Bloody Civilians

Bloody Civilians "Highlighting public issues, demanding accountability, and empowering the common citizen.

Welcome to the official home of the 'Bloody Civilians'—the heartbeat and true power of the country."

29/08/2026

یہ تجزیہ دراصل موجودہ سخت اور یکطرفہ بیانیے
برقرار رکھنے کی ایک کوشش نظر آتا ہے۔ اس بات سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ موجودہ دور میں جب ملکی عدلیہ، میڈیا اور ریاستی ادارے مکمل طور پر مائنس یا مفلوج ہو چکے ہیں، اور صحافت کا بڑا حصہ خودمختاری کھو کر محض مخصوص حلقوں کا آلہ کار یا تماشائی بن چکا ہے، تو ایسے میں سچائی اور انصاف کی کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔ اس دم گھٹتے ہوئے ماحول میں اگر کوئی بین الاقوامی آزاد ادارہ، عالمی میڈیا، عمران خان کے خاندان کے افراد، ان کے کرکٹ کے سابق ساتھی اور بین الاقوامی دوست ان کی صحت، سلامتی اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، تو اس پر برہم ہونا یا اسے "سیاست" قرار دینا محض اپنی بوکھلاہٹ اور تکلیف کو چھپانے کا بہانہ ہے۔ آئین، قانون اور شفافیت کی بات اس وقت معتبر ہوتی جب ملک کے اندر انصاف کے تمام دروازے بند نہ کیے گئے ہوتے؛ لہٰذا جب داخلی راستے بند کر دیے جائیں تو عالمی سطح پر ملنے والی توجہ اور اٹھنے والی آوازیں نہ صرف فطری ہیں بلکہ مظلوم کا آئینی اور اخلاقی حق بھی ہیں۔

28/08/2026

پشاور اور خیبر پختونخوا کے روڈز اور مصروف چوراہوں پر تعینات ٹریفک پولیس کی کارروائیوں، چالان کے موجودہ نظام اور اس کی وجہ سے شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات کا جب سنجیدگی سے جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جی ٹی روڈ، یونیورسٹی روڈ، خیبر روڈ اور اندرون شہر کے اہم مقامات پر وارڈنز کا اصل مقصد تو ٹریفک کی روانی کو بحال اور حادثات کی روک تھام ہونا چاہیے تھا، لیکن زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس نظر آتے ہیں جہاں حالیہ عرصے میں شہریوں کی یہ بڑی اور عام شکایت بن چکی ہے کہ ٹریفک عملہ اور آفیسرز سڑکوں پر گاڑیوں کا بہاؤ برقرار رکھنے کے بجائے اپنا سارا وقت اور توجہ زیادہ سے زیادہ گاڑیاں، رکشے اور موٹر سائیکلیں روک کر ان کے چالان کاٹنے پر صرف کر رہے ہیں، اور اس مقصد کے لیے اہم چوراہوں پر تین سے چار مختلف ٹولیاں یا گروپس کی شکل میں ڈیرے ڈال کر کھڑے ہو جاتے ہیں جس سے ٹریفک تو حل نہیں ہوتی بلکہ مین روڈز پر غیر اعلانیہ ناکوں کا سا ماحول بن جاتا ہے اور سڑکیں تنگ ہو جاتی ہیں، جب کہ اس پورے عمل کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ قانون کی مکمل پاسداری کرنے والے، تمام درکار دستاویزات، لائسنس، گاڑی کی رجسٹریشن، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کے ساتھ سفر کرنے والے عام شہری بھی اس ظالمانہ اور اندھا دھند چالان کلچر کی زد میں آ جاتے ہیں کیونکہ عملے کا ہدف ٹریفک مینج نہیں بلکہ روزانہ کی بنیاد پر چالان کے کوٹے یا مبینہ طور پر محکمے کے اندر چلنے والے اس نظام کو پورا کرنا ہوتا ہے جس سے براہ راست یا بالواسطہ جڑے مفادات کے تحت اہلکار ہر گزرنے والی گاڑی میں کوئی نہ کوئی نقص نکالنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں، اور اگرچہ سرکاری طور پر کسی بھی ٹریفک وارڈر یا آفیسر کا چالان سے براہ راست کیش کمیشن ملنے کا کوئی باقاعدہ یا تحریری قانون موجود نہیں ہے، لیکن محکمے کے اندر موجود نام نہاد ریونیو کلیکشن ٹارگٹس اور کارکردگی کی اس غلط پیمائش نے پورے نظام کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے جہاں اہلکاروں کی سالانہ یا ماہانہ کارکردگی اس بات سے نہیں جڑی ہوتی کہ انہوں نے اپنے علاقے میں کتنی بہتر ٹریفک مینجمنٹ کی یا کتنے حادثات روکے، بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ انہوں نے کتنے ہزار روپے کا جرمانہ اکٹھا کیا اور کتنے چالان کاٹے، جس کی وجہ سے یہ اہلکار سڑکوں پر ڈیوٹی دینے کے بجائے ایک شکاری کی طرح شہریوں کی تاک میں بیٹھے رہتے ہیں، اور اس ساری صورتحال کے نتیجے میں شہر کے اندر ٹریفک کے سنگین مسائل جیسے کہ تجاوزات، سگنلز کی خرابی اور غلط پارکنگ کی وجہ سے لگنے والے گھنٹوں کے طویل جام تو جوں کے توں برقرار رہتے ہیں لیکن عوام کا ٹریفک پولیس پر سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ چکا ہے اور قانون کا احترام خوف میں بدل چکا ہے، اس لیے اس سنگین مسئلے کا حل اب اس بات کا متقاضی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اور اعلیٰ ٹریفک حکام فوری طور پر اس بوسیدہ اور ریونیو-محبور نظام کا قبلہ درست کریں، اہلکاروں کی کارکردگی کی جانچ کا پیمانہ چالان کے نمبرز سے ہٹا کر ٹریفک کی روانی اور بہتری پر رکھا جائے، چوراہوں پر ٹولیاں بنا کر کھڑے ہونے پر سخت پابندی عائد کی جائے، اور سڑکوں پر آمنا سامنا کر کے چالان کرنے کے فرسودہ طریقوں کو ختم کر کے جدید ڈیجیٹل ای-چالان یا کیمرہ بیسڈ مانیٹرنگ کا نفاذ کیا جائے تاکہ پشاور کا عام شہری جو پہلے ہی مہنگائی اور دیگر معاشی مشکلات کی چکی میں پس رہا ہے، اس بے مقصد اور ظالمانہ چالان کلچر سے نجات حاصل
کر سکے۔

محسن نقوی Sky نیوز کو لیکر رو رہا تھا لیکن یہاں تو سارا انٹرنیشنل میڈیا قاسم اور سلیمان کے انٹرویو کو کوریج دے رہا ہے۔۔ ...
28/08/2026

محسن نقوی Sky نیوز کو لیکر رو رہا تھا لیکن یہاں تو سارا انٹرنیشنل میڈیا قاسم اور سلیمان کے انٹرویو کو کوریج دے رہا ہے۔۔





28/08/2026

انہوں نے Sky News کو ARY News سمجھ لیا تھا۔
انہیں لگا کہ لنچ بریک کے بعد کرکٹ ٹیم گراونڈ میں نہ بھیجنے کی دھمکی دیں گے تو عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نہ صرف نشر ہونے سے رک جائے گا بلکہ سکائی نیوز انٹرویو کرنے والے مائیکل ایتھرٹن کو کاشف عباسی کی طرح گھر بھیج دے گا۔
ہوا اسکا بلکل الٹ کیونکہ وہ برطانیہ ہے اور سکائی نیوز کا مالک سلمان اقبال نہیں جو لاگونا میں بزنس پارٹنر ہو جو ایک کال پر لیٹ جائے۔

24/08/2026

خیبرپختونخوا میں اگلا الیکشن مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مل کر لڑیں گے، ہم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں گے۔ اور تحریری معاہدہ بھی ہوگا۔ شفیع جان

اب یہاں پر سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ فیصلہ کس کا ہے عمران خان سے تو 9 مہینے سے ملاقات نہیں ہوئی اور پچھلے دنوں جو ملاقات ہوئی اس میں خان صاحب نےایسی کوئی بات نہیں کی کیا پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت نے عمران خان کو پارٹی سے مائنس کردیا ہے موجودہ کمپرومائز قیادت خان سے پوچھے بغیر ایسے بڑے فیصلے کیسے کر سکتے ہیں۔۔

پٹواری کھوتی کے بچوں کو اللہ نے دماغ سے محروم رکھا اور دوسرا دماغ کی محرومی سے وہ تعلیم سے بھی محروم ہیں اور تیسرا بنیاد...
19/08/2026

پٹواری کھوتی کے بچوں کو اللہ نے دماغ سے محروم رکھا اور دوسرا دماغ کی محرومی سے وہ تعلیم سے بھی محروم ہیں اور تیسرا بنیادی کامن سینس سے بھی محروم ہیں- ان فجژ مچلتی کھوتی کے بچوں کو جس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جاتا یہ لگ جاتے- ان کو ایک واٹس ایپ گروپ میں میسج آتا اور یہ لہلاتی اور ہنہناتی کھوتی کے بچے اس کو سمجھے بغیر ہی- فاوررڈ کردیتے

پاکستان میں قیدیوں کے علاج کا بنیادی قانونی فریم ورک پاکستان پریزن رول 1978 اور پریزن ایکٹ 1894 لاگو ہے اور یہ قانون صوبائی جیلوں میں لاگو ہے لین پروسیجر میں تھوڑا بہت فرق ہوسکتا ہے- اب فحش گونگی کھوتی کے بچوں کے مطابق 24 گھنٹے گزرنے کے بعد ان کا اعتراض اب بس یہ رہ گیا کہ کسی قیدی کا علاج پرایئویٹ ہسپتال میں نہیں ہوسکتا- ان کی آسانی کے لیے پریزن رول کو آپ کے سامنے رکھتے ہیں

سوال 01: اگر ایک قیدی بیمار ہوجائے تو سب سے پہلے کیا کیا جاتا ہے؟

الجواب: اگر قیدی بیمار ہوجائے تو قانون کے مطابق اس کو فورا جیل میں ایک جونیئر ڈاکٹر کے سامنے لایا جاتا ہے جو کہ اس کی بیماری کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو جیل کے ہسپتال میں منتقل کرنے کو ریکمنڈ کرتا ی اپھر اس کو ابتدائی طبی امداد دیکر اس کو جیل مین واپس دیتا- اگر جیل کے ہسپتال میں اس کے علاج کی سہولت نہیں تو اس کو پھر باہر کے ہسپتال کے لیئے ریکمنڈ کردیا جاتا ہے-

سوال 02: جس قیدی کو جیل کے باہر ہسپتال کے لیئے ریکمنڈ کیا جاتا ہے وہ کونسا ہسپتال ہوتا ہے ؟؟

الجواب: پریزن رول میں یہ لکھا ہے کہ جس قیدی کو جیل سے باہر ہسپتال کے لیے ریکمینڈ کیا جاتا ہے اس کے لواحقین ، رشتہ داروں کو انفارم کیا جاتا ہے اور ان سب کی موجودگی میں اس کو ہسپتال میں منتقل کیا جاتا ہے چونکہ قیدی حکومت کی پراپرٹی ہوتا ہے لہذا حکومت کی فرسٹ پریفرین سسرکاری ہسپتال ہوتا ہے کہ وہاں اس کا علاج ہو- کیونکہ اس کے علاج کی رقم قیدی نہیں پے کرتا-

لیکن اگر قیدی اپنے علاج سے سرکاری ہسپتال سے ممکن نہیں اور وہ اپنا علاج کسی پرایئویٹ ہسپتال سے کروانا چاہتا ہے تو پرایئویٹ ہسپتال سے علاج کا سارا خرچ مریض کو خود برداشت کرنا پڑتا ہے وہاں گورنمنٹ پے کرنے کی مجاز نہیں ہوتی-

اب جو کجلی کھوتی کے بچے پٹواری یہ کہہ رہے کہ پرایئویٹ ہسپتال سے علاج کا قانون نہیں تو ان لوگوں کے ناجائز باپ کو قتے کے خون کے ٹیسٹ پر لندن بھیجا گیا وہ کس کپیسٹی میں بھیجا گیا-

سپریم کورٹ کے مطابق عمران خان اپنے علاج کا خرچ خود برداشت کریں گے اور ان کا علاج الشفا سے ہوگا- اور تیسری چیز حکومت نے جو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی وہ حکومت کی بنائی ہوئی اپنی رپورٹ تھی نا کہ پی ٹی آئی کی اپنی جمع کروائی رپورٹ- اور دوسری اس رپورٹ میں عمران خان کا اب تک جو ٹریٹمینٹ ہوا اس کا کوئی ریکارڈ نہیں- عمران خان کو جو انجیکشن لگائے گئے کسی چیز کا کوئی ریکارڈ نہیں-

کہیں یہ پٹواری کھوتے اس وجہ سے تو نہیں ڈرے ہوئے کہ ان حرامدی نسلوں نے عمران خان کو کوئی ایسی میڈیسن دی ہے جس کی رپورٹ الشفا میں دنیا کو پتہ لگ جائے گی اور یہ حرامدی نسلیں چاہتی کہ سرکاری ہسپتالوں میں مرضی کی رپورٹیں بنوا کر اس کو چھپالیں گے؟؟

پاکستان پریزن رول کے مطابق ایسا کوئی قانون نہیں جو کسی قیدی کو پرایئویٹ ہپستال میں علاج سے روکے- جب ایک قیدی کو جیل کے ہسپتال نے آؤٹ پیشیئنٹ مریض ڈکلیئر کردیا تو اس کے بعد قیدی چاہے سرکاری ہسپتال میں علاج کروائے یا پرایئویٹ یہ اس کی مرضی ہوتی- پرایئیوٹ ہسپتال میں علاج کے لییے خرچ مریض خود برداشت کرتا ہے--

امید ہے پٹواریوں سمیت ہر حرامدی نسل کو آسان زبان میں سمجھانے میں کامیاب ہوگیا ہوں گا-

تحریر: عاصم چوہدری

07/08/2026

جب تک ملک کے ادارے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام نہیں کریں گے اور سویلین یا سیاسی امور میں مداخلیت کا سلسلہ جاری رہے گا، تب تک نہ کوئی حکومت آزادانہ پالیسی بنا سکتی ہے اور نہ ہی ملک میں حقیقی استحکام آ سکتا ہے
بار بار جمہوریت پر شب خون مارنے، منتخب حکومتوں کو گھر بھیجنے اور جوڑ توڑ کی سیاست نے ہمارے اداروں، معیشت اور انفراسٹرکچر کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ جب تمام تر توانائیاں اور وسائل اقتدار کی شطرنج اور اپنے فائدے کی 'سیٹنگز' میں صرف ہوں گے، تو عوام کے بنیادی مسائل، جیسے کہ سڑکیں، نظامِ وانقاص (ڈرینج)، تعلیم اور صحت، یونہی نظر انداز ہوتے رہیں گے۔
بطور پاکستانی یہ حقیقت ماننا تکلیف دہ ہے کہ جب تک تمام ادارے اپنی حدود کا احترام نہیں کرتے اور عوام کے ووٹ کے تقدس کو تسلیم نہیں کرتے، تب تک 78 سال کیا، مزید دہائیاں بھی گزر جائیں تو پیشرفت صرف کاغذوں اور نعروں تک ہی محدود رہے گی۔ حقیقی تبدیلی اور ترقی صرف اور صرف آئین کی حکمرانی، شفاف جمہوریت اور بلا تفریق احتساب سے ہی ممکن ہے۔۔۔

🚨 محکمہ معدنیات KPK کی ڈرامابازی اور کاغذی جھوٹ بے نقاب! 🚨ایک طرف "میرٹ اور شفافیت" کے بڑے بڑے دعوے، اور دوسری طرف اپنوں...
07/08/2026

🚨 محکمہ معدنیات KPK کی ڈرامابازی اور کاغذی جھوٹ بے نقاب! 🚨
ایک طرف "میرٹ اور شفافیت" کے بڑے بڑے دعوے، اور دوسری طرف اپنوں کو نوازنے کا کھلم کھلا کھیل!
📍 معاملہ کیا ہے؟
محکمہ معدنیات (KP) میں بی ایس 03 (BPS-03) کے منرل گارڈ مسعود احمد خان کو براہِ راست صوبائی وزیر کے دفتر میں اسسٹنٹ کی پوسٹ پر تبادلہ کر کے نوازا جاتا ہے۔
📍 جھوٹ اور پردہ پوشی:
جب یہ خبر اور نوٹیفکیشن سامنے آیا تو محکمے نے فوری طور پر وضاحتی اعلامیہ جاری کر کے اس سرکاری آڈر کو "جعلی اور پروپیگنڈا" قرار دے دیا۔
📍 مگر سچائی چھپ نہیں سکتی!
آج جاری ہونے والے دستاویزات، محکمے کے آفیشل لیٹر پیڈ، سیریل نمبر (No.SO(Admn)/MDD/1-6/2026/) اور سیکشن افسر امتیازی صاحب کے دستخطوں نے محکمے کے اس "سرکاری جھوٹ" کا مکمل پردہ چاک کر دیا ہے۔
کیا خیبر پختونخوا میں میرٹ کا جنازہ یوں ہی نکلتا رہے گا؟
اور کیا سرکاری دفاتر اب صرف اپنے پیاروں کو نوازنے اور بعد میں "جعلی" کا ڈرامہ رچانے کے لیے رہ گئے ہیں؟
جوابدہی کون کرے گا؟ 🤔👇

06/08/2026

اس وقت جب اسٹیبلشمنٹ شدید ترین دباؤ میں ہے، پی ٹی آئی قیادت نے 2 ماہ بعد کی تاریخ دے کر حکومت کو سنبھلنے کا موقع دے دیا! علیمہ باجی کا حیران ہونا بجا ہے—تاریخ دینی تھی تو ایک دو ہفتے کی دیتے، 27 ستمبر کی تاریخ کا کیا تک بنتا ہے؟ یہ احتجاج ہے یا حکومت کو آکسیجن دینا؟

25/07/2026

پاکستان میں اس وقت کوئی قانون نظر نہیں آتا۔ یہ خیبرپختونخوا کے مثالی پولیس ہے یا پھر غنڈہ گرد؟ اگر کسی شہری سے غلطی بھی ہو جائے، تب بھی اس کی اس طرح تذلیل کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اور ویسے بھی پولیس کے پاس کب سے ویگو ڈالے آ گئے؟

Address

Islamabad
44000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bloody Civilians posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share