29/08/2026
یہ تجزیہ دراصل موجودہ سخت اور یکطرفہ بیانیے
برقرار رکھنے کی ایک کوشش نظر آتا ہے۔ اس بات سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں کہ موجودہ دور میں جب ملکی عدلیہ، میڈیا اور ریاستی ادارے مکمل طور پر مائنس یا مفلوج ہو چکے ہیں، اور صحافت کا بڑا حصہ خودمختاری کھو کر محض مخصوص حلقوں کا آلہ کار یا تماشائی بن چکا ہے، تو ایسے میں سچائی اور انصاف کی کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔ اس دم گھٹتے ہوئے ماحول میں اگر کوئی بین الاقوامی آزاد ادارہ، عالمی میڈیا، عمران خان کے خاندان کے افراد، ان کے کرکٹ کے سابق ساتھی اور بین الاقوامی دوست ان کی صحت، سلامتی اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، تو اس پر برہم ہونا یا اسے "سیاست" قرار دینا محض اپنی بوکھلاہٹ اور تکلیف کو چھپانے کا بہانہ ہے۔ آئین، قانون اور شفافیت کی بات اس وقت معتبر ہوتی جب ملک کے اندر انصاف کے تمام دروازے بند نہ کیے گئے ہوتے؛ لہٰذا جب داخلی راستے بند کر دیے جائیں تو عالمی سطح پر ملنے والی توجہ اور اٹھنے والی آوازیں نہ صرف فطری ہیں بلکہ مظلوم کا آئینی اور اخلاقی حق بھی ہیں۔