01/06/2026
میں ضلع وزیرآباد اور گوجرانوالہ کے ان ہزاروں افراد کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ سے رابطہ کر کے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایمن آباد سے گکھڑ تک میٹرو بس کے غیر ضروری اور انتہائی مہنگے منصوبے (جسکے اخراجات کا تخمینہ بعض اطلاعات کے مطابق 100 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے) کے حوالے سے میرے اس واضح مؤقف کی تائید کی کہ
میٹرو بس کے منصوبے (جس کا نہ کبھی عوام نے مطالبہ کیا تھا اور نہ ان کے نمائندوں نے) کی بجائے کامونکی سے وزیرآباد تک جی ٹی روڈ کی دونوں سائیڈوں پر ایک ایک لین کا اضافہ کر کے اسے کشادہ کر دیا جاتا اور اس روٹ پہ اور اس کے ساتھ ساتھ وزیرآباد - رسول نگر اور علی پور - گوجرانوالہ روٹ پر چلنے والی گرین الیکٹرک بسوں کی تعداد میں چند درجن بسوں کا اضافہ کر دیا جاتا - علاوہ ازیں گکھڑ میں جی ٹی روڈ پر فلائی اوور بنایا جاتا جس کا پی ڈی ایم کی گورنمنٹ کے دوران میرے مطالبے پر فیصلہ بھی ہو چکا تھا اور اس کی فیزیبلیٹی رپورٹ بھی بن چکی تھی - مگر بدقسمتی سے اس بہترین حل کی بجائے اس غریب ملک کے عوام کا تقریباً 100 ارب روپیہ میٹرو بس کے غیر ضروری منصوبے کی نذر کیا جا رہا ہے جب کہ سو ارب روپے سے تو عوامی مفاد کے بیشمار منصوبے شروع کرکے انہیں پائہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا تھا مثلاً
* گوجرانوالہ اور وزیرآباد میں دو نئی یونیورسٹیاں بنائی جا سکتی تھیں
* گوجرانوالہ اور وزیرآباد کے اضلاع میں لڑکوں اور لڑکیوں کے کتنے ہی نئے سکول اور کالج بن سکتے تھے
* گوجرانوالہ میں ایک اعلٰی معیار کا کینسر ہسپتال قائم ہو سکتا تھا
* گوجرانوالہ اور وزیرآباد میں دو چلڈرن ہسپتال بن سکتے تھے
* وزیرآباد کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کو اپ گریڈ کرکے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بنایا جا سکتا تھا
* گکھڑ اور علی پور چٹھہ میں تحصیل ہیڈکوارٹر لیول کے دو نئے ہسپتال بن سکتے تھے
* گوجرانوالہ اور وزیرآباد کی دیہی یونین کونسلوں میں قائم سرکاری ہسپتالوں (BHUs) میں سٹاف اور دیگر سہولتوں میں اضافہ کرکے ان ہسپتالوں کو چوبیس گھنٹے فعال بنایا جا سکتا تھا جس سے گوجرانوالہ اور وزیرآباد کی لاکھوں پہ مشتمل دیہی آبادی کو اپنے گھروں کے قریب چوبیس گھنٹے بہتر طبی سہولتیں میسر آ سکتی تھیں
* 100 ارب روپے میں تو ضلع وزیرآباد اور گوجرانوالہ کے ایک لاکھ بیروزگار نوجوانوں کو دس دس لاکھ روپے قرض حسنہ دے کر انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر کے ایک لاکھ خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ بنایا جا سکتا تھا -
مگر یہ سب کچھ کرنے کی بجائے قوم کا سو ارب روپیہ میٹرو بس کے غیر ضروری منصوبے پہ لگا دینا افسوسناک بھی ہے اور حیران کن بھی -
اس صورت حال میں میری مسلم لیگ ن کے قائد محترم میاں نواز شریف صاحب اور وزیر اعلٰی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ سے گزارش ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس منصوبے کا جائزہ لیں اور قابل اعتماد ذرائع اور غیر جانبدار اور مستند ایجنسیوں کے ذریعے اس منصوبے کے بارے میں یہاں کے عام لوگوں سے ، دکانداروں سے ، تاجروں سے بلکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے رائے لیں اور اس معاملے میں ایک شفاف سروے کروائیں تا کہ انہیں اندازہ ہو کہ گوجرانوالہ اور وزیرآباد کے عوام اور بالخصوص ایمن آباد سے گکھڑ تک تیس بتیس کلومیٹر کے اس روٹ پر جی ٹی روڈ کے دونوں طرف رہنے والے اور کاروبار کرنے والے لوگوں میں سے نوے فیصد سے زیادہ افراد اس انتہائی مہنگے منصوبے کو بالکل غلط ، غیر ضروری اور ناپسندیدہ قرار دے رہے ہیں - اب بھی وقت ہے کہ اس غلط اور غیر ضروری منصوبے پر نظر ثانی کی جائے - ایمن آباد سے گکھڑ تک ٹھیکیداروں نے جی ٹی روڈ پر بغیر مناسب منصوبہ بندی اور متبادل رستوں کے جو توڑ پھوڑ اور اکھاڑ پچھاڑ کی ہے (جس کی وجہ سے نہ صرف اس رستے پہ سفر کرنے والے لوگ شدید مشکلات اور اذیت کا شکار ہیں بلکہ یہاں آئے روز حادثات کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہو رہا ہے) یا کنٹریکٹرز نےاب تک اس منصوبے پر جو بھی کام کیا ہے اس کے اخراجات ابھی کروڑوں میں ہیں اربوں میں نہیں - اگر ٹھیکیدار ان اخراجات کو بہت بڑھا چڑھا کر بھی دکھائیں تب بھی اب تک کے کل اخراجات زیادہ سے زیادہ ایک ارب روپے تک ہی ہوں گے - میری دردمندانہ اپیل ہے کہ متعلقہ کنٹریکٹرز کو ایک ارب روپیہ دے کر اس غریب اور مقروض قوم کے 99 ارب روپے بچا لئے جائیں - ابھی وقت ہے کہ اس انتہائی مہنگے ، غلط اور غیر ضروری منصوبے کو نہ صرف منسوخ کیا جائے بلکہ اس بات کا بھی پتہ چلایا جائے ک کن لوگوں نے محترمہ وزیراعلٰی کو misguide کر کے ان سے اس انتہائی مہنگے اور غیر ضروری منصوبے کی منظوری لی ، یہ پتہ کرنا بھی ضروری ہے کہ وزیر اعلٰی صاحبہ کو misguide کرنے والوں میں کوئی کمیشن مافیا تو نہیں جس نے اس منصوبے میں سے اربوں روپے کمیشن لینے کے لئے اس غریب اور مقروض قوم کا 100 ارب روپیہ برباد کرنے کا پروگرام بھی بنا لیا اور وزیراعلٰی سے اس کی منظوری بھی لے لی ، ایسے قومی مجرموں کو ہر صورت بے نقاب کیا جانا چاہئے

29/05/2026
26/05/2026
17/05/2026
07/05/2026
02/05/2026