر اُن کے ہم جلیس رہیں۔
-٭-

26/02/2026
06/12/2025
05/12/2025
03/09/2025
27/04/2025