15/10/2026
محکمۂ تعلیم گلگت بلتستان میں مبینہ بے ضابطگیوں، من پسند تقرریوں اور تعلیمی مستقبل سے کھلواڑ کا فوری نوٹس لیا جائے
عمران میر
وائس چیئرمین، ہیومن رائٹس انٹرنیشنل گلگت بلتستان
گلگت بلتستان کے محکمۂ تعلیم میں گزشتہ عرصے سے سامنے آنے والے انتظامی فیصلے، مبینہ اقرباپروری، من پسند پوسٹنگز اور ترقیاتی منصوبوں کے ٹینڈرز کی منسوخی کے معاملات عوامی حلقوں میں شدید تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر ان شکایات میں حقیقت ہے تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں، بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل، عوامی وسائل کے شفاف استعمال اور بنیادی حقِ تعلیم سے جڑے سنگین معاملات ہیں، جن کی غیر جانب دارانہ تحقیقات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مختلف اضلاع میں گزشتہ ڈیڑھ سے دو سال کے دوران اسکولوں کے لیے کیے گئے ٹینڈرز منسوخ کیے جانے اور مبینہ طور پر من پسند ٹھیکیداروں کو نوازنے کی کوششوں سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اسی طرح من پسند افراد کی فرمائشی پوسٹنگز کا سلسلہ بھی تشویش ناک صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ متعلقہ حکام واضح کریں کہ ان فیصلوں کی قانونی بنیاد کیا ہے، میرٹ کے کون سے اصول اپنائے گئے اور عوامی مفاد کو کس حد تک مقدم رکھا گیا؟
ہائی سیکنڈری اسکول جگلوٹ کی صورتِ حال فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے سے اساتذہ کی مسلسل تبدیلیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جبکہ متبادل اساتذہ کی فراہمی کا معاملہ بھی سامنے نہیں آ رہا۔ سوال یہ ہے کہ طلبہ کی تعلیم متاثر ہونے کی صورت میں ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ کیا انتظامی تبادلوں میں تعلیمی تسلسل، طلبہ کے مفاد اور ادارے کی ضروریات کو ملحوظِ خاطر رکھا جا رہا ہے؟
محکمۂ تعلیم کے ذمہ داران یاد رکھیں کہ سرکاری عہدے ذاتی پسند و ناپسند، سیاسی سفارش یا کسی مخصوص گروہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے نہیں ہوتے۔ سرکاری اختیارات کا استعمال متعلقہ قوانین، قواعد و ضوابط، میرٹ اور عوامی مفاد کے تابع ہونا چاہیے۔ اگر کسی بھی تقرری، تبادلے، ٹینڈر کی منسوخی یا انتظامی حکم میں قانون کی خلاف ورزی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کا عنصر پایا جائے تو اس کی تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے۔
سرکاری اسکولوں میں اساتذہ اور تعلیمی سہولیات کی کمی کا سب سے زیادہ نقصان غریب خاندانوں کے بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اگر سرکاری تعلیمی اداروں کو مؤثر انداز میں چلانے کے بجائے مسلسل انتظامی تجربات اور غیر شفاف فیصلوں کی زد میں رکھا گیا تو اس کے نتائج پوری نسل کو بھگتنا پڑیں گے۔ یہ معاملہ کسی ایک اسکول یا ضلع تک محدود نہیں؛ یہ گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے مستقبل کا سوال ہے۔
ہم چیف سیکریٹری گلگت بلتستان، فورس کمانڈر اور متعلقہ مقتدر اداروں