Dr. Nisar Ahmad Cheema

Dr. Nisar Ahmad Cheema

Share

Current MNA NA-79 (Gujranwala-I) and Ex-DG Health Punjab.

01/06/2026

میں ضلع وزیرآباد اور گوجرانوالہ کے ان ہزاروں افراد کا شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھ سے رابطہ کر کے سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر ایمن آباد سے گکھڑ تک میٹرو بس کے غیر ضروری اور انتہائی مہنگے منصوبے (جسکے اخراجات کا تخمینہ بعض اطلاعات کے مطابق 100 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے) کے حوالے سے میرے اس واضح مؤقف کی تائید کی کہ
میٹرو بس کے منصوبے (جس کا نہ کبھی عوام نے مطالبہ کیا تھا اور نہ ان کے نمائندوں نے) کی بجائے کامونکی سے وزیرآباد تک جی ٹی روڈ کی دونوں سائیڈوں پر ایک ایک لین کا اضافہ کر کے اسے کشادہ کر دیا جاتا اور اس روٹ پہ اور اس کے ساتھ ساتھ وزیرآباد - رسول نگر اور علی پور - گوجرانوالہ روٹ پر چلنے والی گرین الیکٹرک بسوں کی تعداد میں چند درجن بسوں کا اضافہ کر دیا جاتا - علاوہ ازیں گکھڑ میں جی ٹی روڈ پر فلائی اوور بنایا جاتا جس کا پی ڈی ایم کی گورنمنٹ کے دوران میرے مطالبے پر فیصلہ بھی ہو چکا تھا اور اس کی فیزیبلیٹی رپورٹ بھی بن چکی تھی - مگر بدقسمتی سے اس بہترین حل کی بجائے اس غریب ملک کے عوام کا تقریباً 100 ارب روپیہ میٹرو بس کے غیر ضروری منصوبے کی نذر کیا جا رہا ہے جب کہ سو ارب روپے سے تو عوامی مفاد کے بیشمار منصوبے شروع کرکے انہیں پائہ تکمیل تک پہنچایا جا سکتا تھا مثلاً
* گوجرانوالہ اور وزیرآباد میں دو نئی یونیورسٹیاں بنائی جا سکتی تھیں
* گوجرانوالہ اور وزیرآباد کے اضلاع میں لڑکوں اور لڑکیوں کے کتنے ہی نئے سکول اور کالج بن سکتے تھے
* گوجرانوالہ میں ایک اعلٰی معیار کا کینسر ہسپتال قائم ہو سکتا تھا
* گوجرانوالہ اور وزیرآباد میں دو چلڈرن ہسپتال بن سکتے تھے
* وزیرآباد کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کو اپ گریڈ کرکے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بنایا جا سکتا تھا
* گکھڑ اور علی پور چٹھہ میں تحصیل ہیڈکوارٹر لیول کے دو نئے ہسپتال بن سکتے تھے
* گوجرانوالہ اور وزیرآباد کی دیہی یونین کونسلوں میں قائم سرکاری ہسپتالوں (BHUs) میں سٹاف اور دیگر سہولتوں میں اضافہ کرکے ان ہسپتالوں کو چوبیس گھنٹے فعال بنایا جا سکتا تھا جس سے گوجرانوالہ اور وزیرآباد کی لاکھوں پہ مشتمل دیہی آبادی کو اپنے گھروں کے قریب چوبیس گھنٹے بہتر طبی سہولتیں میسر آ سکتی تھیں
* 100 ارب روپے میں تو ضلع وزیرآباد اور گوجرانوالہ کے ایک لاکھ بیروزگار نوجوانوں کو دس دس لاکھ روپے قرض حسنہ دے کر انہیں اپنے پاؤں پر کھڑا کر کے ایک لاکھ خاندانوں کی کفالت کا ذریعہ بنایا جا سکتا تھا -
مگر یہ سب کچھ کرنے کی بجائے قوم کا سو ارب روپیہ میٹرو بس کے غیر ضروری منصوبے پہ لگا دینا افسوسناک بھی ہے اور حیران کن بھی -
اس صورت حال میں میری مسلم لیگ ن کے قائد محترم میاں نواز شریف صاحب اور وزیر اعلٰی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ سے گزارش ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس منصوبے کا جائزہ لیں اور قابل اعتماد ذرائع اور غیر جانبدار اور مستند ایجنسیوں کے ذریعے اس منصوبے کے بارے میں یہاں کے عام لوگوں سے ، دکانداروں سے ، تاجروں سے بلکہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے رائے لیں اور اس معاملے میں ایک شفاف سروے کروائیں تا کہ انہیں اندازہ ہو کہ گوجرانوالہ اور وزیرآباد کے عوام اور بالخصوص ایمن آباد سے گکھڑ تک تیس بتیس کلومیٹر کے اس روٹ پر جی ٹی روڈ کے دونوں طرف رہنے والے اور کاروبار کرنے والے لوگوں میں سے نوے فیصد سے زیادہ افراد اس انتہائی مہنگے منصوبے کو بالکل غلط ، غیر ضروری اور ناپسندیدہ قرار دے رہے ہیں - اب بھی وقت ہے کہ اس غلط اور غیر ضروری منصوبے پر نظر ثانی کی جائے - ایمن آباد سے گکھڑ تک ٹھیکیداروں نے جی ٹی روڈ پر بغیر مناسب منصوبہ بندی اور متبادل رستوں کے جو توڑ پھوڑ اور اکھاڑ پچھاڑ کی ہے (جس کی وجہ سے نہ صرف اس رستے پہ سفر کرنے والے لوگ شدید مشکلات اور اذیت کا شکار ہیں بلکہ یہاں آئے روز حادثات کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاع بھی ہو رہا ہے) یا کنٹریکٹرز نےاب تک اس منصوبے پر جو بھی کام کیا ہے اس کے اخراجات ابھی کروڑوں میں ہیں اربوں میں نہیں - اگر ٹھیکیدار ان اخراجات کو بہت بڑھا چڑھا کر بھی دکھائیں تب بھی اب تک کے کل اخراجات زیادہ سے زیادہ ایک ارب روپے تک ہی ہوں گے - میری دردمندانہ اپیل ہے کہ متعلقہ کنٹریکٹرز کو ایک ارب روپیہ دے کر اس غریب اور مقروض قوم کے 99 ارب روپے بچا لئے جائیں - ابھی وقت ہے کہ اس انتہائی مہنگے ، غلط اور غیر ضروری منصوبے کو نہ صرف منسوخ کیا جائے بلکہ اس بات کا بھی پتہ چلایا جائے ک کن لوگوں نے محترمہ وزیراعلٰی کو misguide کر کے ان سے اس انتہائی مہنگے اور غیر ضروری منصوبے کی منظوری لی ، یہ پتہ کرنا بھی ضروری ہے کہ وزیر اعلٰی صاحبہ کو misguide کرنے والوں میں کوئی کمیشن مافیا تو نہیں جس نے اس منصوبے میں سے اربوں روپے کمیشن لینے کے لئے اس غریب اور مقروض قوم کا 100 ارب روپیہ برباد کرنے کا پروگرام بھی بنا لیا اور وزیراعلٰی سے اس کی منظوری بھی لے لی ، ایسے قومی مجرموں کو ہر صورت بے نقاب کیا جانا چاہئے

29/05/2026

عید الاضحیٰ کے پرمسرت موقع پر دوست احباب سے ملاقات کے خوبصورت لمحات۔

26/05/2026
20/05/2026

"گکھڑ فلائی اوور کی اصل حقیقت"

الحمدللہ! بطور ایم این اے، میں نے گکھڑ فلائی اوور منصوبے کے لیے تمام ضروری اقدامات مکمل کیے تھے، جس کی فیزیبلٹی رپورٹ بھی جاری ہو چکی تھی۔
اس وقت کے وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسد محمود صاحب نے میری درخواست پر اس منصوبے کی منظوری اور آغاز کیا۔

میری ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ مساجد، دربار، قبروں اور غریب عوام کی املاک کو نقصان نہ پہنچے، اسی لیے میں نے متبادل اور بہتر پلان پر کام کیا تاکہ عوامی سہولت کے ساتھ مقدس مقامات اور لوگوں کے گھروں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

— ڈاکٹر نثار احمد چیمہ

17/05/2026

“گکھڑ میں میٹرو بس کے لیے لوگوں کے گھر، دکانیں، مساجد، دربار اور قبریں مسمار کرنے کے بجائے جی ٹی روڈ پر فلائی اوور بنایا جائے”

وزیر اعلٰی پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ نے صوبے میں بہت سے ایسے اچھے کام کئے ہیں جن کی تعریف و ستائش مسلم لیگ ن کے مخالفین نے بھی کی ہے ، ان میں سے ایک کام پنجاب کے مختلف ڈویژنوں اور اضلاع میں شروع کیا جانے والا گرین الیکٹرک بسوں کا منصوبہ ہے جس سے کتنے ہی دور دراز علاقوں میں عام لوگوں بالخصوص خواتین اور طلباء و طالبات کو پہلی دفعہ آرام دہ سفر کی سہولت میسر آئی ہے - دوسرے علاقوں کی طرح ضلع گوجرانوالہ اور وزیرآباد کے عوام کو بھی وزیر اعلٰی کے اس اعلٰی منصوبے سے بلاشبہ بہت بڑی سہولت ملی ہے - مگر اس بہترین منصوبے کے بعد وزیر اعلٰی کے نہ جانے کون سے نادان مشیروں نے انہیں misguide کیا اور ان سے ایمن آباد سے گکھڑ تک میٹرو بس چلانے کے غیر ضروری اور انتہائی مہنگے منصوبے کی منظوری لے لی - ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ کامونکی سے وزیرآباد تک جی ٹی روڈ کی دونوں سائیڈوں پر ایک ایک لین کا اضافہ کر دیا جاتا اور کامونکی - گوجرانوالہ ، گوجرانوالہ - وزیرآباد ، وزیرآباد - رسول نگر اور گوجرانوالہ - علی پور روٹ پر چلنے والی گرین الیکٹرک بسوں کی تعداد میں مزید پچاس ساٹھ بسوں کا اضافہ کر دیا جاتا - مگر اس آسان حل کی بجائے کم و بیش 65 ارب روپے کی خطیر لاگت (جو بعض اطلاعات کے مطابق منصوبے کی تکمیل تک 100 ارب روپے تک پہنچنے کا اندیشہ ہے) سے ایمن آباد سے گکھڑ تک میٹرو بس کا نیا منصوبہ شروع کر دیا گیا ہے - 100 ارب روپے سے تو عوامی مفاد اور حقِیقی ضرورت کے کتنے ہی بڑے بڑے اور اہم کام ہو سکتے تھے ، اتنی بڑی رقم سے تو گوجرانوالہ اور وزیرآباد میں دو نئی یونیورسٹیاں قائم ہو سکتی تھیں ، لڑکوں اور لڑکیوں کے کتنے ہی نئے سکول اور کالج بن سکتے تھے ، کتنے ہی نئے ہسپتال قائم ہو سکتے تھے ، گوجرانوالہ اور وزیرآباد کی تمام دیہی یونین کونسلوں میں قائم سرکاری ہسپتالوں (Basic Health Units) کا عملہ اور دیگر سہولتیں بڑھا کر انہیں چوبیس گھنٹے فعال کیا جا سکتا تھا جس سے گوجرانوالہ اور وزیرآباد کی لاکھوں پہ مشتمل دیہی آبادی کو اپنے گھروں کے قریب چوبیس گھنٹے بہتر طبی سہولتیں میسر آ سکتی تھیں - مگر اس کی بجائے میٹرو بس کا وہ منصوبہ شروع کر دیا گیا جس کا مطالبہ نہ کبھی عوام نے کیا اور نہ ان کے نمائندوں نے ، بلکہ اس منصوبے کی وجہ سے ایمن آباد سے گکھڑ تک جی ٹی روڈ اور اس کے ارد گرد جو کھدائی اور اکھاڑ پچھاڑ ہو رہی ہے اس نے عوام کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے ، گکھڑ میں تو اس منصوبے کی زد میں کئی لوگوں کے گھر اور دوکانیں بھی آ رہی ہیں اور کئی مساجد ، دربار اور قبریں بھی ، اس لئے اس سے عوام میں بہت زیادہ تشویش بھی پائی جاتی ہے اور غم و غصہ بھی - اگر حکومت ہر قیمت پر گرین بسوں کے ساتھ ساتھ میٹرو بس بھی چلانا چاہتی ہے تو میری گزارش ہے کہ گکھڑ میں لوگوں کے گھر ، دوکانیں ، مساجد ، دربار اور قبریں مسمار کرنے کی بجائے یہاں جی ٹی روڈ پر ایک ڈیڑھ کلومیٹر طویل فلائی اوور بنایا جائے جس کی تجویز میں نے پی ڈی ایم کی گورنمنٹ کے دوران قومی اسمبلی کے ایوان میں دی تھی - گکھڑ میں جی ٹی روڈ پر فلائی اوور بنانے کی میری تجویز کی منظوری اس وقت کے وزیر مواصلات نے بھی دی تھی اور اس کی فیزیبلیٹی رپورٹ بھی بن گئی تھی - عوامی مفاد کا تقاضہ یہ ہے کہ گکھڑ میں جی ٹی روڈ پر فلائی اوور بنانے کی اسی تجویز اور منصوبے کو پائہ تکمیل تک پہنچایا جائے

07/05/2026

وعدہ نہیں، عملی خدمت
چیمہ برادران نے حلقے کا سب سے بڑا منصوبہ مکمل کر کے دکھایا الحمداللہ

02/05/2026

الحمداللہ

Want your business to be the top-listed Government Service in Gujranwala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address

Kathor Kalan
Gujranwala