08/08/2026
Success Story
Farmer Name: Muhammad Yousaf
Address: Village Panjgran, Tehsil Havelian, District Abbottabad
ADP Scheme: Reclamation of Cultivable Waste Land and Solarization of Agricultural Tube Wells in Khyber Pakhtunkhwa
Under the vision of the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa, Sohail Khan Afridi, the guidance of the Advisor for Agriculture, Mian Muhammad Umar Kakakhel, and the directions of the Secretary Agriculture Khyber Pakhtunkhwa, Dr. Muhammad Bakhteyar Khan, this agricultural development initiative is being implemented to promote sustainable farming across the province.
The project is supervised by the Director General Agricultural Engineering Khyber Pakhtunkhwa, Engineer Naseem Javaid, and Engineer Sadia Rehman.
Under this scheme, Muhammad Yousaf benefited from the Land Levelling and Reclamation component of the project. Before the intervention, the uneven land surface caused inefficient irrigation, water losses, and lower agricultural productivity.
امیابی کی کہانی
فارمر کا نام: محمد یوسف
پتہ: گاؤں پنجگراں، تحصیل حویلیاں، ضلع ایبٹ آباد
اے ڈی پی سکیم: "خیبر پختونخوا میں قابلِ کاشت بنجر زمین کی بحالی اور زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنا"
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جناب سہیل خان آفریدی کے وژن، مشیر برائے زراعت جناب میاں محمد عمر کاکاخیل کی رہنمائی اور سیکرٹری زراعت خیبر پختونخوا ڈاکٹر محمد بختیار خان کی ہدایات کی روشنی میں یہ زرعی ترقیاتی منصوبہ صوبہ بھر میں جدید اور پائیدار زراعت کے فروغ کے لیے جاری ہے۔
یہ منصوبہ ڈائریکٹر جنرل زرعی انجینئرنگ خیبر پختونخوا، انجینئر نسیم جاوید، کی نگرانی اور انجینئر سعدیہ رحمان کی زیرِ سرپرستی کامیابی سے جاری ہے۔
اس منصوبے کے تحت محمد یوسف نے قابلِ کاشت بنجر زمین کی بحالی اور لیولنگ (Land Levelling) کی سہولت سے استفادہ کیا۔ اس سے قبل زمین غیر ہموار ہونے کی وجہ سے آبپاشی میں دشواری، پانی کا ضیاع اور زرعی پیداوار میں کمی جیسے مسائل درپیش تھے۔
محکمہ زرعی انجینئرنگ کے تعاون سے زمین کی جدید طریقہ کار کے مطابق لیولنگ اور بحالی کا کام مکمل کیا گیا، جس کے نتیجے میں زمین قابلِ کاشت اور زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کے قابل ہو گئی۔ اس سے آبپاشی کا نظام بہتر ہوا، پانی کی بچت ممکن ہوئی اور فصلوں کی بہتر نشوونما کے ساتھ زرعی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔