Zahid Hasrat Chairman educational Society GoharAbad

Zahid Hasrat Chairman educational Society GoharAbad

Share

* بانی و سرپرست اعلی ایجوکیشنل سوسائٹی گوہرآباد*
* بانی و سرپرست اعلی یونائیٹڈ مسلم اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن *

28/06/2023

بجٹ 2023 / 24

15/11/2020

Electoral rolls 2020 GB

09/11/2020

دعائیں دینے والےسےبڑھکردنیامیں کوئی سخی نہیں اوردعائیں سمیٹنےوالےسےبڑھکردنیامیں کوئی دولتمند نہیں بشک. اسلام و علیکم.

07/11/2020
05/11/2020

The Chairman of Educational Society Goharabad congratulates Dr. M***i Muhammad Naseer on his appointment as Professor of Gomal University Dera Ismail Khan on behalf of Educational Society Goharabad.
ایجوکیشنل سوسائٹی گوہرآباد کا چیئرمین جناب ڈاکٹر مفتی محمد نصیر کو گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان کا پروفیسر تعینات ہونے پر ایجوکیشنل سوسائٹی گوہرآباد کی طرف سے دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں اللہ تعالٰی چیئرمین ڈاکٹرمفتی محمد نصیر صاحب کو مزید کامیابیوں سے سرفراز فرماۓ

05/11/2020

Z.H.R
When the Pakistani Punjabi military establishment is campaigning and chanting slogans in favor of the interim constitutional province through its own people, it should not be difficult for the citizens of Jammu and Kashmir and Gilgit-Baltistan to realize that their aim is only in the name of the province. But nothing but permanent occupation. Making the so-called Azad Kashmir Gilgit-Baltistan a province means snatching their country and land from the people of this region.
پاکستانی پنجابی فوجی اسٹیبلشمنٹ جب اپنے لوگوں کے ذریعے عبوری آئینی صوبے کے حق میں کمپین اور نعرے لگوا رہی ہے تو یہ اندازہ لگانا جموں کشمیر گلگت بلتستان کے شہریوں کے لئے مشکل نہیں ہونا چائیے کہ ان کا مقصد صوبے کے نام پر صرف ہماری زمینوں اور وسائل پر مستقل قبضے کے علاوہ کچھ نہیں نام نہاد آزاد کشمیر گلگت-بلتستان کو صوبہ بنانے کا مطلب اس خطہ کے لوگوں سے ان کا ملک اور دھرتی چھیننا ہے۔

04/11/2020

Pakistani military intelligence agencies,
should stop interfering in disputed region of Gilgit-Baltistan elections.
پاکستانی فوجی خفیہ ایجنسیاں ،
گلگت بلتستان انتخابات کے متنازعہ خطے میں مداخلت بند کرنی چاہئے۔

12/10/2020

بِردیئی تارے. سال 2020 زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ۔۔۔۔۔۔موت کے سوا کوئی حقیقت نہیں ہے۔۔ زندگی کی حقیقت فقط اتنی ہے جب انسان سنبھلنے لگتا ہے تب زندگی لڑکھڑانے لگتی گلگت بلتستان سیاست کے. بِردیئی تارے ڈوب گئے ۔جسٹس سید جعفر شاہ ہو یا پھر ملک محمد مسکین ۔۔۔۔۔۔۔سید پیر کرم علی شاہ ہو یا پھر جانباز خان اور سید افضل سلطان مدد کا تذکرہ گلگت بلتستان کا اہم سیاسیی اور قومی رہنما سید جعفر شاہ کی وفات قومی سانحہ اور گلگت بلتستان کے عوام کو آہینی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والا قومی اور غیور لیڈر کی کمی ہر دم محسوس کہ جائیگی۔ ان کی وفات پر ان کے خاندان کے ساتھ ساتھ پوری گلگت بلتستان کے عوام کو ہدیہ تعزات پیش کی جاتی ہے۔ سید جعفر شاہ کا 37 سالہ سیاسی دور اختتام کو پہنچ گیا۔ چار بار انتخابات لڑے اور تین بار جیت گئے۔ گلگت بلتستان کے عظیم قابل فخر فرزند ملک محمد مسکین ۔ایک بہترین سیاست دان، ادیب ، مقرر شعلہ بیان ، پارلیمنٹیرین، ماہر قانون، دانشور، جرگہ دار ، ۔تین بار ناردرن ایریاز کونسل اور اسمبلی کے ممبر رہے اور 2004 سے 2009 تک گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر رہے۔ملک ملک محمد مسکین مرحوم ۔1994ء میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان دوآئینی درخواستیں دائر ہوئی،جن میں الجہاد ٹرسٹ راولپنڈی بذریعہ حبیب الوہاب ایڈووکیٹ راولپنڈی ودیگر نو افراد (جن کا تعلق گلگت بلتستان سے ہے)کی آئینی درخواست نمبر 11آف 1994ء اور محترمہ فوزیہ اسلم عباس سابق ممبر این اے کونسل وغیرہ کی طرف سے آئینی درخواست نمبر17آف 1994ء تھیں۔سپریم کورٹ نے 28مئی 1999ء کو اپنے فیصلے کے تحت پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ 6 ماہ کے اندر ایسے اقدامات کرے جن کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں ان کے اپنے منتخب نمایندے حکومت چلائیں اور وہاں عوام کو خود مختار عدلیہ کے ذریعے انصاف تک رسائی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ 1999ء کے بعد 3مرتبہ حکومت اصلاحاتی پیکیج دینے پر مجبور ہوئی۔خلاصہ یہ ہے کہ آج گلگت بلتستان میں جیسا تیسا انتظامی یا مبینہ صوبائی نظام ہے اس کا کریڈٹ ملک محمد مسکین مرحوم کو جاتاہے سابق گورنرگلگت بلتستان پیر سید کرم علی شاہ بھی چل بسے . پیر سید کرم علی شاہ کو رونا وائرس کا شکار ہوئے تھے . عمر 86 برس تھی پیر سید کرم علی شاہ کا تعلق شہیدوں کے سرزمین ضلع غذر سے ہے . آپ کا شمار گلگت بلتستان کے قدآور سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا اور آپ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ حلقہ غذر ون سے ناردرن ایریا مشاورتی کونسل کے انتخابات 1970 سے لیکر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے الیکشن 2009ء تک ناقابلِ شکست مسلسل دس مرتبہ ممبر منتخب ہوئے جو کہ ایک ریکارڈ ہے, 1994 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں ڈپٹی چیف ایگزیکٹو جبکہ 2011 میں پی پی پی ہی کی حکومت میں ہی گورنر گلگت بلتستان کے عہدے پر فائز رہے۔۔حاجی جانباز خان (جی بی ایل اے 16دیامیر2) : 68 سال ، ایف اے ، سیاست ، حاجی جانباز خان1953ء میں پیدا ہوئے۔ ایم ایس ایف سے سیاست کا آغاز کیا۔سات انتخابات میں حصہ لیا جس میں سے پانچ بارکامیابی جبکہ دو بار ناکامی ہوئی۔ چارانتخابات میں ن لیگ کے ٹکٹ پر فتح جبکہ 2004ء میں ق لیگ کی ٹکٹ پرکامیاب نہ ہو سکے۔ 2009ء میں ن لیگ کے ٹکٹ پر کامیابی ملی اوراپوزیشن لیڈر نامزد ہوئے۔ ن لیگ جی بی کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔2015ء میں ن لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے۔ان کے بھتیجے بشارت اللہ نگران حکومت میں وزیر صحت اور بھائی حاجی کرامت اللہ محکمہ تعمیر ات جی بی کے چیف انجینئررہ چکے ہیں۔ن لیگ کے وزیرحاجی جانبا ز خان گلگت بلتستان قیمتی سرمایہ تھا ....زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے ...
..بج رہا ہے اور بے آواز ہے ...
سابق مشیر وزیراعظم پاکستان اور رکن گلگت بلتستان کونسل سید افضل خان بھی کو رونا وائرس کا شکار ہوئے تھے .سید افضل نے گریجویشن کے بعد ڈسٹرکٹ کونسل کے الیکشن میں حصہ لیکر عملی سیاست کا آغاز کیا . اور مسلسل دو مرتبہ ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین بنے .اس کے بعد سیاست کے ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر ابھرا کہ گلگت بلتستان اسمبلی ہو یا گلگت بلتستان کونسل کے انتخابات سید افضل کا کلیدی کردار ہونے لگا. سید افضل کی موت سے نہ صرف دیامر بلکہ گلگت بلتستان ایک مدبر سیاسی شخصیت سے محروم ہو گئی....
سلطان مدد مرحوم سیاسی زندگی کا آغاز 1992 میں پاکستان مسلم لیگ ن سے کیا آپ بلدیہ گاہکوچ کے چیرمین بھی رہے 2004 میں مسلم لیگ ن کی طرف سے غذر حلقہ نمبر 2 سے کامیاب ہوکر ناررن ایریا کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔

سلطان مدد کا شمار مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کے بانی رہنماؤں میں ہوتا ہے آپ نے ہمیشہ اصولوں کی سیاست کی ,بےباک نڈر اور دلیر لیڈر نے ہر الکیشن میں اپنے سیاسی حریفوں کو ٹف ٹائم دیا, اپنی پارٹی کے ساتھ ہمیشہ وفاداری نبھائی پارٹی کی مرکزی قیادت سے ان کے ذاتی تعلقات تھیں اور انہوں نے کئی مرتبہ پارٹی سربراہ میاں محمد نواز شریف اور پارٹی کی سینئر قیادت کو غذر لے آئیں۔

بدقسمتی سے 2015 کے صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں سلطان مدد اپنے حلقے سے کامیاب نہیں ہو پائے جبکہ ان کی پارٹی نے گلگت بلتستان میں حکومت بنا لی غذر سے ان انتخابات میں مسلم لیگ کے تینوں امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اس تناظر میں غذر کی عوام یہ توقع کر رہی تھی کہ اب صوبائی حکومت سلطان مدد صاحب کو ان کی قربانیوں کا صلہ دے گی مگر حیرت اس وقت ہوئی جب انہیں مکمل نظر انداز کیا گیا اس کے باوجود مرحوم نے پارٹی کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا اور صوبائی حکومت کے چار سال مکمل ہونے کے بعد دلبرداشتہ ہوکر 16ستمبر 2019 کو گاہکوچ میں ایک پریس کانفرنس میں پارٹی سے باقاعدہ طور پر الگ ہونے کا اعلان کیا اور اپنی الگ سیاسی جماعت "پاکستان انسان دوست پارٹی" کا قیام عمل میں لاتے ہوئے آنے والے 2020 کے گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں تمام حلقوں سے امیدوار لانے اور خود غذر کے تینوں حلقوں سے الیکشین لڑنے کا اعلان بھی کیا مگر انہیں کیا معلوم تھا کہ تقدیر کو کچھ اور منظور ہے ۔اگاہ اپنی موت سے کوٸی بشر نہی
سامان 100 برس کا پل کی خبر نہی ایسی بڑی شخصیات صدیوں بعد جنم لیتی ہیں۔ بقول علامہ محمد اقبال:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

21/09/2020

انڈر گریجویٹ کے لۓ درست جواب پر 500 کا ایزی لوڈ کمنٹس میں اپنا نمبر بھی سنڈ کریں
Solve for x with detail
2(x+5)=12

Want your business to be the top-listed Government Service in Islamabad?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Islamabad